BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 08 February, 2004, 03:33 GMT 08:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہنڈی پر پابندی: غریبوں کوخطرہ
رقم
پیسے کا یہ خفیہ قدیم اور الجھا ہوا کاروبار مشرق وسطیٰ اور کئی ایشیائی ممالک میں پھیلا ہوا ہے۔
خدشہ ہے کہ رقوم کی غیر رسمی منتقلی کے خفیہ و قدیم کاروبار ’حوالہ‘ (جسے ہنڈی بھی کہا جاتا ہے) کے سلسلے میں سخت قواعد و ضوابط نے دنیا کی غریب معیشتوں کے لیے خطرہ ثابت ہوگی۔

پیسے کا یہ خفیہ قدیم اور الجھا ہوا کاروبار مشرق وسطیٰ اور کئی ایشیائی ممالک میں پھیلا ہوا ہے۔

اس خوف کے تحت کہ دہشت گرد تنظیمیں اس کاروبار کو اپنے مذموم مقاصد میں استعمال ہونے والی رقوم کی غیر قانونی منتقلی کے لیے استعمال کرسکتی ہیں، امریکہ یہ کوشش کرتا رہا ہے کہ ’حوالہ‘ کے سلسلے میں قواعد و ضوابط مرتب ہوسکیں۔

تاہم بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس سلسلے میں سخت قواعد و ضوابط کی وجہ سے دنیا کے مختلف ممالک میں اس کاروبار میں لگے اربوں ڈالر مشکلات و مسائل میں پھنس سکتے ہیں۔

دبئی میں غذائی اشیا اور اجناس کے ایک صومالی تاجر انور حسن نے بی بی سی ورلڈ سروس کے اسائنمنٹ پروگرام کو بتایا ’میں تو ہر ماہ اپنی ماں کو رقم بھیجتا ہوں۔‘

’اگر میں رقم نہ بھیجوں، تو وہ تو اپنے لیے کھانا تک نہیں خرید پاتے۔۔۔‘

امریکہ پر گیارہ ستمبر کے حملوں کے چند ہفتوں کے اندر ہی امریکی حکام نے ’حوالہ‘ کا کاروبار کرنے والے ’البرکات‘ نامی صومالی ادارے کو یہ کہہ کر بند کردیا تھا کہ اس کے ذریعے القاعدہ کو رقوم فراہم کی گئیں۔

لیکن دوسری جانب اس کے دیگر اثرات بھی مرتب ہوئے۔ چونکہ صومالیہ میں گزشتہ تیرہ برس سے کوئی باقاعدہ بینکاری موجود نہیں اس لیے ’البرکات‘ کی بندش پر کڑی نکتہ چینی کی گئی۔ صومالیہ میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق سے متعلق مندوب رینڈولف کینٹ کا کہنا تھا ’یہ انتہائی سنگین اثرات لیے ہوئے ہے۔۔۔ہم اب ایک ایسے نکتہ پر پہنچ گئے ہیں کہ جہاں ہمیں ایک ایسے بحران کی پیش بندی کا آغاز کرنا پڑے گا جو دنیا کے اس جدید ریاستی نظام میں اپنی نوعیت کا ایک بالکل منفرد بحران ہوگا۔۔۔ایک پوری قومی معیشت کا زوال۔۔۔‘

’حوالے‘ کا یہ کاروبار تیز رفتار ہے، مسابقت رکھتا ہے اور سستا ہے۔ دنیا بھر میں کروڑوں تارکین وطن کارکن اپنے خاندان کو پیسے بھجوانے کے لیے اس کاروبار کا ہی سہارا لیتے ہیں۔

لیکن چونکہ یہ سارا کاروبار زیر زمین ہی چل رہا ہے اور اس کا کوئی باقاعدہ ریکارڈ موجود نہیں، اس لیے امریکہ چاہتا ہے کہ اس کاروبار کے سخت قواعد و ضوابط متعارف کرائے جائیں۔

امریکی محکمۂ خزانہ میں دہشت گردی میں استعمال ہونے والی رقوم و مالیات سے متعلق ادارے ٹریژری ایگزیکٹو آفس آف دی ٹیررسٹ فنانسنگ کے ناظم ڈینی گلیزر کا کہنا ہے ’حوالہ ایک اہم معاملہ ہے اور ہر شخص کو اس طرف متوجہ ہونے کی ضرورت ہے۔ ہم سب کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ رقوم کی منتقلی کے تمامتر طریقے کالے دھن کے کاروبار اور دہشت گرد تنظیموں اور قوتوں کے خلاف ہی رہیں۔۔۔‘

’ہماری کوشش صرف اتنی سی ہے کہ ہم دہشت گردوں کے مالی مددگاروں اور سرمایہ کاروں کے لیے معاملات مشکل تر بنا دیں۔ اس طرح کے جتنے زیادہ غیر قانونی نظام اور طریقے ہم بند کرا سکتے ہیں کرا دیں، اس سارے عمل کو جس قدر مہنگا کرسکتے ہیں کردیں اور جتنی زیادہ کاغذی کارروائی اس میں کی جاسکتی ہے کردیں اور کالے دھن کے کاروبار میں ملوث افراد کی زندگی جتنی زیادہ مشکل تر بنا سکتے ہیں بنا دیں اور اس کی مذموم سرگرمیاں جس قدر زیادہ محدود کرسکتے ہیں کردیں۔۔۔‘

نائب وزیر خزانہ جواین زیراٹی جو دہشت گردی کی مالی معاونت کو کچلنے کا امور کے ذمہ دار ہیں، نے بی بی سی کو بتایا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان سارے طریقوں کو جانچا جائے جن کے ذریعے رقوم منتقل ہوسکتی ہیں۔

’حوالے کے بارے میں ہمیں تشویش ہے۔ جب بھی رقم کی منتقلی کے سلسلے میں اس کاروبار کی سرگرمیاں شفاف نہ رہیں تو یہ امکان ہوتا ہے کہ یہ دہشت گردوں یا مجرموں کے استعمال میں آرہی ہیں۔‘

انہوں نے زور دیا کہ اس بات کا ثبوت موجود ہے کہ ’البرکات‘ ’القاعدہ اور اس کے حامیوں کو رقوم کی فراہمی کے لیے اور ان کی سرگرمیوں کی مالی امداد و معاونت کے لیے استعمال ہوئی ہے۔۔۔‘

’اس معاملے کا انتہائی گہرائی سے جائزہ لے کر ہی ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ دنیا بھر میں نہ صرف حوالے کے کاروبار کو سخت قواعد و ضوابط کے تحت کیا جائے بلکہ اس پر کڑی نظر بھی رکھی جائے۔۔۔‘

کسی حد تک اس سلسلے میں اب تک کامیابی بھی حاصل ہوئی ہے۔ پاکستان اور خصوصاً متحدہ عرب امارات حوالہ کے کاروبار میں ملوث افراد پر اندراج سے متعلق امور پر دباؤ ڈالتے رہے ہیں۔

تاہم یہ سخت قواعد و ضوابط بعض معاملات کو زد پہنچا رہے ہیں اور بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس کے نتیجے میں یہ کاروبار مہگا ہورہا ہے اور اس کے اثرات دنیا کے انتہائی غریب ممالک پر ہی پڑے گا۔

روایتی طریقے سے رقوم کی منتقلی میں دس سے پندرہ فیصد تک خرچہ ہوتا ہے جبکہ حوالہ پر ایک سے تین فیصد تک خرچہ ہوتا ہے۔

’حوالہ‘ کے ذریعے انتہائی بہتر شرح مبادلہ حاصل ہوتے ہیں اور دنیا بھر میں اس کاروبار کی زبردست شاخیں پھیل چکی ہیں۔ اس کاروبار کے ذریعے اربوں کھربوں رقوم ہر سال ادھر سے ادھر ہوجاتی ہیں۔

جزوی طور پر تنازعہ کی ایک وجہ یہ حقیقت بھی ہے کہ اس کاروبار کا حجم یا اس میں لگی رقم کا کوئی حساب کتاب ہی نہیں۔

خفیہ ادارے اس سلسلے میں چکنے ہشیار اور محتاط ضرور ہیں لیکن جہاں تک گیارہ ستمبر کے حملوں کا تعلق ہے اس بارے میں غالب امکان یہی کہ اس کے لیے عام بینکاری کے طریقے اپنائے گئے تھے۔

صومالیہ میں حوالہ کے کاروبار سے منسلک ایک ادارے کے سربراہ محمد جردہ حسین کا کہنا ہے کہ حوالہ کے کاروبار کو خوامخواہ ہی غیر ضروری طور پر نشانہ بنایا گیا۔

’حکومتوں کو، خصوصاً امریکیوں کو حق ہے کہ وہ اس کاروبار پر نظر رکھیں اور کوشش کریں کہ اس کاروبار میں باقاعدہ قواعد و ضوابط متعارف کرائے جائیں مگر جہاں تک صومالیہ کے حوالہ کے کاروبار کا تعلق ہے ہمیں ایسا کچھ بھی نظر نہیں آتا جو مشکوک ہو۔۔۔‘

’رقوم بھیجنے اور منگانے والے دونوں ہی خاندانوں کے لوگ ہیں۔ ان کے تو نام تک ایک دوسرے سے انتہائی مشابہ ہیں۔ ہمارا نظام تو بالکل ہی سادہ و اسان اور شفاف ہے۔۔۔‘

امریکی محکمۂ خزانہ میں دہشت گردی میں استعمال ہونے والی رقوم و مالیات سے متعلق ادارے ٹریژری ایگزیکٹو آفس آف دی ٹیررسٹ فنانسنگ کے ناظم ڈینی گلیزر کا کہنا ہے کہ امریکہ اس کاروبار کو بند نہیں کرنا چاہتا۔ ’ہمارا منشاء اس کاروبار کو بند کرنا نہیں۔۔۔‘

’ہم تو اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ یہ سب سیدھے راستے سے ہورہا ہے۔ شفاف طریقے سے۔۔۔ہم اس سلسلے میں دنیا بھر میں مالیاتی اداروں کے ساتھ کام کررہے ہیں کہ آخر کوئی تو جائز طریقہ نکال سکیں تاکہ رقوم سستے اور جائز انداز سے منتقل کی جاسکیں۔‘

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد