جنگ زدہ یمن کے تاریخی دارالحکومت صنعا میں تباہ کن سیلاب کے بعد کے مناظر

یمن میں باغیوں کے قبضے میں موجود دارالحکومت صنعا میں حکام کے مطابق جولائی کے وسط سے ہونے والی بارشوں کے باعث اب تک 130 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اس کے علاوہ درجنوں اب بھی زخمی ہیں۔

اس سیلاب کے باعث صنعا کے پرانے شہر کی تاریخی عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے جو یونیسکو کی ایک ورلڈ ہیریٹیج سائٹ ہے۔

اس شہر میں سینکڑوں بھورے اور سفید رنگ کے ایسے گھر موجود ہیں جن میں سے کچھ 11ویں صدی میں تعمیر کیے گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

ان عمارتوں کو ناکافی مرمت اور جنگ کے پرتشدد ماحول سے پہلے ہی خطرہ تھا۔

ایک رہائشی محمد علی الطلحی نے خبررساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ جس قدیم عمارت میں وہ رہتے تھے جمعے کے روز اس کی تباہی کے باعث وہ اور ان کا خاندان بے گھر ہو چکا ہے۔

’وہ سب کچھ جو ہمارے پاس تھا اب دفن ہو چکا ہے۔‘

یمن میں گذشتہ پانچ برس سے زیادہ عرصے پر محیط جنگ کے باعث اقوامِ متحد نے اسے بدترین انسانی بحران قرار دیا ہے۔

لاکھوں افراد کھانے پینے کے لیے امداد کے سہارے پر ہیں اور اس دوران یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کورونا وائرس پورے ملک میں پھیل رہا ہے۔ تاہم کیسز رپورٹ نہیں کیے جا رہے۔

تمام تصاویر کے جملہ حقوق محفوظ ہیں۔