BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Friday, 05 May, 2006, 10:28 GMT 15:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صنعتی مملکت کا جھوٹا خواب

صنعتی مملکت کا جھوٹا خواب

پانچ مئی: ’ٹیڑھی ٹانگیں اور پولیس مقابلہ‘

گزشتہ ہفتے جب وزیرِاعظم شوکت عزیز یہ کہہ رہے تھے کہ پاکستان ایشیا کے ان چند ممالک کے کلب میں شامل ہوگیا ہے جہاں ترقی کی رفتار انتہائی تیز ہے، عین اس وقت سے پاکستان کے صنعتی انجن کراچی کا آدھا حصہ تاریکی میں ڈوبا پڑا تھا۔

کراچی کو بجلی فراہم کرنے والے نجی ادارے کے ای ایس سی اور کے ای ایس سی کو بجلی فروخت کرنے والے سرکاری ادارے واپڈا کی کھینچاتانی کے سبب کراچی اگر دو سو میگاواٹ بجلی سے محروم ہوا تو جتنی اس بجلی کی قیمت تھی اس سے دس گنا زیادہ صنعتی پیداوار کا نقصان ہوگیا۔

ضیاالحق کے وزیرِ خزانہ مرحوم ڈاکٹر محبوب الحق سے لے کر شوکت عزیز تک ہر وزیرِ خزانہ یقین دلاتا رہا کہ ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے لیئے ون ونڈو آپریشن شروع کیا جا رہا ہے لیکن آج بھی سرمایہ کار کو حتمی منظوری کی منزل حاصل کرنے کے لیئے کم ازکم انیس مختلف اداروں اور ایجنسیوں سے نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے لیئے جگہ جگہ خوشامد، سفارش اور رشوت کا حربہ استعمال کرنا پڑتا ہے۔

لہٰذا یا تو غیرملکی سرمایہ کار ادھر کا رخ نہیں کرتا اور اگر کر بھی لے تو اپنی جیب سے نئی سرمایہ کاری کے لیئے پیسے نکالنے کے بجائے یہاں پر موجود منافع بخش ادارے اور یونٹ خریدنے کو ترجیح دیتا ہے اور حکومت ان یونٹوں کی نیلامی سے حاصل ہونے والی رقم کو غیرملکی سرمایہ کاری کے کھاتے میں دکھا کر خوش ہو لیتی ہے۔

اس طرح کے ماحول اور سوچ کے ساتھ پاکستان کو ایشیا کا نہایت اہم صنعتی ملک بنانے کا خواب ایسا ہی ہے جیسے کوئی ٹیڑھی ٹانگوں والا پولیس مقابلے میں کود جائے۔

’آپ کیا کہتے ہیں‘

عبدالرحیم خان، مسیساگا، کینیڈا:
تمام وزیر اور خود وزیراعظم کسی کے لکھے ہوئے الفاظ بول دیتے ہیں، انہیں خود پتہ نہیں ہوتا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔

علی احمدکھرل، لاہور:
او کے!

نامعلوم:
میں ہمیشہ اپنے تبصرے بھیجتا ہوں لیکن آپ لوگ شائع ہی نہیں کرتے۔یہ سراسر نا انصافی ہے۔

شاہین کوثر، امریکہ:
آپ نے جس طرح حالات بیان کیے ہیں وہ سو فیصد درست ہے، بلکہ شاید حالات اس بھی زیادہ خراب ہیں۔

محمد عمران، لندن:
میرا خیال ہے کہ آپ کو وزیرخزانہ یا وزیر سرمایہ کاری بنا دینا چاہیے، پھر آپ پاکستان کے سارے مسئلے حل کر دیں گے۔آپ کے پاس تو پورا صندوق ہے مسائل کے حل کا، پاکستان کے ہر مسئلے کا۔

جاوید اقبال ملک، چکوال:
وسعت بھائی کیا کہنے، خوب لکھا ہے۔ آپ تو صنعتکاروں کی بات کر رہے ہیں، یہاں تو یہ حالت ہے کہ میری طرح کا عام بزنس مین بھی پریشان ہے۔ تیس میں سے بیس دن بجلی کی آنکھ مچولی رہتی ہے۔ یہاں آ کر کوئی کیا کرے گا، کیا باقی دنیا ختم ہو گئی ہے۔

یہاں صرف ایک شناختی کارڈ بنوانے کے لیے کتنے پاپڑ بیلنا پڑتے ہیں، آپ کو کیا بتاؤں۔ایک سری لنکن ’مال‘ دے کر بھی پاکستانی بن سکتا ہے مگر پاکستانی کو پاکستانی ثابت کرنے میں ٹائم لگے گا۔ ہر طرف ’قائد اعظم کا نوٹ‘ چلتا ہے۔

عمران رضا، ناٹنگھم، برطانیہ:
مسٹر وسعت خان، میں آپ کو سراہتا ہوں کہ آپ اپنی نوکری کا حق ادا کر رہے ہیں۔ آپ کو لوگوں کو پاکستان جانے سے متننفر کرنے کی تنخواہ ملتی ہے، اس لیے آپ ٹھیک لکھ رہے ہیں۔ لیکن آپ پاکستان کو ترقی کرنے سے کبھی نہیں روک سکتے۔

آپ کیا چاہتے ہیں؟ ایک غریب آدمی کبھی اچھے دنوں کا خواب نہ دیکھے۔ اگر سیاستدان کہیں کہ وہ پاکستان کو ایک زرعی ملک بنانا چاہتے ہیں تو آپ کہیں گے کہ وہاں پانی کا مسئلہ ہے۔

عدنان محمد، لندن:
پاکستان میں میرے خیال سے یہی ہو رہا ہے کہ ہم لوگ دنیا سے بہت پیچھے چلے جا رہے ہیں۔

اپنا اقتباس ہمیں بھیجیں

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
بہتر گدھاسکوٹر اور گدھے
’ کون سا گدھا بہتر ہے؟‘ ضیا کا سوال
’بھوت مدرسے‘’بھوت مدرسے‘
’استاد شاگرد موجود، مگر سکول غائب‘
میلاد کی تقریباتمیلاد کی تقریبات
’کیا یہ محرم کی تقریبات کا مقابلہ ہے؟‘
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد