اجمل کمال کراچی |  |
 | | | ’جریدہ‘ کراچی یونیورسٹی کے شعبہ تصنیف و تالیف و ترجمہ سے شائع ہوتا ہے |
2004سے اب تک کراچی یونیورسٹی کے جریدے میں شائع ہونے والے مضامین میں انواع و اقسام کے جو لعل و جواہر پائے جاتے ہیں، ان کی جامع فہرست بنانا اس کالم کی محدود استطاعت سے باہر ہے۔ ان سے لطف اندوز ہونے کے لیے آپ کوچاہیے کہ کراچی یونیورسٹی کے شعبہ تصنیف و تالیف و ترجمہ سے رابطہ قائم کر کے یہ شمارے حاصل کریں۔ پانچ کالموں پر مشتمل اس سلسلے کے آخری دو کالموں میں صرف خالد جامعی کی ادارت میں انجام دیے جانے والے وقیع تحقیقی و تجزیاتی کام کے خاص خاص نکات کا ایک مختصر جائزہ پیش کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ تاہم اس جائزے کی ابتدا کرنے سے پہلے ایک دلچسپ انکشاف کا ذکر ضروری ہے۔پڑھنے والے کو ’جریدہ‘ کے مطالعے کے دوران جابجا احساس ہوتا ہے کہ مختلف موضوعات پر جامعی صاحب کے ادارتی نقطۂ نظر کو ’ساحل کا موقف‘ کہہ کر پیش کیا جارہا ہے۔ پہلے پہل یہ غلط فہمی ہو سکتی ہے کہ ’ساحل‘ شاید جامعی صاحب کا تخلص ہوگا، لیکن ان کی ذات بابرکات میں شاعری یا اور کسی فن لطیف کی گنجائش ان کی سخت گیر، تشددپسند طبیعت کو دیکھتے ہوئے قرین قیاس معلوم نہیں ہوتی۔ (طبیعت کے اس مخصوص رجحان کا اظہار اس طرح ہوتا ہے کہ خامہ فرسائی کا موضوع خواہ زلزلے کی ہلاکت خیزیاں ہوں یا علامہ اقبال یا جیوٹیلی وژن کے کارنامے، جامعی صاحب ہر سو پچاس سطروں کے بعد ایک دوبار اپنی یہ تمنا ظاہر کیے بغیر نہیں رہ سکتے کہ ’فحاشی پھیلانے والوں‘ کو ’ٹکڑے ٹکڑے کر کے‘ قتل کیا جائے۔( ’جریدہ‘ میں ’ساحل‘ کی کارفرمائی کایہ عقدہ بعد میں محمدسہیل عمر نے کھولا جو ایک اور علمی ادارے اقبال اکادمی، لاہور، کے ڈائرکٹر ہیں۔ معلوم ہوا کہ ‘ساحل‘ کراچی سے نجی شعبے میں شائع ہونے والے ایک رسالے کا نام ہے، اور سہیل عمر کے مطابق خالد جامعی صاحب ’جریدہ‘ کے ساتھ ساتھ ’ساحل‘ کی ادارت کا بوجھ بھی اٹھائے ہوئے ہیں، البتہ ’ساحل‘ میں انہوں نے ’خالد بن حسن‘ کے نیم فرضی نام کی اوٹ لے رکھی ہے۔ یہ رسالہ وسائل اور ضخامت میں  | کراچی یونیورسٹی اور شدت پسندی  جریدہ میں یہ ادراختراع غالباً پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے جدیدترین تصور کے تحت کی گئی ہے، لیکن ان شرائط کو پوشیدہ رکھا گیا ہے جن کے تحت یونیورسٹی کے حکام نے شہریوں کے ٹیکسوں سے جمع کیے جانے والے سرکاری وسائل کو ایک نجی ادارے کے نہایت شدت پسند نقطۂ نظر کی ترویج کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دے رکھی ہے  اجمل کمال |
