غزہ: فائرنگ میں تین ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیلی فوج نے غزہ اور اسرائیل کو تقسیم کرنے والی باڑ کے قریب فائرنگ کر کے تین فلسطینی ہلاک کر دیئے۔ فلسطینی عینی شاہدوں کے مطابق انہوں نے ایک یہودی بستی کے قریب تین لاشیں دیکھی ہیں۔ اسرائیلی فوجیوں کا کہنا ہےکہ انہوں نے اتوار کی رات تین مشکوک افراد پر فائرنگ کی تھی۔ اسرائیل نے پیر کے روز ایک یہودی مذہبی تہوار کے پیش نظر سخت حفاظتی انتظات کئے ہیں اور تمام فلسطینیوں پر اسرائیل داخلے کے خلاف پابندی لگائی ہوئی ہے۔ فلسطینی حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے تینوں انیس سالہ فلسطینی بظاہر ٹینک سے فائرنگ کا نشانہ بنے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ تینوں لڑکے غیر مسلح تھے۔ ایک اہلکار نے بتایا کے ان لڑکوں کا تعلق ایک پناہ گزیں کیمپ سے تھا۔ اسرائیلی عسکری ذرائع کے مطابق انہوں نے تین مشکوک افراد کو اس سڑک پر آگے بڑھتے دیکھا جہاں اس سے پہلے دھماکہ خیز مواد استعمال کیا جا چکا ہے۔ اسرائیل نے اپنے فوجی قافلوں کے تحفظ پیش نظر فلسطینیوں کو یہ سڑک استعمال کرنے سے منع کیا ہوا ہے۔ پیر کے روز اسرائیلی وزیر اعظم ایریئل شیرون نے کہا تھا کہ اسرائیل کا غزہ سے یکطرفہ انخلاء اور غرب اردن میں کچھ آبادیوں سے واپسی کے منصوبے سے آزاد فلسطینی ریاست کا قیام کئی سال پیچھے چلا جائے گا۔ انہوں نے اسرائیل ذرائع ابلاغ کو دیئے جانے والے انٹرویو میں کہا کہ ’یکطرفہ انخلا کے منصوبے میں کسی فلسطینی ریاست کا ذکر نہیں ہے‘۔ یاسر عرفات نے کہا کہ ایریئل شیرون کو یاد رکھنا چاہیے کہ انہیں غرب اردن سے بھی نکلنا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||