غزہ سے فوجی انخلا پر پیش رفت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مصر کے دورے پر اسرائیلی وزیر خارجہ سلوان شیلوم نے مصری صدر حسنی مبارک سےمذاکرات کوخوش آئند قرار دیا ہے۔ مسٹر شیلوم نے کہا ہے کہ ان مذاکرات کے دوران غزہ سے اسرائیلی افواج کے انخلا پر بھی غور کیا گیا تاہم اس بارے میں انہوں نےکوئی تفصیل نہیں بتائی۔ اس سے قبل مصری صدر حسنی مبارک نے کہا تھا کہ اسرائیل غزہ سے فوجوں کے انخلا کے بعد علاقے کی سکیورٹی کی ذمہ داری لینے کے لیۓ تیار نہیں تھا۔ مسٹر شیلوم کے اس دورے کو اسرائیل کی جانب سے جن سفارتی کارروائیوں کا حصہ سمجھا جا رہا ہے اسی کی مذید کڑیاں ہیں امریکی نائب وزیر خارجہ ولئیم برنس کی اسرائیل آمد اور مذاکرات اور پھر آئندہ ہفتے اسرائیلی اور فلسطینی وزرا اعظم کی متوقع پہلی ملاقات۔ یروشلم میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق غزہ سے فوجی انخلا کے مجوزہ فیصلے کو ابتدا میں اسرائیل کی جانب سے فلسطینی مشاورت کے بغیر یکطرفہ پیش رفت سمجھا جا رہا تھا ۔ نامہ نگار کے مطابق یوں تو اس منصوبے سے متعلق کئی سوالات کا حل کیا جانا باقی ہے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جیسے جیسے اس مجوزہ منصوبے کی شکل واضح ہونا شروع ہوئی ہے اس کی حمایت میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ قاہرہ میں مسٹر شیلوم کی یہی کوشش ہے کے وہ اس دوران اسرائیل کی جانب سے فوجی انخلا کے اس مجوزہ منصوبے پر مصر کی راۓ جانتے ہوۓ مصر کو اس بات پر بھی آمادہ کرے کے وہ فلسطین میں سرحد پار سے کی جانے والی ہتھیاروں کی سمگلنگ کو روکنے میں بھی تعاون کرے۔ اٹھارہ ماہ بعد یہ کسی اعلی اسرائیلی رہنما کا مصر کا پہلا دورہ ہے۔ اس سے قبل اسرائیل فلسطین تنازعے کے سنگین صورت اختیار کرنے پر اسرائیل مصر تعلقات خاصے کشیدہ ہو گۓ تھے۔ تازہ صورتحال کا فلسطینی رہنما یاسر عرفات نے خیر مقدم کرتے ہوۓ کہا ہے کہ وہ اسے مقبوضہ فلسطینی علاقے سے اسرائیلی فوج کی مکمل واپسی کی جانب ایک قدم سمجھتے ہیں۔ بی بی سی نامہ نگار کا یہ بھی کہنا ہے کہ عرب اس فیصلے سے خوفزدہ بھی ہیں کہ اس طرح نہ صرف نقشہ راہ کاخاتمہ ہوجاۓ گا بلکہ اس منصوبے کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے جس کے تحت غزہ اور غرب اردن کو ایک فلسطینی ریاست بنانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||