BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 08 June, 2008, 09:50 GMT 14:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ورنہ برداشت کر!

مشرف
صدر مشرف رفتہ رفتہ گوشہ گیری سے باہر آ گئے ہیں
سمجھ میں نہیں آ رہا کہ صدر پرویز مشرف نے طویل عرصے بعد اپنی پریس کانفرنس میں ایسی کونسی انہونی بات کہہ دی ہے کہ میڈیا کے پنڈت، سول سوسائٹی یا سابق فوجی افسران بلبلا اٹھے ہیں اور مسلسل کوسنے دے رہے ہیں۔

صدر مشرف سیاستدانوں کو پہلے دن سے مشکوک، نااہل اور بکاؤ سمجھتے تھے سو آج بھی سمجھتے ہیں۔ کل بھی وہ خود کو پاکستان کی ترقی اور بقاء کا محافظ گردانتے تھے سو آج بھی وہ یہی کہہ رہے ہیں۔ ججوں کی برطرفی ، ایمرجنسی کے نفاز، لال مسجد ، بلوچستان ، دہشتگردی اور جمہوریت کے بارے میں ان کے جو خیالات کل تھے آج بھی جوں کے توں ہیں۔

اگر صدر مشرف کی نو سالہ مقتدر زندگی میں کوئی کمزور لمحہ آیا بھی تھا تو وہ اٹھارہ فروری کے بعد کے پندرہ دن میں آیا ہوگا جب انہوں نے نیم گوشہ نشینی اختیار کرلی تھی اور ایک ساعت کے لیے انہوں نے شاید یہ بھی محسوس کیا تھا کہ اس سیاسی تنہائی سے بہتر ہے کہ وہ سبکدوش ہوجائیں لیکن امریکی ایلچیوں کی بھرمار نے انہیں یقین دلایا کہ مایوسی کفر ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ سب ٹھیک ہوجائے گا۔

چنانچہ صدر مشرف رفتہ رفتہ گوشہ گیری سے باہر آ گئے۔ سیاستدانوں سے ملنا جلنا شروع ہوگیا۔فیتے کاٹنے کا عمل بحال ہوگیا اور انہیں یہ دیکھ کر یقیناً بہت اچھا محسوس ہوا ہوگا کہ دورۂ چین میں گیلانی حکومت کے وزراء بھی ان کے شانہ بشانہ ہیں۔

کیا صدرِ مملکت کے اطمینان کے لیے یہ کافی نہیں ہے کہ چاروں صوبوں میں ان کے بااعتماد گورنر موجود ہیں۔ کیا صدر کا اعتماد یہ جان کر دوبالا نہ ہوا ہوگا کہ مولانا فضل الرحمان اور متحدہ قومی موومنٹ نئے سیٹ اپ کا بھی حصہ ہیں۔

 صدر کو معلوم ہے کہ کالے کوٹ کا لانگ مارچ ہو یا سول سوسائٹی کا غل غپاڑہ یا سابق فوجی جرنیلوں کا واویلا۔ کچھ بھی انکا بال بیکا نہیں کرسکتا جب تک پارلیمنٹ حرکت میں نہ آئے۔

کیا جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو یوسف رضا گیلانی جیسے راضی بہ رضا آدمی، اٹارنی جنرل ملک عبدالقیوم جیسے قانونی کشتہ ساز، رحمان ملک جیسے ماہرِ گٹھ جوڑ ، طارق عزیز جیسے’جادوگر‘، فاروق نائیک جیسے آئینی کاریگر، احمد مختار جیسے وفادار سپاہی، شاہ محمود قریشی جیسے پیارے پیارے بے ضرر وزیرِ خارجہ، این آر او کے گھنے درخت تلے بیٹھے ہنس مکھ آصف زرداری، امریکیوں کو مطمئن کر دینے والے اسفند یار ولی، سعودی عرب جیسے شریف برادران کے ضمانتی اور اپنے کاندھے پر دستِ بش ہوتے ہوئے بھی دل چھوٹا کرنے یا غمگین ہونے کی ضرورت ہے۔ایسی فضا میں تو صدر مشرف کا دل اس ٹرک جتنا ہوگیا ہوگا جس کے پیچھے درج ہوتا ہے’تپڑ ہے تو پاس کر ورنہ برداشت کر‘۔

صدر مشرف کے ہمالیائی اعتماد کا اس سے بڑھ کر کیا ثبوت چاہیے کہ بقول ان کے پارلیمنٹ اگر ججوں کو بحال کرتی ہے تو انہیں کوئی پریشانی نہیں۔اگر ان کے اختیارات کم کیے گئے تو وہ بھی آرام سے نہیں بیٹھیں گے اور پارلیمنٹ ان کا مواخذہ کرنا چاہتی ہے تو آئین کے مطابق بخوشی کرے۔

صدر کو معلوم ہے کہ کالے کوٹ کا لانگ مارچ ہو یا سول سوسائٹی کا غل غپاڑہ یا سابق فوجی جرنیلوں کا واویلا۔ کچھ بھی انکا بال بیکا نہیں کرسکتا جب تک پارلیمنٹ حرکت میں نہ آئے۔

جب لارڈ کلائیو کو مشورہ دیا گیا کہ وہ مناسب وقت کا انتظار کرے اور فی الحال ایسٹ انڈیا کمپنی بہادر کی مٹھی بھر سپاہ کو نواب سراج الدولہ کے تیس ہزاری لشکر سے بھڑوانے کی حماقت نہ کرے تو لارڈ کلائیو بھولے مشیر کی جانب دیکھ کر صرف مسکرا دیا تھا۔

 بات سے باتمیڈیا کا بندر!
چینلوں کی بھر مار اور خبروں کی تلاش
 بات سے باتبلی خودگھنٹی باندھے!
آئین سے غداری کے آرٹیکل چھ کے پچیس سال
کھوکھلی دانشوری
عدم تحفظ اور نا انصافی ڈاکوؤں کو جلا دیتی ہے۔
ماں کا دن!
ماں: تیرے بچوں نے تیرے ساتھ کیا۔ اب بس کر۔۔
جنگل میں مفاہمت
قومی مفاہمت کچھ سارس لومڑی کی کہانی جیسی
زرداری کی 6گیندیں
’یہ کرتب زرداری کا شوق نہیں مجبوری ہے‘
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد