11 ستمبر سے ’پہلے‘ اور ’بعد‘ کا امریکہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آج کے امریکہ کو اب ہمارے جیسے دیسوں کے لوگ ’پہلے‘ اور ’بعد‘ کا امریکہ کہتےہیں۔ ’پہلے‘ اور بعد کا ’نیویارک‘۔ ’پہلے‘ اور ’ بعد‘ سے ان کی مراد گیارہ ستمبر سے پہلےاور گیارہ ستمبر کے بعد سے ہے۔ صرف امریکہ کیا سارے کی ساری دنیا اب ’ماقبل گیارہ ستمبر‘ اور ’ما بعدگیارہ ستمبر‘ہو چکی ہے۔ مین ہیٹن میں کوئینز پل کے اس پار فنکاروں اور لاابالی لوگوں کی بستی ولیمسبرگ میں بیس برس سے فوٹو کی دکان چلانے والے میرے شاعر اور صوفی دوست میاں اشرف نے گیارہ ستمبر کی صبح ورلڈ ٹريڈ سینٹر کو شعلوں کی لپیٹ میں جلتے اور مسمار ہوتے دیکھا اور ان کیلیے روز کے گاہک اور پڑوسی بھی تبدیل ہو چکے تھے۔ اس دن میاں اشرف نےاپنی دکان پر فوٹو کاپیاں کروانے والے فنکار مرد اور عورتوں سے پیسے نہیں لیے تھے لیکن ان فنکار لوگوں نے بجائے میاں اشرف کا شکریہ ادا کرنے کے ان کو ایسی نظروں سے دیکھا تھا جیسے بقول میاں اشرف کے وہ کہتےجارہے ہوں’ یو! یو گائیز!‘۔ اس دن گیارہ ستمبر کی دہشت گردی میں زخمی ہونے والوں کیلیے خون کے عطیات دینے کیلیے ایک جگہ لگے کیمپ پر جب مبینہ طور ایک پاکستانی نے اپنے خون کا عطیہ دینا چاہا تو اس کا خون لینے سے انکار کر دیا گیا۔ میاں اشرف کہتے ہیں یہ سارا رد عمل دکھاوے کا لیکن فطری اور سمجھ میں آنے والے تھا۔ میاں اشرف کے ساتھ کام کرنے والے فنکار آفریدی صاحب جن کا سارا طرز زندگی امریکی، دماغ پشتو اور آنکھ اور دل مصور کے تھے وہ نیویارک میں ’مابعد گیارہ ستمبر‘ حالات کی وجہ سے واپس پاکستان جا بھی چکے۔ میں نے’ماقبل گیارہ ستمبر‘ نیویارک چھوڑا اور پھر کئی دنوں بعد جب وہاں گیا تو اب ناصر کاظمی کی ان سطروں : ’دل تو میرا اداس ہے ناصر جیسے بنے ہوئے کونی آئی لینڈ ایونیو پر فوٹوگرافر زلفی کمبوہ کے ساتھ جاتے مجھےمیاں اشرف مل گئے۔ اب انہوں نے کونی آئی لینڈ میں ’رومی سینٹر‘ کھولا ہوا ہے جہاں جمعرات کی شام ’مراقبہ‘ بھی ہوتا ہے۔ نیویارک سے نکلنے والے ایک پاکستانی اردو اخبار کے ان کے ایک مخالف کالم نگار نے اسے اپنی نفرت سے ’لوطی سینٹر‘ کہا۔ میں کہتا ہوں اگـر مسلمان رومی کو سمجھ سکے ہوتے توگیارہ ستمبر جیسا سانحہ ہوتا ہی نہیں۔ مولانا جلال دین رومی قونیا کے عظیم درویش جنہوں نے نے کہا تھا:’ہم نے قرآن کا تمام مغز لے لیا اور باقی اس کی ہڈیاں کتوں کے آگے پھینک دیں‘۔ ’ کیا تم کچھ رومی کے بارے میں جانتے ہو‘۔ دل کے شعبے میں کام کرنے والے ایک امریکی ڈاکٹر نے فرش نشین بیٹھتے ہوئے مجھ سے پوچھا۔ یہ امریکی ڈاکٹر اس چرچ کا ممبر ہے جہاں رومی پر خطبے دیے جاتے ہیں۔ دلوں پر اصل حکمرانی رقص درویشاں کی ہوا کرتی ہے۔ میں نے کہا رومی گھر سے میرا پیچھا اب تک کر رہا ہے۔ مجھےیاد آیا میرے ابا لاہورسے بذریعہ وی پی شیخ غلام علی اینڈ سنز کی مطبوعات رومی کی اردو شرح والی مثنوی کی جلدیں منگوایا کرتے تھے جن کی جگہ میں ان کی جیب سے اسی لاہور کے پیپلز پبلشنگ ہاؤس کی کتابیں منگوایا کرتا تھا۔ اور اب مجھے نیویارک کے کونی آئی لینڈ میں ’رومی سینٹر‘ کے آگے کھڑے کیا کیا یاد آنے لگا۔ میرے گاؤں میں مولانا رومی کے چاہنے والوں کا چھوٹا سا حلقہ میر حسان الحیدری، تھانے والی مسجد کے ملا بہرام۔ ’بدنصیب ہے وہ گھر جس میں ’شاہ جو رسالو‘ اور مولانا روم کی’مثنوی‘ نہیں‘، سندھ یونیورسٹی کے بانی وائس چانسلر علامہ آئی آئی قاضی نے کہا تھا۔ مجھےاب تک معلوم نہیں ایدھی کے نام سے پہلے کی طرح رومی کے نام سے قبل بھی لفظ مولانا کا کیا کام! کونی آئی لینڈ کی سامنے والی گلی میں ایک بوڑھی یہودی پولش عورت کو پاکستانی بچوں کیساتھ اردو میں بات کرتے سنا۔ پھر وہ گئے زمانوں کی اردو ہندی فلموں کی ہیروئنوں کی نقل کرتے ہوئے بچوں کو ان کے ڈائیلاگ سنانے لگی،’مجھےمت چھیڑو، میں ابھی کنواری ہوں!‘ اسی سڑک پر ایک دکان کا سائن بورڈ بتا رہا تھا’حلال پیزا‘۔ کسی نے مجھے بتایا کہ’شروع شروع میں نیویارک آنے والے پاکستانیوں کی تعداد وہاں اس لیے بھی بس گـئی کہ اس یہودی اکثریتی آبادی کے علاقے میں یہودیوں کا ’ کوشر گوشت‘ ملتا تھا۔ ’دنیا کے ہر ملک کیلیے سوائے اسرائیل کے‘، پیارے پاکستان کے سبز پاسپورٹ کے صفحے پر لکھی ہوئی تحریر اب تو مٹ ہی جانی چاہیے۔ اقوام عالم میں مذہب کی بنیاد پر وجود میں آئے ہوئے فقط ان دونوں ہی ملکوں کے بیچ بہت سی مماثلت ہے، سواۓ جمہوریت کے جو پاکستانی فوج اپنے لوگوں کو بالکل اس طرح دینے سے منکر رہی ہے جیسے اسرائیلی فلسطینیوں کو اپنے چھینے ہوئے علاقے دینے سے۔ ’گیارہ ستمبر کے بعد اتنی پکڑ دھکڑ عربوں کی نہیں ہوئی جتنی ہمارے (پاکستانی) لوگوں کی‘، نیویارک میں جاوید بش نامی ایک نوجوان کیمرا مین نے مجھ سے کہا۔ مجھےتب وہی ایک پاکستانی ٹیکسی ڈرائیورکی بات یاد آئی کہ’ ورلڈ ٹریڈ سنٹر کا ملبہ پاکستانیوں پر جا گرا ہے‘۔ کونی آئی لینڈ ’منی پاکستان‘ کہلایا کرتا اب جہاں کے چالیس فی صد لوگ یا تو جیلوں میں ہیں یا پھر امریکہ چھوڑ کر کینیڈا یا پاکستان چلے گئے ہیں،’ کونی آئي لینڈ پروجیکٹ کے احسان اللہ بوبی نے مجھے بتایا۔ امریکہ سے ہزاروں میل دور سندھ، پنجاب سرحد پر بھی امریکہ کی ریاست الاباما کے شہر برمنگھم سے ایک جواں سال ڈاکٹر سید اسحاق شاہ کے قتل کی خبر پہنچی جس کیلیے مقتول پاکستانی ڈاکٹر کے ورثاء کا کہنا تھا (یا انہیں کم از کم یہ بتایا گیا ہوگا) کہ ان کا قتل امریکہ میں ایک ’نفرت پر مبنی جرم‘ تھا جو گیارہ ستمبر کے ردعمل میں ہوا لیکن گیارہ ستمبر کے بعد نفرت پر مبنی جو قتل اور جرائم امریکہ میں گنوائے گئے ہیں ان میں ڈاکٹر سید اسحاق شاہ کے قتل کا ذکر نہیں۔ یہ برمنگھم میں اس سٹور پر ایک مبینہ ڈکیتی کی واردات بتائی گئی جہاں ڈاکٹر اسحاق شاہ کام کرتے تھے۔ اپنے شہراور کراچی کے جناح ہسپتال میں ساتھی ڈاکٹروں اور مریضوں میں بہت ہی مقبول اور اپنے خاندان میں پہلے ڈاکٹر اسحاق شاہ کا بھائی فقیر سید الیاس شاہ آج بھی اباوڑو میں امریکی انصاف کا منتظر اور دکھی ہے لیکن اسکا دل رومی کی اس شاعری پر آج بھی یقین رکھتا ہے جو نفرت پر مبنی عمل اور مذہب دونوں کی منکر ہے۔ فقیر الیاس شاہ ایک عجیب آدمی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||