کوئی گوسپ نہیں ہوگی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ترقی یافتہ دنیا کی مشینی زندگی میں اگر چند لمحے گوسپ کے لیے میسر نہیں تو ایسی زندگی جینے کا کیا فائدہ۔ ویسے بھی ہلاکتوں، تشدد، جنسی زیادتیوں اور جنگ و جدل کی خبریں نشر کرتے کرتے ہماری زندگی میں گوسپ کے لیے اب کوئی لمحہ ہی کہاں ہے۔ نصرت جہاں جب سے بچے پیدا اور ان کی پرورش کرنے میں لگی ہیں یا کاشف قمر نے جب سے کراچی میں اپنا ڈیرہ جمایا ہے بش ہاؤس کے کینٹین کا گوسپ کارنر تنہا اور یتیم ہوگیا ہے۔ میں نے سوچا اس کارنر کا متبادل کارنر ڈھونڈا جائے اور تلاش کرتے کرتے اپنے گھر کے قریب کارنر شاپ پہنچ گئی جو انگلینڈ میں ہزاروں کی تعداد میں ہیں اور بیشتر دکانوں پر اپنے دیسی بھائیوں نے قبضہ جمایا ہے۔ کارنر شاپ والی بہن سے علیک سلیک ہوہی رہی تھی کہ اس نے اپنی بیٹی کی شادی کی بات فورا چھیڑ دی۔ سچ کہتی ہوں کہ اگر میں زندگی میں صحافی نہ ہوتی تو کچھ بھی نہ ہوتی ۔مگر دیسی بہن کومجھ میں رشتہ کرانے کی یہ صلاحیت کیسے نظر آئی۔ میں دل ہی دل میں لڑکوں کی تلاش میں لگ گئی مگر کچھ افسوس بھی ہوا کہ لندن میں لوگوں کو فلاسفی، سائنس یا ٹیکنالوجی کی ڈگریاں ملتی ہیں مجھے رشتے کرانے کی یہ کیسی سند مل گئی۔ میں نے گوسپ کرنے سے قسم کھالی۔
گل بیگ، عمرکوٹ انور علی، کراچی جاوید اقبال ملک، چکوال محمد فیصل، اسلام آباد ندیم اختر، گجرات جاوید عاصم، جدہ ثناء خان، کراچی محمد عمران، لندن عدنان محمد، لندن
میرے اور اس کے درمیان اب بات نہیں بلکہ تکرار ہوتی ہے۔ میں کہتی ہوں آپ کے ہاں مصومیت ہے وہ کہتا ہے وہاں سچائی ہے یہاں اپنائیت نہیں وہاں جذباتیت نہیں میرے یہاں بربریت ہے یہ بھی جارحیت پرست ہیں آپ پھر بھی آزاد ہیں اخلاقی دیوالیہ پن ہے وہاں عتیق عتیقہ نہیں بنتی یہاں سب کچھ پردے میں ہوتا ہے وہ کہتا ہے ’لوگ بہت جھوٹ بولتے ہیں‘ میں کہتی ہوں ’ہم سے سبق سیکھا ہے‘ مشرف وعدہ کر کے مکر جاتے ہیں ٹونی بلیئر کو وعدہ یاد ہی نہیں رہتا دو براعظموں، دو ملکوں یا دو تہذ یبوں میں منقسم خاندانوں کے افراد کے درمیان یہی تکرار ہوتی ہے اور اس کے نتیجے میں ان کا ٹیلیفون بل بھی بہت زیادہ ہوتا ہے۔ میں نے تہیہ کیا کہ مشرق اور مغرب کے فرق پر اس وقت تک بات نہیں کروں گی جب تک پہلے ٹیلیفون بل ادا نہ کروں۔ آپ بھی ایساہی کریں۔
علی حسین، پاکستان جاوید اقبال ملک، چکوال نواز محمد، جاپان عدنان محمد، لندن
آنٹی نے لندن آنے سے پہلے ہی نہ صرف حرام، حلال کی تمیز کرنا سیکھ لیا تھا بلکہ مغرب میں دودھ سے ٹوتھ پیسٹ تک کی تمام چیزوں کے بارے میں یہ واقفیت حاصل کرلی تھی کہ اپنے دیس کے مقابلے میں یہاں بیشتر چیزیں ملاوٹ کے بغیر ملتی ہیں۔ اپنے دیس سے اور دیس کے حکمرانوں سےآنٹی کو اگر شکایت تھی تو بس یہی کہ وہ ملاوٹی اشیا کی تجارت کو روک نہیں سکے اب تو دیس کی سیاست بھی ملاوٹی ہوگئی ہے۔ لندن پہنچنے کے پہلے دن آنٹی نے جب ’مِلک مین‘ کو دروازے کے باہر پیور ملک یعنی خالص دودھ کی بوتلوں کو رکھتے دیکھا تو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں کر پائی۔ دیس کے گوالے رحیما کی شامت آئی اور آنٹی اسے زور زور سے کوسنے لگیں کہ اس نے ہمیشہ ملاوٹی دودھ پلایا۔ ’مِلک مین‘ کی باتیں آنٹی کو اچھی لگنے لگیں۔ آنٹی اپنے لاڈلے اور پیارے بیٹے کو خالص دودھ اور دوسری اشیاء کھلا کھلا کر خوشی سے پھولے نہیں سماتی۔’ ہم تو پوری زندگی خالص دودھ کی شکل کو ترسے ۔اللہ نے تمہارے لیئے ہی ہمیں مغرب میں بھیجا اور ’مِلک مین‘ کو پیدا کیا‘۔ آنٹی ہر محفل میں مغربی اشیا کی تعریف کرتیں، مغربی گائیوں کے گن گاتیں اور ان چراگاہوں کے جن پر یہ گائیں زندہ رہتی ہیں۔ آنٹی مغرب کی تعریف میں ایسے کھوگئیں کہ بیٹے کے وزن، شکل اور ہیت کا خیال ہی نہیں رہا۔ اس کا اکلوتا اور لاڈلا بیٹا برطانیہ کے ان تیس فیصد بچوں میں شامل ہوگیا جو ’اوبیسٹی‘ یا موٹاپے کا شکار ہیں اور عین ممکن ہے کہ وہ بلڈ پریشر، دل اور دوسرے امراض میں بھی مبتلا ہو جائے۔ ڈاکٹر کی باتوں پر آنٹی کو یقین نہیں آیا۔ آنٹی اب رحیما کو کوسنے کی بجائے دعائیں دے رہی ہیں۔ دیس کے حکمرانوں سے اشیائے خوردنی سے لے کر ملاوٹی سیاست چلانے کی کوئی شکایت نہیں۔ برطانیہ کی گائیں اچھی نہیں اور نہ ہی چراگاہیں سرسبز و شاداب نظر آتی ہیں۔ بیٹے کے موٹاپے سے اتنی خوفزدہ کہ ہر وقت اپنے بیٹے کے ساتھ پارک یا جم میں موجود رہتیں ہیں۔ ’مِلک مین‘ کے سفید دودھ اور باتوں کی طرح ہر شے انہیں بےمعنی لگتی ہے۔ ہر اس شخص کو کوستی ہیں جو ان کے پّتر کو پہلوان کہتا ہے۔
محمد اعظم، کینیڈا گل بیگ، پاکستان محمد وقاص، آسٹریلیا طارق کیانی، کینیڈا عنایت،پاکستان شاہدہ اکرام، متحدہ عرب امارات اظفر خان، کینیڈا عبدالوحید خان، برطانیہ جاوید اقبال ملک، چکوال،پاکستان سمیرا خان، پاکستان ماجد جاوید، پشاور |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||