وسعت اللہ خان بی بی سی اردو ڈاٹ کام |  |
پاکستان میں ادرک کی پیداوار بہت زیادہ نہیں ہے۔ چنانچہ جب چین ، بھارت، بنگلہ دیش، ماینمار اور سنگاپور سے ادرک امپورٹ کی جاتی ہے تو اسے صاف کرنے، جاذبِ نظر بنانے اور چار گنا تک وزن بڑھانے کے لئے سلفیورک ایسڈ اور سوڈا ملے پانی سے صاف کیا جاتا ہے۔ یہ ادرک جنرل مشرف کے کچن سے لے کر محمد حسین پان فروش کے گھر تک ہر جگہ کھانے میں استعمال ہوتی ہے اور منہ اور معدے کے السر اور سرطان کے پھیلاؤ میں خاصی مفید ہے۔ یہ انکشاف حکومت کے کسی تنخواہ دار فوڈ انسپکٹر نے نہیں بلکہ ایک مقامی اخبار نے کیا ہے۔بھنڈی اور بند گوبھی کو تازہ دکھانے کے لئے اسے ایک رات پہلے بلیچنگ پاؤڈر اور لیموں ملے پانی میں بھگویا جاتا ہے اور پھر خوانچہ فروش کے حوالے کردیا جاتا ہے۔ سبز پتوں والی سبزیوں کی مٹی اتارنے کے لئے اسے گٹر کے پانی سے صاف کیا جاتا ہے۔ کیونکہ اتنی زیادہ مقدار میں صاف پانی نہ تو دستیاب ہے اور اگر ہے بھی تو اس کا استعمال مہنگا پڑتا ہے اور منافع کم ہوجاتا ہے۔ بڑے بڑے شہروں کے صنعتی علاقوں کے نزدیک جو سبزیاں اگائی جاتی ہیں ان کی آبیاری صنعتی کیمیکل سے آلودہ پانی سے ہوتی ہے اور پھر یہ زہر لذیذ پکوان کی شکل میں ہمارے جسموں میں اتر جاتا ہے۔ چنے اور دالوں کو جاذبِ نظر اور اعلی کوالٹی کا دکھانے کے لئے انہیں رنگا جاتا ہے۔ کس کیمیکل سے رنگا جاتا ہے یہ رنگنے والا جانتا ہے۔ دو چار بڑی بڑی بریڈ کمپنیوں کو چھوڑ کر جو بیکریاں بریڈ یا کنفیکشنری تیار کرتی ہیں ان کا میدہ اتنی مقدار میں ہوتا ہے کہ ہاتھوں سے گوندھنا مشکل ہے لہذا اسے پاؤں سے گوندھا جاتا ہے۔ آپ تندور پر بنیان اور دھوتی میں بیٹھے نانبائی سے روٹی لینے جائیں۔ جو روٹی وہ دے گا اس میں ماتھے اور بازؤں کا نمکین ٹپکتا ہوا پسینہ بھی شامل ہوگا۔ یہ بات آج تک سمجھ میں نہیں آئی کہ عام طور پر ’بار بی کیو‘ اور سالن ریسٹورنٹ کے اندر تیار کرنے کی بجائے سڑک کے عین کنارے کیوں تیار ہوتا ہے اور اس میں جب خاکروب کی جھاڑو سے اٹھنے والی دھول میں شامل سڑک کا سارا فضلہ شامل ہوتا ہے تو وہ پکانے اور کھانے والے کو کیوں نظر نہیں آتا۔ قیمے کا آرڈر دینے والا یہ کیوں نہیں سوچتا کہ ہوسکتا ہے کہ قیمے کے نام پر اسکی پلیٹ میں گوشت کے ساتھ ساتھ اوجڑی، آنتیں اور چھیچھڑے بھی کوٹ دیے گئے ہوں۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ آپ جو ایک کیلو بیف خریدتے ہیں اس کے وزن میں ایک پاؤ پانی بھی شامل ہو سکتا ہے۔ اس کی ترکیب یہ ہے کہ گائے اور بھینس کو ذبح کرتے ہوئے اس کے نرخرے میں پانی کا پائپ گھسا دیا جاتا ہے تاکہ جانور کے جسم سے جتنا خون خارج ہو اس کی جگہ پانی گرم گرم گوشت میں جزب ہوجائے اور گوشت کا وزن کم نہ ہو۔ کچھ عرصے پہلے پاکستان کی سائنٹفک ریسرچ کونسل نے ملک میں فروخت ہونے والے منرل واٹر کی کوالٹی کے بارے میں ایک رپورٹ شائع کی تھی جس کے مطابق دو تین برانڈز کو چھوڑ کر باقی برانڈز غیر معیاری تھے۔ اس رپورٹ کے بعد سے منرل واٹر کے بیسیوں مزید برانڈ مارکیٹ میں آ چکے ہیں۔ ان کی مانگ میں مسلسل اضافے کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ اب نلکے کا صاف پانی بھی بہت کم دستیاب ہے۔ صرف اس سال اب تک حیدرآباد، کراچی، فیصل آباد، لاہور اور پشاور کےصاف پانی میں گٹر ملا پانی شامل ہونے سے سو کے لگ بھگ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ اس سب کے باوجود مملکتِ خداداد میں نہ صرف اکثریت زندہ بلکہ بے پرواہ ہونے کی حد تک مطمئن بھی ہے۔ اس کا راز یہ ہے کہ جو کام ہم خود نہیں کرنا چاہتے اس کے لئے کہتے ہیں اللہ مالک ہے۔
شاہدہ اکرام، ابوظہبی آپ کا کالم پڑھ کر اتنی گہری سوچ میں پڑھ گئی ہوں کہ دل نہیں چاہ رہا کچھ بھی سوچنے سمجھنے کو۔ ہم لوگ کس منہ سے اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں۔ یہ سب کچھ تو ہمارے مذہب نے ہمیں نہیں سکھایا۔ دنیا میں جو امیج خراب ہوتی ہے اسے تو جانے ہی دیں آخرت کی بھی شاید کوئی فکر نہیں۔ رہی بات حل کی تو بقول آپ کے ’اللہ مالک ہے‘۔ عمر قریشی، جرمنی وسعت بھائی آپ نے ہمارے معاشرے کے حقائق پر روشنی ڈالی ہے۔ لیکن میرے خیال سے آپ کے بلاگ کا عنوان اس کے مضمون کے مطابق نہیں۔ محمد خان، نوشیرہ جناب وسعت اللہ خان صاحب آپ نے بہت اچھی اور معلوماتی باتیں لکھیں ہیں۔ مجھے خود کئی نئی چیزوں کا پتا چلا ہے۔ میرے خیال میں اس طرح کے معلوماتی بلاگز بھی چلنے چاہئے۔ مجھے صرف آپ کی آخری بات سے اختلاف ہے کہ ’جو کام ہم خود نہیں کرنا چاہتے اس کے لئے کہتے ہیں اللہ مالک ہے۔ بات ایسی نہیں ہے ، ہم یعنی عوام کچھ کرنے کی پوزیشن میں ہی نہیں ہیں۔ ہم زیادہ سے زیادہ بے بس تماشائی ہیں اور بس۔ حاجی مشتاق، اسلام آباد ہم سب کو یہ سب کچھ مجبوراً کرنا پڑتا ہے۔ تو ہمارا بھی اللہ مالک ہے۔ سید نادر، حیدرآباد، سندھ وسعت اللہ پیارے، یار کیا بھوکا مارنا ہے ہمیں؟ آنکھیں بند رکھو اور چپ چاپ کھا لو جو مل رہا ہے۔ ویسے بھی اللہ تو مالک ہے ہی ناں۔ محمد نعیم نجمی، کراچی اللہ اس قوم کی حالت نہیں بدلتا۔۔ نہ ہو جسکو خیال خوداپنی حالت کے بدلنے کا۔ وسعت بھائی جیتے رہئیے، صحت اور آفیت کے ساتھ۔ اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ۔ آج کل ماشااللہ سے آپ کا دماغ انتہائی اہم مسائل پر کام کر رہا ہے۔ امید ہے کہ آئندہ آپ ہیلتھ اور میڈیکل ڈپارٹمنٹ کا پردہ بھی چاک کریں گے۔ نعمان، اسلام آباد شکریہ وسعت آپ نے ایک حقیقت بیان کی ہے۔ کسی نے کسی سے پوچھا کہ دنیا کا امیر ترین ملک کون سا ہے، تو اگلے نے جواب دیا کہ پاکستان۔ پوچھا گیا وہ کیسے؟ تو جواب ملا کہ اس ملک کے بادشاہ سے لے کر چوکیدار تک ہر شخص لٹیرا ہے لیکن پھر بھی یہ ملک قائم ہے۔ ہے نہ ایسی ہی بات؟ دیکھو کیا ہوتا ہے۔ علی مرزا، کینیڈا پاکستان میں ایک عام آدمی کر بھی کیا سکتا ہے۔ جب وہ کچھ کر نہیں سکتا تو اسے اللہ پر چھوڑ دیتا ہے۔ محمد یوسف اقبال، دبئی اللہ رحم کرے پاکستان پر۔ اور ہمارے لوگوں کو صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق دے۔ خان صاحب اللہ آپ کو ایسے کالم لکھنے کا اجر دے گا۔ اکثر دکانوں پر لکھا ہوتا ہے ’ جس نے ملاوٹ کی وہ ہم میں سے نہیں‘ اب اللہ کا سن کر ہم بھی جپ ہوجاتے ہیں۔ہمارا معاشرہ کتنے بگاڑ کا شکار ہے اور آپ ایک صحافی ہونے کے ناطے اپنی ذمہ داری خوب نباہ رہے ہیں۔ اصغر بھٹا، فتح پور یہ وسعت کا شاندار آرٹیکل ہے۔ اسرار احمد، لاہور کیا آپ کو پاکستان میں کبھی اچھی بات نظر آئی؟ سرفراز، جڑانوالہ یہ ہمارے وطن عزیز کی بد قسمتی ہے کہ کچھ لوگ منافع کے لیے انسانی زندگیوں کی پرواہ نہیں کرتے۔ ایسی باتوں سے معاشرے کو آگاہ کرنا بہت ضروری ہے۔ جاوید اقبال ملک، چکوال ڈیئر وسعت، آپ نے تقریباً وہی باتیں لکھ ڈالیں جو میں اپنے آرٹیکلز میں لکھتا ہوں اور حقیقت بھی یہی ہے کہ ہم لوگ گند کھا کر بھی جی رہے ہیں اور خوش بھی ہیں۔ آپ نے گوشت کے ساتھ چھیچھڑوں کی بات کی ۔ آپ کے نوٹس میں ہو گا کہ کراچی میں ایک ہوٹل میں کتے کا گوشت بھی بکتا رہا ہے جس کا بعد میں انکشاف ہونے پر اسے بند کیا گیا۔ فواد خان، آسٹریلیا یہ سب سچائی ہے اور ایسی حقیقت ہے جس سے ہر عام آدمی اور لیڈر واقف ہے۔ لیکن اگر ہم یہ سب کچھ کرنا بند کر دیں گے تو اپنے بچوں کے لیے حرام روزی کیسے کمائیں گے۔ میاں عتیق، سویڈن جناب وسعت اللہ کا کالم ’اللہ مالک ہے ‘ پڑھا۔ بھائی صاحب سے گزارش ہے کہ پاکستان کے مسلمانوں کی مسلمانی کو ذرا اور اجاگر کریں اور ثواب دریں حاصل کریں۔ کیا کہیں سوائے اس کے کہ اللہ مالک ہے۔ اس لیے کہ اب نہ لیڈر شپ خالص ہے اور نہ سیاست۔ سیاست میں فوج کی ملاوٹ اور فوج میں سیاست کی ملاوٹ۔ لیکن بھائی ذرا بچ کے، وزیرستان میں ایک سچ بولنے والا صحافی۔۔۔ ’اللہ مالک ہے‘۔ ریحان وحید، اونٹاریو اللہ کی شان ہے کہ ملک خداداد آج تک قائم ہے۔ اگر آپ پاکستان کے بڑے شہروں کی سیٹلائٹ تصویریں دیکھیں تو آپ کو صحیح صورتحال کا اندازہ ہوگا۔ کراچی کی دو ندیوں کی ذریعے تمام گٹروں کا پانی سمندر میں پہنچتا ہے۔ سمندر کے پانی کا رنگ ہی الگ ہے۔ قوم کو جاگنے کی ضرورت ہے۔ محمد خالد محمود، شارجہ میں آپ کا کالم باقاعدگی سے پڑھتا ہوں۔ جب بھی دیکھا آپ کو کڑھتے دیکھا۔ اپنے ملک کے حالات پر، کبھی سیاست دانوں پر تو کبھی عوام کی بےحسی پر۔ کیا کبھی کوئی اثر ہوا ملک کے غریبوں پر یا ملک کی معیشت پر؟ یقیناً نہیں۔ جو ہو رہا ہے آنکھیں بند کر کے دیکھتے جائیں۔ اس ملک کا کچھ نہیں ہونے والا۔ پچھلے ساٹھ سالوں میں کتنے ہی آپ جیسے محب وطن آئے اور اچھا لکھتے رہے لیکن کیا کچھ اثر ہوا؟ سہیل محاجر، کراچی وسعت اللہ بھائی بہت اچھے۔ آپ ایک بات بتانا بھول گئے۔ ہمارے ملک میں کچھ اصل بھی بک رہا ہے، چرس اور ہیروئن۔ آپ کو سو فیصد اصل مل جائے گی بغیر ملاوٹ۔ سلیم رضا، گلاسگو اشیائے خوردنی میں کسی قسم کی ملاوٹ کی سزا سزائے موت ہونی چاہئے۔ ملاوٹ کرنے والا قتل ہی تو کرتا ہے۔ راشی فوڈ انسپکٹر کو بھی یہی سز ا ملنی چاہئے۔ جو قوم صحت مند نہیں وہ نہ جیت سکتی ہے، نہ ترقی کر سکتی ہے۔ کلیم، کراچی سر آپ سو فیصد صحیح ہیں کہ جب ہم کچھ کرنا نہیں چاہتے تو ہم یہ ہی کہتے ہیں لیکن ہم بھول جاتے ہیں کہ ’اللہ ان کی مدد کرتا ہے جو اپنی مدد آپ کرتے ہیں‘۔ محمد جاوید، فیصل آباد صحت افزا اور صاف خوراک، صحت عامہ اور نکاسی جیسے مسائل کے مقابلے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ اور اگلے صدارتی انتحابات حکومت کے لیے زیادہ اہمیت کے حامل ہیں اور اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ لوگوں کو خود بھی خیال نہیں اور بس آپ جیسے لوگوں کا مذاق اڑانا جانتے ہیں۔ جو شخص آپ سے اتفاق کرتا ہے وہ کیا کرے؟ غور کریں کہ جن ممالک کے حالات بہتر ہیں ان کا ویزا حاصل کرنا مشکل ہے ۔ مہربانی فرما کر کوئی تجویز بھی پیش کریں۔ جوزف بریوسٹر، کراچی وسعت بھائی آپ نے اپنے بلاگ میں یہ تو لکھ دیا کہ ’آپ کیا کہتے ہیں‘ لیکن مجھے معلوم ہے کہ میں جو بھی لکھوں گا بی بی سی والے ویب سائٹ پر نہیں شائع کریں گے۔ پھر لکھنے کا کیا فائدہ۔ قاضی زبیر، پاکستان بہت گہرا مشاہدہ ہے۔ کوئی بھی مسٹر وسعت کے تبصرے سے انکار نہیں کر سکتا۔ قادر قریشی، ٹورانٹو میرے ڈاکٹر بھائی نے پاکستان سے میل کی کہ پاکستانی اس قدر کینسر اور جگر کی بیماریوں میں مبتلہ ہیں کہ وہ خوفزداہ ہو گئے ہیں۔ |