دہشت گردی پر بش پالیسی کا دفاع | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی وزیر خارجہ کولن پاول اور وزیر دفاع ڈونلڈ رمزفیلڈ نے دہشت گردی سے متعلق بش انتظامیہ کی پالیسی کا دفاع کیا ہے۔ وہ جب گیارہ ستمبر کے حملوں کی تحقیق کرنے والے کمیشن کے سامنے پیش ہوئے تو انہیں بش انتظامیہ کےالقاعدہ اور اسامہ بن لادن کی طرف سے درپیش خطرے کو نظرانداز کرنے کے سلسلے میں سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ کمیشن وائٹ ہاؤس میں سلامتی کے سابق ماہر رچرڈ کلارک کے صدر بُش پر الزامات کی تحقیقات کے لئے بنایا گیا ہے۔رچرڈ کلارک نے الزام لگایا تھا کہ بش انتظامیہ ’دہشت گردی‘ سے نمٹنے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔ انھوں نےمزید کہا تھا کہ صدر بُش نے گیارہ ستمبر سے پہلے القاعدہ کی طرف سے کسی بڑی حملے کے بارے میں ملنے والے اشاروں کو نظر انداز کر دیا تھا اور عراق کی طرف سے ملنے والے نام نہاد خطرے پر زیادہ توجہ دی تھی۔
کولن پاؤل نے کمیشن کو بتایا کہ بش انتظامیہ نے القاعدہ کے خطرے کو نظر انداز نہیں کیا اور القاعدہ اور دہشت گردوں کے خاتمے کے لئے مؤثر منصوبہ بندی کی جس میں عراق کو آزاد کروانا بھی شامل ہے۔ انھوں نے کہا کہ بش انتظامیہ نے القاعدہ کے خاتمے کے لئے مؤثر حکمت عملی اختیار کی۔ وزیر دفاع ڈونلڈ رمزفیلڈ نے کمشن کے سامنے بیان دیتے ہوئے کہا کہ انہیں گیارہ ستمبر کو ہونے والے دہشت گرد حملوں سے متعلق کسی بھی طرح کی پیشگی خفیہ معلومات مہیا نہیں کی گئی تھیں۔ ’پہلی بات تو یہ ہے کہ گیارہ جنوری سن دو ہزار سے پہلے میری معلومات میں ایسی کوئی خفیہ رپورٹ نہیں آئی جس کو بنیاد بنا کر امریکہ اسامہ بن لادٹ کو گرفتار یا قتل کر سکتا۔‘ ’دوسری بات یہ ہے کہ اگر اسامہ بن لادن کو گرفتار یا قتل بھی کر دیا جاتا تو مجھے ایسا کوئی شخص نہیں ملا جو اس بات پر یقین رکھتا ہو کہ اس صورت میں گیارہ ستمبر کے دہشت گرد حملے نہ ہوتے۔‘ ’دہشت گرد دشمنوں سے نپٹنا اور انہیں جڑ سے اکھاڑ باہر کرنا ایک مشکل کا ہے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم مختلف انداز میں سوچیں۔‘ اس سے قبل کلنٹن انتظامیہ کی اعلیٰ اہلکار سابق وزیر خارجہ میڈلین البرائٹ نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ صدر کلنٹن نے انیس سو اٹھانوے میں افریقہ میں امریکی سفارت خانوں پر حملوں کے بعد اسامہ بن لادن کو غیر مؤثر کرنے کا حکم دیا تھااور ان کی حکومت نے اس کے خاتمے کے لئے ہر ممکن اقدامات کئے۔ کولن پاؤل نے کہا کہ کلنٹن انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیداروں نے بش حکومت کو القاعدہ اور طالبان کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی لیکن کوئی لائحۂ عمل نہیں دیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ ’صدر بش نے کلنٹن انتظامیہ کی گھیراؤ کرنے کی پالیسی کی بجائے جارحانہ طرز عمل اختیار کرنے کا حکم دیا‘۔ کولن پاؤل نے کہا کہ ہم القاعدہ کی صلاحیت کم کرنے کی بجائے اسے مکمل تباہ کرنے کی پالیسی اپنائے ہوئے ہیں۔ انھوں نے کہاکہ القاعدہ کے خلاف فوجی کارروائی اور عراق کو آزاد کروانے کے باوجود امریکہ کے خلاف دہشت گردی کا خطرہ کم نہیں ہوا۔ کولن پاؤل نے کہا ’ہم جانتے ہیں کہ افغانستان میں ان کی طاقت تباہ ہونے کے بعد وہ کسی اور جگہ خود کو منظم کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں لیکن ہمیں ان کا تعاقب کرنا ہے‘۔ قبل ازیں وائٹ ہاؤس نے رچرڈ کلارک کے بیان کو رد کرتے ہوئےکہا تھا کہ ان کے بیان کا مقصد نومبر میں ہونے والے انتخابات سے پہلے صدر بش کی سیاسی ساکھ کو نقصان پہنچانا ہے۔ خود رچرڈ کلاک بدھ کے روز کمشن کے سامنے پیش ہوں گے۔ رچرڈ کلارک نے کہاتھا کہ یہ ناقابل فہم ہے کہ صدر بُش انتخابی مہم میں ’دہشت گردی‘ سے نمٹنے کا دعویٰ کر رہے ہیں جبکہ گیارہ ستمبر سے پہلے وہ اس چیز کو نظر انداز کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر صدر بُش ایسا نہ کرتے تو شاید گیارہ ستمبر کے حملوں کو روکا جا سکتا تھا۔ امریکی نائب صدر ڈک جینی نےردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ رچرڈ کلارک اپنے دور میں ہونے والے بہت سے واقعات سے لاعلم ہیں۔ کلنٹن دور کے قومی سلامتی کے مشیر سینڈی برجر اور سی آئی اے کے ڈائریکٹر جارج ٹیننٹ بدھ کے روز اپنا بیان دیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||