کچھ لوگوں کو ہم ایک ہی لمحے میں بور کیوں قرار دے دیتے ہیں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, ڈیوڈ رابسن
- عہدہ, سائنسی امور کے مصنف
بعض لوگ جن سے ابھی ہمارا تعارف ہوا ہی ہوتا ہے لیکن وہ صرف خاص قسم کے پیشوں سے وابستگی یا خاص موضوعات میں دلچسپی رکھنے کی وجہ سے ہمیں بور کیوں لگتے ہیں؟
تصور کریں کہ آپ ایک پارٹی میں ہیں اور آپ کا دوست آپ کو اپنی کزن باربرا سے تعارف کرانے کے لیے بلا رہا ہے۔ آپ کا دوست اُسے کچھ آپ کے بارے میں بتاتا ہے کہ آپ یہ کرتے ہیں، آپ وہ کرتے ہیں ان باتوں کے ساتھ وہ آپ کا تعارف کرواتا ہے۔
باربرا ایک چھوٹے سے شہر میں رہتی ہے اور ایک انشورنس ایجنسی میں ڈیٹا اینالسٹ کے طور پر کام کرتی ہے۔ اس کا پسندیدہ مشغلہ ٹیلی ویژن دیکھنا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ آپ اس ملاقات کے فوراً بعد ہی اسے بور انسان محسوس کرنا شروع کر دیں، اور یہ ردعمل آپ کے بارے میں اتنا ہی کچھ بتاتا ہے جتنا کہ اس ڈیٹا اینالِسٹ کے بارے میں جو فضول سے ٹیلیویژن پروگرام دیکھتی ہے۔
حالیہ تحقیق کے مطابق، لوگوں میں بہت سے روایتی تصورات پائے جاتے ہیں جن کی روشنی میں وہ کسی کو بور انسان قرار دے دیتے ہیں۔ یہ تصورات ضروری نہیں کہ معروضی طور پر درست ہوں، لیکن یہ تصورات انتہائی منفی نتائج کے ساتھ ہم پر غالب ہو جاتے ہیں۔
لوگ عموماً ان لوگوں کو سختی سے پرکھتے ہیں جن کی شخصیت ان کے ذہن میں پائے جانے والے ’بورنگ‘ دقیانوسی تصورات سے ملتی جُلتی ہے، اور اس سے پہلے کہ وہ کوئی بات کریں اور پتہ چلے کہ وہ کیسے ہیں، انھیں ایک اوسط شخص کی نسبت کم قابل اور کم گرمجوش سمجھا جاتا ہے اور سماجی ملاقات کے دوران ان سے جہاں تک ممکن ہو ملنے سے گریز کیا جاتا ہے۔
برطانیہ کی ایسیکس یونیورسٹی کے تجرباتی سماجی ماہر نفسیات وجنند وان ٹلبرگ کہتے ہیں کہ بہت سے لوگوں کو پہلی نظر میں بورنگ سمجھ کے نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ ماہرِ نفسیات نے اس تحقیق کی قیادت کی جس کا اوپر ذکر کیا گیا ہے۔
اس طرح کے نتائج ہم سب کو ایک سماجی اجتماع میں باربرا جیسی عورتوں سے ملنے سے پہلے اپنے مفروضوں پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں۔ غیر ضروری منفی توقعات کے ساتھ کسی سے ملاقات کرتے وقت، آپ ممکنہ طور پر خوشگوار گفتگو سے محروم رہ سکتے ہیں۔ جبکہ زیادہ کھلا ذہن ایک نئی ممکنہ دوستی کو بڑھنے کا موقع دے سکتا ہے۔
ماہرِ نفسیات وان ٹلبرگ کی تحقیق آپ کو ایک بہتر پہلا تاثر بنانے کے لیے بھی کچھ تجاویز پیش کرتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حیران کُن تحقیق
وان ٹلبرگ کی تحقیق لوگوں کے بوریت کے تجربات میں دو دہائیوں سے زیادہ کی سائنسی دلچسپی پر مبنی ہے۔ اس تحقیق نے دکھایا ہے کہ کسی کے بارے میں پہلے سے بور ہونے کی رائے قائم کر لینا ہمارے سب سے زیادہ پریشان کن رویوں میں سے ایک ہے، جس کا ہمارے رویے پر حیرت انگیز طور پر گہرا اثر ہے۔
