ایناکونا: وہ طاقتور ملکہ جنھیں ان کے نظریات کی بنا پر پھانسی دی گئی

    • مصنف, کیرولینا پیکارڈو
    • عہدہ, بی بی سی نیوز ورلڈ

ایناکونا، جس کا مقامی زبان میں مطلب ’سنہری پھول‘ ہے، ہیٹی کی ایک خوبصورت اور طاقت ور ملکہ تھیں۔

لیکن وہ امن اور بقائے باہمی پر یقین رکھنے والی ایک ہنر مند اور ذہین خاتون بھی تھی جنھوں نے ان عقائد کی قیمت اپنی زندگی کی صورت میں ادا کی۔

اور شاید یہی وجہ ہے کہ ان کا شمار ان گنے چنے مقامی لوگوں میں ہوتا ہے جن کا نام 15ویں صدی میں لاطینی امریکہ پر یورپی قبضے کی تاریخ پر مبنی تحریروں میں ملتا ہے۔

’ہسٹوریا ڈی انڈیاز‘ یعنی تواریخ انڈیا نامی کتاب (1527-1547) میں فرے بارٹولومی نے ایناکونا کا ذکر کرتے ہوئے ان کو ایک ’انتہائی غیر معمولی خاتون‘ قرار دیا جن کی ’متانت، فن خطابت اور ثقافت کے علم‘ کی تعریف کے ساتھ ساتھ ان کے مسیحیوں سے دوستانہ سلوک کا ذکر بھی کیا گیا۔

فرانسیسی جیسوئٹ پیئر فرانکوئس زیویئر نے لکھا کہ ’وہ ایک ایسی خاتون تھیں جن کی ذہانت اپنی جنس اور قوم کے لحاظ سے کہیں بالاتر تھی۔‘

اس زمانے کے واقعات کے عینی شاہدین کی کمی کے باوجود ایسی تحاریر کی مدد سے اس غیر معمولی خاتون کی زندگی کا ایک خاکہ تیار کرنا ممکن ہے جسے اپنی موت کے پانچ سو سال بعد بھی ایک افسانوی حیثیت حاصل ہے۔

طاقتور خاندان

پانچ دسمبر 1492 کو یورپی جہاز راں کرسٹوفر کولمبس اور ان کا عملہ لاطینی امریکہ کے ایک جزیرے پر پہنچا جسے مقامی افراد کوئسکوئیا (تمام زمین کی ماں)، بوہیو (تائینوز کا گھر)، بابیکیو (سونے کی زمین) اور آئتی کہتے تھے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اس وقت ایناکونا کی عمر 18 سال تھی۔

اس وقت ہیٹی پر تائینو قبیلے کا راج تھا جو پانچ سرداروں کے علاقوں میں بٹا ہوا تھا۔ ان میں سے سب سے بڑے علاقے، جاراگوا، کا سردار ایناکونا کا بھائی بوہیچیو تھا۔

ایناکونا خود میگوانا کے سردار کاونابو کی بیوی تھی۔ لیکن عام لوگ ان کی عزت کرتے تھے جس کی وجہ معاشرتی اعلی مرتبہ ہی نہیں تھا۔

وہ ایک اعلی شاعرہ تھیں جو اپنے گیتوں کی وجہ سے بھی جانی جاتی تھی۔ اس علاقے میں ثقافتی اور مذہبی طور پر کسی سردار کے دورے یا فصل کی کٹائی اہم مواقع تھے جب جشن منایا جاتا اور گیت گائے جاتے۔

اگرچہ ایناکونا کی زندگی کی حقیقی تاریخ افسانوں سے بھرپور ہے، تاہم خیال کیا جاتا ہے کہ ہیٹی میں ہسپانوی افراد کی آمد پر ان کا ابتدائی ردعمل مثبت تھا۔ ہسپانیوں کی فتوحات کے بعد پیدا ہونے والی تلخی کے باوجود وہ امن اور بقائے باہمی کے پرچار سے پیچھے نہیں ہٹیں۔

نوآبادیاتی تباہی

کرسٹوفر کولمبس نے اس مقام کو ’ہسپانیول‘ کا نام دیا اور شمالی ساحل پر ایک قلعے کی تعمیر کا حکم دیا۔

کرسٹوفر کولمبس اس قلعے کی تعمیر کے لیے 39 افراد چھوڑ کر واپس روانہ ہو گئے۔ لیکن روانگی سے قبل انھوں نے تاکید کی کہ مقامی افراد سے بدسلوکی نہ کی جائے۔ تاہم اس حکم کی تعمیل نہیں ہوئی۔

سنہ 1493 میں واپس آنے پر ان کو قلعہ تباہ حالت میں ملا۔ تاریخ دان گونزیلو فرنینڈیز کے مطابق وہ جن لوگوں کو چھوڑ کر گئے تھے، ان کو مقامی افراد قتل کر چکے تھے۔ اس کی وجہ ان افراد کی جانب سے ڈھائے جانے والے مظالم بتائے جاتے ہیں جنھوں نے مقامی افراد کی خواتین کو اغوا کیا اور اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا۔

اس حملے کا الزام ایناکونا کے شوہر پر عائد ہوا۔ چند رپورٹس میں دعوی کیا گیا کہ مقامی خواتین سے بدسلوکی کا علم ہونے پر ایناکونا نے ہی شوہر کو یورپیوں پر حملے کی ترغیب دی۔

تاہم صدیوں پہلے ہونے والے واقعات کی اس تشریح پر کچھ لوگ سوال اٹھاتے ہیں۔ ان میں یونیورسٹی آف سینٹو ڈومینگو کے ہسٹری اور اینتھروپولوجی کی سابق ڈائریکٹر لوئیسا ناوارو بھی شامل ہیں۔

بی بی سی منڈو سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’ایناکونا کے لیے قلعے کے مقام تک پہنچنا ناممکن تھا۔ نقل و حرکت کے لیے دستیاب وسائل کی غیر موجودگی میں اسے وہاں تک پہنچنے کے لیے 63 گھنٹے تک پیدل سفر کرنا پڑتا۔‘

’ایناکونا نے یہ سفر کیسے کیا کہ اسے معلوم ہو سکے کہ وہاں کیا ہوا؟‘

چند مورخین کی رائے ہے کہ ایناکونا کے شوہر پر سیاسی وجوہات کی وجہ سے الزام لگا اور ہسپانوی نیوی گیٹر الونسو کے الزامات جھوٹے تھے۔

ان کو بہانے سے گرفتار کیا گیا۔ لوئیسا ناوارو کہتی ہیں کہ ’الونسو نے سردار سے ایک معاہدہ طے کرنے کے بہانے ملاقات کی جس میں ایک تحفے کی پیشکش کی۔ لیکن جب ایناکونا کے شوہر کاونابو نے تحفہ وصول کرنے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو اسے ہتھکڑی لگا دی گئی۔‘

کاونابو کو بیڑیاں پہنا کر سپین بھجوانے کے لیے ایک جہاز میں منتقل کر دیا گیا لیکن راستے میں یہ جہاز ایک طوفان کی زد میں آ کر ڈوب گیا۔ یہ سنہ 1496 کی بات ہے۔

ماگوانا کی ملکہ ایناکونا بیوہ ہو چکی تھی۔ وہ اپنے بھائی کے پاس چلی گئیں جہاں ان کا احترام ایک سردار کی طرح ہی کیا جاتا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

کرسٹوفر کولمبس کے بھائی سے ملاقات

کچھ عرصے بعد جب کرسٹوفر کولمبس کا چھوٹا بھائی جزیرے پر پہنچا تو تمام تر اختلافات کے باوجود ایناکونا نے اپنے بھائی کو قائل کیا کہ وہ ان کو خراج ادا کرے۔

مورخین کے مطابق کرسٹوفر کولمبس کے بھائی کا دورہ مثبت رہا جس کے دوران اسے اتنے تحائف سے نوازا گیا کہ اسے ایک اضافی جہاز کا انتظام کرنا پڑا۔

جواب میں اس نے ایناکونا اور ان کے بھائی سردار کو اپنے جہاز پر آنے کی دعوت دی جہاں ان کے اعزاز میں توپوں سے سلامی دی گئی تو دونوں ڈر کر پانی میں چھلانگ لگانے ہی والے تھے کہ کرسٹوفر کولمبس کے بھائی نے ان کو اطمینان دلایا کہ خطرے کی کوئی بات نہیں۔

انٹونیو ڈی ہریرا لکھتے ہیں کہ ’اس واقعے کے بعد انھوں نے پورے جہاز کا تفصیلی دورہ کیا جس سے وہ کافی خوش ہوئے۔‘

ایناکونا کی زندگی کا یہ ایک نادر موقع تھا۔

سنہ 1502 میں ایناکونا کے بھائی کا انتقال ہوا تو اسے پورے جاراگوا کا سردار تسلیم کر لیا گیا۔ اس وقت تک ہسپانیول میں حالات خراب ہو چکے تھے۔ ہسپانوی اور مقامی قبائل میں جنگ چھڑ چکی تھی۔ چند ہسپانیوں نے بھی بغاوت کر دی۔

جزیرے کے نئے گورنر فرے نکولس اووانڈو نے حالات قابو میں کرنے کی کوشش شروع کی۔ اس کو علم ہوا کہ چند باغی ہسپانوی ملکہ ایناکونا کے پاس پناہ لیے ہوئے ہیں اور ایک سازش تیار کی جا رہی ہے۔

اس نے ملکہ کو امن کی پیشکش کی۔ ایناکونا کو جب اس پیشکش کا علم ہوا تو وہ اس بات پر قائل تھی کہ جزیرے پر امن کے لیے ایک معاہدہ ضروری ہے۔ تاہم گورنر کے ارادے کچھ اور تھے۔

گورنر نے فوج تیار کی اور جاراگوا کی جانب نکلا جہاں ملکہ اس کے ارادوں سے بے خبر استقبال کی تیاری کر رہی تھیں۔

جال

یہ جولائی 1503 میں اتوار کا دن تھا جب روایت کے مطابق ناچ اور گیتوں سے بھرپور تقریب میں ملکہ ایناکونا نے گورنر کا استقبال کیا۔

گورنر کے ساتھ 70 گھڑسوار اور 200 کے قریب پیادے تھے۔ اس تقریب میں کئی اور مقامی سردار بھی شریک تھے۔ روایت کے مطابق ملکہ اپنی بیٹی اور دیگر خواتین سربراہان کے ساتھ سب سے آخر میں پہنچیں۔

ان کے قبیلے کی جانب سے جشن کی تقریب مکمل ہونے کے بعد گورنر نے مقامی لوگوں کو کہا کہ وہ ان کے استقبال کے جواب میں ان کو کچھ دکھانا چاہتا ہے۔

غیر مسلح مقامی سردار اپنے لوگوں کے ساتھ جب گورنر کے بتائے ہوئے مقام پر پہنچے تو ان کو لکڑی سے بنے ایک مکان میں بٹھایا گیا جہاں ایک ٹورنامنٹ جاری تھا۔ اسی وقت گورنر نے ایک شارہ کیا اور اس کے آدمیوں نے سب مقامی افراد کو باندھ کر انھیں زندہ جلا دیا۔

باقی سپاہیوں نے بچ جانے والوں پر حملہ کر دیا۔ ڈی لاس کاسس نے لکھا کہ ’ہسپانوی فوجی بھاگتے ہوئے بچوں کی ٹانگیں کاٹ رہے تھے، اور جب کسی ہسپانوی نے کسی بچے کو بچانے کے لیے اپنے گھوڑے پر بٹھایا تو دوسرے نے آ کر ان کے جسم میں نیزے سے چھید کر دیا۔‘

پھانسی کی سزا

اس قتل عام کے بعد گورنر نے مقامی افراد پر ظلم کی انتہا کر دی۔ سیموئیل ولسن لکھتے ہیں کہ ’ایک وقت ایسا آیا کہ جزیرے پر مقامی افراد تقریبا ختم ہو چکے تھے۔‘

اس قتل عام کی مہم کے ساتھ ہی وبا نے جزیرے کی آبادی، جو 15 سال پہلے کولمبس کی پہلی بار آمد پر پانچ لاکھ تھی، گھٹ کر سنہ 1507 میں 50 ہزار رہ گئی تھی۔

ایناکونا اور ان کی بیٹی اس قتل عام میں بچ گئے تھے۔ تاہم ان کی خوش قسمتی دیر پا نہیں تھی۔

ان کو گرفتار کر لیا گیا اور سازش کے جرم میں پھانسی کی سزا سنائی گئی۔

ایناکونا میوزیم کی ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ ’وہ تائنو قبائل کی سب سے محبوب ملکہ تھی جس نے آخری وقت تک کبھی سر نہیں جھکایا اور اپنی زندگی اپنے لوگ کے لیے قربان کر دی۔‘