تو ’جریدہ‘ کا مقابلہ نہیں کر سکتالیکن اس کی تلافی یوں کی جاتی ہے کہ ’ساحل‘ میں شائع ہونے والے بیشتر مضامین جوں کے توں (اوقاف کی علامتوں اور کمپوزنگ کی غلطیوں سمیت) ’جریدہ‘ میں شامل کر لیے جاتے ہیں، یہاں تک کہ ادارتی موقف پیش کرتے وقت رسالے کا نام تک تبدیل کرنے کا تکلف نہیں کیا جاتا۔ کراچی یونیورسٹی کے زیراہتمام (یعنی سرکاری شعبے میں) شائع ہونے والے جریدے میں یہ نادراختراع غالباً پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے جدیدترین تصور کے تحت کی گئی ہے، لیکن ان شرائط کو پڑھنے والوں سے پوشیدہ رکھا گیا ہے جن کے تحت یونیورسٹی کے حکام نے شہریوں کے ٹیکسوں سے جمع کیے جانے والے سرکاری وسائل کو ایک نجی ادارے کے نہایت منفرد اور شدت پسند نقطۂ نظر کی ترویج کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دے رکھی ہے۔لیکن جامعی صاحب کی دوہری ادارتی ذمہ داریوں کے باوجودیہ خیال کرنا درست نہ ہو گا کہ ’ساحل‘ اور ’جریدہ‘ میں سامنے آنے والا یہ قابل قدر تحقیقی و تجزیاتی کام انہوں نے تنہا سرانجام دیاہے۔ اس نیک کام میں ان کے کئی قلمی و ادارتی معاونین ہاتھ بٹاتے رہے ہیں جن میں ڈاکٹر جاوید اکبر انصاری کے علاوہ زاہد صدیق مغل اور حفصہ صدیقی خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ (ایک خاتون کو پبلک لائف میں شامل کرنے کا فیصلہ کس ناگزیر مصلحت کی بنا پر کیا گیا ہے، اس کی وضاحت کرنا ضروری نہیں سمجھا گیا۔) ’ساحل‘ سے ’جریدہ‘ تک کا سفر طے کرنے والی ان عہدساز تحقیقی و تجزیاتی تحریروں کا بنیادی خیال یہ ہے کہ ’مغرب‘ کی جانب سے تعلیمی اور ثقافتی حملےکے نتیجے میں پیدا ہونے والی فحاشی و بے حیائی (بشمول عورتوں کی پبلک لائف میں شرکت) ہمارے معاشرے کا سب سے سنگین مسئلہ ہے۔ (اگر ملک کے وسائل پر آبادی کے ایک چھوٹے سے گروہ کا قبضہ ہے اور انسانوں کی اکثریت وسائل کی غیرمنصفانہ تقسیم کے باعث محرومی اور ذلت کا شکار ہے، تو یہ ایسے معمولی مسائل ہیں جو ان حضرات کی علم و فضل سے خیرہ آنکھوں سے ہمیشہ اوجھل رہتے ہیں۔) اپنے تشخیص کردہ اہم ترین مسئلے کا حل اربابِ ’جریدہ‘ و ’ساحل‘ کے نزدیک یہ ہے کہ اس قسم کی ’امارت اسلامی‘ کے قیام کے لیے جہاد کیا جائے جیسے ستمبر1996سے نومبر2001 تک طالبان مجاہدوں نے افغانستان کے ایک بڑے علاقے میں کیا اور جسے ’مغرب‘ نے، جو عالم اسلام میں بے حیائی کے فروغ سے خاص دلچسپی رکھتا ہے، گیارہ ستمبر کے حملوں کا بہانہ بنا کر ختم کر دیا۔
