| اٹھائیس جون: ’ایبا اور مذہب‘ |
زرماٹ جنوبی سوٹزرلینڈ میں ایک چھوٹا سا گاؤں ہے۔ گاؤں کی صرف ایک خاصیت ہے: دنیا بھر سے سیاح یہاں میٹرہورن کی مشہور چوٹی کا نظارہ کرنے آتے ہیں۔ چھٹّی منانے ہم بھی سیاحوں کے ہجوم میں شامل ہوگئے۔ اتوار کے روز میرے والدین، بیگم، میں اور درجن سے زائد دوسرے سیاح ایک کیبل کار میں بیٹھے برف پوش پہاڑوں کو پھٹی پھٹی آنکھوں سے تک رہے تھے۔ قدرت کے حسن و جلال نے سب ہی کو بری طرح متاثر کیا۔ اچانک کیبل کار میں گانے کی آواز گونجی:اس رات ہوا میں کچھ تھا، ستارے روشن تھے، فرنینڈو۔ وہ تمہارے اور میرے لیے چمک رہے تھے، آزادی کے لیے، فرنینڈو۔ کیبل کار کے اہلکار نے ایک سی ڈی چلائی تھی۔ اس کے بعد ایک عجیب بات ہوئی۔ ہم سب مسافر بےاختیار ایبا کا گانا "فرنینڈو" ہم آواز ہو کر گنگنانے لگے۔ میں نے حیرت سے کیبل کار کے مسافروں پر نگاہ دوڑائی۔ ان میں دیگر یورپین بھی تھے (اطالوی، جرمن، فرینچ وغیرہ)، امریکی، ہندوستانی، انگریز، جاپانی اور ظاہر ہے پاکستانی۔ ہم میں سے کچھ تو شاید انگریزی بھی نہ بولتے ہوں۔ مگر سب گانے کے بول یا دھن جانتے تھے۔ میں بالکل مذہبی نہیں۔ لیکن ان پروقار چوٹیوں کے بیچ اجنبیوں کے ساتھ فرنینڈو گنگنانا میرے لیے ایک مذہبی تجربے سے کم نہ تھا۔ اتنے مختلف لوگ، مختلف رنگ و نسل کے، مختلف تہذیبوں کے نمائندے، مختلف زبانیں بولتے ہوئے اگر یکجاں ہوکر ایبا کا گانا ساتھ گنگنا سکتے ہیں، تو شاید وہ اتنے مختلف بھی نہیں۔ انسانوں کی برابری: کیا یہ دیگر مذاہب کا سبق نہیں؟ یہی سبق ہمیں ایبا نے بارہ ہزار فٹ کی بلندی پر دیا۔ |