غیر محفوظ سوشل میڈیا اور نو عمر صارفین: ’میرا بیٹا ایک خفیہ دنیا میں مختلف حملوں کی زد میں تھا‘

    • مصنف, ماریانا سپرنگ
    • عہدہ, سوشل میڈیا کی خصوصی نامہ نگار

گذشتہ جنوری میں امینڈا اور سٹوئرٹ سٹیوِنز نے اپنے بیٹے اولی کو گھر سے نکلتے وقت الگ الگ کھڑکیوں سے دیکھا تھا۔

اس وقت انھیں نہیں معلوم تھا کہ وہ اپنے بیٹے کو آخری بار دیکھ رہے ہیں۔ گھر سے نکلنے کے بعد اولی گھر کے سامنے ہی موجود ’بگ بوٹم‘ نامی ایک کھیت میں گھومتا رہا، اس نے پاؤں میں چپلیں پہن رکھی تھیں اور اس کا فون اُس کے ہاتھ میں تھا۔

مگر پندرہ منٹ بعد ہی اس کا قتل ہو چکا تھا۔

وہ فون جو اس کے پاس تھا وہ بعد میں ان سوالات کے جواب فراہم کرتا ہے کہ اُس کے ساتھ کیا ہوا۔

دو نوعمر لڑکوں نے ایک لڑکی کو استعمال کرتے ہوئے اولی کو کھیت میں بلایا اور جب اولی اس جگہ پہنچا تو دونوں لڑکوں نے چاقو کے وار کر کے اُسے قتل کر دیا۔

اس پوری واردات کی منصوبہ بندی سوشل میڈیا پر کی گئی تھی۔ اور اس قتل کی وجہ سوشل میڈیا پر ایک چیٹ گروپ میں ہونے والا جھگڑا تھا جس نے انھیں (نوعمر لڑکوں) اتنا مشتعل کیا کہ انھوں نے قتل کا منصوبہ بنایا۔

اولی کے والدین تشدد اور نفرت کی اس خوفناک دنیا کو دریافت کر کے حیران رہ گئے جس سے ان کا بیٹا اور اس کے ہم عمر دوست اپنے اپنے فون پر سرگرمیوں کی وجہ سے روشناس ہوئے تھے۔

میں نے فیصلہ کیا کہ اولی کے ساتھ جو کچھ ہوا، اس میں سوشل میڈیا کے کردار کی تحقیقات کروں گی، اور اس بات سے پردہ اٹھاؤں گی کہ سوشل میڈیا پر 13 برس کی عمر کے بچے کس طرح کی زندگی سے روشناس ہو رہے ہیں۔

جب ہم ریڈنگ میں ان کے گھر میں ان کے صوفے پر اکٹھے بیٹھے تھے تو اس وقت سٹوئرٹ نے مجھے بتایا کہ ’انھوں نے اس سوشل میڈیا کی اُس زندگی کو تلاش کیا، اُس کا کھوج لگایا، اور اُس پر سے پردہ ہٹایا۔‘

’سوشل میڈیا اس قتل کا ذمہ دار نہیں ہے، لیکن سوشل میڈیا نے بچے کی حفاظت کے لیے بھی کچھ نہیں کیا، اور وہ کسی بھی حفاظت یا رہنما اصولوں کے بغیر سوشل میڈیا پر اپنا وقت صرف کرتا تھا۔‘

ریڈنگ کی پولیس کا کہنا ہے کہ اولی کی کہانی سوشل میڈیا کے بہت بڑے کردار کی وجہ سے منفرد نظر آتی ہے۔ اور اُن کا خدشہ ہے کہ غنڈہ گردی کے شواہد، اور قاتلوں کے فون پر چھریوں والی پرتشدد ویڈیوز سوشل میڈیا پر بڑے مسئلے کا ایک چھوٹا سا پہلو ہیں۔

میں یہ دیکھنا چاہتی تھی کہ سوشل میڈیا پر 13 سال کی عمر کے نوجوان کیا دیکھتے ہیں اور اس کے لیے میں نے ایک نوجوان کا جعلی اکاؤنٹ بنایا۔

مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلیجینس) سے تیار کردہ تصویر کا استعمال کرتے ہوئے ہم نے اولی کے ایک دوست اور ریڈنگ میں پبلک اکاؤنٹس رکھنے والے نوجوانوں سے مشورہ کرنے کے بعد ایک 13 سالہ لڑکے کے سوشل میڈیا کی مختلف سائٹس پر اکاؤنٹس بنائے۔

ہم یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ ایک 13 سالہ نوجوان اپنی عمر کے لیے مشہور موضوعات، کھیل اور گیمنگ سے لے کر ڈرل میوزک تک مواد کے ساتھ کس طرح مشغول ہوتا ہے، اور اس بات کو بے نقاب کیا جائے کہ وہ ان سے کس طرح روشناس ہوتا ہے۔

ہم یہ بھی جانچنا چاہتے تھے کہ آیا سوشل میڈیا سائٹس اولی کے قتل کے مجرم بچوں کی طرف سے شیئر کردہ ویڈیوز اور چھریوں کی تصاویر پر نظر رکھ کر انھیں کنٹرول کرتی ہیں یا نہیں۔

ہم نے اپنے ڈمی اکاؤنٹ کے تجربے کو دو ہفتوں تک چلانے کے بعد اس کے ذریعے سوشل میڈیا سائٹس پر تجویز کردہ مواد کو پسند کرنے اور اس کی پیروی کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی اصل دلچسپ سرگرمیوں کو دیکھا۔ ہمیں بہت ہی حیران کن نتائج حاصل ہوئے:

  • انسٹاگرام، یوٹیوب اور فیس بک پر ہمارے 13 سال کے بچے کے اکاؤنٹ کو ایسے مواد کو دیکھنے کی سفارش کی گئی تھی جس میں لوگ چاقو فروخت کر رہے تھے، چاقو اور تشدد کی تعریف کرنے والی پوسٹیں موجود تھیں۔
  • جب ہم نے چاقو، مخالف (اینٹی نائیف) جرائم کے مواد کو فعال طور پر تلاش کرنے کے لیے اپنے پروفائل کا استعمال کیا تو 13 سالہ بچے کے انسٹاگرام، فیس بک اور یوٹیوب اکاؤنٹس پر چاقو کے استعمال کے حامی گروپس، ویڈیوز اور صفحات سامنے آئے۔
  • انسٹاگرام، فیس بک، یوٹیوب اور سنیپ چیٹ پر 13 سال کے بچے کے اکاؤنٹس پر چاقو دکھانے والی پوسٹوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی تھی۔ تاہم ٹِک ٹاک نے خطرناک کارروائیوں سے متعلق اپنے رہنما خطوط کی خلاف ورزی کرنے پر مواد کو ہٹا دیا، اور اکاؤنٹ کو متنبہ کیا گیا کہ یہ اکاؤنٹ معطل ہونے کے قریب ہے۔

13 سالہ بچے کا فون

ہمارے اکاؤنٹ نے کھیل، گیمنگ، ڈرل میوزک، کاریں، چاقو مخالف جرائم کے صفحات اور اولی سٹیونز کو خراج تحسین پیش کرنے والی سائٹس اور اکاؤنٹس سمیت نوجوانوں میں مقبول دیگر مواد کو فالو کیا۔

انسٹاگرام نے بار بار 13 سالہ بچے کے اکاؤنٹ کو چاقو فروخت کرنے والی دکان سے متعارف کروایا۔ دیگر نامناسب مواد میں ایک ایسا شخص بھی شامل تھا جو تلوار تھامے کھڑا تھا۔

  • یوٹیوب نے بار بار ایسی ویڈیوز پیش کیں جو چاقو اور ہتھیاروں کی نمائش کرتی ہیں
  • فیس بک نے ایسے گروپوں کی سفارش کی جو چاقو کی تعریف کرنے کے ساتھ ساتھ بندوقوں اور فحش نگاری کو فروغ دیتی ہیں
  • چاقو مخالف جرائم کے مواد کو تلاش کرنے کی صورت میں انسٹاگرام، فیس بک اور یوٹیوب نے ہمارے اکاؤنٹ کو بلیڈ فروخت کرنے والے گروپس، پیجز اور ویڈیوز دکھائے
  • جب ہم نے یہ جانچنا چاہا کہ ان میں کون سی ایسی سائٹس ہیں جو اپنے مواد کو کنٹرول کرتے ہیں یا معتدل بناتے ہیں تو ہم نے دیکھا کہ صرف ٹِک ٹاک واحد سوشل میڈیا سائٹ تھی جس نے ایک پوسٹ کو ہٹا دیا جسے ہم نے چاقو کے ساتھ شیئر کیا تھا

