BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 23 March, 2004, 21:24 GMT 02:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کلنٹن نے القاعدہ پر حملہ کا حکم دیا تھا
میڈلین البرئٹ
میڈلین البرئٹ کمشن کے سامنے پیش ہونے والی پہلی اعلیٰ اہلکارھیں ۔
کلنٹن انتظامیہ کی اعلیٰ اہلکار سابق وزیر خارجہ میڈلین البرائٹ نے کہا ہے کہ صدر کلنٹن نے انیس سو اٹھانوے میں افریقہ میں امریکی سفارت خانوں پر حملوں کے بعد اسامہ بن لادن کو غیر مؤثر کرنے کا حکم دیا تھا۔

وہ گیارہ ستمبر کے حملوں کی تحقیق کرنے والے کمشن کے سامنے پیش ہونے والی پہلی اعلیٰ اہلکار تھیں ۔

امریکی وزیر خارجہ کولن پاؤل بھی کمشن کے سامنے پیشں ہوئے۔

میڈلین البرائٹ کے علاوہ سابق وزیر دفاع ولیم کوہن بھی کمشن کے سامنے ہوں گے۔

سوموار کو وائٹ ہاؤس میں سلامتی کے سابق ماہر رچرڈ کلارک نے صدر بُش پر الزام لگایا تھا کہ وہ ’دہشت گردی‘ سے نمٹنے میں بری طرح ناکام رہے ہیں۔

رچرڈ کلارک نے کہا تھا کہ صدر بُش نے گیارہ ستمبر سے پہلے القاعدہ کی طرف سے کسی بڑے حملے کے بارے میں ملنے والے اشاروں کو نظر انداز کر دیا تھا اور عراق کی طرف سے ملنے والے نام نہاد خطرے پر زیادہ توجہ دی تھی۔

موجودہ امریکی وزیر خارجہ کولن پاؤل بھی کمیشن کے سامنے پیش ہوئے اور بتایا کہ بش انتظامیہ نے القاعدہ کے خطرے کو نظر انداز نہیں کیا اور القاعدہ اور دہشت گردوں کے خاتمے کے لئے مؤثر منصوبہ بندی کی جس میں عراق کو آزاد کروانا بھی شامل ہے۔

میڈلین البرائٹ نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ انیس سو اٹھانوے میں افریقہ میں امریکی سفارت خانوں پر حملے ان کے دور میں سب سے زیادہ برے واقعات تھے اور صدر کلنٹن نے اس کے بعد القاعدہ کے ٹھکانوں پر کروز میزائلوں سے حملےکرنے کا حکم دیا تھا۔

انھوں نے بش انتظامیہ کو القاعدہ کے خلاف لڑائی جاری رکھنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ

القاعدہ ایک نظریہ ہے
القاعدہ کوئی تنظیم نہیں بلکہ ایک نظریہ ہے اور اسکے خلاف جنگ جاری رہنی چاہئے۔
میڈلین البرائٹ
القاعدہ کوئی تنظیم نہیں بلکہ ایک نظریہ ہے اور اسکے خلاف جنگ جاری رہنی چاہئے۔

انھوں نے میڈرڈ میں ٹرین دھماکوں کے بعد امریکا میں حملوں کی تنبیہ کی۔

قبل ازیں وائٹ ہاؤس نے رچرڈ کلارک کے بیان کو رد کرتے ہوئےکہا تھا کہ ان کے بیان کا مقصد نومبر میں ہونے والے انتخابات سے پہلے صدر بش کی سیاسی ساکھ کو نقصان پہنچانا ہے۔

خود رچرڈ کلاک بدھ کے روز کمشن کے سامنے پیش ہوں گے۔

رچرڈ کلارک نے کہاتھا کہ یہ ناقابل فہم ہے کہ صدر بُش انتخابی مہم میں ’دہشت گردی‘ سے نمٹنے کا دعویٰ کر رہے ہیں جبکہ گیارہ ستمبر سے پہلے وہ اس چیز کو نظر انداز کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر صدر بُش ایسا نہ کرتے تو شاید گیارہ ستمبر کے حملوں کو روکا جا سکتا تھا۔

امریکی نائب صدر ڈک جینی نےردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ رچرڈ کلارک اپنے دور میں ہونے والے بہت سے واقعات سے لاعلم ہیں۔

کلنٹن دور کے قومی سلامتی کے مشیر سینڈی برجر اور سی آئی اے کے ڈائریکٹر جارج ٹیننٹ بدھ کے روز اپنا بیان دیں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد