نیعمہ احمد مہجور بی بی سی اردو ڈاٹ کام |  |
پنجاب کے مجورہ گاؤں میں گجر بنجاروں کا جرگہ ہو رہا تھا کہ میں آن پہنچی۔ گو کہ میری موجودگی کو انہوں نے پسند نہیں کیا مگر ریتی رواج کے مطابق مہمان سمجھ کر میرے لیے چارپائی بچھائی اور بھینس کا تازہ دودھ پیش کیا۔جرگے میں بڑا شدید مسئلہ اٹھایا گیا تھا۔ دو روز پہلے برادری میں ہونے والی شادی بس ٹوٹنے ہی والی تھی۔ دولہا نے چاندی کے گہنے دینے کا وعدہ کیا تھا مگر شادی کے بعد بھی زیور نہیں لایا جس پر لڑکی والے بھڑک گئے اور دولہن کو اپنے شوہر سے الگ کردیا۔ دولہا نے کافی منت و سماجت کی مگر لڑکی والوں نے شادی توڑنے کی دھمکی دی۔ دولہا سٹپٹایا اور جرگے میں اس کا فیصلہ کرنے کی اپیل کی۔ جرگے میں دولہن کی ماں کو اپنا کیس پیش کرنے کی دعوت دی گئی مگر وہ ہر بات غیر سنجیدہ انداز میں کہہ رہی تھی۔ بیڑی کے زور زور کش لگا کر وہ دولہے کو کنگھال اور ڈنگر کے طعنے دینی لگی۔ جب دونوں کے بیچ تو تو میں میں اور ہاتھا پائی کی نوبت آئی تو میں اتحادی فوج کی طرح سامنے آئی۔ سب کو خاموش کر کے فیصلہ سنایا کہ دولہن اور دولہا ایک ساتھ رہیں گے اور دولہا وعدے کے مطابق گہنے ایک سال تک لے آئے گا۔ دولہا کی کاجل بھری آنکھیں بھر آئیں اور کہنے لگا ’توسی ہماری سر پنچ بن جاؤ توسی انصاف کرنا جانتی ہو‘۔ میں نے سوچا کیا بش ہاؤس اپنا استعفی بھیج دوں؟ مگر بھینس نے ایسی زور کی ٹانگ ماری کہ میں فوراً سکتے میں آگئی۔ میں نے سرپنچ بننا مناسب نہیں سمجھا۔
نوید، حاصل پور کتنے سادہ لوگ ہیں جنہوں نے آپ کا فیصلہ مان لیا۔ اس سے دو دن بعد والے جرگے میں کیا فیصلہ ہوا، یہ تو آپ نے بتایا ہی نہیں۔شاہدہ اکرم، ابو ظہبی نعیمہ جی آپ کہاں پنچوں میں پھنس گئیں۔ پنچایتوں کے فیصلوں نے بہتوں کو آنسو بھی رلائے ہیں، لیکن آپ کے کیس میں صورت حال اتنی گھمبیر تو نہیں تھی۔ پھر بھی آپ نے بچھڑے ہووں کو ملا کر ایک نیکی کا کام کیا ہے۔ لیکن مجھے نہ جانے کیوں آخری لائن پڑھ کر یہ لگا کہ آپ یہ لکھنا بھول گئیں کہ اس کے بعد آپ کی آنکھ کھل گئی۔ اور ہاں بش ہاؤس استعفی کب بھجوا رہی ہیں، میں آپ کی جگہ لینا چاہوں گی! کیا خیال ہے پھر؟ عبدالوحید خان، برمنگہم آپ نے یہ تو بتایا ہی نہیں کہ آخر فیصلہ کیا ہوا؟ یا یہ سارا جرگہ آپ کو بھینس کا دودھ پلانے اور بھینس سے زور کی ٹانگ مروانے کے لیے تھا؟ اجمل میندھرانی، کراچی نعیمہ جی کبھی سندھ آ کر ایک آدھ جرگہ کر جاؤ۔ یہاں نہ جانے کتنے بد نصیب ’قبائلی تکرار‘ میں ایک دوسرے کا خون بہا رہے ہیں۔ آپ کے آنے سے کیا پتہ کچھ ہو جائے۔ فیصل بھگت، اسلام آباد اگر آپ اتحادی فوج ہوتیں تو آج پنچایت کو مار کر اپنا فیصلہ ٹھونس کر آتیں۔ نوید عاصم، سعودی عرب میں دلہن کی ماں کے کردار سے متاثر ہوا ہوں۔۔۔بیڑی کے زوردار کش اور دولہا کو گالیاں۔۔۔ہا ہا ہا۔۔۔ شکیل بخش، سعودی عرب بہت اچھے۔۔۔ راجہ یونس، سعودی عرب نعیمہ آپ نے یہ تو ایک فرد کی مشکلات کا ذکر کیا ہے۔ یہاں تو ہر روز ایسے واقعات پیش آتے ہیں کہ کبھی کبھی خیال آتا ہے ہم ابھی تک پتھر کے زمانے میں رہ رہے ہیں۔ پھر بھی تعلیم اور آگاہی سے کچھ حالات میں بہتری آئی ہے۔ مگر بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ جب تک جاہل رسمیں ختم نہیں کی جاتیں یہ مسائل تو پیش اتے رہیں گے۔۔۔ویسے آپ نے فیصلہ خوب سنایا۔ جاوید اقبال ملک، چکوال نعیمہ بہن، آپ نے تو اپنا کردار ادا کر دیا مگر یہاں پر ضرورت ہے ہر فرد کو اجتماعی کوشش کرنے کی۔ ہم سب اپنی ذمہ داری خوبی سے نبھائیں تو ہی معاشرے میں تبدیلی آسکتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں یہ سب صرف تعلیم کی کمی کی وجہ سے ہے۔ سرفراز حبیب، مدنی پارک اگر آپ کو سرپنچ بننے کا اتنا ہی شوق ہے تو بی بی سی چھوڑیں اور آج ہی پاکستان کے کسی گاؤں میں شِفٹ ہو جائیں۔ شاید آپ کی خواہش پوری ہو جائے۔ |