’خُفیہ دنیا‘

جب اولی اس دن گھر سے نکلا تھا تو اس نے اپنی ماں (امینڈا) کو یقین دلایا تھا کہ اس نے اپنے فون کی لوکیشن آن کر دی ہے، تاکہ وہ جان لے کہ وہ کہاں ہے۔ کرسمس کے بعد اتوار کا دن تھا، اور پورا خاندان اگلے دن کام اور سکول واپس جانے کی تیاری کر رہا تھا۔ امینڈا کا خیال تھا کہ اندھیرے سے پہلے اولی گھر واپس آ جائے گا۔

لیکن گھر سے نکلنے کے تھوڑی دیر بعد دروازے پر دستک ہوئی۔ یہ ایک لڑکا تھا جو اولی کا واقف تھا۔ جو کچھ وہ کہہ رہا تھا وہ امینڈا سُننے کے لیے تیار نہ تھی۔

’میں نے سوچا کیا اس نے صرف یہ کہا تھا کہ اولی کو چھری ماری گئی ہے؟‘

سٹوئرٹ اور اولی کی بڑی بہن اپنے گھر کے سامنے والے میدان میں گئے، جہاں اولی خون میں لت پت پڑا تھا۔ امینڈا ان کے پیچھے پیچھے چلی آئیں۔

سٹوئرٹ نے بتایا کہ ’میں نے صرف امینڈا کا ہاتھ تھاما اور اس سے کہا کہ وہ مجھے ہرگز مت چھوڑے۔‘

دوستوں، پڑوسیوں، کتوں کو سیر کرانے کے لیے آنے والوں سمیت سب نے مدد کرنے کی کوشش کی، لیکن بہت دیر ہو چکی تھی۔ وہ اسی کھیت میں مر چکا تھا۔

سٹیوئرٹ کہتے ہیں کہ ’میں اب بھی صبح کے وقت اس کے بستر پر اس کے پاؤں تلاش کرتا ہوں کیونکہ اُس کے پاؤں سرے پر لٹک جاتے تھے۔ جب مجھے اس کے پیر وہاں نظر نہیں آتے ہیں تو مجھے اس کی موت کا احساس ایک گہرا صدمہ دیتا ہے۔‘

اولی کا بستر اب بھی اس کے پسندیدہ لحاف کے کور کے ساتھ سجا کر رکھا ہوا ہے۔

امینڈا اب بھی اس کے لیے سویٹس خریدتی ہیں، اور جب وہ اولی کے کمرے کی صفائی کرتی ہیں تو اس صفائی سے سٹوئرٹ نفرت کرتا تھا، وہ اب بھی بڑبڑاتی ہیں ’میں صفائی کے لیے صرف ایک منٹ لُوں گی۔‘

قتل سے چند روز قبل اولی میں آٹزم کی تشخیص ہوئی تھی اور اس وقت وہ اپنے سونے کے کمرے میں گیمنگ اور موسیقی سننے میں سب سے زیادہ لطف اندوز ہوتا تھا۔

اس کے قتل کے بعد کی رات، اولی کے بارے میں سوشل میڈیا پر وہ مواد جو اولی کے دوستوں نے پوسٹ کیا تھا اور وہ مواد جو دوسروں نے اولی کی بہن کے ساتھ شیئر کیا تھا، ان کو دیکھنے کے بعد سٹوئرٹ اور امینڈا نے اپنے بیٹے کے قتل میں سوشل میڈیا کے کردار کا جائزہ لینا شروع کیا۔

امینڈا کہتی ہے کہ ’اصل میں یہ ایک خفیہ دنیا ہے جہاں آپ وہی کر سکتے ہیں اور کہہ سکتے ہیں جو آپ چاہتے ہیں۔ یہ ایک ایسی دنیا تھی جس کا ہمیں کوئی اندازہ ہی نہیں تھا جہاں وہ مختلف حملوں کی زد میں تھا۔‘

امینڈا عام طور پر اولی کے فون پر ٹریکر کا استعمال اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کرتی تھیں کہ وہ اسے بحفاظت گھر پہنچاتا ہے۔ جب پولیس اولی کی لاش کے ساتھ ہسپتال اور پھر جب اسے پولیس سٹیشن لے کر گئی تو امینڈا نے ٹریکر کے سگنلز کو فالو کیا۔

’بے نظیر‘ ڈیجیٹل شواہد

پولیس کے تفتیشی افسر، چیف انسپکٹر اینڈی ہاورڈ کو اس فون کے اندر کی دنیا کی چھان بین کا کام سونپا گیا تھا۔

یہ ایک ایسا کیس ہے جسے وہ ’بے نظیر‘ قرار دیتے ہیں کیونکہ اولی کے قتل کے مقدمے میں 90 فیصد شواہد موبائل فون سے حاصل ہوئے تھے اور کسی بھی بچے کو قتل کا کیس ثابت کرنے کے لیے گواہ کے طور پر عدالت میں طلب نہیں کیا گیا۔

وہ بتاتے ہیں کہ ’ہم واقعی ڈیجیٹل شواہد کی اتنی بڑی تعداد سے حیران رہ گئے۔‘

پچھلے نومبر میں دو لڑکوں پر، جن کی عمریں اس وقت 13 اور 14 سال تھیں، قتل کا الزام ثابت کرنے کے لیے ملنے والے شواہد کافی تھے جن کی مدد سے ان دونوں کو مجرم قرار دیا گیا تھا۔

پولیس کو ابتدائی طور پر ویڈیوز، تصاویر اور سکرین شاٹس کے انبار کو چھانتے ہوئے جو بات معلوم ہوئی وہ دراصل ایسے شخصیتی خاکے تھے جو اس کیس سے منسلک 13 اور 14 سال کے بچے آن لائن پیش کر رہے تھے، اور وہ مواد اور خاکے وہاں کی مضافاتی زندگی کے عمومی حقائق سے مخلتف اور متصادم تھے۔

انسٹاگرام پر ایسی تصاویر شیئر کی گئی ہیں جن میں لوگوں نے چاقو پکڑے ہوئے ہیں، جن میں نوجوانوں نے ایسے کپڑے پہنے ہوئے تھے جو چہرے کے کچھ حصوں کے علاوہ پورے سر اور گردن کو ڈھانپ کر خفیہ بناتے ہیں۔

پولیس کو چاقوؤں کے وار کیے جانے اور دکھائے جانے کی ویڈیوز بھی ملی ہیں، اور اولی کے قتل سے وابستہ لڑکوں کو ایک دوسرے پر حملہ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جن کے بارے میں چیف انسپکٹر ہاورڈ نے پینوراما کو بتایا کہ ان کا خیال ہے کہ انسٹاگرام اور سنیپ چیٹ پر ایسی ویڈیوز ’کھلے عام اور بہت باقاعدگی سے‘ شیئر کی جا رہی ہیں۔

چیف انسپکٹر اینڈی ہاورڈ کا کہنا ہے کہ ’یقینی طور پر فلم بندی، ریکارڈنگ، واقعی کافی سنگین تشدد کی کارروائیوں کی طرف ایک بہت ہی غیر صحت بخش کشش ہے۔‘

یہ سنیپ چیٹ پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو تھی جس کا نام ’پیٹرننگ‘ تھا اور اس میں حملہ دکھایا گیا تھا جس کی وجہ سے تشدد کے واقعات کے رونما ہونے میں تیزی آ گئی تھی اور جس کی وجہ سے اولی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔

پیٹرننگ ایک ایسی ویڈیو ہوتی ہے جس میں ایک نوجوان کی تذلیل ہوتی ہے جسے فلمایا جاتا ہے یا تصویر کشی کی جاتی ہے اور پھر اسے سوشل میڈیا پر شیئر کیا جاتا ہے۔ اسے آگے اور مزید آگے بھیجا جاتا ہے یعنی کئی مرتبہ فارورڈ کیا جاتا ہے، مختلف سوشل میڈیا سائیٹس پر شیئر کیا جاتا ہے، جس سے متاثرہ شخص کے لیے شرمندگی بڑھ جاتی ہے۔

اپنے قتل سے چند ہفتوں پہلے اولی نے ایک چھوٹے لڑکے کو ذلیل کیے جانے کی تصویر دیکھی تھی اور اسے فارورڈ کر کے اُس متاثرہ لڑکے کے بڑے بھائی کو متنبہ کرنے کی کوشش کی تھی۔

جب دو لڑکوں کو جو اولی کے ساتھ سنیپ چیٹ گروپ میں تھے معلوم ہوا کہ اس نے اس ویڈیو کو فارورڈ کیا ہے، تو وہ طیش میں آ گئے۔

چیف انسپکٹر ہاورڈ کا کہنا ہے کہ ان لڑکوں کا خیال تھا کہ اولی ’اُن کو ذلیل کر رہا ہے۔‘

پولیس کو ان دو لڑکوں کے اکاؤنٹس سے سینکڑوں سنیپ چیٹ پر پوسٹ کیے گئے آڈیو نوٹ بھی ملے جن کا اولی کے ساتھ جھگڑا ہوا تھا۔ ان میں وہ اولی پر حملہ کرنے کے بارے میں بات کرتے ہیں اور اسے پھانسنے کے لیے ایک لڑکی کو استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

13 سالہ لڑکی جس نے ایسا کرنے پر رضامندی ظاہر کی وہ اولی کو حقیقی زندگی میں جانتی تھی، اور اس نے اس میں شامل دو لڑکوں سے آن لائن ملاقات کی تھی۔ اگرچہ وہ سب مقامی طور پر رہتے تھے لیکن قتل کے دن وہ پہلی بار ایک دوسرے سے بالمشافہ ملے تھے۔

آڈیو نوٹس میں مجرم قرار پانے والوں کی زبان چونکا دینے والی ہے، اس طرح کے تبصروں کے ساتھ کہ ’اولی، تم کل مرنے والے ہو‘ اور 'میں اس کی صرف پٹائی کروں گا یا اسے چھری ماروں گا۔‘ اور جو بات دل دہلا دینے والی ہے وہ یہ ہے کہ بچے قتل کرنے جیسی باتیں بڑے آرام اور ٹھہراؤ والے لہجے کے ساتھ کر رہے تھے۔

ایک آڈیو نوٹ میں لڑکی کہتی ہے، (میل نمبر 2) چاہتا ہے کہ میں اسے پھنساؤں تو پھر (میل نمبر 2) اسے پیٹنے والا ہے اور اس کو مار مار کر ایک مثال بنائے گا۔

ایسا لگتا ہے کہ ان میں سے کوئی بھی آڈیو نوٹ سنیپ چیٹ نے کبھی چیک ہی نہیں کیا، اور سوشل میڈیا ایپ کی اپنی پالیسی کے تحت، سائیٹ پر اس طرح کے نجی پیغام یا آڈیو نوٹ کی شکایت کرنا ممکن نہیں ہے۔

پولیس کی طرف سے جمع کیے گئے شواہد صرف وہ معلومات ہیں جو مقدمہ چلانے کے لیے درکار ہیں لیکن چیف انسپکٹر اینڈی ہاورڈ کا خدشہ ہے کہ انھوں نے اس معاملے میں صرف سطح کو کھرچا ہے۔ ان کے خیال میں یہ امکان ہے کہ اس میں ملوث افراد کو باقاعدگی سے پُرتشدد مواد بار بار دیکھنے کا موقع ملا تھا اور اس سے وہ بے حِس ہو گئے تھے۔

ہڈرزفیلڈ یونیورسٹی کے اپلائیڈ کرمینالوجی اینڈ پولیسنگ سینٹر کی ایک حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ 18 سال سے کم عمر افراد کی طرف سے کیے جانے والے تقریباً ایک چوتھائی جرائم میں سوشل میڈیا ایک اہم عنصر تھا۔ ان میں سے زیادہ تر تشدد کی کارروائیاں ایسی تھیں جن کا آغاز آن لائن تصادم سے ہوا تھا۔

