سیاسی بحث، جعلی خبریں اور نفرت انگیز پوسٹس۔۔۔ فیملی واٹس ایپ گروپس سے پریشان لوگ کیا کریں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, نتاشا بدھوار
- عہدہ, مصنفہ اور فلم ساز
جو لوگ فیملی واٹس ایپ گروپس میں رشتہ داروں کی سخت گیر، جنونی، فضول، نفرت انگیز، غیر سائنسی، غیر منطقی اور خواتین مخالف پوسٹس کی وجہ سے تناؤ کا شکار رہے ہیں، میں ان لوگوں سے ایک بات کہنا چاہتی ہوں۔
آپ میں سے کچھ لوگ اتنے پریشان ہو چکے ہوں گے کہ اب یوگا، مراقبہ اور طب والی یہاں تک کہ جڑی بوٹیوں والی چائے کی تعریف کرنے والی پوسٹس فارورڈ کیے جانے سے بھی آپ کے ہاتھ پاؤں ڈھنڈے ہونے لگتے ہیں۔
براہ کرم گروپ چھوڑ دیں۔ سیٹنگز میں جا کر ایگزٹ بٹن دبائیں۔
آپ کے پاس خواہ جو بھی سمارٹ فون ہے، آپ کو واٹس ایپ گروپ سے باہر نکلنے کے لیے صرف ایک انگلی کے دو یا تین ہلکے ٹیپ کی ضرورت ہو گی۔
یقین کیجیے کہ آپ جو غصہ اور الجھن محسوس کر رہے ہیں، وہ آپ کی غلطی نہیں ہے۔
قصور ان کا بھی نہیں جو چیزوں کو پڑھے بغیر فارورڈ کر دیتے ہیں یا آگے بڑھا دیتے ہیں۔ ہوا ہی خراب چل رہی ہے۔ جس دور میں ہم جی رہے ہیں، اس میں کچھ گل سڑ گیا ہے، اور یہ صرف کووڈ 19 نامی ایک تغیر پذیر وائرس نہیں ہے۔
آپ کہیں گے، نہیں، نہیں، خاندانی گروپس کو چھوڑنا ممکن نہیں، رشتہ دار دلبرداشتہ ہوں گے۔
خاندان پر بھروسہ رکھیں۔ اپنے خاندان پر یقین رکھیں۔ واضح رہے کہ اگر آپ فیملی گروپ چھوڑ بھی دیتے ہیں، تو خاندان آپ کو کبھی نہیں چھوڑے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وہ آپ کے بارے میں پہلے سے زیادہ سوچیں گے۔ جو پیغامات آپ کے لیے مفید ہیں، وہ آپ کو الگ سے بھیجیں گے۔
اپنا دل مضبوط کریں، وہ آپ کو فون کال بھی کر سکتے ہیں۔ وہ آپ کو شادیوں، سالگرہ، پکنک اور دیگر تقریبات کے دعوت نامے بھیجنا کبھی نہیں بھولیں گے۔
اگر آپ ان مواقع پر حاضر نہیں ہو سکتے تو بھی وہ آپ کو مٹھائی کا ڈبہ تو بھیج ہی دیں گے۔
آپ کی والدہ آپ کو بتائیں گی کہ ان میں سے ہر ایک آپ کی غیر موجودگی میں آپ کے بارے میں کیا کہہ رہا تھا۔ آپ کو بھی ان میں سے کچھ چیزیں پسند آئیں گی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
رشتوں کو زندہ رکھنا آپ کے اپنے ہاتھوں میں ہے
ایک بار جب آپ اپنے وسیع خاندان کی طرف سے بھیجے گئے واٹس ایپ پیغامات سے علیحدہ ہو جاتے ہیں، تو یہ آپ کے ہاتھ میں ہے کہ آپ اپنے مختلف رشتہ داروں میں سے ہر ایک کے ساتھ اپنے تعلقات کو کیسے زندہ رکھیں۔
آپ کسی سائنسدان کی بھیجی ہوئی غیر سائنسی پوسٹ کو بھول جائیں گے جس میں اس قسم کی باتیں ہو سکتی ہیں کہ موم بتیوں کی اجتماعی توانائی کورونا وائرس کو شکست دے دیگی۔
آپ کو اپنے بھائی یا بہن کی جانب سے فارورڈ کی گئی نفرت میں ڈوبی ہوئی پوسٹ کو یاد رکھنے کی ضرورت نہیں ہو گی۔
آہستہ آہستہ آپ یہ بھی بھول جائیں گے کہ اپنے ماموں، چچا، چچی جو بچپن میں آپ کے ہیرو ہوا کرتے تھے، ان کو بہلانا کتنا آسان ہے۔
یہ بہت ممکن ہے کہ آپ کے والد نے اداکار امیتابھ بچن کی جانب سے ٹوئٹر پر ڈالی گئی کوئی جعلی سائنسی پوسٹ شیئر کی ہو۔ لیکن جس طرح ہم کسی گئے زمانے کے ماند سپر سٹار کو معاف کر دیتے ہیں، ہم اسے بھی بھول جائیں گے۔
اگر کوئی عوامی سطح پر آپ کا مذاق اڑا رہا ہے تو آپ اسے نظر انداز کر دیتے ہیں۔ آپ ہر وقت غصے میں جلنا بھی نہیں چاہتے۔ اگر ایسے رشتہ دار فیس بک پر ہیں تو ان کو ان فرینڈ کر دیں۔
آپ کچھ رشتہ داروں کو بلاک بھی کر سکتے ہیں۔ وہ کبھی اس کی مخالفت نہیں کریں گے۔ میرا یقین کریں۔ یہ میں اپنے تجربے سے کہہ رہی ہوں۔ میں نے بہت سے لوگوں کو بلاک کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جعلی خبروں کا دور
ہمارے اردگرد بہت سے لوگ ہیں جن سے ہم نے پیار کیا، عزت کی اور ان سے بہت کچھ سیکھا لیکن اس غلط معلومات کے دور نے ان کو بگاڑ دیا ہے۔
انھوں نے جعلی خبروں اور نفرت انگیز پوسٹس کے سونامی کو اپنے تخیل کو اذیت دینے کی اجازت دی ہے۔
فیملی واٹس ایپ گروپ کو چھوڑنا محبت میں کیا جانے والا عمل ہے۔
میں نے ابھی اپنے آخری خاندانی گروپس میں سے ایک کو الوداع کہا ہے، اور اس کے بارے میں اپنے ملے جلے جذبات کو یکجا کرنے کی کوشش کر رہی ہوں۔
انکل لوگ تھوڑ تھوڑی دیر بعد کن چیزوں کو فارورڈ کر رہے ہیں اور کیا مشورے دے رہے ہیں، یہ چیز مجھے اس گروپ میں کم پریشان کر رہی تھی۔ لیکن باقیوں کی خاموشی نے مجھے سب سے زیادہ پریشان کیا۔
یہ بھی پڑھیے
خود کو ایسے وقت میں غیر سیاسی ظاہر کرنا منافقت ہے جبکہ ہمارا ہر انتخاب سیاسی ہوتا ہے۔ ایک دوسرے کے تعصب کا ذکر نہ کرنا بزدلی کا مظاہرہ کرنا ہے۔ جب آپ کے اردگرد کروڑوں لوگوں کی زندگیاں برباد ہو رہی ہوں تو پھر اپنے طبقے اور ذات کی فراہم کردہ سہولتوں کے سائے میں آرام محسوس کرنا عجیب ہے۔
