BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 31 December, 2003, 11:54 GMT 16:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کابل میں ’نیشنل بانک‘

نیشنل بینک آف پاکستان، کابل
تین مہینوں میں ہی دو سو کھاتے کھل گئے ہیں

پاکستان کے سرکاری بنک نیشنل بینک آف پاکستان کو افغانستان کے دارالحکومت کابل میں پہلے غیر ملکی بینک کی حیثیت سے شاخ کھولے تین ماہ سے کم کا عرصہ ہوا ہے لیکن بینک انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ اب تک ساٹھ کروڑ ڈالر کا کاروبار کر چکے ہیں۔

دارالحکومت کابل کے مہنگے علاقے وزیر اکبر خان میں ایک بنگلے میں قائم نیشنل بنک کی پہلی شاخ کو کام شروع کئے ہوئے تقریبا تین ماہ ہونے کو ہیں۔

افغانستان میں اب ’نیشنل بانک‘ کہلانے والا یہ بینک نہ صرف طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد پہلا بلکہ افغانستان کی تاریخ میں بھی پہلا غیرملکی مالی ادارہ ہے جسے کام کرنے کی اجازت ملی ہے۔

جنگ سے تباہ حال ملک میں جدید بینکاری کی سہولتیں مہیا کرنا یقیناً مشکل کام ہے لیکن بینک کا کہنا ہے کہ ان کے پاس ابتک دو سو سے زائد افراد نے جن کا تعلق مختلف تجارتی کمپنیوں اور سرکاری اور غیر سرکاری تنظیموں سے ہے کھاتے کھول لیے ہیں۔ انتظامیہ اب تک کی کارکردگی سے مطمئن ہے۔

بینک کے منیجر آپریشن جاوید اقبال خٹک کا کہنا تھا کہ وہ توقع کر رہے ہیں کہ آئندہ کچھ عرصے میں ان کے کاوربار میں مزید کئی گنا اضافہ ہو گا۔

لوگ سہولت کی وجہ سے یہاں آتے ہیں
نیشنل بینک آف پاکستان، کابل

بینک صرف لوگوں کے پیسے ہی نہیں رکھ رہا بلکہ اتنی مختصر سی مدت میں اس نے افغانستان میں سرمایہ کاری بھی شروع کر دی ہے۔ جاوید اقبال نے بتایا کہ وہ ایک تیل کمپنی کو بیس لاکھ ڈالر کی رقم بطور قرضہ جاری کرنے والے ہیں۔

کابل جیسی جگہ میں جہاں کچھ عرصہ قبل ہی پاکستانی سفارت خانے پر حملہ ہوا ایک بینک قائم کرنے اور چلانے کے لئے غیر معمولی ہمت چاہیے۔ البتہ بینک حکام کا کہنا ہے وہ بطور پاکستانی کوئی خطرہ محسوس نہیں کرتے اور حالات بہتر ہو رہے ہیں۔ لیکن غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق بینک کو نامعلوم عناصر کی جانب سے دھمکیاں بھی ملی ہیں۔

قدرے جدید سہولتوں کی وجہ سے بہت سے افغان تاجر مقامی بینکوں کی جگہ اسے ترجیح دے رہے ہیں۔

کابل کے ایک تاجر میر اعظم کا کہنا ہے کہ بینک کی کارکردگی بہتر ہے اور یہ بہتر سہولت مہیا کرتا ہے۔

’کاروباری سہولت کی خاطر یہاں آیا۔ ادھر سہولتیں بہت ہیں۔ جونہی آپ کھاتہ کھولیں آپ کو ٹیلیگرافک ٹرانسفر کی سہولت میسر آجاتی ہے۔ دوسرا فائدہ اس بینک کے نرخوں میں کمی کا ہے۔ اس کے نرخ دیگر بینکوں اور بازار سے کم ہیں۔‘

بینک اس ابتدائی کامیابی کے بعد اب افغانستان کے دیگر علاقوں میں بھی جن میں قندہار، جلال آباد اور مزار شریف شامل ہیں اپنی شاخیں کھولنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ لیکن دیگر بینک بھی جن میں پاکستان کا حبیب بینک، برطانوی سٹینڈرڈ چارٹرڈ اور آغا خان کا مائیکرو فنانس بینک شامل ہیں جلد کام شروع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جس سے نیشنل بینک کو سخت مقابلے کی توقع ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد