پاکپتن کا پرنامی مندر 800 سال پرانی چھجو ہندو قوم کی عبادت گاہ ہوا کرتی تھی
،تصویر کا کیپشنپنجاب کے شہر پاکپتن کی مسجد پیر وارس شاہ کے پہلو میں قدیم پرنامی مندر میں واقعے ہے۔
،تصویر کا کیپشنیہ 800 سال پرانی چھجو ہندو قوم کی 300 ایکڑ پر مشتمل عبادت گاہ ہوا کرتی تھی
،تصویر کا کیپشنچھجے پر ایک قطار میں انتہائی نفاست سے بنائی گئی مورتیاں تاریخ اور بدلتے حالات کی خاموش گواہ ہیں۔ چھتوں پر کسی گمنام مصور کی رامائن کی کہانیوں پر مبنی پینٹنگز تھیں جن کو کھرچ دیا گیا ہے۔
،تصویر کا کیپشنچند سال قبل یہاں مدرسہ تھا، اب کسی کی رہائش ہے۔ اس گھر کے مکین بقایا مجسموں کو بھی گرانے والے ہیں۔
،تصویر کا کیپشن300 سال پرانے مندر کے احاطے میں ایک مسجد تین سال پہلے تعمیر کی گئی تھی۔ بنارس کے بعد کسی زمانے میں لاہور میں مندروں کی سب سے بڑی تعداد تھی۔ اب مندر کھنڈر ہیں اور ان کی جگہ مساجد اور مدرسے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنحکومت حال ہی میں ثقافتی ورثوں کے تحفظ کے لیے سرگرم ہوئی ہے اور ملتان میں جین مندر اور چکوال میں کٹاس راج مندر کی بحالی کے لیے کام شروع کیا گیا ہے۔
،تصویر کا کیپشنمحکمہ اوقاف کے سربراہ صدیق الفاروق کے مطابق ان کے ادارے کو وسائل کی کمی کا سامنا ہے۔
،تصویر کا کیپشنیہاں پارٹیشن کی تلخ یادیں بھی ہیں۔ بعض رہائشیوں نے بتایا کہ انھوں نے سرحد پار ہجرت کر کے ان مندروں میں پناہ لی اور آج تک وہیں ہیں۔حکومت کی جانب سےنہ ہی مناسب جگہ پر نقل مکانی میں ان کی کوئی مدد کی گئی اور نہ ہی مندر کی بحالی کے لیے کوئی کوشش۔
،تصویر کا کیپشنمحلے کی نئی تعمیر شدہ مسجد کے سپیکروں سے اذان کی آواز آ رہی ہے۔ چھت پر پاکستان کا پرچم بھی لہرا رہا ہے، جس کی سفید پٹی والے کپڑے کا حصہ پھٹ کر تقریباً الگ ہو چکا ہے۔ پرچم پر لکھا ہے ’جشن آزادی مبارک۔