نوجوان آن لائن کیا دیکھتے ہیں

ہماری اپنی تحقیقات میں، ریڈنگ میں 13 سال کے بچوں کے اپنے اکاؤنٹس پر جس قسم کے مواد کو وہ فالو کرتے ہیں، اس کے دو ہفتوں کے اندر، ہمارے ’تصوراتی نوجوان‘ کو لوگوں کے چاقو، فروخت کے لیے چاقو اور تشدد کی تعریف کرنے والی ویڈیوز کی پوسٹوں کی کئی بار سفارش کی گئی۔

یہ انسٹاگرام، فیس بک اور یوٹیوب پر ہوا جبکہ ٹِک ٹاک اور سنیپ چیٹ پر اکاؤنٹس کو اس قسم کے مواد کی سفارش نہیں کی گئی۔

ان تمام سوشل میڈیا سائیٹس کا کہنا ہے کہ وہ نوعمر صارفین کی حفاظت کرتی ہیں۔

’میٹا‘ نامی کمپنی کا، جو انسٹاگرام اور فیس بک کی مالک ہے، کہنا ہے کہ وہ اس بات پر پابندی لگاتی ہے کہ 18 سال سے کم عمر افراد ’ایسے مواد کو نہیں دیکھ سکتے ہیں جو بلیڈ جیسے ہتھیاروں کو خریدنے یا بیچنے کی کوشش کرتے ہیں۔‘

یوٹیوب کا کہنا ہے کہ وہ ایسے مواد میں ’عمر کی پابندی کا اضافہ کر سکتا ہے‘ جس میں ’نقصان دہ یا خطرناک حرکتیں شامل ہوں جن کی نابالغ نقل کر سکتے ہیں۔‘ ہمارے تجرباتی اکاؤنٹ کو عمر کی پابندی کے انتباہ کا صرف ایک مرتبہ سامنا کرنا پڑا تھا۔

چاقوؤں کی کچھ تصاویر اور ویڈیوز اولی کے قاتلوں کے فونز سے حاصل ہونے والی تصویروں اور ویڈیوز سے ملتی جلتی تھیں۔ ہم یہ جانچنا چاہتے تھے کہ جب کوئی 13 سالہ بچہ سوشل میڈیا پر ایسی پوسٹ شیئر کرتا ہے تو کیا ہوتا ہے۔

ہمارے ڈمی اکاؤنٹس پرائیویٹ تھے، تاکہ چاقو کی اس تصویر اور ویڈیو سے کسی اور کو بے نقاب نہ کیا جا سکے۔

انسٹاگرام، فیس بک، یوٹیوب اور سنیپ چیٹ پر 13 سالہ بچے کے اکاؤنٹ پر شیئر کی گئی چاقو دکھانے والی پوسٹ کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی تھی۔

تاہم ٹِک ٹاک نے خطرناک کارروائیوں سے متعلق اپنے رہنما خطوط کی خلاف ورزی کرنے پر پوسٹ کو ہٹا دیا - اور اکاؤنٹ کو متنبہ کیا گیا کہ یہ معطل ہونے کے قریب ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ 18 سال سے کم عمر کے پروفائل کے ذریعے شیئر کردہ اس قسم کے مواد کا پتہ لگانا اور اسے ہٹانا ممکن ہے۔ اب ہم نے اُس ڈمی اکاؤنٹس کو غیر فعال کر دیا ہے۔

ہمارے تجربے نے کچھ اور حیران کن انکشاف کیا۔ کچھ اشتہارات جو یوٹیوب، فیس بک اور انسٹاگرام پر اکاونٹ کے لیے پروموٹ کیے جا رہے تھے وہ اس کی دلچسپیوں اور بعض اوقات عمر کے مطابق تھے۔ ایسا لگتا ہے کہ نوجوان نوعمر صارفین کے ڈیٹا کو انھیں نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے - لیکن پھر انھیں چاقو اور تشدد دکھانے والے نقصان دہ مواد سے بچانے کے لیے استعمال نہیں کیا جا رہا ہے۔

میں یہ جاننا چاہتی تھی کہ کیا 13 سالہ بچے کے اکاؤنٹ پر بھیجی گئی پوسٹیں عام تھیں کہ نوجوان کیا دیکھیں گے۔ اس لیے میں نے اولی کے دوستوں پاپی، پیٹرک، ایزی، جیکب اور بین سے اولی کے میموریل بنچ (اس کی موت کے بعد اس کی یاد میں بنائے گئے ایک بینچ) پر ملاقات کی، جہاں اسے چاقو مارا گیا تھا۔

بین نے جعلی اکاؤنٹ بنانے میں میری مدد کی تھی۔ اس نے اور اولی کے دوسرے دوستوں نے مجھے بتایا کہ انھوں نے 13 سال کے ہونے سے بہت پہلے سوشل میڈیا کا استعمال شروع کر دیا تھا، زیادہ تر پلیٹ فارمز پر سائن اپ کرنے کے لیے آپ کی عمر کے بارے میں ضرور پوچھا جاتا ہے۔ ان سب کا کہنا ہے کہ ان کی عمروں کی تصدیق کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ اولی کے والدین کا کہنا ہے کہ وہ بھی 13 سال کی عمر سے پہلے ہی اپنے دوستوں کے ساتھ سوشل میڈیا پر فعال ہو گیا تھا۔

میں نے بہت زیادہ مواد کے سامنے لائے بغیر جس کی ہمیں سفارش کی گئی ہے، ان بچوں کو اکاؤنٹس سے کئی سکرین گریب دکھائے۔ لیکن بچے نتائج سے بالکل بھی حیران نہیں ہوئے - اور اعتراف کیا کہ وہ سبھی اپنی سوشل میڈیا فیڈز پر چاقو اور تشدد کو باقاعدگی سے دیکھتے ہیں۔

جیکب اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے بارے میں کہتا ہے کہ ’سچی بات تو یہ ہے کہ میں نے بڑے بڑے چُھرے دیکھے ہیں۔‘

پوپی کہتی ہے کہ ’ہم لوگوں کے سامنے اس طرح سے بہت زیادہ اِکسپوز ہو جاتے ہیں کیونکہ (یہ سائیٹس) ہمیں دکھاتی ہیں۔‘ پوپی بتاتی ہیں کہ اس کی عمر کے بچے اس تصویر کے بارے میں بات کرتے ہیں جو اس کی عمر کے لوگ بنیادی طور پر انسٹاگرام کے ساتھ ساتھ سنیپ چیٹ پر بھی دیکھتے ہیں۔

بین نے ریمبو چاقو، اور ایزی بٹر فلائی بلیڈ دیکھے ہیں، جو اُن کے خیال میں لوگ اس لیے شیئر کرتے ہیں کیونکہ وہ رنگین اور زیادہ دلکش ہیں۔

وہ سبھی باقاعدگی سے سائبر دھونس کے سامنے آنے کی بھی وضاحت کرتے ہیں - بشمول 'پیٹرننگ' - ذلت آمیز ویڈیوز، وہ ویڈیوز جن کی وجہ سے اولی اور ان لڑکوں کے درمیان جھگڑا شروع ہوا جنھوں نے اسے قتل کیا۔

تمام سوشل میڈیا سائٹس نے اولی کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار کیا۔ میٹا کا کہنا ہے کہ وہ ’ایسے مواد کی اجازت نہیں دیتے جو تشدد کو پھیلاتا ہو، حوصلہ افزائی کرتا ہو یا اس میں ہم آہنگی کرتا ہو‘ اور یہ کہ ان کے پاس ’پولیس کی تحقیقات کی حمایت کرنے کے لیے ایک اچھی طرح سے قائم عمل ہے‘ جیسا کہ انھوں نے اولی کے معاملے میں کیا تھا۔ وہ ’اس تفتیش میں اٹھائی گئی مثالوں کی فوری تحقیقات کریں گے۔‘

یوٹیوب کا کہنا ہے کہ اس کے پاس ’موجودہ سخت پالیسیاں ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ہمارا پلیٹ فارم تشدد کو بھڑکانے کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔‘

ٹِک ٹاک کا کہنا ہے کہ ’جب ہمارے صارفین، خاص طور پر نوجوانوں کی حفاظت کی بات آتی ہے تو ہم کسی بھی نئے اقدام کے لیے تیار ہو جاتے ہیں،‘ اور یہ نوجوانوں اور ان کے والدین کو آن لائن محفوظ رہنے میں مدد کرنے کے لیے ’پالیسیوں اور ٹولز کی تعمیر جاری رکھے گا۔‘

سنیپ چیٹ کا کہنا ہے کہ وہ ’غنڈہ گردی، ہراساں کرنے اور کسی بھی غیر قانونی سرگرمی سے سختی سے منع کرتے ہیں‘ اور سائیٹ پر ’اپنے ایپ میں خفیہ رپورٹنگ (شکایت) ٹولز فراہم کرتے ہیں۔‘

جوابات کی تلاش

امانڈا اور سٹیورٹ سوشل میڈیا پر دیگر 13 سالہ بچوں کی حفاظت کے لیے جوابات مانگ رہے ہیں اور ان کے لیے درپیش چیلنجز کا حل چاہتے ہیں، اور وہ چاہتے ہیں کہ قانون ساز ادارے اُن کی بات سنیں۔

ڈیجیٹل امور اور سوشل میڈا کے محکمے کی وزیر ناڈین ڈوریز نے مجھے بتایا کہ آن لائن سیفٹی بل فی الحال پارلیمنٹ کے مختلف مراحل سے گزر رہا ہے۔ ’یہ بل بچوں اور نوجوانوں کو محفوظ رکھنے کے بارے میں ہے۔‘

وہ ہمارے تجربے کے نتائج دیکھ کر حیران نہیں ہوئی۔ وہ کہتی ہیں کہ ’یہ پلیٹ فارمز جانتے ہیں کہ چاقو سے متعلق مواد نوجوانوں کی سوشل میڈیا فیڈز پر بھیجا جا رہا ہے۔ وہ حقیقت میں اس وقت جو غلط ہے اسے پوسٹ کر سکتے ہیں۔‘

سٹیورٹ اور امانڈا کو خوف ہے کہ مذکورہ بل اپنی موجودہ شکل میں اولی کو نہیں بچا سکتا۔ وہ نوجوان صارفین کی عمر کی توثیق کرنے اور نقصان دہ پوسٹس تک ان کی رسائی کو محدود کرنے کے لیے مزید اقدامات دیکھنا چاہتے ہیں - چاہے مواد قانونی ہی کیوں نہ ہو، جیسا کہ پرتشدد ویڈیوز اور چھریوں کی تصاویر جیسے ہمارے ڈمی اکاؤنٹ کی سفارش کی گئی تھی۔

ناڈین ڈوریز کا کہنا ہے کہ بالکل جو نقصان دہ مواد سمجھا جاتا ہے لیکن قانونی طور پر جائز ہے اس کو جلد ہی علحیدہ سے بیان کیا جائے گا۔

لیکن یہ بل کس طرح سوشل میڈیا سائٹس کو اس سے نمٹنے پر مجبور کرسکتا ہے؟

ڈوریز کا کہنا ہے کہ ’میرے خیال میں بل کے بنیادی اصول کو برقرار رکھنا شاید آسان ہے۔ برطانیہ کو بچوں اور نوجوانوں کے آن لائن ہونے کے لیے دنیا کا سب سے محفوظ ملک ہونا چاہیے۔‘

اگر کمپنیاں ان قوانین کی تعمیل نہیں کرتی ہیں تو حکومت انھیں سخت سزائیں دینے کا وعدہ کر رہی ہے۔

ناڈین ڈوریز کہتی ہیں کہ ’ہمارے پاس اربوں پاؤنڈ کے جرمانے جاری کرنے اور اس بات کو یقینی بنانے کا اختیار ہوگا کہ ان تنظیموں کے لوگ مجرمانہ طور پر ذمہ دار قرار دیے جائیں۔‘

دریں اثنا امانڈا کا کہنا ہے کہ وہ محسوس کرتی ہیں کہ سوشل میڈیا کمپنیاں اس حقیقت کا سامنا نہیں کر رہی ہیں کہ کیا ہو رہا ہے۔

سٹؤرٹ کہتے ہیں کہ ’اپنے منافع کو بھول جاؤ، بچے ایک دوسرے کو قتل رہے ہیں۔‘