باؤنس بیک کلچر: خواتین پر بچوں کی پیدائش کے بعد ’پہلے جیسی‘ جسامت حاصل کرنے کا دباؤ کیوں ڈالا جاتا ہے؟

جب شیرون اوکلی نے 2018 میں ایک بچے کو جنم دیا تو فوراً ہی ان کے جاننے والوں نے اُن کی جسمانی وضع قطع پر مبارک بادیں دینی شروع کر دیں۔ وہ کہتی ہیں کہ لوگ اُنھیں بچے کی پیدائش کے چند ماہ بعد ہی ایسا کہنے لگے کہ ’اوہ، تم تو بہت زبردست لگ رہی ہو، بالکل پہلے جیسی ہو گئی ہو۔‘

بھلے ہی باہر سے ایسا لگ رہا ہو کہ وہ ’پہلے جیسی‘ ہو گئی ہیں مگر حقیقت اس سے مختلف تھی۔ حالانکہ حمل کے دوران بڑھنے والا ان کا زیادہ تر وزن کم ہو گیا تھا مگر وہ جسمانی طور پر اب بھی سخت تکلیف میں تھیں۔

شیرون برطانیہ کے علاقے یارکشائر میں رہنے والی ایک کینیڈین ہیں۔ اُنھیں جوگنگ پسند تھی اور وہ بچے کی پیدائش کے چھ ماہ بعد دوبارہ اپنے بچے کے سٹرولر کے ساتھ جوگنگ کرنے لگیں۔ مگر اس دوران ان کا پیشاب خطا ہو جاتا تھا۔ وہ اپنے آفس میں بھی پیشاب خطا ہونے کے مسئلے کا سامنا کرنے لگی تھیں۔

ان کو لاحق عارضے کی تشخیص میں چھ ماہ لگے اور بالآخر ڈاکٹروں نے تشخیص کی کہ زچگی کے دوران اُن کی ہڈیاں کمزور ہونے کے باعث ان کا مثانہ، رحم اور بڑی آنت اپنی جگہ سے پھسلنے لگے تھے۔

چار برس بعد اب ان کی صورتحال کافی بہتر ہے مگر اب بھی کبھی کبھی ان کا پیشاب خطا ہو جاتا ہے۔ وہ ہر جگہ اپنے ساتھ اضافی کپڑے لے کر جاتی ہیں۔ وہ جب بھی دوڑ لگاتی ہیں تو فکرمند رہتی ہیں۔ کچھ عرصے کے لیے تو اُنھیں لگنے لگا تھا کہ اُنھیں اپنی ملازمت بھی چھوڑنی پڑے گی۔

شیرون کہتی ہیں کہ ’یہ ہمارے معاشرے کی ایک بہت عجیب بات ہے کہ ہم پیدائش کے بعد کے وقفے میں صرف خواتین کو جسمانی اعتبار سے پرکھتے ہیں مگر یہ نہیں دیکھتے کہ وہ کیسا محسوس کر رہی ہیں۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’میں ٹھیک لگ رہی ہوں مگر مجھے پیدائش کے دوران یہ مسائل لاحق ہوئے ہیں جن سے میں اب بھی نمٹ رہی ہوں۔‘

شیرون جیسی کہانیاں بہت عام ہیں مگر ان کے بارے میں کم ہی بات ہوتی ہے۔ حالانکہ ہمیشہ ان کی علامات ظاہر نہیں ہوتیں مگر پھر بھی ان اعضا کا اپنی جگہ سے پھسل جانا پیدائش کے بعد 90 فیصد تک خواتین کو متاثر کرتا ہے۔

پیشاب خطا ہونے کا مسئلہ تقریباً ایک تہائی خواتین کو لاحق ہوتا ہے جبکہ پیٹ کے بڑھنے کے لیے جو پٹھے آپس میں الگ ہو جاتے ہیں، وہ بھی فوری طور پر واپس نہیں جڑتے اس لیے پیٹ میں ابھار اور درد کے ساتھ قبض اور پیشاب خطا ہونے کے مسائل لاحق ہو سکتے ہیں یا پھر چلنا اور سامان اٹھانا بھی مشکل ہو سکتا ہے۔ ان مسائل سے 60 فیصد تک خواتین متاثر ہوتی ہیں۔

