نجف میں لڑائی، چالیس ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے مقدس شہر نجف میں امریکی فوج اور شیعہ رہنما مقتدٰی الاصدر کے حامیوں کے درمیان لڑائی جاری ہے جس میں تازہ اطلاعات کے مطابق چالیس کے قریب شیعہ جنگجو ہلاک ہوچکے ہیں۔ نجف اور کوفہ کے گردونواح میں جاری ان جھڑپوں میں مارٹر گولوں کا استعمال بھی کیا جارہا ہے اور امریکی فوج کے مطابق اس نے نجف کے گورنر ہاؤس کا کنٹرول بظاہر بنا کسی مزاحمت کے حاصل کر لیا ہے۔ نجف کے باہر ایک قبرستان کے قریب دھوئیں کے بادل دکھائی دیئے جہاں امریکی ہیلی کاپٹروں نے بڑے پیمانے پر آپریشن کیا ہے۔ امریکہ مخالف شیعہ رہنما مقتدٰی الاصدر اور امریکی فوج کے درمیان تازہ لڑائی امریکی منتظم پال بریمر کی طرف سے نجف کے لئے ایک نئے گورنر کی تعیناتی کے بعد شروع ہوئی ہے۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ وہ ان حملوں کے دوران نجف میں قائم مقدس مزارات کو نشانہ بنانے سے اجتناب برتے گی۔ اگر ایسا کوئی حملہ ہوتا ہے تو عراق کی اکثریت والی شیعہ آبادی بپھر جائے گی اور بڑے پیمانے پر امن و امان کی صورتحال خراب ہونے کا اندیشہ پیدا ہو سکتا ہے۔ ایک اور خبر رساں ادارے اے ایف پی کا کہنا ہے کہ ان مقدس مزارات کی حفاظت کے لیے اس علاقے میں ایک میل تک امریکی فوج کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||