’عراق: تحقیقات خود مختار کمیشن کرے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں وسیع تباہی کے حامل ہتھیاروں کی تلاش کرنے والی جماعت عراق سروے گروپ کے سابق امریکی سربراہ ڈیوڈ کے نے کہا ہے کہ ان ہتھیاروں سے متعلق خفیہ معلومات کے غلط استعمال کی تحقیقات ایک خودمختار کمیشن سے کرائی جائیں۔ ڈیوڈ کے نے یہ بیان گزشتہ روز سی آئی اے کے سربراہ جارج ٹینٹ کے بیان کے جواب میں دیا جس میں ٹینٹ نے اپنے ادارے کا دفاع کیا تھا۔ ڈیوڈ کے عراق سروے گروپ کے ساتھ سات ماہ تک عراق میں وسیع تباہی کے حامل ہتھیار تلاش کرنے میں مصروف ہے۔ اس جماعت میں چودہ سو ارکان ہیں۔ وہ گزشتہ ماہ اپنے عہدے سے یہ کہہ کر سبکدوش ہوگئے تھے کہ انہیں عراق میں وسیع تباہی کے حامل ہتھیاروں کا کوئی بڑا ذخیرہ ہاتھ نہیں آیا۔ انہوں نے گانگریس کی ایک کمیٹی کو بتایا کہ ان کے خیال میں خفیہ ایجنسیاں اور سیاستدان غلطی پر تھے۔ سی آئی اے کے سربراہ نے گزشتہ روز سی آئی اے کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی اطلاعات درست تھیں۔ اب ایک صدارتی کمیشن اس کی تحقیقات کرے گا۔ کارنیگی اینڈاؤمنٹ فار انٹرنیشنل پیس میں تقریر کرتے ہوئے ڈیوڈ کے نے کہا کہ ان کے خیال میں تجزیہ کاروں پر کسی طرح کا سیاسی دباؤ نہیں تھا۔ البتہ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایک خودمختار کمیشن تشکیل دیا جائے جو اس بات کی جانچ کرے کہ کہیں سیاستدانوں نے خفیہ معلومات کو اپنے مقاصد کے حصول کے لئے تو استعمال نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ممکن ہے کہ وائٹ ہاؤس کو جو کچھ بتایا گیا ہو اور جو اس نے سنا چاہا ہو، دونوں میں فرق ہو۔ اگرچہ ڈیوڈ اب بھی یہ سمجھتے ہیں کہ عراق پر امریکی یلغار درست فیصلہ تھا تاہم ان کے الفاظ سے امریکی حزب اختلاف آنے والے انتخابات میں فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||