مثال کے طور پر سنہ 2014 میں یونیورسٹی آف ورجینیا، شارلٹس وِل کے محققین نے ایک سروے کے شرکا سے کہا کہ وہ ایک کم فرنیچر والے کمرے میں 15 منٹ گزاریں۔ شرکا کے پاس اپنے موبائل فون، کمپیوٹر یا کوئی پڑھنے کا سامان نہیں تھا، لیکن انھیں ایک ایسا آلہ دیا گیا تھا جس سے انھیں بٹن دبانے پر بجلی کا چھوٹا جھٹکا دیا جاتا۔
باوجود اس کے اس سے انھیں واضح تکلیف ہونا تھی، 42 میں سے 18 شرکا نے اپنی بوریت کو ختم کرنے کے لیے کم از کم ایک بار ایسا کرنے کا فیصلہ کیا۔ ایسا لگتا ہے کہ کوئی بھی محرک، یہاں تک کہ جان بوجھ کر جسمانی تکلیف ہی کیوں نہ ہو اپنے ماحول میں دلچسپی لینے سے بہتر ہے۔
’بوریت ہمارے سب سے پریشان کن جذبات میں سے ایک ہے جس کا ہمارے رویے پر حیرت انگیز طور پر گہرا اثر پڑتا ہے۔‘
آپ شاید حیرانی سے سوچ سکتے ہیں کہ آیا یہ ردعمل تجربے کے ماحول کے لیے مخصوص تھا تاہم اب اسی تجربے کو دیگر حالات میں دہرایا گیا۔ بعد میں ہونے والی ایک تحقیق میں شرکا کو ایک دشوار قسم کی فلم دیکھنے پر مجبور کیا گیا جس نے ایک گھنٹے تک تکرار کے ساتھ وہی 85 سیکنڈ کا ایک سین بار بار دکھایا گیا۔
موقع ملنے پر، بہت سے شرکا نے ایک ایسے آلے کے ساتھ کھیلنے کا انتخاب کیا جو بجلی کی غیر آرام دہ جھٹکے فراہم کرتا ہے۔ اس طرح کے رویے عجیب لگ سکتے ہیں۔
لیکن کینیڈا کی یونیورسٹی آف واٹر لو میں اعصابی سائنس کے علوم کے پروفیسر، جیمز ڈانکرٹ کہتے ہیں کہ یہ مطالعات یہ بتاتے ہیں کہ بوریت ہمیں نیا محرک تلاش کرنے کے لیے کس قدر طاقتور ثابت کر سکتی ہے۔
ایسی چیز جس کے روزمرہ کی زندگی میں بہت زیادہ فائدے ہو سکتے ہیں۔ جب ہم دنیا میں لوگوں سے ملتے ہیں تو وہ کہتے ہیں ہمیں موجودہ صورتحال سے فائدہ اٹھانے یا دوسرے مواقع کی تلاش کے درمیان مسلسل انتخاب کرنا چاہیے۔ جب ہم کسی انعام کے بغیر ایک ہی طرز عمل انجام دیتے رہتے ہیں تو بوریت ہمیں اس ساخت میں پھنسے رہنے کے بجائے اس سانچے کو تبدیل کرنے پر مجبور کرتی ہے۔
ڈانکرٹ کی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ بوریت کے احساسات خاص طور پر اُس وقت زیادہ اذیت ناک ہوتے ہیں جب ہمیں شعوری طور پر محرک کے دوسرے ممکنہ ذرائع کی یاد دلائی جاتی ہے جن کی ہم تلاش کر سکتے ہیں۔
مثال کے طور پر لوگوں کو ایک کمرے میں نامکمل پزل یا لیگو کے نامکمل کھیل کے مقابلے میں کمرے میں بیٹھنا اور وہاں کچھ نہ کرنا زیادہ مشکل لگتا ہے۔ یہ اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ پارٹی میں کسی بور شخص کے ساتھ پھنس جانا اتنا ناقابل برداشت کیوں ہے، جب ہم اپنے ارد گرد دیگر تمام پرجوش گفتگو سن سکتے ہیں۔
جب کہ ہم اپنے نئے جاننے والے کے کام کی سب سے چھوٹی تفصیلات کے بارے میں سننے کے پابند ہیں، ہم کسی ایسے شخص سے گہرا سماجی تعلق قائم کرنے کا موقع گنوا رہے ہیں جو ہماری شخصیت کے لیے زیادہ موزوں ہو گا۔
نفسیاتی لحاظ سے ہم ان تمام ’مواقع کی قیمت‘ سے واقف ہو جاتے ہیں جو گفتگو سے پیدا ہوئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
دقیانوسی یا روایتی بوریت
بیزاری یا بوریت کی اذیتوں کو دیکھتے ہوئے یہ ایک فطری بات ہے کہ ہمیں غیر مفید میل جول سے بچنا چاہیے۔ بدقسمتی سے انسانوں میں نامکمل معلومات کی بنیاد پر لوگوں کے بارے میں غیر منصفانہ طور پر پہلے سے فیصلہ کرنے کا ایک پریشان کن رجحان ہے۔ اور اس کا مطلب یہ ہے کہ اکثر اس سے پہلے کہ کوئی شخص ہماری دلچسپی کی رگ کو جگائے ہم اُسے پہلے سے ہی بور سمجھ لیں گے۔
اس سال کے شروع میں شائع ہونے والی تحقیقات کی ایک سیریز میں، وان ٹلبرگ نے ان دقیانوسی یا روایتی خصوصیات کی نشاندہی کرنے کے بارے میں سوچا جو اس ردعمل کو متحرک کرتے ہیں۔ ایسے نتائج جو جب بھی ہم خود کو کسی کی شخصیت کے بارے میں فوری فیصلہ کرنے کی حالت میں پاتے ہیں تو ہم اپنی قبل از وقت رائے بنا لینے کی سوچ پر قابو پا سکتے ہیں۔
یونیورسٹی آف لیمرک میں ایرک ایگو اور لندن سکول آف اکنامکس اینڈ پولیٹکس میں مہر پنجوانی کے ساتھ کام کرتے ہوئے، وان ٹلبرگ نے سب سے پہلے 115 امریکی باشندوں کے ایک گروپ سے کہا کہ وہ اُن مخصوص خصوصیات کو بیان کریں جو وہ بورنگ لوگوں سے جُڑی ہوئی سمجھتے ہیں۔
ان ابتدائی جوابات سے، ٹیم نے 45 ذاتی خصوصیات بیان کیں، 28 پیشوں سے وابستہ اور 19 ایسے مشاغل کی فہرستیں بنائیں جو وہ بوریت سے جُڑی ہوئی سمجھتے ہیں۔ اس کے بعد محققین نے 300 سے زیادہ لوگوں کے مزید گروپ سے کہا کہ وہ ہر ایک کو ایک (بالکل بورنگ نہیں) سے سات (انتہائی بورنگ) کے پیمانے پر اُن خصوصیات کی درجہ بندی کریں۔
اس تجربے سے نکلنے والے نتائج اپنے آپ میں منفرد باتیں افشا کر رہے تھے۔ وان ٹلبرگ کے تجربے کے شرکا کے مطابق، ڈیٹا انٹری ورکرز، اکاؤنٹنٹ اور ٹیکس افسران کو سب سے زیادہ بوریت والا پیشہ قرار دیا گیا تھا۔
بوریت کے طور پر دیکھے جانے والے مشاغل میں چرچ جانا، ٹی وی دیکھنا اور سونا شامل تھے۔
شخصیت کے لحاظ سے ان شخصیتوں کو بور سمجھا گیا جو تنگ نظری کا مظاہرہ کرتے تھے، اور کسی بھی معاملے پر مزاح کا فقدان رکھتے ہیں اور کسی بھی موضوع پر ایک مضبوط رائے رکھتے ہیں۔ ان کے بارے میں یہ بھی سوچا جاتا تھا کہ وہ حد سے زیادہ منفی شکایت کرنے والے ہیں اور جو ہر مسئلے کے بارے میں چُوں چرا کرتے ہیں۔
اس کے بعد یہ تحقیقی ٹیم ان خصوصیات کی سماجی تنہائی پیدا کرنے کی صلاحیت سمیت ان دقیانوسی تصورات کے نتائج کو سمجھنا چاہتی تھی۔ اس کے لیے، انھوں نے پچھلی تحقیقات میں تحقیق کی گئی خصوصیات کی بنیاد پر ان کے مختصر الفاظ میں خاکوں کا ایک سلسلہ بنایا۔
