’آنکھیں چھوڑ جائیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کل میں اپر دیر سے چار گھنٹے کا سفر کرکے تیمر گرہ کے راستے افغان سرحد سے متصل قبائیلی ایجنسی باجوڑ کی پہلی چوکی پر پہنچا۔ ملیشیا کے باوردی افراد نے معمول کے سوال و جواب کئے۔ کس کے پاس جا رہے ہیں۔ پاکستانی شناختی کارڈ ہے یا نہیں۔ کتنی دیر رکیں گے وغیرہ وغیرہ۔ پندرہ منٹ بعد ایک سادہ کپڑوں والا آیا۔ سوری سر آپ ایجنسی میں داخل نہیں ہوسکتے کیونکہ یہ سڑک محفوظ نہیں ہے۔ اس پر فائرنگ اور بم دھماکے ہوتے رہتے ہیں۔اور ہم آپ کی حفاظت کی زمہ داری نہیں لے سکتے۔ آپ یا تو واپس چلے جائیں یا پھر گورنر ہاؤس پشاور سے تحریری اجازت لے کر آئیں۔ میں نے کہا کہ یہ شرط تو غیر ملکی صحافیوں کے لئے ہے۔ میں تو پاکستانی شہری ہوں۔ کہنے گا کہ ہم مقامی لوگوں کے علاوہ کسی کو نہیں چھوڑتے۔ میں نے پوچھا کیا امریکیوں کو بھی نہیں چھوڑتے۔ کہنے لگا کہ وہ سڑک کے راستے نہیں آتے۔ مجھے باجوڑ جانے سے اس لئے دلچسپی تھی کہ وھاں قبائیلی اور خاندانی دشمنیاں نکالنے کے لئے مقامی لوگ بارودی سرنگیں استعمال کررہے ہیں۔ اور اسکے نتیجے میں باجوڑ میں بارودی سرنگوں سے اپاہج ہوجانے والے مردوں، عورتوں اور بچوں کی تعداد کسی بھی قبائیلی ایجنسی کے مقابلے میں سب سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔ میں صرف انہی مقامی متاثرین سے ملنا چاہتا تھا۔ میں نے دیکھا کہ چوکی پر سوائے میری گاڑی کے کسی آنے جانے والی گاڑی کو نہیں روکا جارھا۔ چوکی کے پاس مجھے کھڑا دیکھ کر ایک مقامی شخص نے اپنی گاڑی روکی اور کہا خیر تو ہے۔ میں نے اسے بتایا کہ آگے جانے کی اجازت نہیں ہے۔ کہنے لگا مقامی صحافیوں کے علاوہ یہ کسی کو نہیں چھوڑتے کیونکہ ان پر یہ لوگ کنٹرول رکھ سکتے ہیں۔ آپ اگر کہتے کہ میں این جی او کا ہوں اور یہاں پر کام کرنے والی کسی این جی او کا مہمان ہوں تو پھر آپ کو اجازت مل جاتی۔ میں نے اس مہربان سے کہا کہ فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان بار بار کہتے ہیں کہ صحافی قیاس آرائیوں سے پرہیز کریں اور اگر وہ خود ایجنسیوں کے حالات دیکھنا چاہیں تو حکومت کو کوئی اعتراض نہیں ہے۔ اس نے ایک قہقہہ لگایا۔ آپ بھی بڑے سادے ہیں۔ وہ تو اسلام آباد میں اپنے دفتر میں بیٹھ کر جو چاہے کہہ دے۔ اسے کیا پتہ کہ یہاں کی پولٹیکل انتظامیہ کسے اجازت دیتی ہے یا نہیں۔ پولٹیکل انتظامیہ کے پاس صرف ایک بہانہ ہے کہ آپ کی سلامتی کو خطرہ ہے۔ اگر یہ چاہیں تو آپ کے ساتھ بھی مسلح گارڈ روانہ کرسکتے ہیں جیسا کے دوسرے مہمانوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ لیکن یہ لوگ نہیں چاہتے کہ کوئی باہر کا بندہ اس اوپن جیل کے حالات سے واقف ہو۔ میں نے پوچھا پھر کیا کروں کیسے اندر جاؤں۔
ریاض آفریدی، فیصل آباد: وسعت کا پشتو میں مطلب ہے ’پریشان‘ یا اردو میں ’پھیلا ہوا‘۔ اپنا ’نک نیم‘ پریشان رکھ لیں کیوں کہ ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں۔ جب آپ ان سب چیزوں میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو پھر ایک شور اٹھتا ہے جو کہ سناٹے کا شور ہوتا ہے۔ آپ وہاں تک نہ ہی جائیں تو اچھا ہے۔ وہ اس وقت سنائی دیتا ہے جب رشتے ناتے ٹوٹ جائیں، جب اپنے بےگانے ہوجائیں اور جب کوئی ایسا نہ ہو جسے اپنا کہہ سکو۔ تب سناٹے کا شور گونجتا ہے ۔ نفسیات والے اس کو دماغ کا خلل کہتے ہیں۔ ابھی آپ سے ہم نے بہت کچھ سیکھنا ہے۔ آپ اِدھر ہی رہیں۔ عبدل وحید خان، برمنگم: یہ میڈیا کی آزادی کا کمال ہے کہ آپ سب کچھ لکھ سکتے ہیں لیکن کئی جگہوں پر جا نہیں سکتے۔ جب آپ صحیح صورت حال دیکھیں گے نہیں تو لکھیں گے کیا۔ یہی میڈیا کی آزادی ہے جس کا اتنا شور ہے۔ عدنان یونس، راولپنڈی: فواد خان، آسٹریلیا: جاوید اقبال ملک، چکوال: ایم ریاض، ادھی کوٹ: اعجاز ایمد، ٹورانٹو: شاہد صدیقی، کینیڈا: محمد حسن، باجوڑ: عبدل مگہنی قاضی، لاہور:
کبھی کبھی میرا کچھ دیر کے لئے جی چاہتا ہے کہ خود کو سامنے بٹھا کر اپنے آپ سے ملوں، باتیں کروں، تنقید یا تعریف کروں، چیخ لوں۔ گالیاں دوں، رونے لگوں یا چپ سادھ لوں یا بس کچھ بھی نہ کروں اور خلا کو تکتا رہوں۔ اس پورے عرصے میں میرا خود پر پورا اختیار ہو اور اسے جیسے چاہے برتوں۔ گو گھر میں میرا کمرہ بالکل الگ ہے لیکن میں وھاں بھی اپنے ساتھ اپنی مرضی کا وقت نہیں گذار پاتا۔ کوئی فون آجائے گا۔ کوئی ملاقاتی بس پہنچنے والا ہوگا۔ کوئی گھر والا دروازہ کھٹکھٹا دے گا، یا میرے دو بھتیجوں میں سے کوئی ایک یا دونوں اندر گھس آئیں گے۔ ایک ٹی وی کھول دے گا، دوسرا سینے پر چڑھ بیٹھے گا۔ ’بابا آپ نے کیا یہ سب کتابیں پڑھ لی ہیں‘۔ ’بابا یہ کھڑکی اندر کیوں کھلتی ہے باہر کیوں نہیں کھلتی‘۔ ’بابا میری مس مجھے بہت ڈانٹتی ہیں‘۔ ’بابا آ پ کیوں چپ ہیں‘۔ ’بابا کیا آپ بور ہورہے ہیں‘۔۔۔۔۔ میں کبھی تنہائی کی تلاش میں اگر کسی قبرستان میں جاکر بیٹھ جاؤں تو چند ہی منٹ بعد کوئی گورکن، چوکیدار یا قبروں پر پانی ڈالنے یا پھول بیچنے والا بچہ جانے کہاں سے نمودار ہوجاتا ہے اور آس پاس منڈلانا شروع کردیتا ہے۔ ’صاحب پھول تو نہیں چاہییں‘۔ ’صاحب آپ کا کوئی عزیز یہاں دفن ہے‘۔ ’صاحب کیا کسی کی قبر کھدوانے آئے ہیں‘۔ ’صاحب آپ بولتے کیوں نہیں‘۔۔۔۔۔ شہر سے بہت دور اگر کسی ویرانے میں جاکر بیٹھ جاؤں تو ذرا دیر بعد کوئی جاتا ہوا راھگیر ہاتھ ہلا دے گا۔ کوئی دھول اڑاتا تیز رفتار ٹریکٹر اونچی آواز میں ریکارڈنگ بجاتا نکل جائے گا۔ کوئی مویشی چرانے والا اپنے ریوڑ کا رخ میری طرف موڑ دے گا۔ کوئی قریبی گوٹھ یا گاؤں کا مقامی ایک اجنبی کو یونہی بیٹھا دیکھ کر اپنی راہ چھوڑ کر میری خیر خیریت جاننے کے لئے آن دھمکے گا۔ اگر وہ دو تین منٹ میں مطمئن ہو کر رخصت ہو لیا تو میری خوش قسمتی ورنہ آلتی پالتی مار کر بیٹھ جائے گا اور شہر کا حال احوال پوچھنا یا اپنی مصروفیات و مسائل کا دستر خوان آہستہ آہستہ کھولنا شروع کردے گا۔ دوچار دوستوں کے درمیان بیٹھے بیٹھے اگر میں اپنے اندر چلا جاؤں تو بار بار مجھے باہر نکالنے کی کوشش ہوتی ہے۔ خیریت ہے بڑے چپ چپ ہو۔ کیا گھر میں کوئی بات ہوگئی۔ طبیعت تو ٹھیک ہے نا۔ کیا کوئی مالی مسئلہ ہے۔ کیا جھگڑا ہوگیا۔ کیا کوئی لڑکی اچھی لگ گئی۔ اگر میں کہوں کہ ان میں سے کوئی وجہ نہیں ہے۔ بس مجھے کچھ دیر میرے ساتھ رہنے دو تو سب تین چار منٹ کے لئے باجماعت میرے جذبات کے احترام میں خاموش ہوجاتے ہیں مگر انکی آنکھیں تیزی سے گھومنا، پھیلنا اور سکڑنا شروع کردیتی ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ وہ کیا سوچ رہے ہیں۔ ’سالا پاگل ہے‘۔۔۔۔ میں اپنے گھر والوں، دوستوں اور اجنبیوں کو کیسے بتاؤں کہ دودھ پیتے بچے کو بھی تنہائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسے بھی اگر ماں ہروقت چمٹائے رہے تو وہ تنگ آ کر رونا یا ہاتھ پاؤں مارنا شروع کردیتا ہے اور ماں اگر کچھ دیر اسے چھوڑ دے تو وہ پرسکون ہو جاتا ہے۔ میں تو پھر وہ ہوں جو آدھی سے زائد عمر گزار چکا۔ کیا اس چھ ارب کی وسیع و عریض دنیا میں میرا کوئی پرسنل سپیس نہیں ہے۔ کچھ دیر کے لئے بھی نہیں۔۔۔۔
پرویز اکرم، ملتان: اوصاف سلیم، کینیڈا: تحسین رضا، ڈیرہ اسمعیل خان: عدنان خان، لوٹن : خالد عمران، فیصل آباد: آفریدی، خیبر ایجنسی: محمد عاطف، سندرلینڈ: ایم قاسم محمود، پاکستان: ثناء اللہ خان خٹک، لاہور: شاہدہ حسن، جدہ: جاوید خان، دوبئی: حسین جان، پشاور: اکرام: جہانگیر بنگش، ابراہیم زئی: شفیق راہب خان، مکہ: عمر سلیم، کویت: جاوید اقبال ملک، چکوال: ثناء خان، کراچی: عمیر سعید، ایسیکس: |
اسی بارے میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||