صنعتی مملکت کا جھوٹا خواب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گزشتہ ہفتے جب وزیرِاعظم شوکت عزیز یہ کہہ رہے تھے کہ پاکستان ایشیا کے ان چند ممالک کے کلب میں شامل ہوگیا ہے جہاں ترقی کی رفتار انتہائی تیز ہے، عین اس وقت سے پاکستان کے صنعتی انجن کراچی کا آدھا حصہ تاریکی میں ڈوبا پڑا تھا۔ کراچی کو بجلی فراہم کرنے والے نجی ادارے کے ای ایس سی اور کے ای ایس سی کو بجلی فروخت کرنے والے سرکاری ادارے واپڈا کی کھینچاتانی کے سبب کراچی اگر دو سو میگاواٹ بجلی سے محروم ہوا تو جتنی اس بجلی کی قیمت تھی اس سے دس گنا زیادہ صنعتی پیداوار کا نقصان ہوگیا۔ ضیاالحق کے وزیرِ خزانہ مرحوم ڈاکٹر محبوب الحق سے لے کر شوکت عزیز تک ہر وزیرِ خزانہ یقین دلاتا رہا کہ ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے لیئے ون ونڈو آپریشن شروع کیا جا رہا ہے لیکن آج بھی سرمایہ کار کو حتمی منظوری کی منزل حاصل کرنے کے لیئے کم ازکم انیس مختلف اداروں اور ایجنسیوں سے نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے لیئے جگہ جگہ خوشامد، سفارش اور رشوت کا حربہ استعمال کرنا پڑتا ہے۔ لہٰذا یا تو غیرملکی سرمایہ کار ادھر کا رخ نہیں کرتا اور اگر کر بھی لے تو اپنی جیب سے نئی سرمایہ کاری کے لیئے پیسے نکالنے کے بجائے یہاں پر موجود منافع بخش ادارے اور یونٹ خریدنے کو ترجیح دیتا ہے اور حکومت ان یونٹوں کی نیلامی سے حاصل ہونے والی رقم کو غیرملکی سرمایہ کاری کے کھاتے میں دکھا کر خوش ہو لیتی ہے۔ اس طرح کے ماحول اور سوچ کے ساتھ پاکستان کو ایشیا کا نہایت اہم صنعتی ملک بنانے کا خواب ایسا ہی ہے جیسے کوئی ٹیڑھی ٹانگوں والا پولیس مقابلے میں کود جائے۔
عبدالرحیم خان، مسیساگا، کینیڈا: تمام وزیر اور خود وزیراعظم کسی کے لکھے ہوئے الفاظ بول دیتے ہیں، انہیں خود پتہ نہیں ہوتا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔ علی احمدکھرل، لاہور: نامعلوم: شاہین کوثر، امریکہ: محمد عمران، لندن: جاوید اقبال ملک، چکوال: یہاں صرف ایک شناختی کارڈ بنوانے کے لیے کتنے پاپڑ بیلنا پڑتے ہیں، آپ کو کیا بتاؤں۔ایک سری لنکن ’مال‘ دے کر بھی پاکستانی بن سکتا ہے مگر پاکستانی کو پاکستانی ثابت کرنے میں ٹائم لگے گا۔ ہر طرف ’قائد اعظم کا نوٹ‘ چلتا ہے۔ عمران رضا، ناٹنگھم، برطانیہ: آپ کیا چاہتے ہیں؟ ایک غریب آدمی کبھی اچھے دنوں کا خواب نہ دیکھے۔ اگر سیاستدان کہیں کہ وہ پاکستان کو ایک زرعی ملک بنانا چاہتے ہیں تو آپ کہیں گے کہ وہاں پانی کا مسئلہ ہے۔ عدنان محمد، لندن: |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||