چین نے انڈیا اور امریکہ کی مسعود اظہر کے بھائی پر پابندیوں کی قرارداد کو رکوا دیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسند مذہبی رہنما، مولانا مسعود اظہر کے بھائی، مولانا عبدالرؤف اظہر کو اقوام متحدہ کی شدت پسندوں کی فہرست میں شامل کرانے کی امریکہ اور انڈیا کی جانب سے کوشش کو چین نے معلومات کی کمی کی بنیاد پر موخر کر دیا گیا ہے۔
چین نے جمعرات کو اقوام متحدہ میں امریکہ اور ہندوستان کی طرف سے تجویز میں تاخیر کے اپنے فیصلے کا دفاع کیا۔ سلامتی کونسل پاکستان میں مقیم عسکریت پسند گروپ کے اس سینئر کمانڈر کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنے کی منظوری پر غور کر رہی تھی۔
عالمی خبر رساں ادارے روئیٹرز کے مطابق، انڈیا اور امریکہ کی کوشش ہے کہ جیشِ محمد نامی عسکریت پسند گروپ کے کمانڈر عبدالرؤف اظہر پر عالمی سفری پابندیاں عائد کی جائیں اور ان کے اثاثے منجمد کیے جائیں۔
اس اقدام پر سلامتی کونسل کی پابندیوں کی کمیٹی کے تمام 15 ارکان کی طرف سے اتفاق کیا جانا ضروری ہے۔
انڈیا کا الزام
انڈیا کا الزام ہے کہ مولانا عبدالرؤف اظہر انڈین فلائیٹ آئی سی 814 کی ہائی جیکنگ کے منصوبے کے ماسٹر مائینڈ تھے جس کے نتیجے میں مسعود اظہر کی انڈیا کی جیل سے رہائی ممکن ہو سکی۔
اس فلائیٹ کو 24 دسمبر سنہ 1999 میں جہادی گروپ نے انڈیا کی اندرونی پرواز کے دوران ہائی جیک کیا تھا اور وہ پھر اسے لاہور لے آئے تھے۔ لاہور میں ایک دن قیام کے بعد وہ اس طیارے کو افغانستان کے شہر قندھار لے گئے تھے، جہاں انڈیا نے ہائی جیکروں کے مطالبات پورے کیے تھے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
اقوام متحدہ میں انڈیا کے مشن کی سربراہ روچیرا کمبوج نے کہا کہ 'شدت پسندوں پر پابندیوں عائد کرنے کے عمل کو بغیر کسی جواز کے روکنے سے اور انھیں پاندیوں والی فہرست میں شامل کرنے کی درخواستوں پر کمیٹی کے اراکین کی جانب سے تاخیر سے اس ادرے کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔'
چینی وضاحت
چینی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا کہ 'ہم نے اس درخواست پر عمدرآمد اس لیے روکا ہے کیونکہ ہمیں اس پر غور اور مطالعے کے لیے مزید وقت درکار ہے۔ اس قسم کی روک لگانے کی گنجائش اس کمیٹی کے رہنما اصولوں میں موجود ہے اور کمیٹی کے کئی ارکان کی درخواستوں پر اس طرح کا روک کمیٹی کے دیگر ارکان نے بھی کئی موقعوں پر لگایا ہے۔'
چین پر تنقید کی وجہ سے جمعرات کو بیجنگ میں ایک باقاعدہ بریفنگ میں جب مزید تبصرہ کرنے کے لیے کہا گیا تو چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے پابندیوں کی کمیٹی، جسے 1267 کمیٹی بھی کہا جاتا ہے، میں چین کے ٹریک ریکارڈ کا دفاع کیا اور میڈیا سے کہا کہ تنقید کرنے والے 'قیاس آرائیاں' نہ کریں۔
چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان وانگ وین بن نے کہا کہ چین نے ہمیشہ کمیٹی کے قواعد و ضوابط کے مطابق تعمیری اور ذمہ دارانہ انداز میں 1267 کمیٹی کے کام میں حصہ لیا ہے اور ہمیں امید ہے کہ دیگر اراکین بھی ایسا ہی کریں گے۔
دہشت گردی ایک 'سیاسی اور سفارتی ہتھیار'
پاکستان اور چین کے تعلقات کے پاکستانی تجزیہ کار سینیٹر مشاہد حسین نے کہا ہے کہ چین کا یہ اقدام کوئی نئی بات نہیں ہے کیونکہ چین نے ماضی میں بھی ایسا کیا ہے کیونکہ امریکہ اور انڈیا عام طور پر اس معاملے میں مل کر کام کرتے ہیں، خاص طور پر پاکستان کو نشانہ بناتے ہیں۔
انھوں نے اس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ان کی پابندیاں ان گروہوں تک محدو د ہوتی ہیں 'جنھیں وہ پاکستان سے منسلک گروپ کہتے ہیں۔ لیکن ایسٹ تیمور اسلامک موومنٹ (ETIM) جیسے دہشت گردی کے خطرات کو نظر انداز کرتے ہیں جو چین مخالف ہے اور جنہیں امریکہ نے اکتوبر 2020 میں 'دہشت گردی کی فہرست' سے ہٹا دیا تاکہ چین پر دباؤ ڈالا جائے۔'
مشاہد حسین نے مزید کہا کہ اس کے علاوہ امریکہ ایسے گروہوں پر بھی پابندی عائد نہیں کرتا جو پاکستان کے خلاف دہشت گردی میں ملوث ہیں جیسے 'بلوچ عسکریت پسند گروپوں کے ذریعے پاکستان کے خلاف سرحد پار سے دہشت گردی کے بارے میں پاکستانی الزامات کو قبول نہیں کیا جاتا ہے۔'
ان کے مطابق، اس لیے دہشت گردی کے معاملے پر واضح طور پر دوہرے معیار کا اطلاق کیا جا رہا ہے۔ 'پاکستان نے نومبر 2020 میں بھارتی ریاستی دہشت گردی پر ایک تفصیلی دستاویز بھی تیار کی، لیکن امریکا اور بھارت نے اسے نظر انداز کیا۔
سینیٹر مشاہد حسین نے کہا کہ 'درحقیقت، چین کو یہ سمجھ ہے کہ پاکستان کو شکست دینے کے لیے دہشت گردی کو ایک 'سیاسی اور سفارتی ہتھیار' کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔'
امریکی ردعمل
امریکی وزارت خزانہ نے سنہ 2010 میں عبدالرؤف اظہر پر پابندیاں عائد کی تھیں، ان پر الزام لگایا کہ وہ پاکستانیوں کو عسکریت پسندانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے اور بھارت میں خودکش حملوں کو منظم کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔
امریکہ کے ترجمان اقوام متحدہ کے مشن نے بدھ کو کہا کہ امریکہ دوسرے ممالک کا احترام کرتا ہے کہ اس بات کی تصدیق کرنے کی ضرورت ہے کہ پابندیوں کی تجویز ان کی 'اقوام متحدہ میں فہرست سازی کا جواز پیش کرنے کے لئے ان کے ملک کے قوانین کی حد تک ثبوت کے معیار کو پورا کرتی ہو'۔
ترجمان نے کہا کہ 'امریکہ سلامتی کونسل کے اپنے شراکت داروں کے ساتھ تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے تاکہ دہشت گردوں کو عالمی نظام کا استحصال کرنے سے روکنے کے لیے اس ٹول کو غیر سیاسی طریقے سے استعمال کیا جا سکے۔'