اور حمل و پیدائش کے دوران اگر جسمانی زخم نہ لگیں تب بھی حمل، زچگی اور پیدائش کے بعد خواتین میں بے انتہا تبدیلیاں آتی ہیں۔ ہارمونز جسم سے کہتے ہیں کہ وہ چربی کو سٹور کر کے رکھیں، پیلوک فلور پر بے انتہا دباؤ پڑتا ہے، ماں کے جسم سے غذائیت حمل کو یا شیرخوار کو چلی جاتی ہے، اس سب کا مطلب ہے کہ جسم کو اپنے آپ کو ٹھیک کرنے میں وقت لگتا ہے۔

مگر کئی خواتین کو بچوں کی پیدائش کے بعد معاشرے سے جو پیغام ملتا ہے وہ آرام کرنے اور بحال ہونے کا نہیں بلکہ فوراً ہی اس جسمانی ساخت میں ڈھلنے اور ان معمولات پر واپس آنے کا ہوتا ہے جو ان کے حاملہ ہونے سے پہلے تھا۔

سلیبریٹیز کے بچوں کی پیدائش کے بعد میڈیا کی پوری توجہ اس بات پر ہوتی ہے کہ اُنھوں نے وزن گھٹایا ہے یا نہیں اور اس حوالے سے کسی کو معلومات نہیں ہوتیں کہ مذکورہ خاتون کس مشکل صورتحال سے گزر رہی ہیں۔

ماؤں کے لیے ڈائٹ اور فٹنس پروگرامز آپ کو ہر جگہ ملیں گے لیکن ان میں سے بہت کم ہی بعد از زچگی (پوسٹ پارٹم) صحت کے ماہرین کی زیرِ نگرانی ہوتے ہیں۔

ان خواتین کے گھر والے، دوست اور یہاں تک کہ آفس کے ساتھی بھی ان کی جسمانی ساخت پر تبصرے کرتے ہیں۔ اور اگر مردوں کی نکلی ہوئی توند کو خوشگوار سمجھا جاتا ہے تو جنم دینے والی ماں کو یہ آسانی حاصل نہیں ہوتی۔

کچھ ماؤں کے لیے فوراً وزن گھٹانے کا دباؤ اور پیدائش کے بعد ناکافی طبی سہولیات ایک تکلیف دہ، یہاں تک کہ خطرناک امتزاج ہو سکتا ہے۔ اس سے پیدائش کے دوران جسم کو پہنچنے والے زخم نہ صرف بگڑ سکتے ہیں بلکہ ان کا ٹھیک ہونا بھی دشوار ہو سکتا ہے۔ یہ زندگی کے سب سے کمزور، سب سے بے آرام اور جذباتی طور پر اتھل پتھل سے بھرے دور میں ذہنی اور جسمانی صحت پر تباہ کن اثرات ڈال سکتا ہے۔

لامحالہ تبدیلیاں

ماں بننا ایک نئی زندگی میں داخل ہونے سے کہیں زیادہ ہوتا ہے۔ یہ کسی شخص کی زندگی، ذہنیت اور یہاں تک کہ شناخت کو بھی مکمل طور پر بدل سکتا ہے۔

کئی خواتین کے لیے یہ پہلا تجربہ ہوتا ہے کہ وہ ایک چھوٹے اور کمزور سے انسان کی دیکھ بھال کی مکمل طور پر ذمہ دار بن جائیں، جسے ان کی ہر وقت ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ کچھ خواتین کے لیے یہ پہلا موقع ہوتا ہے جب وہ کام نہ کر رہی ہوں یا اپنے شریکِ حیات پر مالی طور پر منحصر ہوں۔

خاص طور پر وہ ممالک جہاں باپوں کو پیدائش کے بعد اتنی چھٹی نہیں ملتی یا جہاں بچوں کی نگہداشت کی سہولیات اتنی نہیں ہوتیں، وہاں اُنھیں مالی دباؤ کا سامنا بھی ہو سکتا ہے۔ اور اگر وہ اپنے کریئرز میں دوبارہ لوٹیں تو ماؤں کو ایسا تاثر بنائے رکھنا پڑتا ہے کہ جیسے ماں بننے نے انھیں تبدیل نہیں کیا ہے، تاکہ وہ ’ماں بننے کی سزا‘ سے بچ سکیں کیونکہ ایسے میں خواتین کو کم تنخواہ پر کام کرنا پڑتا ہے اور یہاں تک کہ ملازمت سے ہاتھ بھی دھونے پڑ سکتے ہیں۔