یہ بھی پڑھیے
مثال کے طور پر ’برائن‘ کا ایک خاکہ تھا، جو اکاؤنٹنسی کمپنی میں ڈیٹا انٹری ورکر تھا جس کا بنیادی مشغلہ ٹی وی دیکھنا تھا، ایک ایسا کردار جو بورنگ سٹیریوٹائپ سے بالکل ملتا جلتا تھا۔ یہ ایک مقامی اخبار کے ایک فنکار 'پال' کے برعکس تھا جو جوگنگ کرنے، باغبانی اور پڑھنے سے لطف اندوز ہوتا تھا، جس کی ذاتی تفصیلات کے امتزاج کو عام طور پر بہت کم بورنگ سمجھا جاتا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس کے بعد ٹیم نے شرکا سے اس بارے میں سوال کیا کہ ان کے خیال میں وہ ایک کردار کو کتنا پسند کریں گے اور کیا وہ فعال طور پر ان سے ملنے یا بات کرنے سے بچنے کی کوشش کریں گے۔ شرکا سے یہاں تک پوچھا گیا کہ اس شخص کے ساتھ اپنی زندگی کا ایک ہفتہ گزارنے کے لیے انطیں کتنی رقم ادا کرنی پڑے گی۔
جیسا کہ آپ توقع کر سکتے ہیں کہ جن افسانوی کرداروں نے بورنگ سٹیریوٹائپ کے معیار کو پورا کیا ان کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا گیا۔ عام طور پر لوگ پال کے مقابلے میں برائن سے ملنے کی بہت کم خواہش رکھتے تھے۔ اور طویل عرصے تک اس بور شخص کو برداشت کرنے کے لیے شرکا نے بتایا کہ وہ کم بور کی صحبت کے لیے تقریباً تین گنا زیادہ رقم ادا کرنے کے لیے تیار ہوں گے۔
وان ٹلبرگ کہتے ہیں کہ ’انھوں نے واقعی ان لوگوں کے ساتھ گھومنے پھرنے کا معاوضہ طلب کیا، اور اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس پر کسی قسم کی نفسیاتی قیمت ہے۔‘
اگر آپ ان تحقیقات پر غور کرتے ہیں جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ لوگ بوریت کے بجائے درد کے تجربے کو ترجیح دیں گے تو یہ سمجھ میں آتا ہے کہ آپ تکلیف کو دور کرنے اور دیگر تمام زیادہ دلچسپ تجربات کی تلافی کے لیے کچھ انعام مانگیں گے جن سے آپ محروم ہو سکتے ہیں۔
دلچسپ بننے کا طریقہ
ہم سب اس تحقیق سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ آپ کا سوچے سمجھے بغیر رائے قائم کر لینے والا مفروضہ کہ بعض پیشوں یا مشاغل کے لوگ فطری طور پر بورنگ ہوتے ہیں آپ کے گہرے اور معنی خیز روابط قائم کرنے کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔
(اور اگر آپ محبت یا شادی کرنے کے لیے ملاقات یعنی ’ڈیٹِنگ‘ کرنے کا ارداہ رکھتے ہوں تو آپ کے دوسرے کے بارے میں پہلے سے منفی تصورات بنا لینا آپ کو اپنی زندگی کی ممکنہ محبت کے راستے میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔) محض تھوڑا زیادہ کھلا ذہن رکھنے سے آپ کو دلچسپی اور دوستی مل سکتی ہے جہاں آپ کو اس کی کم سے کم توقع تھی۔
وان ٹلبرگ کی تحقیق اس سے بھی بری خبر ہے اگر آپ خود بوریت کی خصوصیات رکھتے ہیں۔ خوش قسمتی سے اس کے پاس کچھ ایسے نکات ہیں جو دنیا کے ’برائن‘ (مفروضہ بور شخصیت والا کردار) کو زیادتی والے فیصلے سے بچنے میں مدد دے سکتے ہیں۔
اس کا سب سے پہلے اس بات پر غور کرنا ہے کہ آیا آپ اپنی ملازمت کی تفصیل کو دوبارہ ترتیب دے کر بیان کر سکتے ہیں۔ ڈیٹا کے تجزیہ کو، پہلی نظر میں، ایک بورنگ پیشے کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، لیکن شاید آپ سائنسی تحقیق جیسی بڑی کوشش میں حصہ ڈال رہے ہیں۔
عام طور پر سائنسدانوں کو ڈیٹا ورکرز کے مقابلے میں بہت کم بورنگ سمجھا جاتا تھا - اس لیے آپ کے کام کے سائنسی پہلو پر زور دینے سے لوگوں کے تعصبات کو نظرانداز کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
اگر یہ ممکن نہیں ہے تو آپ اپنی نجی زندگی کے بارے میں کھل کر بات کرسکتے ہیں جو شاید آپ میں دلچسپی کے نئے پہلو سامنے لائے۔
یاد رکھیں کہ بور لوگوں کو عام طور پر چند جذبات کی وجہ سے لوگ انھیں ایک بند ذہن شخص سمجھتے ہیں۔ تقریباً ہر کوئی ٹی وی سے لطف اندوز ہوتا ہے، اور اگر آپ اس کو اپنے واحد مشغلے کے طور پر درج کرتے ہیں تو آپ لامحالہ سطحی ذہانت آنے والے سمجھے جائیں گے۔ لیکن آپ کے زیادہ انفرادی شوق کیا ہیں؟ باغبانی، روزانہ کا حساب کتاب رکھنا، ماہی گیری اور سویٹر کی بُنائی جیسی چیزوں کو نسبتاً مثبت اور دلچسپ مشاغل کے طور پر دیکھا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اور آپ جتنی زیادہ مثالیں دیں گے اتنا ہی زیادہ موقع ہے کہ آپ کو دوسرے شخص کے ساتھ تعلق بنانے کی مشترکہ بنیاد مل جائے گی۔ وان ٹلبرگ کہتے ہیں کہ ’میرے خیال میں سرگرمیوں کی حد کو بڑا کرنا کافی اہم ہوتا ہے۔‘
آخر میں آپ گفتگو کے فن کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔ وان ٹلبرگ کہتے ہیں کہ ’بور لوگ بہت زیادہ باتیں کرتے ہیں، لیکن ان کے پاس کہنے کے لیے بہت کم ہے۔ اپنی رائے کا اظہار کرنے کے لیے اپنے آپ کو آزاد محسوس کریں، لیکن اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ دوسرے شخص کو بھی اپنی رائے کا اظہار کرنے کا مناسب موقع دیں۔
اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ بہت سارے سوالات پوچھیں جو دوسرے شخص کو خود سے کھل کر بات کرنے کا موقع دے تاکہ وہ بھی کُھل سکے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ آپ سے نیا متعارف ہونے والا شخص اپنے تمام تصورات اور دقیانوسی خیالات کو بھول سکتا ہے۔
اگر ان طریقوں میں سے کوئی بھی کام نہیں کرتا ہے تو گھبرائیں مت۔ وان ٹلبرگ بتاتے ہیں کہ جب لوگ عدم تحفظ کا شکار ہوتے ہیں تو ایسے لوگوں میں دوسروں پر منفی دقیانوسی تصورات کے اطلاق کرنے کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔ آپ کے کام یا آپ کے مشاغل کے لیے آپ کو غیر منصفانہ طور پر سختی سے پرکھنے سے کوئی صرف اپنی عدم تحفظ کو چھپا رہا ہے۔ بوریت، خوبصورتی کی طرح، دیکھنے والے کے ذہن میں ہے۔











