BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Saturday, 03 June, 2006, 04:57 GMT 09:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’آنکھیں چھوڑ جائیں‘


دس جون: ’آنکھیں چھوڑ جائیں‘



کل میں اپر دیر سے چار گھنٹے کا سفر کرکے تیمر گرہ کے راستے افغان سرحد سے متصل قبائیلی ایجنسی باجوڑ کی پہلی چوکی پر پہنچا۔ ملیشیا کے باوردی افراد نے معمول کے سوال و جواب کئے۔ کس کے پاس جا رہے ہیں۔ پاکستانی شناختی کارڈ ہے یا نہیں۔ کتنی دیر رکیں گے وغیرہ وغیرہ۔

پندرہ منٹ بعد ایک سادہ کپڑوں والا آیا۔ سوری سر آپ ایجنسی میں داخل نہیں ہوسکتے کیونکہ یہ سڑک محفوظ نہیں ہے۔ اس پر فائرنگ اور بم دھماکے ہوتے رہتے ہیں۔اور ہم آپ کی حفاظت کی زمہ داری نہیں لے سکتے۔ آپ یا تو واپس چلے جائیں یا پھر گورنر ہاؤس پشاور سے تحریری اجازت لے کر آئیں۔ میں نے کہا کہ یہ شرط تو غیر ملکی صحافیوں کے لئے ہے۔ میں تو پاکستانی شہری ہوں۔ کہنے گا کہ ہم مقامی لوگوں کے علاوہ کسی کو نہیں چھوڑتے۔ میں نے پوچھا کیا امریکیوں کو بھی نہیں چھوڑتے۔ کہنے لگا کہ وہ سڑک کے راستے نہیں آتے۔

مجھے باجوڑ جانے سے اس لئے دلچسپی تھی کہ وھاں قبائیلی اور خاندانی دشمنیاں نکالنے کے لئے مقامی لوگ بارودی سرنگیں استعمال کررہے ہیں۔ اور اسکے نتیجے میں باجوڑ میں بارودی سرنگوں سے اپاہج ہوجانے والے مردوں، عورتوں اور بچوں کی تعداد کسی بھی قبائیلی ایجنسی کے مقابلے میں سب سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔ میں صرف انہی مقامی متاثرین سے ملنا چاہتا تھا۔

میں نے دیکھا کہ چوکی پر سوائے میری گاڑی کے کسی آنے جانے والی گاڑی کو نہیں روکا جارھا۔ چوکی کے پاس مجھے کھڑا دیکھ کر ایک مقامی شخص نے اپنی گاڑی روکی اور کہا خیر تو ہے۔ میں نے اسے بتایا کہ آگے جانے کی اجازت نہیں ہے۔ کہنے لگا مقامی صحافیوں کے علاوہ یہ کسی کو نہیں چھوڑتے کیونکہ ان پر یہ لوگ کنٹرول رکھ سکتے ہیں۔ آپ اگر کہتے کہ میں این جی او کا ہوں اور یہاں پر کام کرنے والی کسی این جی او کا مہمان ہوں تو پھر آپ کو اجازت مل جاتی۔

میں نے اس مہربان سے کہا کہ فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان بار بار کہتے ہیں کہ صحافی قیاس آرائیوں سے پرہیز کریں اور اگر وہ خود ایجنسیوں کے حالات دیکھنا چاہیں تو حکومت کو کوئی اعتراض نہیں ہے۔ اس نے ایک قہقہہ لگایا۔ آپ بھی بڑے سادے ہیں۔ وہ تو اسلام آباد میں اپنے دفتر میں بیٹھ کر جو چاہے کہہ دے۔ اسے کیا پتہ کہ یہاں کی پولٹیکل انتظامیہ کسے اجازت دیتی ہے یا نہیں۔ پولٹیکل انتظامیہ کے پاس صرف ایک بہانہ ہے کہ آپ کی سلامتی کو خطرہ ہے۔ اگر یہ چاہیں تو آپ کے ساتھ بھی مسلح گارڈ روانہ کرسکتے ہیں جیسا کے دوسرے مہمانوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ لیکن یہ لوگ نہیں چاہتے کہ کوئی باہر کا بندہ اس اوپن جیل کے حالات سے واقف ہو۔

میں نے پوچھا پھر کیا کروں کیسے اندر جاؤں۔
کہنے لگا اپنی آنکھیں اس چوکی پر چھوڑ جائیں پھر شائد آپ کو اجازت مل جائے۔


آپ کی رائے

ریاض آفریدی، فیصل آباد:
وسعت کا پشتو میں مطلب ہے ’پریشان‘ یا اردو میں ’پھیلا ہوا‘۔ اپنا ’نک نیم‘ پریشان رکھ لیں کیوں کہ ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں۔ جب آپ ان سب چیزوں میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو پھر ایک شور اٹھتا ہے جو کہ سناٹے کا شور ہوتا ہے۔ آپ وہاں تک نہ ہی جائیں تو اچھا ہے۔ وہ اس وقت سنائی دیتا ہے جب رشتے ناتے ٹوٹ جائیں، جب اپنے بےگانے ہوجائیں اور جب کوئی ایسا نہ ہو جسے اپنا کہہ سکو۔ تب سناٹے کا شور گونجتا ہے ۔ نفسیات والے اس کو دماغ کا خلل کہتے ہیں۔ ابھی آپ سے ہم نے بہت کچھ سیکھنا ہے۔ آپ اِدھر ہی رہیں۔

عبدل وحید خان، برمنگم:
’آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پر آسکتا نہیں
محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہوجائے گی‘

یہ میڈیا کی آزادی کا کمال ہے کہ آپ سب کچھ لکھ سکتے ہیں لیکن کئی جگہوں پر جا نہیں سکتے۔ جب آپ صحیح صورت حال دیکھیں گے نہیں تو لکھیں گے کیا۔ یہی میڈیا کی آزادی ہے جس کا اتنا شور ہے۔

عدنان یونس، راولپنڈی:
آپ نے یہ حالات دیکھے تو پھر عوام کو سچ کیوں نہیں بتاتے کہ وہاں کیا ہو رہا ہے۔ آپ اس دورے کے حالات ہیڈلائن میں بھی بتا سکتے تھے۔

فواد خان، آسٹریلیا:
آپ کو خدا کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ وہاں پاکستانی لوگ آپ کی حفاظت کے لیے موجود ہیں اور آپ کو اس بات پر فخر ہونا چاہیے ورنہ آپ اس علاقے میں موجود غیر ملکیوں کے ہاتھوں مارے جاتے۔ اللہ کا شکر ہے کہ آپ خیریت سے ہیں۔

جاوید اقبال ملک، چکوال:
آپ کی جرات کی داد دینی چاہیے کہ آپ نے اتنا بڑا ’لائف رسک‘ لے کر صحافتی فرض ادا کرنا چاہا مگر ظالموں نے ایسا کرنے نہ دیا۔ ویسے حکومت کب تک ہمیں اندھیرے میں رکھے گی۔ ہماری حکومت کہتی ہے کہ میڈیا آزاد ہے، یہ کیسی آزادی ہے؟ میری سمجھ سے بالاتر ہے۔ آپ کم ازکم دنیا کو حالات حاضرہ سے تو باخبر کر دیتے ہیں۔ اس سے ایک اور بات ظاہر ہوتی ہے کہ سرکاری ٹی وی جو کچھ کہتا ہے وہ سب جھوٹ ہے۔ جب آپ جیسے صحافی کو اجازت نہیں ہے تو اور کسے ہوگی۔

ایم ریاض، ادھی کوٹ:
وسعت صاحب مجھے آپ بہت پسند ہیں۔ آپ بہت اچھا کالم لکھتے ہیں۔

اعجاز ایمد، ٹورانٹو:
خان صاحب آپ نہیں سدھریں گے۔ یہ تو بتائیں کہ آپ آگے گئے کہ نہیں؟ یہاں بھی آنکھوں کی سودے بازی کرنی پڑی۔ ’ہائے اکھیوں نی بدنام نا کرنا۔‘

شاہد صدیقی، کینیڈا:
بھائی وسعت ہم تو یہ کہیں گے کہ کہیں بھی جائیں دیکھ بھال کر، پوچھ گچھ کر کے۔ اب ایسا بھی کوئی جانا ہوا بھلا۔ چلیں اب اگلے سال آم کے موسم میں جائیے گا۔

محمد حسن، باجوڑ:
یہ حقیقت ہے کہ باجوڑ ایجنسی میں امن کی صورت حال وہاں کی انتظامیہ اور ملکان جنہیں حکومت کی سرپرستی حاصل ہے کے لئے ٹھیک نہیں۔ لیکن آپ جیسے لوگوں کے لیے کوئی خطرہ نہیں اور باجوڑ کے لوگ آپ کو خوش آمدید کہیں گے۔ یہ باجوڑ کی عوام کے لیے بی بی سے کے ساتھ اپنے خیالات کے اظہار اور اپنے مسائل پر بات چیت کا ایک بہت ہی اچھا موقع ہوگا۔ باجوڑ کی انتظامیہ دنیا کو باجوڑ ایجینسی کے حالات سے ناواقف رکھنا چاہتی ہے۔ انتظامیہ مقامی ملکان کو تو تمام سہولیات فراہم کر رہی ہے لیکن عام آدمی کو تعلیم، اچھی نوکری اور صحت سے متعلق سہولیات تک رسائی حاصل نہیں۔

عبدل مگہنی قاضی، لاہور:
یہ تمام خبریں پڑھنے والوں کے لیے اچھا موقع ہے کہ وہ دنیا میں جو ہو رہا ہے اس سے اپنے آپ کو باخبر کر لیں۔


تین جون: ’سالا پاگل ہے‘



کبھی کبھی میرا کچھ دیر کے لئے جی چاہتا ہے کہ خود کو سامنے بٹھا کر اپنے آپ سے ملوں، باتیں کروں، تنقید یا تعریف کروں، چیخ لوں۔ گالیاں دوں، رونے لگوں یا چپ سادھ لوں یا بس کچھ بھی نہ کروں اور خلا کو تکتا رہوں۔ اس پورے عرصے میں میرا خود پر پورا اختیار ہو اور اسے جیسے چاہے برتوں۔

گو گھر میں میرا کمرہ بالکل الگ ہے لیکن میں وھاں بھی اپنے ساتھ اپنی مرضی کا وقت نہیں گذار پاتا۔ کوئی فون آجائے گا۔ کوئی ملاقاتی بس پہنچنے والا ہوگا۔ کوئی گھر والا دروازہ کھٹکھٹا دے گا، یا میرے دو بھتیجوں میں سے کوئی ایک یا دونوں اندر گھس آئیں گے۔ ایک ٹی وی کھول دے گا، دوسرا سینے پر چڑھ بیٹھے گا۔ ’بابا آپ نے کیا یہ سب کتابیں پڑھ لی ہیں‘۔ ’بابا یہ کھڑکی اندر کیوں کھلتی ہے باہر کیوں نہیں کھلتی‘۔ ’بابا میری مس مجھے بہت ڈانٹتی ہیں‘۔ ’بابا آ پ کیوں چپ ہیں‘۔ ’بابا کیا آپ بور ہورہے ہیں‘۔۔۔۔۔

میں کبھی تنہائی کی تلاش میں اگر کسی قبرستان میں جاکر بیٹھ جاؤں تو چند ہی منٹ بعد کوئی گورکن، چوکیدار یا قبروں پر پانی ڈالنے یا پھول بیچنے والا بچہ جانے کہاں سے نمودار ہوجاتا ہے اور آس پاس منڈلانا شروع کردیتا ہے۔ ’صاحب پھول تو نہیں چاہییں‘۔ ’صاحب آپ کا کوئی عزیز یہاں دفن ہے‘۔ ’صاحب کیا کسی کی قبر کھدوانے آئے ہیں‘۔ ’صاحب آپ بولتے کیوں نہیں‘۔۔۔۔۔

شہر سے بہت دور اگر کسی ویرانے میں جاکر بیٹھ جاؤں تو ذرا دیر بعد کوئی جاتا ہوا راھگیر ہاتھ ہلا دے گا۔ کوئی دھول اڑاتا تیز رفتار ٹریکٹر اونچی آواز میں ریکارڈنگ بجاتا نکل جائے گا۔ کوئی مویشی چرانے والا اپنے ریوڑ کا رخ میری طرف موڑ دے گا۔ کوئی قریبی گوٹھ یا گاؤں کا مقامی ایک اجنبی کو یونہی بیٹھا دیکھ کر اپنی راہ چھوڑ کر میری خیر خیریت جاننے کے لئے آن دھمکے گا۔ اگر وہ دو تین منٹ میں مطمئن ہو کر رخصت ہو لیا تو میری خوش قسمتی ورنہ آلتی پالتی مار کر بیٹھ جائے گا اور شہر کا حال احوال پوچھنا یا اپنی مصروفیات و مسائل کا دستر خوان آہستہ آہستہ کھولنا شروع کردے گا۔

دوچار دوستوں کے درمیان بیٹھے بیٹھے اگر میں اپنے اندر چلا جاؤں تو بار بار مجھے باہر نکالنے کی کوشش ہوتی ہے۔ خیریت ہے بڑے چپ چپ ہو۔ کیا گھر میں کوئی بات ہوگئی۔ طبیعت تو ٹھیک ہے نا۔ کیا کوئی مالی مسئلہ ہے۔ کیا جھگڑا ہوگیا۔ کیا کوئی لڑکی اچھی لگ گئی۔ اگر میں کہوں کہ ان میں سے کوئی وجہ نہیں ہے۔ بس مجھے کچھ دیر میرے ساتھ رہنے دو تو سب تین چار منٹ کے لئے باجماعت میرے جذبات کے احترام میں خاموش ہوجاتے ہیں مگر انکی آنکھیں تیزی سے گھومنا، پھیلنا اور سکڑنا شروع کردیتی ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ وہ کیا سوچ رہے ہیں۔ ’سالا پاگل ہے‘۔۔۔۔

میں اپنے گھر والوں، دوستوں اور اجنبیوں کو کیسے بتاؤں کہ دودھ پیتے بچے کو بھی تنہائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسے بھی اگر ماں ہروقت چمٹائے رہے تو وہ تنگ آ کر رونا یا ہاتھ پاؤں مارنا شروع کردیتا ہے اور ماں اگر کچھ دیر اسے چھوڑ دے تو وہ پرسکون ہو جاتا ہے۔ میں تو پھر وہ ہوں جو آدھی سے زائد عمر گزار چکا۔

کیا اس چھ ارب کی وسیع و عریض دنیا میں میرا کوئی پرسنل سپیس نہیں ہے۔ کچھ دیر کے لئے بھی نہیں۔۔۔۔


آپ کی رائے

پرویز اکرم، ملتان:
اپنی کمی، اپنی خوشیاں اور اپنی تخلیقی صلاحیتیں اجاگر کرنے کے لیے تنہائی بہت ضروری ہے۔

اوصاف سلیم، کینیڈا:
آپ انسانوں کی بھیڑ سے بھاگنا چاہتے ہیں جو کہ مشکل ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ آپ کو ذہنی، روحانی یا جسمانی کس قسم کی تنہائی چاہیے۔

تحسین رضا، ڈیرہ اسمعیل خان:
دل کبھی اداس ہوتے ہیں اور کبھی آمادہ، جب یہ اداس ہو تو تنہائی بہترین علاج ہے۔