حالانکہ اب یہ بات عمومی طور پر معلوم ہے کہ بچے کو جنم دینے کے بعد لوگوں کی نہ صرف ترجیحات بدل جاتی ہیں (اور دفتر میں رات دیر تک رکنا زیادہ مشکل ہو جاتا ہے) بلکہ اس سے دماغ بھی کافی حد تک تبدیل ہو جاتا ہے۔

اور یہ سب کچھ ایسے وقت میں ہو رہا ہوتا ہے جب خواتین زندگی میں سب سے زیادہ تھکاوٹ کی شکار ہوتی ہیں۔ وہ حمل اور پیدائش سے جسمانی طور پر بحال ہو رہی ہوتی ہیں اور ان میں سے ایک چوتھائی کو پوسٹ پارٹم ڈپریشن یا پیدائش سے منسلک پی ٹی ایس ڈی کا سامنا ہوتا ہے۔

مگر ان سب تناؤ بھرے مسائل کے ساتھ ساتھ خواتین کو واپس اپنی پچھلی زندگی میں لوٹ جانے کی توقع کا بھی سامنا کرنا پڑتا۔

زیادہ تر معاشروں بالخصوص مغرب میں خواتین پر زچگی کے بعد ایسا نظر آنے کے لیے بہت دباؤ ہوتا ہے جیسے کہ کبھی حمل، پیدائش اور ماں بننے کا پورا عمل ہوا ہی نہیں۔ اور یہ سب کچھ بہت جلدی کرنے کا دباؤ ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ایک صحتمند اور غیر پیچیدہ حمل و زچگی بھی انسانی جسم کو بے حد بدل دیتی ہے۔ ان میں سے زیادہ تر جسمانی تبدیلیوں کا مطلب یہ ہے کہ کیلوریز میں کمی یا پھر ورزش دوبارہ شروع کرنے میں نہایت احتیاط سے کام لینا چاہیے۔ اس کے علاوہ دیگر جسمانی تبدیلیاں ہمیشہ کے لیے ساتھ رہ جاتی ہیں جس کی وجہ سے حمل سے پہلے کی حالت میں لوٹنا ناممکن ہو جاتا ہے۔

سب سے پہلے تو وزن بڑھنے کی دشواری ہے۔ واشنگٹن ڈی سی میں خواتین کی نرس اور پیڑو کے مسائل کی ماہر جینا پرکنز کہتی ہیں کہ 'جب آپ حاملہ ہوں تو آپ میں تمام ہارمونز کی اضافی مقدار ہوتی ہے جو جسم کو بتاتے ہیں کہ وہ وزن برقرار رکھے کیونکہ ہمیں اس کی ضرورت پڑے گی۔ ہمیں پیٹ میں اس چربی کی ضرورت پڑتی ہے تاکہ ہمارا حساس رحم اور اس میں پرورش پا رہا بچہ محفوظ رہے۔'

اس دوران پیٹ اور پیلوک فلور میں موجود پٹھے کھنچ کر کاغذ جتنے باریک ہو جاتے ہیں۔ رحم میں بچے کی موجودگی اور قدرتی پیدائش کا تناؤ پیلوک فلور پر اضافی دباؤ ڈالتا ہے۔ یہاں تک کہ پیلوک فلور کی ہڈیاں بھی اپنی جگہ سے 2.5 سینٹی میٹر تک ہل جاتی ہیں۔

بہت سی خواتین کو حمل اور زچگی کے دوران بہت سے عوامل اور چوٹوں سے گزرنا پڑتا ہے جس میں نہ صرف پیلوک فلور کا پھسل جانا اور ہڈیوں کا الگ ہو جانا بلکہ سی سیکشن (بڑے آپریشن) اور ُگی کے دوران جسم کٹنے سے صحتیابی شامل ہے۔ اس میں اس سے کہیں زیادہ وقت لگ سکتا ہے جتنا کہ کہا جاتا ہے کہ زیادہ تر عورتوں کو درکار ہوتا ہے۔

