ضیا احمد جنیوا |  |
| | پانچ اپریل: ’پاکستانی گوگل بم‘ |  |
گھبرائیے مت۔ گوگل بم عام بموں سے بالکل مختلف ہے۔ اس کو کراچی کے میریٹ ہوٹل سے کوئی خاص رغبت نہیں۔ گوگل بم ایک ایسا طریقہ ہے جس کے استعمال سے گوگل پر کسی بھی اصطلاح کی تلاش کا نتیجہ کسی خلافِ توقع صفحے کو بنایا جاسکتا ہے۔ (مزید تفصیلات انٹرنیٹ پر باآسانی دستیاب ہیں۔)مثال کے طور پر اگر آپ گوگل پر miserable failure (یعنی مکمل طور پر ناکام شخص) کو تلاش کریں، تو سب سے پہلا نتیجہ آپ کو ہم سب کے مَن پسند صدر یعنی جارج بش کی پاس لے جائے گا۔ اگر آپ انٹرنیٹ کے استعمال کا تھوڑا بہت بھی تجربہ رکھتے ہیں تو گوگل بموں کا وجود آپ کے لیے کوئی دھماکا خیز خبر نہیں ہوگی۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ انٹرنیٹ پر ایک پاکستان سے منسلک گوگل بم بھی گھوم رہا ہے؟ پچھلے سال کی بات ہے۔ مختار مائی کے بعد ڈاکٹر شازیہ خالد کی دردناک داستان سامنے آئی تھی۔ ہمارے دوسرے مَن پسند صدر یعنی جنرل پرویز مشرّف نے بیان جاری کیا کہ آجکل خواتین کینیڈا جانے اور پیسے کمانے کے چکّر میں آبرو ریزی کی جعلی کہانیاں بنا رہی ہیں۔ اس بیان سے جھلّا کر کچھ دیسی اور غیر دیسی بلاگروں نے ایک گوگل بم کو جنم دیا۔ مقصد یہ تھا کہ جب کوئی insensitive jerk (یعنی بےحِس انسان) کو تلاش کرے تو اسے جنرل صاحب کے دروازے تک پہنچا دیا جائے۔ افسوس کہ مہم ناکام رہا۔ گوگل بم تو کیا گوگل پٹاخا تک نہ پھٹا۔ لیکن کبھی کبھار انسان بغیر کوشش کیے بھی کامیاب ہوجاتا ہے۔ آج اگر آپ بےحِس انسان کو یاہو پر تلاش کریں تو وہ آپ کو مل جائے گا۔ | | آپ کیا کہتے ہیں: |  |
|