جب ڈنمارک نے ہندوستانی کالونیاں برطانیہ کو ساڑھے بارہ لاکھ روپے کے عوض فروخت کر دیں

    • مصنف, وقار مصطفیٰ
    • عہدہ, صحافی و محقق، لاہور

’گاتی لہروں کی سرزمین‘۔ یہ رومان بھرا مفہوم تھا جنوبی ہندوستان کے قصبے تھرنگمبادی کے نام کا مگر 17ویں صدی کی ابتدا میں یہاں آنے والے ڈنمارک-ناروے یونین کے باشندوں کو یہ نام مشکل لگا تو انھوں نے اسے ٹرینکیبار کہنا شروع کر دیا۔

1814 میں ناروے کی آزادی کے اعلان کے ساتھ ٹوٹی یہ جڑواں بادشاہت ڈنمارک کے بادشاہ کرسچن چہارم کے تحت تھی سو ہم بھی آسانی کے لیے اس یونین کو ڈنمارک اور اس کے باشندوں کو ڈینز کہہ لیتے ہیں۔

ڈینز آئے تو تھے تجارت کرنے مگر پھر ہندوستان کے ایک حصے پر دو سو سال سے زیادہ حکومت بھی کی۔ یہاں تک کہ مغلوں کے ساتھ لڑائیوں سے بھی باز نہ آئے جو تب دنیا کی بڑی طاقت تھے۔

ہوا یوں کہ 17ویں صدی میں مسالوں کی منافع بخش تجارت کا چرچا سن کر کرسچن چہارم نے سنہ 1616 میں سیلون (1972 سے سری لنکا) اور ہندوستان کے ساتھ کالی مرچ اور الائچی کی تجارت کے لیے ڈینش ایسٹ انڈیا کمپنی بنا لی۔ کمپنی تو بن گئی مگر شاید ڈنمارک کے سرمایہ کاروں کے اعتماد کی کمی کی وجہ سے دو سال تک اسے مہم پر بھیجنے کے لیے پیسہ جمع نہ ہو سکا۔

1618 کے آخر میں ڈین اوو گیڈے کی کمان میں بھیجی گئی کمپنی کی پہلی مہم کو آدھے سے زیادہ عملہ کھو کر سیلون پہنچنے میں دو سال لگے۔ سیلون میں ابتدائی منصوبے ناکام رہے لیکن ایک گزیٹیر کے مطابق 10 مئی 1620 کو ایک معاہدے کے تحت جزیرے کے مشرقی ساحل پر ٹرنکومالی میں ایک تجارتی بستی کی بنیاد رکھی گئی۔

چاروکیسی رام درائے کا کہنا ہے کہ ڈنمارک کے بحری جہاز سنہ 1620 میں ہندوستان کے جنوب مشرق میں کورومنڈل ساحل پر(اب تامل ناڈو) تھرنگمبادی پہنچے۔

یہاں تنجور (اب تھانجاور) کے حکمران تجارتی مواقع میں دلچسپی رکھنے والے نکلے، سو معاہدے پر بات چیت ہوئی۔

’تھانجاور سلطنت کے حکمران رگھوناتھ نایک نے 20 نومبر 1620 کو ڈینز کے ساتھ تجارتی معاہدہ کیا، انھیں 3,111 روپے سالانہ کرایہ پر قصبے کا قبضہ دیا اور کالی مرچ برآمد کرنے کی اجازت دی‘۔

کمپنی کو پڑوسی دیہات سے بھی ٹیکس وصول کرنے کا حق دیا گیا اور کئی ٹیکسوں میں رعایتیں دی گئیں۔ بدلے میں، کمپنی کو ہر سال وجے دشمی کے تیوہار پر نایک کو 2000 چکرم (کرنسی کی قسم) خراج میں دینا تھے۔

