| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
مشرف-واجپئی ملاقات کاامکان
بھارت نے کہا ہے کہ اس نے سارک اجلاس میں کشمیر کے مسئلے پر پاکستان سے براہ راست مذاکرات کے امکان کو رد نہیں کیا ہے۔ بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی ہفتہ کے روز سارک اجلاس میں شرکت کے لئے اسلام آباد پہنچ رہے ہیں۔ بھارت کے وزیر خارجہ یشونت سنہا نے کہا ہے کہ صدر مشرف اور وزیر اعظم واجپئی کی براہ راست ملاقات کے بارے میں ابھی غور نہیں کیا گیا ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ غیر رسمی طور پر ضرور ملیں گے۔ جنوبی ایشیائی مملک کے وزراء خارجہ پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد میں اپنے اجلاس کے دوران سارک اجلاس میں پیش کی جانے والی قرار داد کا مسودہ تیار کررہے ہیں۔ وزراء خارجہ نے خطے میں آزاد تجارت کا ’زون‘ قائم کرنے کے لئے ایک خاکے پر اتفاق کیا ہے۔ بھارتی خارجہ سیکریٹری ششانک کے ایک ترجمان نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں آزاد تجارت سے بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں بہتری آسکتی ہے۔ سارک سربراہ اجلاس اس اتوار سے اسلام آباد میں شروع ہورہا ہے اور یہ تین روز تک جاری رہے گا۔ وزراء خارجہ کے دو روزہ اجلاس میں جنوبی ایشیا میں آزاد تجارت اور دہشتگرد تنظیموں کو فنڈز کی فراہمی روکنے پر غور کیا جارہا ہے۔ اس کے علاوہ علاقے میں غربت کے خاتمے کے لئے اقدامات بھی تجویز کئے جائیں گے۔ تمام نظریں پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کی بہتری پر ہیں۔ اگر واجپئی اور مشرف کی براہ راست ملاقات ہوئی تو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بہتری کے لئے حالیہ اقدامات اور مسئلہ کشمیر زیر غور آئیں گے۔ جمعہ کے روز ایک انٹرویو میں واجپئی نے کہا ہے کہ انہیں امید ہے کہ کشمیر کا تنازع ان کی زندگی ہی میں حل ہوسکتا ہے۔ ’میں اس بارے میں بہت پر امید ہوں لیکن اس سلسلے میں پاکستان کے موقف میں تبدیلی ضروری ہے‘۔ ’پاکستان کو یہ مطالبہ ترک کرنا ہوگا کہ مسلمان اکثریت کے باعث کشمیر پر پاکستان کا حق ہے‘۔ وڈراء خارجہ کے اس اجلاس میں پیش کی جانے والی سفارشات خارجہ، رکن ممالک کے سیکریٹریز کی کمیٹی نے مرتب کی تھیں۔ یہ سفارشات پانچ نکاتی ایجنڈے پر مشتمل ہیں۔ دریں اثناء واجپائی کی پاکستان آمد کے موقع پر نہایت سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے ہیں۔ رکن ممالک کی آمد کے لئے اسلام آبار کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو دیگر پروازوں کے لئے بند کردیا جایے گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||