سیزیرین کے چھ ہفتوں کے بعد زیادہ تر آپریشن کا زخم مکمل طور پر صحت یاب نہیں ہو پاتا، اور پیٹ کے سامنے کی جلد جو اعضا اور پٹھوں کو اپنی جگہ پر تھامے رکھتی ہے اپنی اصل طاقت کا 60 فیصد سے بھی کم دوبارہ حاصل کر پاتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ان تمام تبدیلیوں اور ممکنہ نتائج کا مطلب یہ ہے کہ یہ خیال کہ خواتین پیدائش کے چند ہفتوں کے اندر اندر جسمانی طور پر حمل سے پہلے کے جسم میں واپس آسکتی ہیں، غلط ہے، بدترین طور پر خطرناک ہے۔

امریکہ کے شہر انڈیانا میں رہنے والی شیلبی ایلی کا کہنا ہے کہ انھیں 2022 میں بچے کو جنم دینے سے پہلے ہی سنیپ بیک کلچر (پہلے جیسی صحت مند) بننے کے دباؤ کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ’اس وقت حتیٰ کہ میرے بچے کی پیدائش سے بھی پہلے کہا ’کیا آپ اپنے جسم کو واپس حاصل کرنے کے لیے پُرامید ہیں؟ اور یہ میرے لیے ایک عجیب خیال تھا، کیونکہ میں ایک انسان کو بنا رہی تھی، میرا جسم پہلے سے کہیں زیادہ میرا ہے لیکن تب میں نے پہلی بار اس دباؤ کو محسوس کیا۔‘

ان باتوں کا یہ نتیجہ نکلا کہ انھوں نے اپنے جسم کے ساتھ برتاؤ کو بدلنا شروع کر دیا۔ ان کا کہنا تھا ’میرا بیٹا پیدا ہوا تو میں نے سوچا کہ اچھا مجھے اپنے جسم کو کھلانا پلانا بند کرنا ہو گا کیونکہ اب میرے اندر ایک دوسرا انسان نہیں ہے۔ میں اپنی خوراک کو محدود کر سکتی ہوں۔‘

لیکن جب انھوں نے اپنی کیلوریز کم کرنا شروع کیں تو سب سے پہلی چیز جو انھوں نے نوٹس کی وہ یہ تھی کہ ان کا دودھ کم ہو گیا۔ وہ کہتی ہیں ’میرا اضافی دودھ ختم ہو گیا، میں عموماً آٹھ اونس دودھ پمپ کیا کرتی تھی اور اب وہ بمشکل بیٹے کے لیے پورا ہو پاتا تھا۔ وہ ہر گھنٹے دودھ پیتا، اس کا پیٹ نہیں بھرتا تھا۔‘

وہ پہلے ہی نومولود کے ساتھ نیند کی کمی کا شکار تھیں اور وہ مزید تھکی تھکی رہنے لگیں۔ ان کا مزاج اداس رہنے لگا۔

ایلی کی خوراک اب محدود نہیں ہے لیکن وہ بہت افسوس محسوس کرتی ہیں کہ وہ حمل کے دوران بڑھنے والا وزن کم نہیں کر پائیں۔ وہ کہتی ہیں ’جو دنیا آپ سے چاہتی ہیں اور جیسا قدرت آپ کو دیکھنا چاہتی ہے، ان دونوں کو یکجا کرنا مشکل ہوتا ہے۔‘

’میں نے وزن کم کیا تمہیں بھی کرنا چاہیے‘

ان سب حقائق کے باوجود زچگی سے گزرنے کے بعد خواتین کو جو پیغام ملتا ہے وہ واضح ہے کہ ’اپنا جسم واپس حاصل کرو، جتنا جلد ممکن ہو سکے۔‘

سڈنی آسٹریلیا میں مدر ہڈ سٹڈیز اور سماجیات کی ماہر اور پوڈ کاسٹ ’دی گڈ اینف مدر‘ کی میزبان سوفی بروک کا کہنا ہے کہ زچگی کے بعد ان پر وزن کم کرنے پر زور دینے کی کئی وجوہات ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’ماؤں کو کچھ خاص سماجی اصولوں اور توقعات کا نشانہ بنایا جاتا ہے، ’باؤنس بیک‘ ثقافتی دباؤ اس کی ایک مثال ہے۔ ماؤں سے توقع کی جاتی ہے کہ بچے پیدا کرنے کے جسمانی ثبوت کو مٹا دیں تاہم اپنا سب کچھ بچوں کے لیے وقف کر دیں۔ اس کا مطلب ہے کہ مسابقتی دباؤ اور مطالبات کو پورا کرنے کی کوشش کرتے ہوئے وہ ایک کامل ماں، بیوی اور کارکن بنیں۔‘