 | اہم ترین مسئلہ اور اس کا حل  اپنے تشخیص کردہ اہم ترین مسئلے کا حل اربابِ ’جریدہ‘ و ’ساحل‘ کے نزدیک یہ ہے کہ اس قسم کی ’امارت اسلامی‘ کے قیام کے لیے جہاد کیا جائے جیسے ستمبر1996سے نومبر2001 تک طالبان مجاہدوں نے افغانستان کے ایک بڑے علاقے میں کیا اور جسے ’مغرب‘ نے، جو عالم اسلام میں بے حیائی کے فروغ سے خاص دلچسپی رکھتا ہے، گیارہ ستمبر کے حملوں کا بہانہ بنا کر ختم کر دیا  ’جریدہ و ساحل‘ |
’جریدہ‘ شمارہ 37 کے صفحہ827 پر ڈاکٹر جاوید اکبر انصاری کا ارشاد ہے: ’مجاہد کامیاب اس وقت ہوتا ہے جب وہ اپنے رب کے حضور پیش ہوتا ہے، اس کو اﷲ کی رضا حاصل ہوتی ہے اور جنت کا پروانہ ملتا ہے۔...ہم دنیا میں جنت بنانے کی دعوت نہیں دیتے، یا سرمایہ داری اور اس کے مذاہب: لبرل ازم، قوم پرستی، سوشلزم کی دعوت نہیں دیتے بلکہ جنت میں جانے کے لیے جدوجہد کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ غلبۂ دین کے نتیجے میں جو ریاست قائم ہوتی ہے وہ ایک جہادی ریاست ہوتی ہے، کوئی ویلفئر سٹیٹ (فلاحی ریاست) نہیں ہوتی‘۔فلاحی ریاست انسانوں کی زمینی زندگی کے جن روزمرہ مصائب کو آسان کرنے کی کوشش کرتی ہے ان کو تو جانے دیجیے، زلزلے جیسے غیرمعمولی سانحوں کو بھی یہ پاکیزہ خیال حضرات صرف اس زاویے سے دیکھنے کے قائل ہیں کہ اس سے مومنوں میں زنا جیسے ’برے اعمال سے توبہ اور اصلاح احوال کی فکر کرنے کے جذبات‘ پیدا ہوں۔ ’جریدہ‘ کے اسی مذکورہ بالا شمارے کے صفحہ 1135پر زاہد صدیق مغل صاحب ’سائنسی طریقۂ علم‘ کی مذمت اور بیخ کنی کرتے ہوئے کہتے ہیں: ’ایک ایسا شخص جس کی عقل و خرد پر سائنس کے تصورِحقیقت کی گرد پڑ گئی ہواس واقعے کو معروضیت (objectivity)کی نظر سے دیکھ کر یہ کہے گا کہ زلزلہ زمین کے اندر چند جغرافیائی نوعیت کی تبدیلیوں کی وجہ سے آتا ہے۔ اس نقطۂ نظر کی کوئی ٹھوس دلیل نہیں ہے‘۔ ’جریدہ‘ کے فاضل قلم کار زاہد مغل صاحب کے نزدیک مسلمہ حقیقت یہ ہے کہ زلزلے زنا کی کثرت کے سبب سے آتے ہیں۔ علم و فضل سے معمور اور معروضیت سے پاک اس تحقیقی تجزیے کو شمالی پاکستان اور آزاد کشمیرکے ان تمام (بیشتر مذہبی رجحان رکھنے والے) مزدور پیشہ مردوں اور عورتوں کے علاوہ سکولوں میں پڑھنے یا گلیوں میں کھیلنے والے کمسن بچوں اور بچیوں کے لیے کراچی یونیورسٹی کی جانب سے اظہارتعزیت سمجھنا چاہیے جو 8اکتوبر 2005کے زلزلے میں دردناک انجام سے دوچار ہوئے۔ ان مرنے والوں کی روحیں اس عنایت کے لیے یونیورسٹی کے ارباب اختیار کی خاص طور پرشکرگذار ہوں گی کہ انہوں نے اس عبرت انگیز تجزیے کو، جو اس سے پہلے ’ساحل‘ میں شائع ہو چکا تھا لیکن پڑھنے والوں کی زیادہ تعداد کے ذہنوں کو منور نہیں کر سکا تھا، سرکاری خرچ پر ’جریدہ‘ کے صفحات میں دوبارہ شائع کرنے کا اہتمام کیا۔ |