آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
فارس کی عظیم سلطنت جسے تاریخ سے مٹا دیا گیا
- مصنف, سپینسر مزن
- عہدہ, بی بی سی ہسٹری ایکسٹرا
قدیم یونانیوں کی جانب سے شروع کی جانے والی مہم جس کا مقصد قدیم فارس (یا موجودہ ایران) پر کیچڑ اچھالنا تھا، دو ہزار سال میں بھی ان کی حیران کن کامیابیوں کی داستان کو مکمل طور پر مسخ نہیں کر سکی۔
قدیم فارس اور یونان کی معاشرتی اور ثقافتی تاریخ کے ماہر لوائڈ جونز ایک ایسے خاندان کی کہانی سناتے ہیں جس نے دنیا کی عظیم ترین سلطنت کو جنم دیا۔
1943 کے قریب برطانوی شاعر اور ناول نگار رابرٹ گریوز نے ایک نظم لکھی جس کا عنوان تھا ’فارس کا نقطہ نظر‘۔ یہ میراتھان کی جنگ کے بارے میں تھی جو ایتھنز اور قدیم فارس کے درمیان سنہ 449 قبل مسیح میں لڑی گئی۔
اس جنگ کو ایتھینز کی شاندار فتح قرار دیا گیا اور جلد ہی میراتھان کو یونانی دنیا میں ایک افسانوی حیثیت مل گئی۔
یونانی سرزمین سے فارسی جنگجوؤں کی بے دخلی سے ظلم کے خلاف آزادی کے لیے بہادرانہ جنگ کے ایک قصے نے جنم لیا۔
بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی کیونکہ اس تاریخ کے مطابق یورپ کا جنم بھی میراتھان میں ہی ہوا۔
رابرٹ گریوز نے اپنی نظم میں اس تاریخ پر سوال اٹھایا ہے اور انھوں نے یہ نظم فارسویں کے نقطہ نظر سے لکھی ہے۔
ان کے مطابق فارسیوں کے لیے میراتھان ایک چھوٹی سی جھڑپ سے زیادہ کی حیثیت نہیں رکھتی تھی کیونکہ یہ یونان کو فتح کرنے کی کوشش ہی نہیں تھی جیسا کہ اس کہانی کو بنا دیا گیا اور یورپ میں سکول کے بچوں کو صدیوں سے پڑھایا جاتا رہا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سائرس یا ذوالقرنین کے عروج اور اس کے دو صدیاں بعد ڈیریئس (دارا اول) کی موت کے درمیان، فارس کی سلطنت دنیا کی سب سے بڑی طاقت تھی۔
یہ ایک ایسی سلطنت تھی جس کی بنیاد جدید انفرا سٹرکچر، متنوع ثقافتوں اور مذاہب کی رواداری اور ضرورت پڑنے پر طاقت کے استعمال سے رکھی گئی تھی۔
دو سو سال تک ان کی طاقت کو دیکھتے ہوئے رابرٹ گریوز کا ماننا تھا کہ فارس کے لیے یونانیوں سے جھڑپیں اتنی اہمیت کی حامل نہیں تھیں جتنا کہ یونانیوں نے اسے بنا دیا۔
لیکن وہ دھارے کے خلاف تیرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
یونانی ثقافت
دو سو سال قبل چند افراد نے سوال اٹھایا کہ مغرب نے کس طرح باقی دنیا پر غلبہ پایا۔
اس سوال کے جواب میں ایک نظریہ پیش کیا گیا کہ یورپی برتری کی وجہ عیسائیت یا مذہب نہیں جیسا کہ پہلے خیال کیا جاتا تھا بلکہ اس کی وجہ وہ ثقافتی روایت ہے جس کا آغاز قدیم یونان سے ہوا۔
ان کا ماننا تھا کہ یونان نے آزادی اور عقلیت کو دریافت کیا اور پھر روم نے ان تحفوں کو پورے یورپ میں فتوحات کے ذریعے پھیلا دیا۔
اس نکتے کے مطابق یونان اور روم کے علاوہ باقی تمام علاقوں میں وحشی بستے تھے اور ان میں سے سب سے بد تر اور خطر ناک فارس کے رہنے والے تھے جو پوری دنیا پر قبضہ کرنا چاہتے تھے۔
یونان اور فارس کی جنگوں کے وقت سے ہی فارسیوں کے خلاف ایسی مہم چلائی گئی جس کا مقصد ان کو آزاد دنیا کا ظالم دشمن دکھانا تھا۔
معاملہ اس لیے بھی پیچیدہ ہوا کیونکہ فارس میں تاریخ لکھنے کا طریقہ یونان سے مختلف تھا۔ وہ شاعری اور گیت کے ذریعے اپنا ماضی نسل در نسل منتقل کرتے تھے۔
تو پھر سوال یہ ہے کہ فارس کی درست تاریخ کیا ہے؟ اس کا جواب قدیم فارسی زبان میں موجود عبارتوں سے ملتا ہے جو اس سلطنت کے بارے میں معلومات فراہم کرتی ہیں، اس کی معیشت، سول سروس سے لے کر آرٹس کے بارے میں بھی بتاتی ہیں۔
اس خزانے کی وجہ سے ایران کے پاس اب ایک ایسا پلیٹ فارم موجود ہے جہاں سے وہ اپنے ماضی کی کہانی سنا سکتے ہیں۔
بادشاہت سے سپر پاور کا سفر
یہ کہانی چھٹی صدی قبل از مسیح میں شروع ہوتی ہے جب قدیم دنیا کے ایک قابل ذکر حکمران کا عروج ہوا جسے ہم سائرس دوم کے نام سے جانتے ہیں۔
اس وقت فارس ایک چھوٹی سی بادشاہت تھی جو موجودہ ایران کے جنوب مغرب میں واقع تھی اور کئی قبائل میں سے ایک پر مشتمل تھی۔
لیکن اپنی موت سے قبل ہی سائرس اس چھوٹی سی بادشاہت کو دنیا کی سپر پاور بنا چکے تھے۔
550 قبل از مسحیح میں سائرس نے جنوبی ایران کے قبائلی اتحاد کی مدد سے میڈیز کے دارالحکومت پر قبضہ کر لیا جو اس وقت خطے کی بڑی بادشاہت تھی۔
ان کی اگلی بڑی کامیابی ایشیائے کوچک (اناطولیہ) میں لیڈیا کی طاقتور اور مالدار سلطنت کے خلاف تھی جس کے دارالحکومت پر قبضے نے ان کی مستقبل کی فتوحات کی راہ ہموار کر دی۔
540 قبل از مسیح میں سائرس بابل کے عظیم الشان شہر میں داخل ہو چکے تھے۔ اس شہر کی فتح کی زیادہ تر معلومات ہمیں سائرس کے وقت کے سلینڈرز سے ہی ملتی ہیں۔
اس فتح کے بعد سائرس درحقیقت ایک عظیم سلطنت کے مالک بن چکے تھے۔ ایران میں پاسارگاد کے مقام پر سائرس نے ایک مقبرہ اور محل تعمیر کروایا جس کے ساتھ ہی وسیع باغ تھا۔
شاہی فرمان کے مطابق تمام مفتوحہ قوموں پر لازم تھا کہ وہ سائرس کے بنائے گئے قوانین کی اطاعت کریں۔ سائرس کے بارے میں بذات خود مشہور کیا گیا کہ اس کو خدا کی حمایت حاصل ہے جس نے سائرس کو دنیا میں توازن برقرا رکھنے کا تحفہ دیا ہے۔
مزید پڑھیے
ہیروڈوٹس کے مطابق سائرس وسطی ایشیا میں ماساگیٹائی قبیلے سے لڑتے ہوئے مارے گئے۔ یہ ایک بڑا دھچکہ تھا لیکن سلطنت کی وسعت کو روکنا اب مشکل تھا۔
ان کے بعد کیمبیاسس دوم نے جلد ہی مصر کو بھی فتح کر لیا۔
یونانی ذرائع کیمبیاسس دوم کو ایک پاگل آمر بتاتے ہیں جو اپنی رعایا پر ظلم کرتا اور مفتوحہ قوموں کی مذہبی روایات کی تذلیل کرتا تھا۔ لیکن مصر سے ملنے والے آثار قدیمہ ایک مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔
ان سے معلوم ہوتا ہے کہ بادشاہ نے مذہبی رواداری کی پالیسی اپنائی۔ میمپفس سے ملنے والی عبارتوں سے بھی اس بات کی تصدیق ہوتی ہے۔ مذہبی اور ثقافتی نظریات کی جانب برداشت کا رویہ فارس کا خاصہ رہا۔
لیکن ضرورت پڑنے پر قدیم فارس کی یہ سلطنت طاقت کا وحشیانہ استعمال بھی کر سکتی تھی۔ اس کا ثبوت ڈیریئس کی شکل میں ملا جس کو سائرس دوم کے بعد سب سے کامیاب بادشاہ کے طور پر دیکھا گیا اور اسی نے فارس کی اس سلطنت کے عروج کے دوران حکومت کی۔
بے رحم اور طاقتور
ڈیریئس نے 522 قبل مسیح میں سائرس کے بیٹے بارڈیا سے ایک خونریز انداز میں اقتدار چھین لیا اور اس وقت انتہائی بے رحم رویہ اپنایا جب ان کی سلطنت میں بغاوتوں کا سلسلہ شروع ہوا۔
لگ بھگ ایک سال سے کچھ زیادہ عرصے میں وہ باغی رہنماؤں کو شکست دینے، حراست میں لینے یا قتل کرنے میں کامیاب ہو چکے تھے۔ اپنی بقیہ 36 سالہ دورِ اقتدار میں انھیں کبھی بھی کسی اور بغاوت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
قدیم فارسی کتب میں ڈیریئس کی بے پناہ طاقت اور اس کا پوری قوت سے دفاع کرنے کے بارے میں تصدیق موجود ہے۔
ایک ایسے ہی حوالے کے مطابق زرتشتوں کے ایک خدا اھورا مزدا نے ڈیریئس کو 'اس وسیع سلطنت کی بادشاہی بخشی تھی جس میں متعدد قومیں آباد تھیں جن میں فارس، میدیا اور مختلف زبانیں بولنے والی اقوام شامل ہیں، انھیں پہاڑوں اور بیابانوں، سمندر کی اس طرف اور اس کی دوسری جانب اور صحرا کے اس طرف اور اس کے دوسری جانب بھی حاکمیت فراہم کی۔'
تاہم ڈیریئس کا دبدبہ صرف ان کی عسکری طاقت کے باعث ہی نہیں تھی۔ انھوں نے اس بات کو بھی یقینی بنایا کہ پوری سلطنت میں انجینیئرنگ اور تعمیری منصوبے مکمل کیے جائیں۔
مصر میں انھوں نے دریائے نیل اور بحیرہ احمر کے درمیان انھوں نے ایک نہر بھی بنائی۔
ایران کے وسط میں انھوں نے پیرسیپولس میں ایک وسیع و عریض تعمیری پروگرام شروع کیا۔
شوش (مغربی ایران) کے شہر ایلامائٹ کو نئی زندگی ملی جب اسے انتظامی دارالحکومت کا درجہ ملا۔
30 لاکھ مربع کلومیٹر کی طویل سلطنت چلانا دارا جیسے باصلاحیت حکمران کے لیے بھی بڑا لاجسٹیکل چیلنج تھا۔
اس کا حل کے لیے انھوں نے سلطنت کو انتظامی صوبوں میں تقسیم کیا اور فارس کی اشرافیہ کے ایک چھوٹے سے گروہ کو سب سے اعلیٰ عہدے دیے۔ صوبوں کا نظام ان مرکزی وجوہات میں سے تھا کہ وہ اس عظیم سلطنت کو طویل دورانیے تک کنٹرول کر سکے۔
سلطنتِ فارس کا انفراسٹرکچر بھی اس کے لیے کافی فائدہ مند ثابت ہوا۔ صوبوں کو وفاق کے ساتھ سڑکوں کے ذریعے جوڑا گیا۔
دارا کی سلطنت کی وسعت اس زمانے کے فن پاروں سے بھی عیاں ہے جن میں سلطنت کے مختلف حصوں کا امتزاج ملتا ہے۔ مگر ان کے مخصوص پہلو فارس سے یکجہتی کا بھی پیغام دیتے ہیں۔
بطور جنگجو اور انتظامی حکمراں، دارا کو مغرب میں ان کے سخت رویے کے لیے یاد رکھا جاتا ہے جنھوں نے جنگ میراتھان کے دوران یونان پر ناکام حملہ کیا۔
یونان کو اپنی سلطنت میں شامل کرنا دارا کا خواب ضرور تھا مگر یونان اور فارس کے درمیان تناؤ پر یونانی مورخ ہیروڈوٹس کی تحاریر سے یونان کی مزاحمت اور فارس کا ردعمل مبالغہ آرائی محسوس ہوتا ہے۔
دارا کی موت 486 قبل مسیح میں ہوئی اور اس کے بعد سلطنت کو وسعت دینے کا کام ان کے بیٹے خشیارشا کو ملا۔ اپنے والد کی طرح ان کے لیے بھی یونانیوں سے نمٹنا مشکل کام تھا۔
انھوں نے 480 قبل مسیح میں ایتھنز پر قبضہ کیا مگر انھیں زمین (پلاطی اور میکالی) اور سمندر (سالامیس) دونوں پر یونانیوں سے بڑی شکست اٹھانا پڑی۔
انھیں اس حقیقت کا سامنا تھا کہ یونان کبھی ان کی سلطنت میں شامل نہیں ہو سکے گا اور یوں انھوں نے اس خواب کو ادھورا چھوڑ دیا اور گھر واپس آ گئے۔
اگلی ڈیڑھ صدی میں اندرونی بغاوتیں ہوئیں، مصر کی ناکامی اور دوبارے حملہ کیا گیا اور صیدا (موجودہ دور کے لبنان) میں بغاوت کو کچلا گیا۔
ان تمام بحرانوں کے باوجود 330 قبل مسیح تک فارس کے اثر و رسوخ کو چیلنج نہ کیا جاسکا۔ پھر یونان میں ایسی شخصیت رونما ہوئی جس نے کچھ ہی برسوں میں مکمل سلطنت فارس کا تخت الٹا دیا اور وہ تھے سکندر اعظم۔ انھیں روکنے کی ذمہ داری دارا سوم کی تھی۔ اس میں ناکامی نے ہمیشہ کے لیے ان کی شہرت کو داغ دار کر دیا ہے۔
لیکن دارا سوم ایک بہار فوجی اور باصلاحیت حکمران تھے جو سکندر اعظم کے مشن کے سامنے بڑی رکاوٹ بن کر ابھرے۔ تاہم وہ 333 قبل مسیح اور 331 میں گومگل کی جنگوں میں شکست روک نہ سکے۔
دوسری شکست کے بعد دارا سوم مغربی ایران میں ہگمتانہ فرار ہوگئے تاکہ دستوں کو جمع کر سکیں۔ یہاں سے باختر گئے جہاں انھیں ان کے کزن اردشیر پنجم نے قتل کیا۔
330 قبل مسیح میں دارا سوم کی موت کے بعد سلطنت فارس کا خاتمہ ہوا اور دنیا کی تاریخ میں نئے باب کا آغاز ہوا جس میں سکندر اعظم نے ایسی سلطنت قائم کی جس کے آگے فارس بھی چھوٹا لگے۔
طاقت خاندان تک محدود
بغاوتوں، سرحدی تنازعات، جانشینی کی لڑائیوں اور بادشاہوں کے قتل کے باوجود سلطنتِ فارس نے دو دہائیوں سے زیادہ عرصے تک وسیع علاقے پر حکمرانی کی جس کی متنوع آبادی تھی۔
سوال یہ نہیں کہ سلطنت فارس کا خاتمہ کیوں ہوا بلکہ یہ ہے کہ یہ اتنے طویل عرصے تک قائم کیسے رہی؟
اس کا بنیادی جواب یہی ہے کہ شاہی خاندان نے بادشاہت پر اپنا کنٹرول برقرار رکھا تھا۔ ہخامنشی خاندان نے اس سلطنت کو خاندانی کاروبار کی طرح چلایا۔
اندرونی سطح پر بغاوت کی گئی مگر اس سے کوئی صوبہ یا ریاست ٹوٹ نہ سکی۔ بلکہ سوال یہی تھا کہ خاندان کا سربراہ کون بنے گا اور تخت پر کون بیٹھے گا۔
آج سلطنت فارس پر تحقیق میں بہت سے اہم باتیں سامنے آ رہی ہیں۔ 1930 کی دہائی سے فارسی ذرائع سے تحریریں سامنے آتی رہی ہیں۔ آثاز قدیمہ کے ماہرین نے مسلسل ایسی چیزیں حاصل کیں جس سے وہ سلطنت کی تعریف بدلنے پر مجبور ہیں۔
جیسا کہ رابرٹ گریوز کہتے ہیں کہ اب ایران کی تاریخ کو فارس کے پس منظر میں سمجھانا ممکن ہے۔