لیکن، وہ مزید کہتی ہیں کہ ’یہ ممکن نہیں ہے، ہمیں مسابقت تصورات کو پورا کرنے کے لیے کہا جاتا ہے اور یہ کبھی بھی کافی نہیں ہو سکتے۔‘'

سیلبریٹی کلچر نہ صرف اس کی علامت ہے بلکہ وجہ بھی ہے۔ کچھ سیلبریٹیز جیسا کہ ماڈل ایملی راتے کوفشکی کا پیٹ زچگی کے دنوں بعد ہی بلکل سیدھا تھا۔ کئی دوسری مشہور شخصیات نے بھی اپنے وزن کم کرنے کی تفصیلات عوامی سطح پر شیئر کیں، جن میں ڈائٹ اور ورزش کی منصوبے شامل تھے۔

اور جب یہ شخصیات فورا ہی بچے سے پہلے والے جسم میں واپس ڈھل جاتی ہیں تو میڈیا انھیں مختلف اور غیر معمولی شخصیت کے طور پر بیان کرتا ہے۔ اس مسلسل توجہ کا مطلب ہے کہ زچگی کے بعد کا جسم مسلسل موضوع گفتگو رہتا ہے، بعض دفعہ کسی مضمون کے سیاق و سباق سے قطع نظر تو عوامی رائے کا مرکز ہوتا ہے۔

نوری 2021 میں پہلے بچے کو جنم دینے والی برطانوی ٹیلی وژن میزبان اور سوشل میڈیا انفلوئنسر ایشلی جیمز کا کہنا ہے کہ ’آپ نے دیکھا کے ریحانہ پر تنقید کی جا رہی ہے کہ انھوں نے بچے کے بعد وزن کم نہیں کیا یا ان کی تعریف کئی گئی ہو کہ انھوں نے وزن کم نہیں کیا۔‘

وہ کہتی ہے کہ ’یہ موضوع گفتگو ہی کیوں ہوتا ہے۔‘

کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ باؤنس بیک کلچر سفید فام مغربی معاشرے سے ہوتا ہوا اب دنیا بھر میں پھیل گیا ہے۔ سورابی ویچ کینیڈا میں ایک فیزیو تھراپسٹ اور پوسٹ پارٹم فٹنس کوچ ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ وہ اپنے ہر رنگ و نسل کے مریضوں میں وزن کم کرنے کے دباؤ میں اضافہ دیکھ رہی ہیں۔

ویچ کہتی ہیں ’سفید فام حاکمانہ کلچر سے جہاں سفید رنگت کو یورپ میں خوبصورتی کا معیار سمجھا جاتا تھا، میں دیکھ رہی ہوں کہ اب یہ سفید فام خواتیں، ایشیئن خواتین، انڈین خواتین اور سیاہ فام خواتین کو بھی متاثر کرنے لگا ہے۔‘

انڈیا میں پیدا ہونے والی ویچ جو بچی تھیں تو ’یادہ بڑا اور ابھار والا جسم ہونے کو فوقیت دی جاتی تھی لیکن اب انڈیا میں مغربی معیار کے مطابق دُبلا ہونے کا دباؤ ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ انھوں نے یہی دوسرے ایشیائی تہذیبوں جیسے کہ چینی، کوریئن اور جاپانی خواتین کے ساتھ کام کر کے بھی دیکھا ہے۔

مصنوعات کی مارکیٹنگ بھی اس دباؤ میں اضافہ کی وجہ ہے۔

سوشل میڈیا اور گوگل ایسے اشتہارات سے بھرے پڑے ہیں جن میں ماؤں کے لیے ورزش کے لیے کلاسز اور ڈائٹ کے منصوبے پیش کیے جاتے ہیں۔ حتی کہ ان میں کچھ مصنوعات کو بچوں سے پہلے والا جسم حاصل کرنے کے حل بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔

مارگو کوفجیتکوفسکی کیلیفورنیا میں ایک ہڈیوں کی ماہر اور پیلوک فلور فزیو تھراپسٹ ہیں۔ وہ پیٹ کو باندھنے والے یا زچگی کے بعد پیٹ کو دبانے والی بیلٹس جیسی مصنوعات کے بارے میں کہتی ہیں کہ ’یہ آپ کا پیٹ کم نہیں کریں گی۔ بہت سی پیٹ باندھنے والی مصنوعات آن لائن فروخت ہو رہی ہیں، یہی محض ایک شمیض کی طرح ہیں۔‘

اُن کے خیال میں یہ صرف لٹکے ہوئے پیٹ کو اور بدترین کر دیں گی۔

ماہر نفیسیات بروک کا کہنا ہے کہ اگر ایک فرد اس باؤنس بیک کلچر کو اہمیت نہ دے تو اس کا اس سے متاثر ہونے کا امکان نہیں ہے۔ انھوں نے ان تمام پیغامات کا احاطہ کیا جو بحثیت ماں ہمیں اس دنیا میں سننے پڑتے ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’ہم اس سے باہر نہیں جا سکتے، یا ہم خود کو اس کے اثر سے بچا نہیں سکتے، یہ کلچر ہمارے خاندانوں، تعلقات، کریئرز، اداروں، میڈیا میں ہے اس لیے کچھ لوگوں میں دوسروں کی نسبت اس طرح کے پیغامات کے خلاف مدافعت یا تو ہوتی ہے یا وہ اسے پیدا کر لیتے ہیں۔‘

کیمبرج، برطانیہ کی لوسی کنگز فورڈ پر اس کے بہت بُرے اثرات پڑے۔

جب جنوری 2022 میں اُن کا بیٹا پیدا بڑے آپریشن سے پیدا ہوا۔ اُن کے ٹانکوں میں انفیکشن ہو گیا اور انھیں اس قدر تکلیف ہوتی کہ وہ بیٹھ نہیں پاتی تھیں۔ وہ کہتی ہیں ’میں صحیح سے لیٹ بھی نہیں پاتی تھی، اگر میں پانچ منٹ سے زیادہ چلتی تو ٹانکے کُھل جاتے۔ میں نے تین مرتبہ اینٹی بائیوٹکس لیں اور بچے کو دودھ پلانا چھوڑ دیا کیونکہ ان سے وہ بیمار ہو رہا تھا۔‘

انھیں دوبارہ چلنے میں چار ماہ لگ گئے۔

اس کے باوجود کے وہ جن حالات سے گزریں انھیں بھی سنیپ بیک کا دباؤ جھیلنا پڑا۔ اس حقیقت نے انھیں شکست خوردہ کر دیا۔

وہ کہتی ہیں ’یہ نومولود بچے کے ساتھ دن پہلے ہی کافی مشکل ہوتے ہیں اور اوپر سے میڈیا میں آرٹیکل پر آرٹیکل شائع ہوتے ہیں کہ ’اوہ یہ سلیبریٹیز بچوں کی پیدائش کے چند ہفتوں بعد ہی کتنی زبردست لگنے لگی ہیں‘ لیکن بدترین سلیبریٹیز نہیں بلکہ عام لوگوں کی طرف سے ہوتا ہے کہ ’میں نے وزن کم کر لیا، اب تمہیں بھی کرنا چاہیے۔‘

’مجھے بہت بُرا پوسٹ پارٹم ڈپریشن ہوا اور میرا خیال ہے کہ فیس بُک پر چھپنے والے ان مضمونوں سے کوئی مدد ملتی ہے۔‘

ایلی اور کئی دوسرے کیسز میں باؤنس بیک کلچر عموماً خاندان کے قریبی لوگوں کی طرف سے آتا ہے۔ ایلی کہتی ہیں کہ ’کسی کو بھی یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ وہ بچے کے فوراً بعد پہلے جیسی ہو جائے گی۔ میں جانتی ہوں اس میں جلدی کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔‘

وہ مـزید کہتی ہیں ’اگر مجھے زیادہ بہتر حوصلہ افزا لوگ ملتے یا عمومی معاشرہ حوصلہ افزائی کرنے والا ہوتا تو شاید میں بہت جلدی بہتر ماں بن جاتی۔‘

ایک اور خاتون جو نہ صرف انفلوئنسر ہیں بلکہ اس باؤنس بیک کلچر کے نتائج کے بارے میں بہت زیادہ بات کرتی ہیں وہ ہیں جیمز۔ وہ کہتی ہیں ’مجھے یاد ہے میں نے سوچا اچھا تو چھ ہفتے ہو گئے ہیں، میں اپنی معالج سے بات کر کے دوڑ لگانا شروع کروں گی۔‘

