یہ آدمی کون ہے؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بہت سالوں سے میرے دفتر کی دیوار پر ایک تصویر ٹنگ رہی ہے۔ تصویر ایک نہایت سنجیدہ شخص کی ہے جو بلیک بورڈ کے سامنے پوشیدہ سامعین کو کچھ سمجھانے میں مہو ہیں۔ آنکھوں سے بلا کی ذہانت ٹپک رہی ہے۔ میں لوگوں کے اس سوال کا جواب دے دے کر تنگ آگیا ہوں: یہ آدمی کون ہے؟ تصویر پر ایپل کمپنی کی علامت نمایاں ہے اور اس کے نیچے انگریزی میں لکھا ہے ’تھِنک ڈِفرنٹ‘ (تخلیقی گرامر میں ’مختلف انداز سے سوچیے‘)۔ سیب کا نشان دیکھ کر اکثر لوگ کہتے ہیں: ’بھئی ضرور ایپل کے سی ای او ہوں گے، کیا نام تھا ان کا؟‘ کچھ کا خیال ہوتا ہے کہ تصویر کسی مشہور موسیقار کی ہے۔ کچھ کہتے ہیں کہ اداکار ہیں، ابھی تو انہیں کسی فلم میں دیکھا تھا! ایک صاحب کا خیال تھا کہ مجھ میں تصویر والے صاحب کی شباہت آتی ہے اس لیے یہ ضرور میرے والد یا دادا ہیں۔ میں نے ان کو بتانے کی کوشش کی کہ تصویر والے صاحب ذرا گوری رنگت کے ہیں اور میں ذرا بھوری۔ اس لیے رشتہ داری مشکل ہے۔ تو کیا ہوا؟ انھوں نے فرمایا، میرے والد مجھ سے کہیں گورے ہیں لیکن ہیں تو میرے والد۔ صرف دو لوگ تصویر والے صاحب کی شناخت کرنے کے قریب آئے ہیں۔ ایک بھائی نے کہا: ’یہ ضرور نیوٹن ہیں۔‘ میں نے کہا: ’بھائی، سوچ آپ کی صحیح سِمت میں ہے مگر چچا نیوٹن کو مرے کئی سو سال ہوچکے۔ تصویر والے حضرت تو جدید دور کے لگتے ہیں۔‘ میرے دفتر کے ایک ہی ایسے ساتھی تھے جنہوں نے تصویر کو دیکھتے ہی کہا: ’ارے، یہ ہمارے کالج کے سابقہ طالب علم تمہاری دیوار پر کیا کررہے ہیں؟‘ تو اب یہی سوال میں آپ سے کرتا ہوں: یہ آدمی کون ہے؟ اس سوال کے پسِ منظر میں جدید معاشرے کی تنقید ہے۔ اگر اوپر برٹنی سپئیرز مٹک رہی ہوتیں، تو سب پڑھنے والے انہیں باآسانی پہچان لیتے۔ تصویر والے صاحب نے انسانیت کے لیے شاید بڑٹنی سپئیرز سے زیادہ کیا ہو، لیکن انہیں شاید ہی کوئی پہچانے۔ اپنا جواب اس بلاگ کے ذریعے بی بی سی اردو کو ارسال کیجیے۔ کچھ اشارے پیش ہیں۔ ان کو سیف کھولنے، بانگو ڈرم بجانے، ایٹم بم بنانے، اوٹھ پٹانگ مزاق اور ہوسٹِس باروں سے خواتین اٹھانے پر عبور حاصل تھا۔
محمد عبیر خان، چترال اگر کچھ کہنے کو نہ ہو تو خاموش رہیئے یا پھر لکھیئے۔ شکریہ محمد ارباب خان، کشمیر، پاکستان اشتیاق احمد، سوٹزرلینڈ خرم خان، ازبیکستان وقاس رانا، لاہور فیصل بھگت، اسلام آباد جاوید رفیق، چین علیم اختر، گجرات عمیر حسین، پشاور نظام، دبئی اقبال احمد صدیقی، کراچی کامران چودھری، ٹورانٹو |
اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||