’دہشت گردی پر فتح ممکن نہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے کہا ہے کہ دہشت کے خلاف مکمل طور پر فتح ممکن نہیں ہے لیکن دہشت گردوں کے سامنے کمزروی بھی نہیں دکھائی جانی چاہیے۔ نیو یارک میں ریپبلیکن کنوینشن سے پہلے این بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے جارج ڈبلیو بش نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنا ممکن نہیں ہے لیکن دہشت گردوں کے لیے حالات مشکل بنائے جا سکتے ہیں۔ صدر جارج بش سے پوچھا گیا کہ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ اگر ان کو اگلے چار کے لیے دوبارہ صدر منتخب کر لیا گیا تو وہ دھشت گردی کے خلاف جنگ جیت لیں گے۔ صدر بش نے جواب میں کہا’ میں نہیں سمجھتا کہ ایسا ممکن ہے۔ لیکن ایسے حالات پیدا کیے جا سکتے ہیں کہ دہشت گردی کو ہتھیار کے طور کو استعمال کرنے والوں کو پذیرائی نہ مل سکے ۔‘ صدر بش نے کہا دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے وہ دوہری حکمت عملی پر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلی حکمت علی کے تحت وہ دھشت گردوں کو ڈھونڈتے کی پالیسی پر گامزن ہیں تاکہ ان کو حملے کرنے سے پہلے ہی قابو کیا جا سکے۔ ان کے خیال میں دہشت گردوں کو ڈھونڈ نکالنے کی ان کی پالیسی کامیاب ہے اور وہ القاعدہ کے عالمی نیٹ ورک کو توڑنے میں خاطر خواہ کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف اپنی حکمت عملی کے دوسرے حصے کی وضاحت کرتے ہوئے صدر بش نے کہا کہ دنیا میں آزادی اور جمہوریت کا فروغ کے فروغ سے دہشت گردی پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے۔ امریکی صدر نے کہا کہ دنیا میں جمہوریت کا فروغ ایک دلچسپ بحث ہے اور وہ ایسا کوئی ایسی دلیل سننے کے لیے تیار نہیں ہیں کہ دنیا کے کچھ حصوں میں جمہوریت کی ضرورت نہیں ہے اور وہاں کے لوگ جمہوریت کے لیے تیار نہیں۔ صدر بش نے کہا تاریخ گواہ ہے کہ جمہوریت کے فروغ سے دنیا سے نفرتیں ختم ہوئی ہیں ۔ جاپان کی مثال دیتے ہوئے جارج بش نے کہا کہ ایک وقت وہ وقت تھا جب جاپان امریکہ کا دشمن تھا اور آج جاپان امریکہ کا اتحادی ہے ۔ یہ سب کچھ جمہوریت اور آزادی کی وجہ سے ممکن ہو سکا۔ صدر بش نے کہا کہ ان کے والد نے جاپان کے خلاف جنگ میں حصہ لیا تھا لیکن جمہوریت کے فروغ کی وجہ سے جاپان اب امریکہ کے بڑے اتحادیوں میں سے ایک ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||