عدنان خان، لوٹن :
خان بھائی بس یہی سب کچھ میں بھی چاہتا ہوں۔

خالد عمران، فیصل آباد:
آج کے انسان کا ایک المیہ یہ بھی ہے۔

آفریدی، خیبر ایجنسی:
سر جب آپ کامیاب ہو جائیں تو مجھے بھی ضرور بتا دینا یہ طریقہ۔

محمد عاطف، سندرلینڈ:
علامہ اقبال نے کیا خوب کہا ہے صاحب
مرتا ہوں خامشی پر دل ڈھونڈتا ہے میرا
ایسا سکوت جس پر تقدیر بھی فدا ہو
جناب آپ سے گزارش ہے کہ آپ اقبال کی یہ نظم ضرور پڑھیں، آپ کو اپنے مسئلے کا حل مل جائے گا۔

ایم قاسم محمود، پاکستان:
آپ دنیا بھر میں لکھنے والوں میں میرے پسندیدہ ہیں۔ آپ کے لکھنے کا انداز بہت منفرد ہے۔ بہت زبردست۔

ثناء اللہ خان خٹک، لاہور:
سر جی، آپ نے آج کیا کھا لیا ہے، اپن کی تو سمجھ میں کچھ نہیں آیا۔

شاہدہ حسن، جدہ:
زبردست، حقیقتاً جب انسان کو کبھی تنہائی کی ضرورت محسوس ہوتی ہے تو قسمت سے ہی ملتی ہے اور جب ضرورت نہ ہو تو پیچھا نہیں چھوڑتی۔

جاوید خان، دوبئی:
جی ہاں، گوانتناموبے میں مل سکتی ہے آپ کو تنہائی۔

حسین جان، پشاور:
حضور، شکر کریں کہ کوئی آپ کو آپ کی تنہائی کا احساس نہیں ہونے دیتا، اس دنیا میں تو کئی اس کے لیے ترستے ہیں۔

اکرام:
کیسا ایمپلائر ہے جو آپ کو یہ لکھنے پر بھی ملازم رکھے ہوئے ہے؟

جہانگیر بنگش، ابراہیم زئی:
خان صاحب، واقعی اگر تنہائی چاہیے تو پہاڑوں میں جاکر خیمہ لگا لیں، دیہاتوں میں اب بھی ایسی جگہیں موجود ہیں۔ اس طرح کی تحریر آپ کو نہیں جچتی۔

شفیق راہب خان، مکہ:
خان صاحب بہت اچھا لکھتے ہیں لیکن یہ تحریر برائے تحریر کے سوا کچھ نہیں۔

عمر سلیم، کویت:
دنیا کے اس شور نے امجد ہم سے کیا کیا چھین لیا
خود سے بات کئے بھی اب تو ایک زمانے ہوجاتے ہیں

جاوید اقبال ملک، چکوال:
آپ نے ایک بار پھر میرے دل کی بات کہہ ڈالی، کبھی کبھی تو سب کچھ چھوڑ چھاڑ کے نکل جانے کو دل کرتا ہے۔

ثناء خان، کراچی:
آپ بیٹ مین کا ماسک پہن کر قبرستان میں بیٹھ جایا کریں، کوئی نہیں تنگ کرے گا۔ یہ کسی کا آزمایا ہوا نسخہ ہے۔

عمیر سعید، ایسیکس:
ہے ناں پرسنل سپیس، وہی باتھ روم


پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
شیما بلاگ’سفر ہے شرط۔۔۔‘
کراچی کے بس اسٹاپس پر شیما کمال کا قصیدہ
عارف شمیم کیسے سمجھاؤں؟
ک سے کتا، ق سے قینچی عارف کوکیوں کاٹتے ہیں؟
عنبر بلاگکرکٹ کا اہم دور
کیا ہمیں ’ڈبل یو ایس سی‘ کا تنازعہ یاد ہے؟
حسن بلاگخوابوں کا تعاقب
’قربان علی کنگلے کی روح‘ اور حسن کا بلاگ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد