غزہ میں آٹھ فلسطینی ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
غزہ میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے آٹھ فلسطینی ہلاک اور نو زخمی ہوگئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں حماس کے دو ارکان شامل ہیں۔ عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ اسرائیلی فوج اور فلسطینیوں میں فائرنگ کا زبردست تبادلہ ہوا۔ اسی دوران ایک دوسرے واقعے میں اسرائیلی فوج نے فلسطینی اور اسرائیلی مظاہرین پر ربڑ کی گولیاں چلائیں ہیں جس سے ایک اسرائیلی سمیت پچیس افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ فوج اور مظاہرین میں جھڑپ اس وقت ہوئی جب مظاہرین متنازعہ باڑ کی تعمیر کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ فلسطینی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک فلسطینی لڑکے کو سر پر گولی لگی ہے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق مظاہرین اس پر پتھراؤ کر رہے تھے لہذا ان پر آنسو گیس پھینکی گئی لیکن جب وہ مظاہرے سے باز نہ آئے تو ربڑ کی گولیاں استعمال کرنی پڑیں۔ تاہم عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ فوج نے لوگوں پر فائرنگ کی۔ اس سے پہلے اسرائیلی حکام نے تصدیق کی ہے کہ اس کے فوجیوں نے مشتبہ عسکریت پسندوں کی تلاش میں فلسطینی پناہ گزین کیمپ خان یونس میں ایک آپریشن شروع کیا ہے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ کارروائی میں ایک شدت پسند اور اس کی بیوی بظاہر اس وجہ سے ہلاک ہوئے کہ انہوں نے دھماکہ خیز مواد والی ایک پٹی اپنے جسم سے اسی طرح باندھ رکھی تھی جیسی عموماً خود کش حملوں سے قبل بمبار پہنتے ہیں۔ تاہم فلسطینی ڈاکٹر کے مطابق اس شدت پسند کے جسم پر گولیوں کے بہت سے نشان تھے۔ فلسطینی ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ حملے کے بعد ہونے والی جھڑپ میں مزید چار فلسطینیوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔ گزشتہ ہفتہ اسرائیلی فوج نے غزہ شہر پر فضائی اور زمینی حملے کرکے پانچ فلسطینیوں کو ہلاک اور کئی کو زخمی کردیا تھا۔ اس حملے میں فلسطینیوں کے کئی گھر بھی تباہ کئے گئے تھے۔ اس حملے میں اسرائیلی افواج نے غزہ کی پٹی ہی میں واقع رفاح کے پناہ گزین کیمپ کو نشانہ بناتے ہوئے اں پر میزائیل داغا تھا جس کے نتیجے میں تین فلسطینی ہلاک ہوگئے تھے جبکہ دو اس سے قبل کے فضائی حملوں میں ہلاک ہوئے تھے۔ اسرائیلی فوج گزشتہ بدھ ٹینکوں، جیپوں اور بلڈوزرز کے ساتھ رفاح کیمپ میں گھس گئی تھی اور فلسطینیوں کے کئی گھر مسمار کردئے تھے۔ اسرائیلی فضائیہ نے منگل کو غزہ میں ایک عمارت کو نشانہ بنایا تھا۔ حملہ کے بعد یہ علاقہ دھماکوں سے گونج اٹھا تھا۔ منگل کے روز ہی اسرائیلی کابینہ نے حالیہ فلسطینی شدت پسند بم حملوں کے خلاف جوابی کار روائی کا فیصلہ کیا تھا۔ نامہ نگاروں کے مطابق غرب اردن میں اسرائیلی فصیل کی تعمیر کے بعد یہ کیا جانے والا پہلا حملہ تھا۔ اسرائیلی فوج کی غزہ میں یہ کارروائی اس وقت ہوئی ہے جب محض چند گھنٹے قبل وزیرِاعظم ایریئل شیرون نے غزہ سے فوج کی واپسی کے اپنے منصوبے پر وزراء کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||