برطانیہ میں دس گرفتار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت برطانیہ کے مختلف شہروں میں مارے جانے والے چھاپوں کے میں دس افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ گرفتاریاں دہشت گردی پر مامور کرنے، تیاری اور اکسانے کے الزامات کے تحت عمل میں آئی ہیں۔ سوموار کو مارے جانے والے ان چھاپوں میں گریٹر مانچسٹر، سٹیدرڈشر، ویسٹ مڈل لینڈ اور یارک شر پولیس کے ارکان نے حصہ لیا۔ چھاپوں کے دوران مانچسٹر کے قریب تین عمارتوں کو محاصرے میں لیا گیا اور ماہرین ان عمارتوں کا معائنہ کر رہے ہیں۔ جن تین عمارتوں کا محاصرہ کیا گیا ان میں اے کے کمپیوٹرز، ڈولفن ٹیک اووے اور اپّر بروک اسٹریٹ پر واقع فنکی فونز کی زیر استعمال عمارتیں شامل ہیں۔ یہ تینوں عمارتیں تین تین منزلہ ہیں اور ان کی بالائی منزلوں کو فیلٹس میں تبدیل کیا گیا ہے۔ حفاظتی لباسوں میں ملبوس افسران جب ’ٹیک اووے‘ کے لیے مخصوص دکان میں داخل ہوئے تو دو افسران عمات کے عقبی زینوں پر پہرہ دے رہے تھے جب کہ چار افسر بیرونی حصے کا محاصرہ کیے ہوئے تھے۔ اس کارروائی کے دوران دکان کے سامنے سے گزرنے والی سڑک ٹریفک کے لیے بند نہیں کی گئی۔ پولیس نے یہ نہیں بتایا کہ ان دس افراد کو کہاں سے گرفتار کیا گیا اور اب کہاں رکھا گیا ہے۔ اس کارروائی میں اسکاٹ لینڈ یارڈ کے انسداد دہشت گردی سکواڈ بھی شامل نہیں تھا۔ ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ ’ہمیں مفادِ عامہ کا احترام عزیز ہے تاہم اس مرحلے پر مزید معلومات فراہم نہیں کی جا سکتیں۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||