’میری پیلوک ہیلتھ کی معالج نے کہا کیا تم پہلے آ کر مجھ سے معائنہ کروا گی۔۔۔۔‘ اور تب ان میں اعضا کے پھسلنے کی تشخیص ہوئی۔ وہ کہتی ہیں ’اگر میں دوڑ لگانا شروع کر دیتی تو خطرناک ہو سکتا تھا کیونکہ میں اس طبی حالت کو مزید بدترین کر سکتی تھی۔‘

جیمز کہتی ہیں کہ خوش قسمتی سے جب وہ حمل اور پوسٹ پارٹم کے عمل سے گزریں تو وہ پہلے ہی اپنے جسم کے ساتھ تعلق پر کام کر چکی تھیں۔ سنہ 2014 میں اچھا دکھنے کی کوشش میں وہ پینک اٹیکس کا سامنا کر چکیں تھیں۔

’جب میں حاملہ ہوئی، میں بہت پُرجوش تھی کیونکہ میں تبدیلی چاہتی تھی، میرے پیٹ پر جلد کھنچنے سے لکیریں پڑ گئیں، مجھے یہ اچھا لگا کے قدرت نے آپ کو کپڑے کی طرح بنایا ہے، اور وہ تمام چھوٹے چھوٹے زخموں کے نشان جو آپ کی زنگی کی مختلف کہانیوں سے اور بچوں کو پیدا کرنے سے ملے۔‘

لیکن جیمز جیسے خیالات بہت کم ہوتے ہیں یہ ابھی ایک روایت نہیں بنے۔

میری شوہر نے وزن کی مشین ہٹا دی

یقیناً ایک اور حقیقت ہے کہ کئی خواتین چاہے جتنی مرضی ورزش یا ڈائٹ کر لیں اُن کا جسم کبھی پہلے والی حالت میں نہیں جاتا۔

ویچ کہتی ہیں ’یہ نارمل ہے، میں پوسٹ پارٹم کو بلوغت سے تشبیہ دیتی ہوں، ہم بلوغت سے پلٹ نہیں سکتے اور ہمارجسم ویسے نہیں ہو سکتے جیسے 10 برس سے کم کی عمر میں تھے۔ ہم جانتے ہیں کہ ہمارا جسم مستقل طور پر بدل چکا ہے۔‘

مزید پڑھیے

وہ مزید کہتی ہیں ’حمل یا زچگی کے بعد ہم اتنا زیادہ نہیں بدلتے لیکن کافی تبدیل ہوتے ہیں۔ اور زیادہ تر خواتین پھر سے ویسی نہیں ہو سکتیں جیسی وہ پہلے تھیں۔ لیکن ایسے معاشروں میں جہاں سنیب بیک کو سراہا جاتا ہے اور پہلے جیسا ہو جانا ہر خاتون کے لیے آسان اور صحت مند عمل قرار دیا جاتا ہے، وہاں ایسی خواتین جو دُبلی نہیں ہوتیں انھیں ناکام سمجھا جاتا ہے۔‘

جیمز جو سینپ بیک کلچر کے خلاف سوشل میّیا پر مزاحمت کا حصہ ہیں وہ اپنے جسم میں ہونے والی تبدیلیوں کا جشن مناتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ زچگی سے گزرنے والی خواتین کے وزن پر بات کرنا نہ صرف ذہنی اور جسمانی صحت کے لیے خطرناک ہے، بلکہ یہ اس کے متضاد ہے جیسا سلوک خواتین کے ساتھ حمل کے دوران کیا جاتا ہے۔

’نو ماہ تک پیٹ میں بچہ پالتے ہوئے آپ سے کہا جاتا ہے کہ آپ کتنا نکھر رہی ہیں، آپ کتنی پیاری ہو گئی ہیں۔ اور اس کے بعد ان کا رویہ کچھ ایسا ہوتا ہے کے گویا کوئی ناگوار چیز دیکھ لی ہو۔‘

وہ کہتی ہیں ’یہ اہم نہیں ہونا چاہیے کہ آپ بظاہر کیسی دکھائی دیتی ہیں۔ اس کے بجائے یہ ہونا چاہیے کہ ’واہ، ایک زندگی کو دنیا میں لانے کے لیے شکریہ۔‘ یا یہ کہ ’کیا آپ ٹھیک ہیں۔‘