برطانیہ: اسلامی بینک کی اجازت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بینکوں کو چلانے والے حکام نے برطانیہ میں پہلا اسلامی بینک کھولنے کے لیے اجازت دے دی ہے۔ دی اسلامک بینک آف بریٹن کا ہیڈ کواٹر برمنگہم میں ہوگا جہاں برطانیہ میں مسلمانوں کی سب سے بڑی آبادی ہے۔ اسلامی بینک کی پہلی شاخ لندن کے ایجویر روڈ پر اگلے ماہ سے کام شروع کر دی گی اور سارے یورپ میں مسلمانوں کو خدمات مہیا کرے گا۔ اکتوبر تک برمنگہم اور لیسٹر میں بھی شاخیں کھول دی جائیں گی۔ یہ بینک سود سے پاک بینکاری کرے گا اور ایسی خدمات سر انجام دے گا جو اسلامی قوانین کے مطابق ہوں۔ برطانیہ میں پہلے سے چند ایسے بینک ہیں جو اس طرح سے اشیاء مہیا کر رہے ہیں جن میں سود کا عمل دخل نہیں ہوتا مگر یہ سب غیر اسلامی بینک ہیں۔ مثال کے طور پر ایچ ایس بی سی مسلمانوں کے لیے پینشن،گھروں کے لیے قرض اور سٹاک بروکنگ کی سکیمیں چلا رہا ہے جو اسلامی قوانین کے مطابق ہیں۔ اسلامی بینکاری میں بینک سود نہیں لیتا اس لیے وہ عام طور پر اشیاء خرید کر صارفین کو اجارے پر دیتا ہے۔ صارفین سے لی جانے والی رقم میں وہ پیسے بھی شامل ہوتے ہیں جس سے بینک کمائی کرتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر ایک صارف کمپیوٹر خریدنا چاہتا ہے تو بینک اسے خرید کر ایک خاص قیمت پر صارف کو بیچے گا لیکن یہ تب تک اجارے یا کرائے پر ہوگا جب تک کہ پوری قیمت ادا نہیں ہوجاتی۔ دی اسلامک بینک آف بریٹن کا کہنا ہے کہ وہ ایسی کمپنیوں میں سرمایہ کاری نہیں کرے گا جو تمباکو، شراب اور فحاشی کا سامان میں کاروبار کرتے ہیں۔ بینک کے مینجنگ ڈائریکٹر مائیکل ہانلون نے بی بی سی ریڈیو کے ایک پروگرام کو بتایا ’یہ معاشی شعبے بلکہ سارے برطانیہ کے لیے یہ ایک بڑا اہم قدم ہے‘۔ اسلامی بینکاری ایک متبادل بینک کے طور پر بہت سے نئے مواقع پیدا کرے گا۔ برطانوی مسلمان برادری کے علاوہ ہر سال مشرق وسطیٰ سے مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد برطانیہ سفر کرتی ہے۔ بینک کا کہنا ہے کہ برطانوی مسلمانوں اور مشرق وسطیٰ کے سرمایہ کاروں نے بینک چلانے کے لیے چودہ ملین پاؤنڈ کی سرمایہ کاری کی ہے۔ اس کے حصص فروخت کر کے بینک چالیسں سے پچاس ملین پاؤنڈ اور بنانا چاہے گا تاکہ اسے سٹاک مارکیٹ میں لایا جا سکے ۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||