9/11 حملے ایف بی آئی پر تنقید | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایف بی آئی پر تنقید کی جا رہی ہے کہ وہ دہشت گردی کے مسلسل بڑھتے ہوئے خطرے سے عہدہ برا نہیں ہو سکی۔ گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کو نیو یارک اور واشنگٹن پر ہونے والے حملوں کی تحقیقات کرنے والے کمیشن کی ابتدائی رپورٹ کے بعد اس تنقید میں خاص طور پر شدت پیدا ہوئی ہے۔ تحقیقاتی کمیشن کا کہنا ہے کہ وفاقی تحقیقاتی بیورو جاسوسی کے معاملے میں ناکام رہا ہے اور حملے کے بارے میں خاطر خواہ اطلاعات اور نمٹنے کی تجاویز مہیا نہیں کر سکا۔ ابتدائی رپورٹ میں اس بات کو بھی نوٹ لیا گیا ہے کہ حملے سے ایک دن قبل اٹارنی جنرل جان ایشکرافٹ نے مزید فنڈز کے لیے بیورو کی درخواست مسترد کر دی تھی۔ دہشت گردانہ حملوں کے بارے میں تحقیقات کرنے والے اس دس رکنی امریکی قومی کمیشن نے اپنی ابتدائی رپورٹ اس وقت جاری کی ہے جب کہ جان ایشکرافٹ سمیت ایف بی آئی اور محکمہ انصاف کے موجودہ اور سابق اہلکاروں کے بیانات کی دو روزہ سماعت شروع ہوئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گیارہ ستمبر کے حملوں کے حوالے سے ایف بی آئی حفاظتی اور جوابی حکمت عملی فراہم کرنے میں کئی اعتبار سے ناکام رہی۔ رپورٹ کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جوابی کارروائی کرنے والوں نے اپنا کام اس کے باوجود کیا ہے کہ ان کے پاس خفیہ اطلاعات کے حصول اور حکمت عملی کے لیے تجزیے کی صلاحیت کے وسائل محدود تھے۔ اس کے علاوہ ان کے پاس نہ تو یہ گنجائش اور تربیت تھی کہ وہ داخلی یا خارجی سطح پر اطلاعات کا تبادلہ کر سکیں اور نہ ہی ان کے پاس اس کے وسائل تھے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایف بی آئی نے جو اطلاعات اور تجزیے فراہم کیے تھے ان کا چھیاسٹھ فی صد تقاضوں کی معیار پر پورا نہیں اترتا تھا اور نہ ہح کارآمد ثابت ہوا۔ اس کے علاوہ رپورٹ میں اس بات کا بھی نوٹس لیا گیا ہے کہ حملوں کے دن ایف بی آئی کے تیرہ سو ارکان نے دہشت گردی کے جوابی امور میں حصہ لیا اور یہ تعداد ایف بی آئی کے کل عملے کا صرف چھ فیصد تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||