دہشتگردی کے خلاف جنگ اور میڈرڈ دھماکے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
میڈرڈ بم دھماکوں سے صرف سپین کی سیاست ہی متاثر نہیں ہوئی ہے بلکہ اس کارروائی نے صدر بش کی اعلان کردہ ’دہشتگردی کے خلاف جنگ‘ کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اور ایسا اس لئے ہوا ہے کیونکہ سپین کے عوام اس فرانسیسی اور جرمن موقف کی تائید کرتے نظر آتے ہیں کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ کا عراق جنگ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یقیناً سپین میں عوام کا اب یہی نظریہ ہے کہ عراق کے خلاف جنگ محض ایک غیر ضروری کارروائی ہے جس سے حالات مزید بگاڑ کا شکار ہوئے۔ سپین کے سوشلسٹ رہنما خوض لوئیس روڈریگیز نے پہلے ہی امریکہ اور برطانیہ پر کڑی تنقید کی ہے۔ ’صدر بش اور بلیئر کو اپنی ذات کا کچھ تجزیہ بھی کرنا چاہئے۔ آپ جھوٹ کی بنیاد پر لوگوں پر بمباری نہیں کرسکتے، جنگ نہیں لڑ سکتے‘۔ سپین کے وزیر اعظم خوض میری ایتھنر کے صدر بش اور بلیئر کی حمایت کے ٹھیک ایک برس بعد ان کی جماعت اقتدار پر اپنا اثر کافی حد تک کھوچکی ہے۔ اگر القاعدہ ان دھماکوں میں ملوث ہے تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ دھماکے کافی اثر انگیز ثابت ہوئے ہیں۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں صدر بش کے ایک اہم حامی کی حکومت اقتدار سے ہٹائی جاچکی ہے۔ سپین کے لوگ اگرچہ القاعدہ کے حامی تو نہیں ہیں تاہم وہ عراق کے بارے میں سپین کی پالیسیوں کی حمایت بھی نہیں کرتے۔ صدر بش اپنی انتخابی مہم میں یہ موقف اپنا رہے ہیں کہ ان کی قیادت اور عزم وہ خصوصیات ہیں جو ان کے ڈیمو کریٹک پارٹی کے مخالف جان کیری میں نہیں ہیں۔ دوسری جانب کیری کا کہنا ہے کہ سپین میں انتخابات کے نتائج اور عوام کی رائے امریکیوں کی رائے سے مماثلت رکھتی ہے۔ سپین کے انتخابی نتائج کے بعد برطانیہ نے بھی فوراً کہہ دیا ہے کہ وہ اپنی پالیسی تبدیل نہیں کریں گے۔ برطانوی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ کوئی بھی یہ نہ سوچے کہ ہمیں ’اسلامی دہشتگردی‘ کے خلاف جنگ سے الگ کیا جا سکتا ہے۔ اب نئی ہسپانوی حکومت عراق سے اپنے فوجی واپس بلانا چاہے گی۔ تاہم سوشلسٹ پارٹی نے ماضی میں اپنے فوجی عراق میں تعینات رکھنے کے لئے ایک رستہ کھلا رکھا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر اقوام متحدہ اپنا مینڈیٹ دے تو پھر ان کی فوج عراق میں رہ سکتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||