خیر میں نے اس گروپ کو بڑی آسانی سے چھوڑ دیا۔ میں اب ناراض نہیں ہوں۔ چھوڑنے کا مطلب ہے کہ میں اپنے تعلقات رکھنے کے معاملے میں انتخاب کر سکتی ہوں اور اپنے جذبات کو کسی پر مسلط کیے بغیر محسوس کر سکتی ہوں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ میں اپنے لیے جگہ بنا رہی ہوں۔ میں نے اپنی مایوسی کو اپنے ہی لوگوں کے خلاف غصے میں بدلنے کے فطری عمل سے خود کو بچا لیا ہے۔ اپنی توانائی کو ایسی جگہوں پر بکھرنے سے بچایا ہے، جہاں اس سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہو گا لیکن اس سے کچھ فضول مسائل ضرور پیدا ہوں گے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سوشل میڈیا سے چپکے رہنے کی عادت
میں ایسا کرنے میں حق بجانب تھی کیونکہ لوگ سوشل میڈیا پر جو پوسٹ کرتے ہیں وہ اس سے کہیں زیادہ اہم ہوتے ہیں۔
میں یہ دیکھ کر حیران ہوں کہ واٹس ایپ گروپ ایک میڈیم کے طور پر آپ سے کیسے چپک جاتا ہے۔ ہم اس کی شکایت کرتے ہیں لیکن گروپ نہیں چھوڑتے۔
ہمارے زیادہ تر بڑے بزرگ بھی ایسی باتوں کو مسترد نہیں کرتے۔
گروپ ایڈمنز گروپ کا ابتدائی مقصد پورا ہونے کے بعد بھی گروپ کو ڈیلیٹ نہیں کرتے۔ ہم دنیا میں اس طرح ایک دوسرے سے کیوں چپکے ہوئے ہیں؟
اتنی زیادہ کھلی جگہ ہے پھر بھی ہم بند کمروں میں گھٹتے جا رہے ہیں۔
وبائی مرض کے دوران ہمارے تجربات نے ہمیں یاد دلایا ہے کہ زندگی مختصر ہے۔ موسیقی سیکھنی ہے، تیز تیز قدموں سے چہل قدمی کرنی ہے، پودوں کی دیکھ بھال کرنی ہے، جانوروں کو کھانا کھلانا ہے۔ اتنے سارے کام ہیں۔
شاعری سننی ہے۔ دیواروں پر نعرے لکھنے ہیں اور اہم کاموں کے لیے چندہ جمع کرنا ہے۔ اپنی پسند کی چیزوں کی ترجیحی فہرست بنائیں اور اپنی پسند کی چیزوں سے دوستی کریں۔
فیملی واٹس ایپ گروپس کے جال میں نہ آئیں۔ آپ نے حقیقی زندگی میں اپنا راستہ خود بنانے کے لیے سخت محنت کی ہے۔ اس اتھلے نئے میڈیم کا شکار نہ ہوں، جو ہر لحاظ سے وسیع خاندانوں کی اداس، زہریلی ذہنیت کا عکاس ہے۔
نکلیں، ابھی نکلیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ہم ایسے وقت میں جی رہے ہیں جس میں آپ کی بقا کا انحصار صرف آپ کی علیحدگی پر ہے۔ ناکامی اور مسترد ہونے سے نہ گھبرائیں۔
ہمیں ان دونوں چیزوں کی بڑی مقدار میں ضرورت ہے۔ ان میں سے کوئی بھی مستقل نہیں ہے۔ یہ وہ مواقع ہیں جو ہمیں سوچنے اور زندگی گزارنے کے نئے انداز کی طرف لے جا سکتے ہیں۔ ایسی مثال بنیں جس کی لوگ پیروی کریں۔
اپنی وہ انگلی استعمال کریں۔ واٹس ایپ گروپس چھوڑنے والے پہلے شخص بنیں۔ کسی بھی گروپ سے باہر نکلیں جو آپ کو پریشان کر رہا ہے۔ آپ پائيں گے کہ آپ نے اس طویل عرصے میں کچھ نہیں کھویا ہے جبکہ اس کے برعکس آپ نے اپنا سکون واپس حاصل کر لیا ہے۔
(نتاشا بدھوار 'مائی ڈاٹرز مام' اور 'امورٹل فار اے مومنٹ' کی مصنفہ ہیں۔ وہ ایک فلم میکر، ٹیچر اور تین بیٹیوں کی ماں ہیں)











