BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Thursday, 11 May, 2006, 15:07 GMT 20:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کوئی گوسپ نہیں ہوگی

گوسپ سے توبہ

گیارہ مئی:’ گوسپ سے توبہ‘

ترقی یافتہ دنیا کی مشینی زندگی میں اگر چند لمحے گوسپ کے لیے میسر نہیں تو ایسی زندگی جینے کا کیا فائدہ۔ ویسے بھی ہلاکتوں، تشدد، جنسی زیادتیوں اور جنگ و جدل کی خبریں نشر کرتے کرتے ہماری زندگی میں گوسپ کے لیے اب کوئی لمحہ ہی کہاں ہے۔

نصرت جہاں جب سے بچے پیدا اور ان کی پرورش کرنے میں لگی ہیں یا کاشف قمر نے جب سے کراچی میں اپنا ڈیرہ جمایا ہے بش ہاؤس کے کینٹین کا گوسپ کارنر تنہا اور یتیم ہوگیا ہے۔

میں نے سوچا اس کارنر کا متبادل کارنر ڈھونڈا جائے اور تلاش کرتے کرتے اپنے گھر کے قریب کارنر شاپ پہنچ گئی جو انگلینڈ میں ہزاروں کی تعداد میں ہیں اور بیشتر دکانوں پر اپنے دیسی بھائیوں نے قبضہ جمایا ہے۔

کارنر شاپ والی بہن سے علیک سلیک ہوہی رہی تھی کہ اس نے اپنی بیٹی کی شادی کی بات فورا چھیڑ دی۔

لڑکے کی تلاش میں ہوں۔میں کسی گورے یا غیر ہندو سے اسکی شادی کبھی نہیں ہونے دوں گی۔ میرے شوہر کا دماغ بھی ڈھیلا پڑ گیا ہے ۔ جانتا ہے کہ یہاں دس شادیوں میں سے سات ٹوٹ جاتی ہیں تب بھی کہتا ہے کہ بیٹی کی مرضی ضروری ہے ۔پلیز آپ کئی لوگوں کو جانتی ہیں لڑکا ڈھونڈنے میں میری مدد کریں‘۔ میں آس پاس ایسے دیکھنے لگی کے جیسے لڑکا میری بغل میں ہے۔

سچ کہتی ہوں کہ اگر میں زندگی میں صحافی نہ ہوتی تو کچھ بھی نہ ہوتی ۔مگر دیسی بہن کومجھ میں رشتہ کرانے کی یہ صلاحیت کیسے نظر آئی۔

میں دل ہی دل میں لڑکوں کی تلاش میں لگ گئی مگر کچھ افسوس بھی ہوا کہ لندن میں لوگوں کو فلاسفی، سائنس یا ٹیکنالوجی کی ڈگریاں ملتی ہیں مجھے رشتے کرانے کی یہ کیسی سند مل گئی۔

میں نے گوسپ کرنے سے قسم کھالی۔

’آپ کیا کہتے ہیں‘

یاسر کاکا، کراچی
واقعی توبہ کرنی چاہیے کیونکہ یہ مسلمانوں کا شیوہ نہیں اور شریعی طور پر بھی منع ہے کیونکہ اس سے دل مردہ ہو جاتے ہیں۔

گل بیگ، عمرکوٹ
آپ کے انداز گفتگوسے لگتا ہے کہ آپ دوسروں کے لیے درد دل رکھتی ہیں، اسی لیے اس عورت نے آپ سے اپنا درد دل بیان کر ڈالا۔

انور علی، کراچی
کوئی دوستی کرنے کا کلام بھی دیں۔

جاوید اقبال ملک، چکوال
بہن آپ تو خوش قسمت ہیں کہ وہاں بیٹھی ہیں جہاں جانے لوگ صرف خواب دیکھ سکتے ہیں، لیکن واقعی سچ یہی ہے کہ انسان کسی حال میں خوش نہیں ہوتا۔

محمد فیصل، اسلام آباد
بی بی پھر کہوگی ڈیپریشن ہوگیا ہے۔

ندیم اختر، گجرات
اگر آپ ان سےمیرے انگلینڈ کے ویزے کی بات کریں تو میں شادی کے لیے تیار ہوں۔ انشاءاللہ اسے خوش رکھوں گا۔ جلدی رابطہ کیجیے۔

جاوید عاصم، جدہ
ویسے نعیمہ جی ’بی بی سی میرج بیورو‘ کا خیال کیسا ہے؟

ثناء خان، کراچی
نعیمہ آنٹی ڈھیر ساری دعائیں ملیں گی پر چھوٹا سا رسک ہے۔ اگر شادی ناکام ہو گئی تو۔

محمد عمران، لندن
نجانے ہم دیسی لوگ کب اپنی اولاد کو ان کی مرضی سے جیون ساتھی چننے کی اجازت دیں گے۔

عدنان محمد، لندن
میں ہوں ناں!

بیس اپریل:’ ہماری تکرار‘

میرے اور اس کے درمیان اب بات نہیں بلکہ تکرار ہوتی ہے۔
میں کہتی ہوں آپ کے ہاں مصومیت ہے
وہ کہتا ہے وہاں سچائی ہے
یہاں اپنائیت نہیں
وہاں جذباتیت نہیں
میرے یہاں بربریت ہے
یہ بھی جارحیت پرست ہیں
آپ پھر بھی آزاد ہیں
اخلاقی دیوالیہ پن ہے
وہاں عتیق عتیقہ نہیں بنتی
یہاں سب کچھ پردے میں ہوتا ہے
وہ کہتا ہے ’لوگ بہت جھوٹ بولتے ہیں‘
میں کہتی ہوں ’ہم سے سبق سیکھا ہے‘
مشرف وعدہ کر کے مکر جاتے ہیں
ٹونی بلیئر کو وعدہ یاد ہی نہیں رہتا
دو براعظموں، دو ملکوں یا دو تہذ یبوں میں منقسم خاندانوں کے افراد کے درمیان یہی تکرار ہوتی ہے اور اس کے نتیجے میں ان کا ٹیلیفون بل بھی بہت زیادہ ہوتا ہے۔ میں نے تہیہ کیا کہ مشرق اور مغرب کے فرق پر اس وقت تک بات نہیں کروں گی جب تک پہلے ٹیلیفون بل ادا نہ کروں۔
آپ بھی ایساہی کریں۔

’آپ کیا کہتے ہیں‘

علی حسین، پاکستان
میرے اور ’اس‘ کے درمیان۔ نعیمہ جی یہ’اس‘ کون ہے؟

جاوید اقبال ملک، چکوال
نعیمہ بہن، آپ نے کیا خوب لکھا مگر جہاں تک ٹیلیفون بل کی بات ہے تو وہ سب کا ایک مسئلہ ہے۔

نواز محمد، جاپان
کسی نے سچ کہا ہے کہ انسان کسی حالت میں خوش نہیں رہتا۔

عدنان محمد، لندن
اچھا لکھا۔ میں بھی اپنے ٹیلیفون بل سے پریشان ہوں۔ ویسے آپ بھی وسعت بھائی کی طرح لکھنے کی کوشش میں ہیں۔ ایسا ہی لکھا کریں۔

بیس اپریل:’ آنٹی دا پہلوان پتّر‘

آنٹی نے لندن آنے سے پہلے ہی نہ صرف حرام، حلال کی تمیز کرنا سیکھ لیا تھا بلکہ مغرب میں دودھ سے ٹوتھ پیسٹ تک کی تمام چیزوں کے بارے میں یہ واقفیت حاصل کرلی تھی کہ اپنے دیس کے مقابلے میں یہاں بیشتر چیزیں ملاوٹ کے بغیر ملتی ہیں۔

اپنے دیس سے اور دیس کے حکمرانوں سےآنٹی کو اگر شکایت تھی تو بس یہی کہ وہ ملاوٹی اشیا کی تجارت کو روک نہیں سکے اب تو دیس کی سیاست بھی ملاوٹی ہوگئی ہے۔

لندن پہنچنے کے پہلے دن آنٹی نے جب ’مِلک مین‘ کو دروازے کے باہر پیور ملک یعنی خالص دودھ کی بوتلوں کو رکھتے دیکھا تو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں کر پائی۔ دیس کے گوالے رحیما کی شامت آئی اور آنٹی اسے زور زور سے کوسنے لگیں کہ اس نے ہمیشہ ملاوٹی دودھ پلایا۔

’مِلک مین‘ کی باتیں آنٹی کو اچھی لگنے لگیں۔

آنٹی اپنے لاڈلے اور پیارے بیٹے کو خالص دودھ اور دوسری اشیاء کھلا کھلا کر خوشی سے پھولے نہیں سماتی۔’ ہم تو پوری زندگی خالص دودھ کی شکل کو ترسے ۔اللہ نے تمہارے لیئے ہی ہمیں مغرب میں بھیجا اور ’مِلک مین‘ کو پیدا کیا‘۔

آنٹی ہر محفل میں مغربی اشیا کی تعریف کرتیں، مغربی گائیوں کے گن گاتیں اور ان چراگاہوں کے جن پر یہ گائیں زندہ رہتی ہیں۔

آنٹی مغرب کی تعریف میں ایسے کھوگئیں کہ بیٹے کے وزن، شکل اور ہیت کا خیال ہی نہیں رہا۔ اس کا اکلوتا اور لاڈلا بیٹا برطانیہ کے ان تیس فیصد بچوں میں شامل ہوگیا جو ’اوبیسٹی‘ یا موٹاپے کا شکار ہیں اور عین ممکن ہے کہ وہ بلڈ پریشر، دل اور دوسرے امراض میں بھی مبتلا ہو جائے۔ ڈاکٹر کی باتوں پر آنٹی کو یقین نہیں آیا۔

آنٹی اب رحیما کو کوسنے کی بجائے دعائیں دے رہی ہیں۔ دیس کے حکمرانوں سے اشیائے خوردنی سے لے کر ملاوٹی سیاست چلانے کی کوئی شکایت نہیں۔

برطانیہ کی گائیں اچھی نہیں اور نہ ہی چراگاہیں سرسبز و شاداب نظر آتی ہیں۔

بیٹے کے موٹاپے سے اتنی خوفزدہ کہ ہر وقت اپنے بیٹے کے ساتھ پارک یا جم میں موجود رہتیں ہیں۔ ’مِلک مین‘ کے سفید دودھ اور باتوں کی طرح ہر شے انہیں بےمعنی لگتی ہے۔ ہر اس شخص کو کوستی ہیں جو ان کے پّتر کو پہلوان کہتا ہے۔

’آپ کیا کہتے ہیں‘

محمد اعظم، کینیڈا
اب آنٹی کو ملاوٹ والی’گراسری‘ بھی اپنے ملک سے درآمد کرنا شروع کر دینی چاہیئے۔ اسی طرح ان کا بیٹا اپنے اصل سائز میں واپس آئے گا۔

گل بیگ، پاکستان
آنٹی کو کسی ایک بات پر تو راضی رہنا چاہیئے۔

محمد وقاص، آسٹریلیا
آپ نے اچھا لکھا۔ اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ۔ کچھ کچھ عطاءالحق قاسمی یا بریگیڈیر صدیق سالک کا ہلکلا پھلکا مزاح نظر آیا۔ ایک شگفتہ تحریر ہے۔

طارق کیانی، کینیڈا
جی نعیمہ جی، یہ چائلڈ اوبیسٹی کینیڈا اور امریکہ میں بھی ایک وبا کی طرح پھیل رہی ہے۔ میرے خیال میں سکولوں میں بچوں سے لازمی جسمانی ورزش کروانی چاہیئے۔ ایک اہم مسئلہ چھیڑنے کا شکریہ۔

عنایت،پاکستان
ہمارے ملک کے لوگ جتنا باہر جانے کے لیئے بےتاب ہوتے ہیں اتنا ہی باہر جا کر انہیں خرابیاں نظر آنے لگتی ہیں۔ کوئی روایت غلط نہیں ہوتی بلکہ انسان کا ذہن اسے اپنے مطابق ڈھال لیتا ہے اور دراصل’ ہر چیز کی زیادتی نقصان دہ ہوتی ہے‘۔

شاہدہ اکرام، متحدہ عرب امارات
کیا خوفناک نقشہ کھینچا ہے اور اس میں آنٹی اور ان کے بیٹے کا دکھ بھی شامل ہو گیا ہے۔ ویسے میری بہن نے کتنی اچھی دلیل دی ہے اپنے ملک کی ملاوٹی اشیاء کے حق میں۔

اظفر خان، کینیڈا
نعیمہ جی، کچھ عرصہ پہلے آپ نے مشرق اور مغرب پر ایک کالم لکھا تھا۔ آپ کے دونوں بلاگ اس کالم کی ضد لگتے ہیں۔ مغرب میں ایک اچھی بات یہ ہے کہ جو جیسا رہنا چاہے اسے ڈسٹرب نہیں کیا جاتا۔ ویسے ہمیں اپنے دیس سے رابطہ مضبوط رکھنا چاہیے کیونکہ نہ سب وہاں اچھا ہے اور نہ یہاں۔

عبدالوحید خان، برطانیہ
موٹاپا بلاشبہ ایک بیماری ہے تو ملاوٹ ایک برائی جو کسی صورت جائز قرار نہیں دی جا سکتی۔ اپنے وطن میں تو ملاوٹی سیاست کا کیا ہی کہنا۔

جاوید اقبال ملک، چکوال،پاکستان
نعیمہ آپ نے خوب لکھا مگر اپنے وطن کی کیا ہی بات ہے۔’بھولی مج تو کی جانے اناکلی دیاں شاناں‘۔ اپنا وطن تو اپنا ہی ہے۔

سمیرا خان، پاکستان
اچھا ہے کہ آنٹی پاکستان سے چلی گئیں۔ کیا آنٹی کی نظر کمزور تھی کہ انہیں اپنے بیٹے میں ہوا بھرتی نظر نہیں آئی۔ ہم لوگ کسی حال میں خوش نہیں رہ سکتے۔

ماجد جاوید، پشاور
ہاں نعیمہ بہن آپ نے کافی اچھے موضوع پر بات شروع کی لیکن انسان تو کسی حال میں خوش نہیں رہ سکتا۔

اپنا اقتباس ہمیں بھیجیں

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
میلاد کی تقریباتمیلاد کی تقریبات
’کیا یہ محرم کی تقریبات کا مقابلہ ہے؟‘
ضیاپیریار، کہاں ہے؟
’ہمارے نئے دور کا غیب دان کب آئے گا؟ ‘
کھائیں تو کھائیں کہاںکھائیں توکھائیں کہاں
تھوڑے جھوٹ کے ساتھ عارف شمیم کا سارا سچ
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد