BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Tuesday, 06 June, 2006, 15:52 GMT 20:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جمہوریت ایٹم بم اور ننگے بچے

 انڈیا
’آئی لو مائی انڈیا‘


’چھ جون: میں انڈیا کیوں آتی ہوں؟‘

دلی کے اندرا گاندھی ہوائی اڈے پر اترنے کے بعد آج پھر وہی خیال آیا کہ میں انڈیا کیوں آتی ہوں؟ میں نے چاہا کہ باہر سڑک پر پڑے وہ پتھر اپنے سر پر دے ماروں جو گزشتہ سات برسوں سے شاہراہ بنانے کے لئے وہاں رکھے گئے ہیں۔

میں اپنے سامنے ان بچوں کو نہیں دیکھ پا رہی تھی۔ معصوم، ننگے بدن اور ننگے پیر والے بچوں پر نظر کیا پڑی کہ میری زبان سے سیاست دانوں کے خلاف اناپ شناپ نکلنے لگی۔ جس ملک کے کروڑوں بے یارومدد گار بچے اڑتالیس ڈگری سے تپتی ہوئی سڑک پر ننگے پیر چلتے ہوں ان کی حالت کیا ہوگی خود اندازہ لگائیے۔

کیا اس ملک کو ایٹم بم بنانے کا حق ہے؟ ایٹم بم پر آنے والے خرچے سے کیا ان بچوں کے لیے جوتے نہیں خریدے جاتے؟ یہ کیسی جہموریت ہے جس کی جھلستی آگ میں ننھے، معصوم بچے ہتھے چڑھ رہے ہیں اور سیاست دان اے سی دار محلوں میں رہ کر ایٹم بم بنانے اور دوسروں کو اس کا رعب دکھانے کا خواب دیکھ رہے ہیں؟

دنیا کی بڑی جہموریت میں چند لاکھ افراد کی خوشی کے لیے کروڑوں کی زندگی کو کیوں داؤ پر لگایا جاتا ہے۔ میں پنتالیس ڈگری کی گرمی میں ان ننگے پیر بچوں کو جھلستے دیکھ کر اندر اندر ہی تڑپی۔

میں ہوائی اڈے کے باہر آنے سے گھبرا رہی تھی کہ ایک بچہ میرے پاس کھڑا ہوکرگانےلگا: ’یہ میرا انڈیا۔ آئی لو مائی انڈیا‘

میں اس کی معصومیت پر قربان ہونے لگی۔


’آپ کیا کہتے ہیں‘

وسیم عرفان، پاکستان
میرے خیال میں تعلیم اور غربت میں کمی ضروری ہیں۔ ان لوگوں کے بارے میں سوچیں جو بھوک سے مر رہے ہیں۔ اٹامک بم ان غریب لوگوں سے زیادہ ضروری نہیں۔ پاکستان اور بھارت کے لیے امن زیادہ ضروری ہے۔

مدثر اقبال، لاہور
میرے خیال میں ایٹم بم کو اس دنیا سے ختم کر دینا چاہیے اور سب کو آپس میں پیار محبت سے رہنا چاہیے۔

ساجد پردیسی، کینیڈا
کاش کے انڈیا کے لیڈروں کواتنی عقل آجائے کہ وہ انسانوں کی طرح سوچنا شروع کر دیں۔ نعیمہ صاحبہ آپ کو سلام۔

چاکر خان، ایران
بہت اچھا لگا جو آپ کو بیچارے غریبوں کا خیال آیا ورنہ کون ان کا خیال رکھتا ہے۔

رضوان عباس، دمام
آپ کے جو احساسات ہیں وہ ہر اس بندے کے ہیں جو اپنے وطن سے محبت کرتا ہے لیکن ہماری حکومت بہت بے حس ہو چکی ہے ۔ ان کا بس چلے تو اپنے ہاتھوں سے غریب کو مار دیں۔ نجانے لوگ یہ کیسے بھول جاتے ہیں کہ یہ سب ہمیشہ نہیں رہنا۔

عامر خان، کراچی
یہی تو المیہ ہے ہمارے پاک و ہند کا۔ اس کے سیاستدانوں کے لیے میں بس یہی کہوں گا کہ ’باتیں کروڑوں کی اور دکان پکوڑوں کی‘۔

جاوید اقبال ملک، چکوال
یہ آپ کے انڈیا میں ہی نہیں بلکہ تمام ترقی پذیر ممالک میں ایسا ہی ہے اور قابل افسوس ہی نہیں بلکہ قابل مذمت بھی ہے۔ یہ سیاستدان ہم سے جھوٹے وعدے کر کے ووٹ لے لیتے ہیں اور بعد میں مکر جاتے ہیں اور سارے ’انتخابی وعدے‘ بھول جاتے ہیں۔ ہمیں شاید ایک انقلابی لیڈر کی ضرورت ہے۔

ظفر خٹک، لاہور کینٹ
نعیمہ صاحبہ کسی کا پردہ تو رہنے دیا کریں۔

شاہد مسعود، سیالکوٹ
نعیمہ باجی آپ کبھی پاکستان پر بھی بلاگ لکھ دیا کریں۔ پاکستان کے بھی ایسے بہت سے مسائل ہیں جن کو سامنے لانے کی ضرورت ہے۔ جیسے کہ بجٹ ہم غریب لوگوں کے لیے کوئی مراعات نہیں لایا۔ اسپر ضرور لکھیں۔

غلام اللہ کیانی، راولپنڈی
نعیمہ احمد ایک بہت کہ عظیم اور ذہیں براڈکاسٹر ہیں۔ وہ بی بی سی کو اللہ کا تحفہ ہیں۔ ان کی خیالات حقائق پر مبنی ہوتے ہیں۔ انڈیا جیسے ممالک کو ایٹم بم اور میزائل بنانے کا کوئی حق نہیں۔


پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
حسن بلاگخوابوں کا تعاقب
’قربان علی کنگلے کی روح‘ اور حسن کا بلاگ
نعیمہ بلاگنعیمہ بلاگ
حلال قرض اور حلال گوشت کا فرق
ضیا بلاگویزا اور وہسکی
ضیا احمد کو بالآخر انڈیا کا ویزا مل ہی گیا
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد