’غلط فہمیاں دور کریں گے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان مسعود خان نے کہا ہے کہ افغانستان کی سرحد کے قریب پاکستانی حدود میں قائم افغان پناہ گزینوں کے نئے کیمپ ختم کرنے سے متعلق اقوام مُتحدہ سے بات چیت ہو گی اور اگر کوئی غلط فہمی ہوگی تو دور کی جائے گی۔ پیر انیس اپریل کو ’ اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے لئے ہائی کمشنر، رود لوبرز، نے اسلام آباد میں ایک اخبار ی کانفرنس میں پاک افغان سرحد پر قائم کردہ تیرہ نئے پناہ گزین کے کیمپ بند کرنے کا اعلان کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ یہ نام نہاد نئے کیمپ منفی سرگرمیوں کے لئے استعمال ہو رہے ہیں یعنی کہ طالبان کے حامی افعانستان میں شدت پسند کاروائیاں کرنے کے بعد ان کیمپوں میں پناہ لیتے ہیں‘۔ یہ کیمپ اقوام متحدہ کے مطابق بلوچستان اور صوبہ سرحد کی حدود میں افغانستان کی سرحد کے قریب قائم ہیں۔ نو ستمبر سن دوہزار ایک، کے بعد افغانستان میں جنگ کی وجہ سے ان کیمپوں میں افغانیوں نے پناہ لی تھی، کافی تعداد میں پناہ گزین واپس چلے گئے تھے لیکن دو لاکھ افراد اب بھی ان کیمپوں میں رہائش پذیر ہیں جن کے متعلق ہائی کمشنر کا کہنا تھا کے انہیں بھی جلد واپس بھیج دیا جائے گا۔ ان کیمپوں میں آخری نیا کیمپ’ شلمان، ہے جو خیبر پاس کے نزدیک حال ہی میں قائم کیا گیا ہے۔ بی بی سی اردو ڈاٹ کام نے جب اس ضمن میں پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان سے پوچھا کہ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر نے جو الزام لگایا تھا کہ ’کیمپ منفی سرگرمیوں کے لئے استعمال ہو رہے ہیں، اس پر ان کا رد عمل کیا ہے، تو مسعود خان نے کہا کہ ایسے الزامات کے بعد انہوں نے کیمپوں کی نگہداشت اور چوکسی سخت کردی ہے اور یہ دیکھا جا رہا ہے کہ ان الزامات میں کس حد تک صداقت ہے ۔ ترجمان نے بتایا کہ پاکستان، افغانستان اور امریکہ کے درمیان سہ فریقی معاہدہ ہے جو تین سال کے لئے ہے اور مارچ سن دو ہزار چھ میں ختم ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کے تحت وہ تمام معاملات پر مشورے سے فیصلہ کرتے ہیں۔ افغانستان میں گزشتہ پچیس سال سے ہونے والی خانہ جنگی کے باعث بڑی تعداد میں افغان پناہ گزین پاکستان آئے تھے جن کے لئے دو سؤ کیمپ قائم کئے گئے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||