کیا کامیابی راس آئے گی؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چھوٹے نواب یعنی سیف علی خان بالی ووڈ میں 13 سال سے ہیں لیکن اتنے عرصے بعد انڈسٹری کو احساس ہوا ہے کہ وہ فلم کو اکیلے ہی سنبھال سکتے ہیں۔’ہم تم‘ کی کامیابی کے بعد انہیں اکیلے ہیرو کے رول ملے جن میں ’پرینیتا ‘اور ’سلام نمستے‘ جیسی فلمیں ہیں۔ پرینیتا سے سیف کو بہت امیدیں ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ہمیشہ ایک جیسے رول نہیں کرنا چاہتے وہ اداکاری کے مختلف رنگ دیکھنا اور دکھانا چاہتے ہیں اور پرینیتا ان میں سے ایک ہونگی۔ سیف کا کہنا ہے کہ انہوں نے حال ہی میں انڈسٹری میں سٹار کا درجہ حاصل کرنے کے بعد بہت عزت کمائی ہے ایک سٹار ہونا کیا ہوتا ہے اب وہ محسوس کر سکتے ہیں ۔ بیچارے چھوٹے نواب نے جنہوں نے عزت کمانے میں 13 سال لگا دیئے وہ ان کے ابا جان نے بقولِ بعض ایک ہی دن میں مٹی میں ملا دی۔ شکار کے شوق نے انہیں کہیں کا نہ رکھا اور اب پولیس نے انہیں جلد از جلد خود کو قانون کے حوالے کرنے کی وارننگ دے ڈالی۔ اب جب چھوٹےنواب سدھرے تومنصور علی خان پٹودی یعنی بڑے نواب غلط راہ پر چل نکلے۔ وہ تو شکر ہے کہ مینکا گاندھی حکومت میں نہیں ہیں ورنہ جانوروں کے حقوق کا نعرہ بلند کرتی ہوئی سڑکوں پر پر نکل آتیں ۔
خرگوش کا شکار تو سمجھ میں آتا ہے لیکن ہرن کا شکار وہ بھی کالے ہرن کا جسکے شکار کے لئے ضمانت بھی مشکل سے ملتی ہے۔ خدا رحم کرے نواب صاحب پر۔ بالی ووڈ کے آسکر ایوارڈز کہے جانے والے انٹرنیشنل انڈین فلم اکیڈمی ایوارڈز (آئیفا) کی تیاریاں زوروں پر ہیں اور بڑے بڑے ستارے جیسے شاہ رخ خان ، امیتابھ بچن ، رتک روشن، وغیرہ ایمسٹر ڈیم کے لئے روانہ ہو رہے ہیں جہاں یہ ایوارڈز دیئے جائیں گے۔ تین دن کے اس میلے میں کیا کچھ نیا دیکھنے کو ملے گا ؟ ایوارڈز کے ساتھ ساتھ سٹار میچ ہوں گے، پارٹیاں ہوں گی شو میں تمام ستاروں کے لائیوپرفارمنس اور کچھ نئی فلموں کا پریمئیر وغیرہ اور پھر ایوارڈز لینے والوں میں ہمیشہ کی طرح سب سے پہلے شاہ رخ خان ، جاوید اختر ، یش چوپڑہ ،پریتی زنٹا وغیرہ وغیرہ یعنی پچھلے کچھ سالوں سے ہو نے والے ایوارڈز کا ایکشن ریپلے۔ ہمیشہ کی طرح بڑے بینر اور بڑے ستاروں کی باکس آفس پر رنگ جمانے والی فلموں کو اعزاز بخشا جائے گا۔ ویسے تو آجکل ہر طرف یہی باتیں ہیں کہ بالی ووڈ بدل رہا ہے فلموں اور فلمسازوں کا رجحان تبدیل ہو رہا ہے لیکن ان نیوایوارڈز میں صرف باکس آفس پر کامیاب ہونے والی فلموں کو ہی نامزد کیا جاتا ہے ۔ کسی تھیم یا مقصد کو لیکر بنائی جانے والی فلمیں خاموشی کے ساتھ پیغام دے کر نکل جاتی ہیں یا پھر انڈسٹری کی چکا چوند میں کہیں دب کر رہ جاتی ہیں ۔ یہ درست ہے کہ اس وقت اکشے کمار بالی ووڈ کے پانچ بڑے سٹارز میں سے ایک ہیں اور شاید یہی بات ان کے دماغ پر چڑھ گئی ہے کیونکہ انہوں نے حال ہیں میں فرحان اختر کی فلم ’ڈان‘ کو ٹھکرا دیا اور تو اور کرن جوہر کے پروگرام ’کافی ودھ کرن ‘ میں آنے سے بھی یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ ان کے پاس وقت نہیں ہے۔
کرن کے شو پر نہ آنے کا بہانہ تو سمجھ میں آتا ہے کہ کہیں باتوں باتوں میں دل کے راز باہر نہ آجائیں۔ خیر کوئی بات نہیں اکشے نہ سہی پرینکا ہی سہی۔ اگلے ہفتے کے شو میں انہیں کی زبانی کچھ خاص اورراز کی باتیں ہو جائیں گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||