مشتعل فلسطینی، چودہ جنازے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
غرب اردن کے شہر غزہ میں سوگوار مگر مشتعل فلسطینیوں نے اسرائیلی حملے میں ہلاک ہونے والے چودہ فلسطینیوں کی نماز جنازہ ادا کی۔ نماز جنازہ میں درجنوں ایسے مسلح افراد شامل ہوگئے جنہوں نے چہروں پر ماسک پہن رکھے تھے اور وہ بار بار اسرائیل سے بدلہ لینے کا عزم کررہے تھے۔ اسرائیلی فوج نے دن چڑھنے سے قبل رات کے اندھیرے میں ہیلی کاپٹروں اور ٹینکوں کی مدد سے غزہ کے پناہ گزیں کیمپوں پر چھاپہ مارا تھا جس میں چودہ فلسطینی ہلاک ہوگئے تھے۔ ہلاک شدگان میں دس عسکریت پسند اور سولہ سال سے کم عمر تین بچے شامل تھے۔ اس حملے میں تقریباً سو افراد زخمی ہوئے ہیں۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس حملے میں فلسطینی شدت پسندوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس حملے کے بعد شروع ہونے والی جھڑپ کئی گھنٹوں تک جاری رہی۔ جنازے میں شریک ایک عسکری تنظیم کے رہنما اسمٰعیل ہانیہ کا کہنا تھا ’اس حملے پر اسرائیل کو نہیں بخشا جائے گا‘۔ اسرائیلی فوج نے کہا تھا کارروائی کا مقصد غزہ میں ایسے عسکری مراکز کی تلاش تھا جو حال میں یہودی بستیوں پر ہونے والے حملوں کے ذمہ دار تھے۔ فلسطینی کابینہ کے وزیر صائب ارکات نے اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ’ایک طرف اسرائیل غزہ سے اپنی افواج بلانے کی بات کررہا ہے جبکہ دوسری طرف غزہ کو تباہ کیا جارہا ہے‘۔ غزہ میں بی بی سی کے نامہ نگار جیمز راجر کا کہنا ہے کہ اسرائیل اپنی افواج کو واپس بلانے سے قبل فلسطین کو کمزور سے کمزور تتر کرنا چاہتا ہے۔ ان تازہ ترین جھڑپوں سے ایک روز قبل غزہ اور اسرائیل کے درمیان ایک چوکی پر چھ فلسطینیوں کی ہلاک ہو گئے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||