قصبے کا نام ٹرینکیبار رکھ دیا گیا۔ کمپنی کے پہلے گورنر گیڈے نے مقامی افراد کی مدد سے یہاں ایک قلعہ بنایا، نام رکھا ’فرٹ (فورٹ) ڈانسبرگ‘۔ مگر گیڈے نے جلد ہی واپسی کی راہ لی۔ شاید چند ماہ کے قیام کی وجہ سے گیڈے کی بجائے ان کے بعد آنے والے رولینڈ کریپے کو بعض کتابوں میں پہلا گورنر بتایا گیا ہے۔

کریپے نے مرکزی بیڑے سے ایک ماہ قبل سکاؤٹنگ فریٹر پر سفر کیا تھا۔ یہ فریٹر خلیج بنگال ہی میں کرائیکل کے ساحل پر پرتگالی جہازوں پر حملے میں ڈوب گیا تھا۔ عملے کے بیشتر افراد کو ہلاک کر دیا یا قیدی بنا لیا گیا تھا۔ دو ارکان کے سروں کو ساحل سمندر پر نیزوں پر رکھا گیا تھا۔کریپے عملے کے 13 افراد کے ساتھ تھرنگمبادی پہنچنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

1636 تک اس عہدے پر فائز رہنے والے، کریپے نے گورنر بنتے ہی ڈنمارک کی تجارت کے مرکز ٹرینکیبار سے کاروبار کو ہندوستان کے اندر اور دیگر ایشیائی ممالک تک پھیلانے کی کوششیں شروع کر دیں۔ پہلے جنوب کی طرف ساحلی تجارت کو سیلون تک پھیلایا گیا۔

سنہ 1625 تک مسولی پٹنم (موجودہ آندھرا پردیش کا کرشنا ضلع) میں ایک فیکٹری قائم ہو چکی تھی۔ یہ اس خطے کا سب سے اہم امپوریم تھا۔ پپلی، سورت، جاوا اور بالاسور میں تجارتی دفاتر قائم کر لیے گئے تھے۔ پپلی کارخانہ نے ڈچ رپورٹس کے مطابق اپنے پہلے ہی سال کے دوران اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

تاہم سنہ 1627 تک کالونی کے پاس صرف تین بحری جہاز رہ گئے تھے۔ سنجے سبرامنین کا کہنا ہے کہ 1627 میں خراب مالی حالت کی وجہ سے کمپنی ٹرینکیبار اور پڈوچیری کا محصول ادا نہ کر پائی۔

آغاز ہی سے بڑے قرضوں سے دوچار، کریپے کے بعد سنہ 1636 سے 1643 تک گورنر رہنے والے برنٹ پیسارٹ نے پیسہ کمانے کے لیے کئی پرخطر منصوبوں کی کوشش کی لیکن یہ منصوبے ناکام ہو گئے اور ڈنمارک کے قرضے بڑھ گئے۔

مغلوں کے خلاف اعلان جنگ

کیتھرین ویلن کہتی ہیں کہ سنہ 1642 میں ڈینش ناروے کالونی نے مغل سلطنت کے خلاف جنگ کا اعلان کیا اور خلیج بنگال میں بحری جہازوں پر چھاپے مارنا شروع کر دیے۔ چند مہینوں میں انھوں نے مغل شہنشاہ کے ایک جہاز پر قبضہ کر کے اسے اپنے بیڑے میں شامل کر لیا اور کافی منافع کے لیے سامان ٹرینکیبار میں بیچ دیا۔

پپلی اور اڑیسہ کے قریب دو دیگر بحری جہازوں کو جلانے سے مغل مشتعل ہو گئے تاہم وہ اپنی فوجی طاقت کا استعمال کرکے اس کا ازالہ نہیں کر سکتے تھے کیونکہ ڈینز کی مغل علاقے میں کوئی بستی نہیں تھی۔

تپن رائے چودھری کا کہنا ہے کہ مغل سمندری تجارت کے بارے میں ایک الگ رویہ رکھتے تھے جبکہ دولت کمانے کی شدید خواہش تھی، ان کی زیادہ تر آمدن زمین پر مبنی ذرائع سے ہوتی تھی۔ سمندری تجارت کو تاجروں کے مختلف گروہوں پر چھوڑ دیا تھا۔

بحری طاقت میں اپنی حدود کو دیکھتے ہوئے، مغلوں نے ڈنمارک کی جارحیت کو ختم کرنے کے لیے دوسرے ذرائع تلاش کیے۔ ڈینز کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی کوششیں ناکام ہو گئیں تو مغلوں نے دیگر یورپیوں پر ڈینش جارحیت کو روکنے کے لیے دباؤ ڈالنے کی کوشش کی۔

مائیکل وینر لکھتے ہیں عدم اطمینان کے نتیجے میں سنہ 1645 اور 1648 کے درمیان نایک کی فوجوں نے ٹرینکیبار پر دو حملے کیے۔

1648 میں، کرسچن چہارم کی وفات کیا ہوئی، ڈینش ایسٹ انڈیا کمپنی دیوالیہ ہو گئی۔ دو سال بعد ان کے بیٹے فریڈرک سوم نے کمپنی کو ختم کر دیا لیکن ہندوستانی کالونی ڈنمارک میں اس درباری پیشرفت سے بے خبر رہی۔

پیٹر راسموسین کے مطابق جیسے جیسے ڈینز کی تعداد کمپنی چھوڑ جانے اور بیماری کے باعث کم ہوتی گئی، پرتگالی اور پرتگالی-ہندوستانی باشندوں کو ملازم رکھ لیا گیا۔ یہاں تک کہ بالآخر سنہ 1655 تک، ایسکلڈ اینڈرسن کونگسباکے ٹرینکبار میں کمانڈر اور واحد ڈین رہ گئے۔

کونگسباکے نے خلیج بنگال میں بحری جہازوں پر قبضہ کرتے ہوئے، خراج کی عدم ادائیگی پر نایک کے لگاتار محاصروں کے باوجود قلعہ پر ڈینش-نارویجن پرچم لہرائے رکھا۔ جہازوں کے سامان کی فروخت سے ملنے والی آمدن سے قصبے کے چاروں طرف ایک دیوار بنائی اور نایک کے ساتھ ایک تصفیہ پر بات چیت کی۔

آخرکار کیپٹن سوارت ایڈلیئر کو مئی سنہ 1669 میں کالونی کی سربراہی کے لیے یہاں بھیجا گیا۔

ڈینش ایسٹ انڈیا کمپنی کا دوسرا جنم

ڈنمارک-ناروے اور ٹرینکیبار کے درمیان تجارت ایک نئی ڈینش ایسٹ انڈیا کمپنی کے تحت دوبارہ شروع ہوئی۔ کئی نئی تجارتی چوکیاں قائم کی گئیں جن کا انتظام ٹرینکبار سے تھا: سنہ 1696 میں مالابار ساحل پر اوڈوے ٹورے اور سنہ 1698 میں بنگال میں چندر نگر کے جنوب مشرق میں ڈینمارکسناگور۔

نایک کے ساتھ تصفیے کی توثیق ہو گئی اور ٹرینکیبار کو آس پاس کے تین دیہات کو شامل کرنے کے لیے توسیع کی اجازت دے دی گئی۔

ڈینز نے سنہ 1696 میں کیرالہ میں ورکالا کے قریب ایک بستی قائم کی۔ تاریخ دان پدمنابھ مینن نے ’ہسٹری آف کیرالہ‘ میں 18ویں صدی کے اوائل کے انگریز فوجی افسر الیگزینڈر ہیملٹن کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا: ’یہاں ساحل کنارے، ڈنمارک کے تاجروں کے پاس ناریل کی چھت والا ایک چھوٹا گودام ہے۔ یہ خستہ حال ہے، اسی طرح ان کی تجارت بھی برائے نام ہے۔‘

جنگ کی تجدید

سنہ 1672 میں کرسچن پنجم نے مغلوں کو خط میں بنگال میں ڈینش رعایا، بشمول 1640 میں جہاز سینٹ جیکب، کے نقصانات کے معاوضے کی درخواست کی۔ یہ معاوضہ کبھی نہیں دیا گیا۔

ڈنمارک سے اخلاقی اور مادی کمک کے ساتھ، ڈینز نے خود بنگال میں بنگالی تاجروں پر حملے کیے اور بڑے جہازوں کو یا تو اڑا دیا یا ان پر قبضہ کر لیا اور ٹرینکیبار لے گئے۔

17ویں صدی کے اختتامی برسوں میں وہ بنگالی گورنر محمد اجمادی کے ساتھ امن قائم کرنے میں کامیاب ہوئے، جس کے بعد دونوں فریقوں نے قبضے میں لیے گئے جہازوں کے اپنے مطالبات کو ترک کر دیا۔ ڈینز نے شہزادے کو 15,000 روپے اور چار توپیں بھی تحفے میں دیں۔

نو جون 1706 کو، بادشاہ فریڈرک چہارم نے دو مشنریوں، ہینرک پلوشاؤ اور بارتھولومیئس زیگن بلگ کو ہندوستان بھیجا۔ وہ ہندوستان میں پہلے پروٹسٹنٹ مشنری تھے۔ اس سے پہلے پادریوں نے مذہب تبدیل کرنے کی کوشش نہیں کی تھی اور ہندوستانیوں کو یورپی گرجا گھروں میں داخلے کی اجازت نہیں تھی۔

نچلی ذات کے لوگوں نے عیسائیت قبول کی مگر اونچی ذات کے ہندوؤں نے اسے مسترد کر دیا۔ مقامی گورنر جان سیگسمنڈ ہاسیئس نے محسوس کیا کہ جرمن مشنری زیگن بلگ ٹرینکیبار کے غلاموں کی تجارت کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ انھیں 4 ماہ کے لیے جیل بھیج دیا گیا۔

زیگن بلگ نے ٹرینکیبار کے باشندوں کی زبان زیادہ سے زیادہ سیکھنے کی کوشش کی، پرتگالی اور تامل سیکھنے کے لیے ٹیوٹرز کی خدمات حاصل کیں اور سنسکرت تحریریں خریدیں۔ پہلی تامل لغت، تامل-جرمن لغت لکھنے اور سنسکرت کتابوں کے ترجمے کرنے کے علاوہ انھوں نے بائبل کے کچھ حصوں کا تامل میں ترجمہ کیا۔

بعد میں یورپ سے فنڈز حاصل کرتے ہوئے انھوں نے ایک پرنٹنگ پریس قائم کیا اور تامل بائبل اور کتابیں چھاپیں۔ یوں ٹرینکیبار کے بادشاہ کی مخالفت کے باوجود مشنری کالونی کے باہر پھیل گئے۔

1729میں ڈینش-نارویجن بادشاہ نے ڈینش ایسٹ انڈیا کمپنی کو مجبور کیا کہ وہ انھیں رقم ادھار دے۔ قرض کی ادائیگی میں ناکامی اور ہندوستانی تجارت کے عدم تسلسل سے کمپنی تحلیل پر مجبور ہو گئی۔

ایشیاٹک کمپنی

12 اپریل 1732 کو کرسچن ششم نے ہندوستان اور چین کے ساتھ ایشیائی تجارت پر 40 سال کی اجارہ داری کے ساتھ نئی ایشیاٹک کمپنی کے چارٹر پر دستخط کیے۔ دونوں پچھلی کمپنیاں تجارت میں تسلسل نہ ہونے کی وجہ سے ناکام ہو گئی تھیں۔ اس بار سرمایہ کاروں کا ارادہ تھا ’آنے والے وقت میں اس ایشیائی تجارت کو ہمارے دائروں اور خطوں میں مزید مستقل بنیادوں پر رکھنا۔‘

18ویں صدی کی تیسری دہائی میں، ڈنمارک کی چینی اور ہندوستانی تجارت میں استحکام آیا، کورومنڈل ساحل اور بنگال سے سوتی کپڑے کا غلبہ تھا۔ کالی مرچ کی زیادہ تر پیداوار جنوب مشرقی ایشیا کے مغربی حصے میں ہوتی تھی، جن میں سب سے اہم (انڈونیشیا میں) سماٹرا اور(ہندوستان کی ریاست کیرالا میں) مالابار ہیں۔ ڈینش کمپنی پہلے اسے صرف مقامی تاجروں سے خریدتی تھی۔ بعد میں، کمپنی نے خود مالابار میں مرچیں خریدنے کے لیے مہم بھیجی۔

