BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Wednesday, 10 September, 2008, 14:22 GMT 19:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’پہلے والے وقت کے لوٹنے کا انتظار‘
اٹھارہ سالہ پیر محمد دسویں جماعت کے طلب علم ہیں اور ان کا تعلق پاکستان کے نیم قبائلی علاقے جنڈولہ کے گاؤں مغزئی سے ہے۔ انہوں نے بی بی سی کے نامہ نگار دلاور خان وزیر کو بتایا کہ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ سے ان کی زندگی کیسے متاثر ہوئی ہے۔

’زندگی معمول کے مطابق گزر رہی تھی‘
’کوئی پتہ نہیں چلتا تھا کہ کب کس وقت کسی کی زندگی کا چراغ گل ہو جائے گا‘

میری زندگی معمول کے مطابق گزر رہی تھی۔ سکول جانا، پڑھائی کرنا، اس کے بعد ہنسی مذاق اور کھلینا، یہی روز کی بات تھی۔ اپنے جمع شدہ پیسوں سے من پسند کی چیزیں خریدتا۔ گھر میں بھی وقت خوشگوار انداز میں گزرتا تھا۔

حالت کے بگڑنے کے ساتھ ساتھ میری ذاتی زندگی بھی اس کی لپیٹ میں آتی گئی۔ پہلے تو پڑھائی میں سستی آ گئی، کیونکہ ہر وقت کی لڑائی کی بدولت لوگوں کا گھروں سے نکلنا دشوار ہوگیا۔ کوئی پتہ نہیں چلتا تھا کہ کب کس وقت کسی کی زندگی کا چراغ گل ہو جائے گا۔

’حالات بد سے بدتر ہوتے گئے‘

پڑھائی متاثر ہونے کے بعد میری واحد دلچسپی میرے دوست اور ساتھی تھے جن سے ملاقات میں کچھ وقت گزر جاتا تھا۔ ہم دوست آپس میں باتیں کرتے، سکول کے تذکرے ہوتے، ایک دوسرے کی ذہانت اور نالائقی کی بات ہوتی، شرارتوں کو یاد کیا جاتا۔ سکول کے تذکرے کے ذکر پر ایک دوسرے کو مذاق کا نشانہ بناتے اور وقت یوں گزر جاتا۔

لڑائی میں جیسے جیسے سنگینی آتی گئی حالات بد سے بدتر ہوتے گئے۔ مقامی آبادی کا ایک بڑا حصہ اپنی زندگی بچا کر پناہ کی تلاش میں اردگرد کے شہروں میں منتقل ہونے لگا۔ میرے گھر والے بھی اپنے گاؤں سے منتقل ہو کر ڈیرہ اسماعیل خان میں اعوان ابا کے علاقے میں آگئے۔

’ڈیرہ اسماعیل خان میں چار سال ہوگئے ہیں‘

ڈیرہ اسماعیل خان میں مجھے چار سال ہوگئے ہیں۔ جب پہلے پہلے یہاں آیا تھا تو میرا کوئی دوست نہیں تھا۔ زندگی میں تنہائی اور تلخی بڑھتی گئی۔ سارا دن گھر اور خالی محلے کے سوا میری کی زندگی میں اور کچھ نہیں تھا۔

پھر والدین نے مجھے ایک سکول میں داخل کیا۔ لیکن میری پڑھائی میں وہ مزہ نہیں ہے جو کھبی تھا۔ اب میرے یہاں بھی کچھ دوست بن گئے ہیں۔ ان کے ساتھ کچھ وقت گزرتا ہے۔ گھریلو ضرورت کی خریدری بھی میری ذمہ داری ہے۔ بس انتظار ہے اس پہلے والے وقت کے دوبارہ لوٹ آنے کا۔‘

باجوڑبم سے نہیں بھوک سے
باجوڑ کے افراد کی پناہ گزین کیمپ میں زندگی
پشاور میں دھماکہ
کار بم دھماکے میں متعدد ہلاکتیں: تصاویر میں
جلال الدین حقانی(فائل فوٹو)حقانی ایک’اہم ہدف‘
’طالبان پر حقانی کا اثر میزائل حملے کی اہم وجہ‘
ہیلی کاپٹرزغلط امریکی پالیسی
حملوں سے پشتونوں میں مزید احساس محرومی
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد