| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کی افغان پالیسی میں تبدیلی
افغانستان میں نئے امریکی کمانڈر نے طالبان کی مبینہ کارروائیوں سے نمٹنے کے لئے اپنی حکمت عملی میں بڑی تبدیلی کا اعلان کیا ہے۔ اس اعلان کے تحت ان تمام علاقوں میں سیکورٹی کے انتظامات سخت کردیے جائیں گے جہاں وقتاً فوقتاً طالبان کی جانب سے مبینہ حملے کئے جاتے ہیں۔ جنرک ڈیوڈ بارنو نے بتایا ہے کہ ملک کے جنوب مشرق میں امریکی فوجی اڈے قائم کئے جائیں گے۔ یہ وہ علاقے ہیں جہاں بڑھتی ہوئی تشدد آمیز کارروائیوں کے باعث امدادی اداروں نے اپنے دفاتر بند کردیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے اگلے برس منعقد کئے جانے والے انتخابات کی راہ بھی استوار ہوگی۔ امریکی کمانڈر کا بیان ایک ایسے وقت پر آیا ہے جب افغانستان کی اسمبلی ملک کے مجوزہ آئین کے اہم معاملات پر متفق ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق لویا جرگا میں شریک مندوبین، جو آئین کے مسودے پر بحث کررہے تھے، افغانستان میں صدارتی نظام کے نفاذ پر راضی ہوگئے ہیں۔ صدر کرزئی صدارتی نظام کے سب سے بڑے حامی ہیں۔ جنرل بارنو نے کہا کہ اگلے سال مارچ تک شہری و فوجی اشتراک سے کم از کم بارہ یونٹس قائم کئے جائیں گے۔ یہ تعمیر نو کے لئے کام کرنے والی ایسی عبوری ٹیموں پر مشتمل ہوں گے جو زابل اور اورگزان جیسے کشیدہ حالات والے علاقوں میں تعینات کئے جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس اقدام کے بعد شدت پسندوں کی جانب سے شدید رد عمل متوقع ہے تاہم وہ اپنے منصوبے پر قائم رہیں گے۔ سنیچر کو افغانستان میں امریکی نمائندے زلمے خلیلزاد نے کہا تھا کہ یوں لگتا ہے کہ لویا جرگہ میں ایک ہفتے کے بحث و مباحثے کے بعد صدر کرزئی ملک میں صدارتی نظام کے نفاذ کے لئے تیزی سے لوگوں کی حمایت حاصل کررہے ہیں۔ افغانستان میں طرز حکومت کے انتخاب کا معاملہ لویا جرگہ کے پانچ سو شرکاء کے درمیان اختلاف کا باعث رہا ہے۔ صدر کرزئی نے کہا تھا کہ وہ انتخابات میں صرف اسی صورت میں حصہ لیں گے کہ اگر اسمبلی صدارتی طرز حکومت کی حمایت کردے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||