اجے کملاکرن کے مطابق سنہ 1752 میں، ڈینز نے کالی کٹ کے زمورین کے ساتھ شہر میں کالی مرچ کے گودام کے قیام کا ایک معاہدہ کیا۔ کسٹم ڈیوٹی کے علاوہ، ڈینز نے زمورین کے علاقوں پر حملہ کی صورت میں انھیں اسلحہ اور فوجی مدد فراہم کرنے پر بھی اتفاق کیا۔ کالی کٹ کی بستی تقریباً چار دہائیوں تک موجود رہی۔

مسالوں اور براؤن شوگر نے کیرالہ سے کوپن ہیگن تک اپنا راستہ بنایا۔ کیرالا کے مسالے ڈنمارک اور ناروے کے کھانوں کو ذائقہ دیتے اور کیرالہ کی براؤن شوگر ڈینش پیسٹری کے مزے میں اضافہ کرتی۔

حکام کے کالی مرچ، دار چینی، گنے، کافی اور کپاس کی کاشت کے لیے جزائر انڈمان اور نکوبار کو کالونی بنانے کے فیصلے کے بعد دسمبر 1755 میں، ڈینش-نارویجن آباد کار جزائر انڈمان پہنچے۔ یکم جنوری 1756 کو، نکوبار جزائر کو فریڈرک سورنے (فریڈرک کے جزائر) کے نام سے ڈینش-نارویجین جائیداد قرار دیا گیا۔

ملیریا کے پھیلنے پر وقتاً فوقتاً یہاں سے نکلنے بعد اسے سنہ 1848 میں ہمیشہ کے لیے چھوڑ دیا گیا۔ اس آنے جانے میں آسٹریا اور برطانیہ سمیت دیگر نوآبادیاتی طاقتوں کے جزائر پر تجاوزات کا آغاز ہوا۔ جزائر نکوبار اسی لیےانڈیا کا حصہ ہیں کیونکہ ڈینز نے انھیں پہلے اپنی کالونی بنایا اور پھر انھیں 1869 میں انگریزوں کو بیچ دیا۔

ڈینز نے حیدر علی کو بھی اسلحہ دیا اور ان کی دشمن ریاست کو بھی

ڈینز یورپ کو کالی مرچ کی فراہمی کے بدلے ٹراوانکور کو لوہا اور تانبا فراہم کرتے تھے۔ (جنوب مغربی ہندوستان کی یہ سابق شاہی ریاست اب ریاست کیرالہ کا حصہ ہے)

کے کے کسومن کا کہنا ہے کہ ’ٹراوانکور کے ساتھ تعلقات کے باوجود، ڈینز نے آرکوٹ کے نواب کو ٹراوانکور کے خلاف مہم جوئی کے لیے ہتھیار فراہم کیے۔‘

نواب کو ہتھیاروں کی فراہمی ایشیاٹک کمپنی کو ان کے دشمن، میسور کے حیدر علی، کو اسلحہ فروخت کرنے سے نہیں روک سکی جن کے حملے پر وہ پہلے ہی نواب کو اسلحہ سپلائی کر چکے تھے۔ (ٹراوانکور کو بھی تقسیم میں حصہ ملا)

ٹراوانکور نے محسوس کیا کہ اسے ٹیپو سلطان کے ممکنہ حملے کو روکنے کے لیے برطانوی مدد کی ضرورت ہے سو انگریزوں کو ناراض نہ کرنے کے لیے بڑی حد تک ڈینز کو دور ہی رکھا۔

ڈینز نے کنیا کماری کے قریب، کولاچل میں بھی ایک ادارہ قائم کیا۔ کولاچل میں ڈنمارک کی موجودگی سنہ 1755 سے 1824 تک رہی۔

مغربی بنگال میں ڈنمارک اور قلم کاری

مغربی بنگال کے سیرام پور میں ڈینز کا بہت زیادہ اثر تھا۔ سیرام پور کو سری رام پور بھی کہا جاتا ہے۔ دریائے ہوگلی کے مغربی کنارے پر یہ نوآبادیاتی شہر سنہ 1755 سے 1845 تک فریڈریکس ناگور کے نام سے ڈینش انڈیا کا حصہ تھا۔

ڈینز سب سے پہلے سنہ 1755 میں سیرام پور پہنچے اور چندر نگر میں فرانسیسیوں کی مدد سے، انھوں نے فرمان حاصل کرنے کے لیے بنگال کے نواب علی وردی خان کو 150,000 روپے سے زیادہ کی ادائیگی کے بعد 60 بیگھے زمین حاصل کی۔ یہ صرف ایک تجارتی چوکی تھی اور ڈینز کو ڈانسبرگ کی طرح چھاؤنی بنانے یا رکھنے کی اجازت نہیں تھی۔

سمترا داس کے مطابق اس قصبے میں بنگالی اشاعت کا آغاز ہوا جس کا باعث تین بپٹسٹ مشنری - ولیم کیری، جوشوا مارشمین اور ولیم وارڈ کی ان تھک کوششیں ہیں۔ ڈینز کے بنگالی ایجنٹ جیسے گوسوامی اس خوشحال دور میں پروان چڑھے۔

ڈینز کی سرپرستی میں برآمدی منڈی کے لیے ٹیکسٹائل تیار کی جاتی۔ مقامی رنگ ساز اور ریشم، سادہ اور پینٹ شدہ سوتی کپڑے، سکارف اور شال بنانے والے اس سے منسلک تھے۔ ایک بڑی مقدار ہاتھ سے پینٹ کپڑوں (قلم کاری) کی تھی جس کی مسلسل مانگ رہی۔

یہ بھی پڑھیے

ڈینش انڈیا کا سنہری دور

1772 سے 1808 تک ڈینش نارویجن تجارت میں خاطر خواہ اضافہ ہوا۔

ڈینز نے ٹرینکیبار کو مضبوط کیا اور 1777 تک اس کا مکمل کنٹرول سنبھال لیا گو یہاں 300 سے زیادہ ڈینش باشندے نہیں تھے۔ ڈنمارک کے مورخین اسے ’فلوریسنٹ ٹریڈ کا دور‘ کہتے ہیں۔

ہندوستان سے مسالوں اور کپڑوں کی تجارت منافع بخش تھی مگر سب سے زیادہ کمائی شاید چینی چائے کے برطانیہ سمگل کرنے میں تھی۔ چین کی تجارت نوآبادیاتی تو نہیں تھی لیکن اسے نوآبادیاتی نظام میں ضم کر دیا گیا تھا۔

ڈنمارک کے جہازوں کے ذریعے برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی کے افسروں کی منی لانڈرنگ

برطانیہ، فرانس اور ہالینڈ کے درمیان جنگوں کے باعث تجارت غیر جانبدار ممالک جیسے ڈنمارک-ناروے کے ذریعے ہونے لگی تاکہ تجارتی جہاز متحارب فریقوں کے قبضے سے بچ سکیں۔

ہندوستان میں برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی کی توسیع، خاص طور پر سنہ 1757 میں پلاسی کی جنگ میں فتح کے بعد کمپنی کے بہت سے ملازمین نے کمپنی کے خرچ پر وسیع نجی دولت حاصل کی۔ کمپنی اور برطانوی حکومت نے اس دولت کو برطانوی جہازوں پر واپس برطانیہ منتقل کرنے سے روکنے کے لیے کافی کوششیں کیں۔

اس کے نتیجے میں فرانسیسی، ڈچ اور ڈینش نارویجن جہازوں کے ذریعے بڑے پیمانے پر منی لانڈرنگ کی گئی۔ اس سے 1770 کی دہائی کے دوران ڈینش نارویجن تجارت میں بہت زیادہ سرمایہ لگا تاہم تجارت کی قدر انتہائی غیر مستحکم رہی۔

پیٹر ریون راسموسن کہتے ہیں کہ ہندوستان میں ڈنمارک-ناروے کی موجودگی بڑی یورپی طاقتوں کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتی تھی کیونکہ ان سے انھیں نہ تو کوئی فوجی اور نہ ہی تجارتی خطرہ در پیش تھا تاہم برطانوی بحری طاقت میں اضافہ 19ویں صدی کے دوران ڈینش ہولڈنگز پر قبضے اور زبردستی فروخت کا باعث بنا۔

سنہ 1799 میں برطانیہ نے ڈنمارک کو ان ممالک کی تجارت سے روکنے کی کوشش کی جن کے ساتھ وہ جنگ میں تھا۔ اس وقت ڈنمارک بحر ہند میں فرانسیسی اور ولندیزی املاک سے نوآبادیاتی مصنوعات لانے اور کوپن ہیگن کے ذریعے یورپی منڈی میں بھیج کر بے تحاشہ منافع کما سکتا تھا۔

ڈینز کا زوال اور کالونی کی برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کو فروخت

نپولین جنگوں کے دوران سنہ 1801 میں اور پھر سنہ 1807 میں برطانیہ نے کوپن ہیگن پر حملہ کیا۔ آخری حملے کے نتیجے میں (جس میں پوری ڈانو-نارویجین بحریہ پر قبضہ کر لیا گیا تھا)، ڈنمارک (چند مغربی یورپی ممالک میں سے ایک جس پر بوناپارٹ کا قبضہ نہیں تھا) نے جزیرہ ہیلگولینڈ (ڈچی آف ہولسٹین گوٹورپ کا حصہ) برطانیہ کو سونپ دیا۔

سات فروری سنہ 1815 کے لندن گزٹ کے مطابق جب اینگلو-ڈینش دشمنی کی خبر ہندوستان تک پہنچی تو انگریزوں نے فوراً 28 جنوری 1808 کو سات ڈینش تجارتی جہازوں پر قبضہ کر لیا جو ہگلی میں تھے۔

آخری بستیاں، ٹرینکیبار، بالاسور اور سیرامپور، ڈنمارک کے بادشاہ نے 12.5 لاکھ روپے میں 1845 برطانیہ کو فروخت کر دیں۔

فریڈریکس ناگور میں حوالگی گیارہ اکتوبر اور ٹرینکیبار میں سات نومبر کو ہوئی۔

’ہندوستان میں ڈنمارک کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا‘ میں کرسٹیان گرونستھ لکھتے ہیں کہ برٹش انڈیا کا حصہ بننے کے بعد ٹرینکیبار اپنی خاص تجارتی مراعات کھو بیٹھا اور اہمیت میں تیزی سے کمی واقع ہوئی۔

اگرچہ 24,000 آبادی کا یہ قصبہ سرکاری طور پر تامل ہے لیکن اس کے ڈینش ماضی کی باقیات اب بھی ہر جگہ واضح ہیں۔

شہر میں مرکزی داخلہ لینڈ پورٹن (ٹاؤن گیٹ) سے ہوتا ہے، جو ڈینش ٹرینکیبار کے اردگرد اصل دیوار کا حصہ ہے۔ سفید رنگ پر ڈنمارک کی شاہی مہر ہے۔

ان دنوں کی سڑک کے نشانات، کنگ سٹریٹ جیسے ناموں کے ساتھ، اب بھی موجود ہیں۔ ٹرینکبار میں تعلیمی نظام مکمل طور پر ڈینز کی میراث ہے: زیادہ تر سکولوں کا انتظام کیتھولک سینٹ تھریسا کانونٹ اور تامل ایوینجلیکل لوتھرن چرچ کرتے ہیں۔

اس ماہی گیر گاؤں کا نام پھر سے تھرنگمبادی ہے، کسی کو مشکل لگے یا آسان!