اسرائیل: دو حملوں میں 16 ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل کے جنوبی شہر بیرشیبا میں دو خود کش بمباروں نے دو بسوں پر حملے کیے ہیں جن میں سولہ افراد ہلاک اور بہت سارے افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ حکام کے مطابق بسوں پر ان حملوں کے نتیجے میں زوردار دھماکے ہوئے ہیں جن میں بھاری جانی نقصان کا خدشہ ہے۔ اب تک اسی افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے جن میں بعض کی حالت نازک ہے۔ حماس نے دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ اس نے کہا ہے کہ اس نے یہ دھماکے حماس کے دو رہنماؤں شیخ یاسین اور عبدالعزیز رینتیسی کو ہلاک کرنے کے جواب میں کیے ہیں۔ فلسطینی اتھارٹی نے دھماکوں کی مذمت کی ہے۔ حملوں کے بعد دونوں بسیں شعلوں کی لپیٹ میں آ گئیں۔ یروشلم میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس سال مارچ میں ہونے والے حملے کے بعد جس میں دس اسرائیلی مارے گئے تھے، یہ پہلا بڑا حملہ ہے۔ مارچ سے اب تک کی مدت گزشتہ چار برس سے جاری انتفادہ کے دوران عدم تشدد کی سب سے بڑی مدت تصور کی جا رہی تھی۔ اسرائیلی حکام کہتے ہیں کہ غربِ اردن میں فصیل کی تعمیر اور اہم شدت پسندوں پر مسلسل چھاپوں اور یلغار کے نتیجے میں تشدد میں کمی آئی ہے۔ حملوں کے بعد اسرائیلی وزیرِ اعظم ایریئل شیرون نے اپنے اس عزم کو دہرایا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔ اسرائیلی کابینہ کے وزیر صائب ارکات نے اپنے ردِ عمل میں کہا ہے کہ فلسطینی انتظامیہ عام شہریوں پر حملوں کی ہمیشہ مذمت کرتی ہے خواہ نشانہ بننے والے اسرائیلی ہوں یا فلسطینی۔ اسرائیلی فوج نے بتایا ہے کہ اس نے ایک خود کش حملہ آور کو گرفتار بھی کیا ہے جس کے کپٹروں کے نیچے دھماکہ خیز مواد بندھا ہوا تھا اور وہ دھماکہ کرنا چاہتا تھا۔ ان دھماکوں سے پہلے اسرائیلی وزیرِ اعظم ایریئل شیرون نے غزہ سے یہودی بستیوں کے خاتمے کے لیے ایک نظام الاوقات پیش کیا تھا۔ یہ تفصیل حکمراں لیکود پارٹی کے ارکان کو پیش کی گئی۔ تاہم پارٹی کا ایک بڑا حصہ ایریئل شیرون کے منصوبے کو پہلے ہی مسترد کر چکا ہے۔ لیکن اسرائیلی وزیرِ اعظم اصرار کر رہے ہیں کہ ان کا منصوبہ ٹھیک ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ نومبر کی تین تاریخ کو پارلیمان اس منصوبے پر ووٹنگ کرے۔ اگر یہ قانون منظور ہوگیا تو اگلے برس کے اوائل میں غزہ سے یہودی خیمہ بستیوں کے خاتمے کا کام شروع ہوجائے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||