BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Wednesday, 14 June, 2006, 18:42 GMT 23:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شادی: مالی بربادی
دلہن


چودہ جون: شادی، مالی بربادی

دفتر میں ہمارے ایک دوست نے پاکستان کی ایک حالیہ شادی کا ذکر کیا جس میں دولہے کو سلامی میں دو کروڑ روپے دیئے گئے۔

یہ سن کر بہت زیادہ تعجب نہیں ہوا کیونکہ میں نے دیکھا ہے کہ ہمارے ہاں شادی کے موقع پر لوگ پاگل ہو جاتے ہیں اور پیسوں کے معاملے میں تو بالکل ہی بے قابو۔ اتنا پیسہ خرچ کرتے ہیں جیسے مفت کا ہو۔

اس عمل میں صرف صنعت کار اور امیرزادے ہی شامل نہیں بلکہ اچھے بھلے متوسط طبقے کے سمجھ دار لوگ بھی۔ ایک تو ’شو آف ‘ ایلیمنٹ بڑا اہم سمجھا جاتا ہے یعنی دکھاوے کے خاطر بے انتہا خرچہ ہوتا ہے۔

کپڑوں پر اتنی رقم خرچ ہوتی ہے کہ مجھے تو اس کی بھی سمجھ نہیں آتی۔اور زیادہ تر دلہن صاحبہ بھی شادی کو اپنی زندگی میں ’شاپنگ‘ کا سنہری موقع سمجھ کر خوب فضول خرچی کرتی ہیں۔ دلہن کے جوڑے پر ہزاروں اور اب تو لاکھوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں۔ لیکن اس سے نہ تو دلہن کی شکل و صورت بدل سکتی ہے، نہ اس کا کردار اور نہ ہی اس کی قسمت۔ ایک مرتبہ یہ جوڑا پہنا جاتا ہے اور پھر بعد میں تو دلہن کو آتا بھی نہیں کیونکہ وہ بچے پیدا کر کے کبھی اپنے شادی والے ناپ پر واپس نہیں آتی ہیں۔ آور اگر موٹی نہ بھی ہوتیں تو شاید وہ اسے ’آؤٹ آف فیشن‘ کہہ کر نہ پہنتیں۔

لوگوں کو بڑا شوق ہوتا ہے کہ دلہن کے لیے بھاری جوڑا بنائیں۔ جتنا مہنگا اُتنا اچھا۔ نتیجہ یہ کہ دلہن صاحبہ شادی کے روز دو من بھاری دوپٹہ سر پر لادے ہوتی ہیں اور انتہائی تکلیف کا شکار ہوتی ہیں۔ قمیض پر کام اور کمخواب کے تار الگ چُبھ رہے ہوتے ہیں۔

کیا ضرورت ہے اتنا بھاری جوڑا بنوانے کا؟

دوسری بات یہ ہے کہ جس نوعیت کے آجکل جوڑے بنائے جاتے ہیں ان کی اپنی کوئی قیمت نہیں۔ پہلے تو یہ روایت تھی کہ جوڑے پر اصلی گوٹے کی ٹکائی کی جاتی۔ یعنی چاندی کے تار کا بنا ہوا گوٹا جسے اگر آپ چاہیں تو ادھیڑ کر تُلوا کر بیچ بھی سکتے تھے اور اگر بیچنا نہ چاہتے تو چمکوا سکتے تھے۔ (میں نے خود اپنی شادی میں اپنی والدہ کی شادی کا غرارہ پہنا، اس کا گوٹا چمکوادیا تھا اور وہ اچھا خاصا لگا حالانکہ وہ 1954 میں بنایا گیا تھا!)

اب تو ان بھاری گردن توڑ جوڑوں پر نقلی تار کا کام ہوتا ہے جس کی اپنی کوئی قیمت نہیں۔

اسی طرح شادی کے بہت سے اور اخراجات ہیں جن کی اہمیت پر لوگ غور کرنے کی تکلیف ہی نہیں کرتے اور جن کو کم رکھا جا سکتا ہے لیکن لوگ سمجھتے ہیں جتنا زیادہ خرچہ اتنی ان کی شان۔

کیا اس معاملے میں ہم اپنی عقل نہیں استعمال کر سکتے؟ ہم شادی کے فضول اور بے مقصد اخراجات کیوں نہیں کم کرنا چاہتے؟ کیا ہم اس پیسے کا کوئی بہتر استعمال نہیں کر سکتے؟


آپ کیا کہتے ہیں؟

سعید خان گجر، امریکہ
ہمیں ان احمقانہ روایات کو ختم کرنا ہوگا جو کہ نا صرف نئے شادی شدہ جوڑوں بلکہ ان کے خاندانوں اور رشتہ داروں کے لیے بھی مشکلات پیدا کرتی ہیں۔ لوگ پیسے کو مستقبل میں بہتر استعمال جیسا کہ بچوں کی تعلیم وغیرہ کے لیے بچا سکتے ہیں۔ کسی کو مثال سے ثابت کرنا ہوگا کہ شادیاں زیادہ خرچ کیے بغیر بھی ہو سکتی ہیں۔ حکومت کچھ نہیں کر سکتی عوام کو ہی آگے بڑھ کر کچھ کرنا ہوگا۔

عبد العلیم، جاپان
ایسے الفاظ ہم نے بہت سنے ہیں۔ نصیحتیں سنتے سنتے کان پک گئے ہیں۔ آپ کے بلاگ کی ساری خوبصورتی وہاں ہے جہاں آپ نے اپنے شادی کے جوڑے کا ذکر کیا ہے۔ اللہ کرے ہمیں بات سمجہ آجائے۔

رز وکیل، آسٹریلیا
آپ سو فیصد صحیح ہیں۔ میں افغانستان سے حال ہی میں ہجرت کر کے آسٹریلیا آیا ہوں۔ میں نے یہاں دیکھا کہ لڑکے دن رات محنت کر کے پیسہ جمع کرتے ہیں اور پھر تمام رقم پاکستان یا افغانستان جا کر شادی پر خرچ کر دیتے ہیں۔ یہ صرف دکھاوے کے لیے کیا جاتا ہے تا کہ پتا لگ سکے کہ وہ بیرون ملک سے آئے ہیں۔

دو دعاؤں کی استدعا
 ہمارے معاشرے میں کورٹ میریج کو برا سمجھا جاتا ہے۔ آپ دعا کریں کہ گھر والے ہماری بات مان جائیں۔ اگر وہ مان جائیں تو پھر دعا کریں کہ لڑکی والے بھی مان جائیں۔
سعید

سعید
میں اپنی شادی بہت سادگی سے کرنا چاہتا ہوں۔ میرے بس میں ہو تو صرف دس مہمان بلاؤں گا۔ اپنے گھر والے ، لڑکی کے گھر والے اور کچھ بزرگوار۔ ویسے تو کورٹ میریج کرنا بھی ایک راستہ ہے لیکن ہمارے معاشرے میں کورٹ میریج کو برا سمجھا جاتا ہے۔ آپ دعا کریں کہ گھر والے ہماری بات مان جائیں۔ اگر وہ مان جائیں تو پھر دعا کریں کہ لڑکی والے بھی مان جائیں۔

عافیہ سہیل
کیا کریں میری شادی پر میرے ماں باپ اتنا خرچ برداشت نہیں کر سکتے تھے۔ میری ساس آج تک کہتی ہیں کہ شادی پر اگر کمی رہ جائے تو لڑکی ساری زندگی سر اٹھا کر نہیں جی سکتی۔ میری ساس تمام عمر پاکستان سے باہر ہانگ کانگ میں رہی ہیں۔ اب آپ ہی بتائیں، جہاں بڑے ایسے ہوں وہاں کچھ ٹھیک ہو سکتا ہے؟

طارق رفیق، لاہور
میرے خیال میں تو شادی ہی نہیں کرنی چاہیے۔ نہ ہو گا بینڈ، نہ بجے گا باجا۔

ریحان ساجد، آسٹریلیا
یہ سب اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔ صرف دکھاوے کی غرض سے جو رقم صرف ایک شادی پر خرچ کی جا رہی ہے اس میں کم از کم دس غریب لڑکیوں کی شادی ہو سکتی ہے۔اللہ ہماری پوری قوم کو ہدایت دے۔

لطف اللہ خان، امریکہ
اگر یہ نقطہ پاکستانی قوم سمجھ لے تو پاکستان دنیا میں بے پناہ ترقی کر سکتا ہے۔ لیکن اتنی چھوٹی اور عام سی بات سمجھ میں قیامت والے دن ہی آئے گی۔

نواز محمد، جاپان
میں آپ سے سو فیصد اتفاق کرتا ہوں۔ اللہ نے فضول خرچی سے منع فرمایا ہے ۔ سب دکھاوا ہوتا ہے۔

جاوید اقبال ملک، چکوال
آپ ہمیشہ معاشرتی مسائل کو زیر بحث لاتی ہیں۔ آپ کی تحریریں معاشرے کو سدھارنے میں ایک اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔

محمد طاہر جمیل، دوہا
آپ بات کر رہی ہیں دلہنوں کی، آپ کو معلوم ہے کہ دلہے کے جوڑے پر بھی لاکھوں خرچ ہوتے ہیں جو کہ ایک دفعہ کے بعد وہ کبھی نہیں پہنتا۔ مہندی شادی سے بڑھ کر ہے۔ اس میں ورائٹی شو اور کھانا تو لازمی ہے۔ یہ عورتوں کی رسم ہے لیکن اگر مردوں کو نہ بلائیں تو حضرت روٹھ جاتے ہیں۔ کون بدلے گا ان پڑھے لکھے جاہلوں کو؟

سمیرا، کینیڈا
آپ نے سو فیصد ٹھیک کہا۔ پاکستان میں لوگ شو آف کے لیے اپنی اگلی دو تین نسلوں کو بھی مقروض کر دیتے ہیں۔ بعد میں لڑکی اور لڑکا دونوں کو اپنی اور اپنے بچوں کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کا گلہ گھوٹنا پڑتا ہے۔ یہ سب کرنے والے کبھی لڑکی کے گھر والے ہوتے ہیں اور کبھی لڑکے کے۔

محمد یوسف اقبال، دبئی
اللہ بھلا کرے عنبر جی آپ کا۔ کیا ہی سچ لکھا ہے آپ نے۔آپ کو ذرا اور زور سے ان لوگوں کے منہ پر تمانچہ مارنا چاہیے جو اپنی شادی پر تو لاکھوں کروڑوں خرچ کر جاتے ہیں مگر ان غریب بیٹیوں کا بالکل نہیں سوچتے جن کے بالوں میں چاندی اتر آتی ہے۔

فیاض خان، امریکہ
میں آپ کے نقطہ نظر سے اتفاق کرتا ہوں۔ کیا ایسا کوئی راستہ نہیں جس سے ہم اس سوچ کو بدل سکیں؟ اور اس سے ہم شاید اپنے آنے والی نسل کے لیے کچھ بچا سکیں۔

ضیاء خان، پاکستان
یہ ایک اچھی عادت نہیں ہے۔

عبدالوحید خان، برمنگہم
دولت مند لوگوں نے شادی جیسے اہم اور ضروری فریضے کو دولت کی نمائش بنا دیا ہے اور غریب لوگوں کے لیے اسے بہت مشکل بنا دیا ہے۔

، ثناء خان، کراچی
دکھاوا ہے بس، مقابلہ بازی ہے۔ صحیح بات ہے میک اپ اور کپڑوں سے کچھ نہیں ہوتا۔ دولہا، دلہن دونوں کی اصل شکل تو منہ دھونے کے بعد ہی نکلتی ہے۔ اب تو دولہا بھی فُل میک اپ میں ہوتا ہے۔ ایسے ہی لوگ کسی غریب کی شادی پر ایک سو روپیہ دے دیں گے کیوں کہ وہاں دکھاوا نہیں ہو سکتا۔ شادی کے کھانے پر نہیں بلکہ دولہا دلہن کے کپڑوں اور میک اپ پر پابندی ہونی چاہیے۔

عاطف خان، پاکستان
شادی پر اس قدر زیادہ خرچہ ہوتا ہے کہ ایک آدمی کی ساری عمر کی جمع پونجی بھی کم پڑ جاتی ہے۔ اور افسوس کی بات یہ ہے کہ سارا پیسہ فضول ضائع ہوتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمارے ملک میں سادگی کے لیے مہم چلائی جائے۔ مگر سوال یہ ہے کہ یہ مہم چلائے گا کون؟

جعفری سید، ٹورانٹو
جی ہاں اتنا خرچہ ہوتا ہے کہ کچھ لوگ خرچوں کی وجہ سے شادی بھی نہیں کر پاتے اور کچھ قرض لے کر کرتے ہیں۔ پھر شادی کے بعد سالوں میں اتار پاتے ہیں۔ یہی وجوہات ہیں کہ آج کل لوگ شادی سے دور بھاگتے ہیں اور معاشرے میں غلط چیزیں بڑھ رہی ہیں۔

جاوید اختر اعوان، پاکستان
نیشنل ڈاکو یہ سب کرتے ہیں۔

شاہدہ اکرام، ابوظہبی
آپ نے ایک انتہائی گھمبیر اور نازک مسئلے پر لکھا ہے جس کا شکار آج ہر گھر ہے۔ لیکن شکار ہونے کے باوجود کوئی بھی اس چیز کا حل نکالنے کو تیار نہیں۔ آپ نے کروڑ کی بات کی ہے جو اب عام سی بات ہوگئی ہے۔ بہت زیادہ وقت نہیں گزرا جب لکھ پتی ہونا بھی بہت مارکے کی بات سمجھی جاتی تھی۔ آپ نے ٹھیک لکھا ہے۔

شفاعت حسین بنگش، پاکستان
مسلم ہونے کی حیثیت سے یہ ٹھیک نہیں۔ امیر کو غریب کی مدد کرنی چاہیے۔

ماجد جاوید، پشاور
پاکستان میں تو شادی واقعی بہت مشکل ہوگئی ہے اور اس کی وجہ ہے کہ ہم اسلامی تعلیمات سے دور ہو رہے ہیں۔ اسلام تو اس کا مخالف ہے۔

محمد عبیر خان، چترال
شاباش، ایسے موضوعات پر لکھا کریں۔ یہ کیا بات ہوئی کہ رات نیند نہیں آئی اور صبح دفتر آکر بلاگ لکھ دیا۔ کیپ اِٹ اپ!

جوہر، قطر
تربوز تربوز کو دیکھ کر رنگ پکڑتا ہے۔ غریب امیر لوگوں کو دیکھ کر ان جیسا کرنا چاہتے ہیں تاکہ کسی سے پیچھے نہ رہیں۔ ویسے عقل کا تقاضہ ہے کہ جتنی چادر ہو اتنے پاؤں پھیلائیں۔

فضل وہاب، ڈسٹرکٹ مردان
ہمیں اس قسم کے لائف سٹائل سے پرہیز کرنا چاہیے جو مستقبل میں ہماری ثقافت کا حصہ بن سکتے ہوں اور ہمارے معاشرے کی غریب عوام کے لیے مشکلات پیدا کرے گا۔

سید اصغر علی رضوی، فیصل آباد
شادی پر بہت اچھا تبصرہ ہے۔ میں اس بات پرمتفق ہوں کہ ہر شخص کو محدود خرچہ کرنا چاہیے۔

شفیق راہب خان، مکہ
دنیا میں بہت کچھ نہیں ہونا چاہیے مگر ہو رہا ہے۔ اور بہت کچھ ہونا چاہیے مگر نہیں ہو رہا۔

عبدل خان، آسٹریلیا
یہ ایک بہت اچھا بلاگ ہے۔ میرا خیال ہے کہ اس طرح کے موضوعات پر بلاگ لکھے جانے چاہیے۔ میرے خیال سے اس طرح کی روایات تب ہی بدلیں گی جب ہم اپنے میڈیا کو بدلیں گے۔ آج کل لوگ خاص کر کہ پاکستان اور انڈیا میں وہی اپناتے ہیں جو وہ دیکھتے ہیں۔ ہم ان ڈراموں کو روک کر اس سب سے نجات حاصل کر سکتے ہیں۔

اشرف حسن، لاہور
بی بی سی کا شکریہ کہ اس قدر اہم موضوع کو اٹھایا۔ شادی واقعی مالی بربادی ہے۔ حکومت نے کھانے پر پابندی لگائی لیکن لوگ تو رشوت دے کر کھانا کھلا رہے ہیں۔ شاید یہ چادر سے پیر اتنا زیادہ باہر کرنا ہی معاشرے میں بگاڑ کا سبب ہے۔ خدارا میری اس بات کو رد نہ کریں اور محض پڑھنے اور افسوس کرنے پر اکتفا نہ کریں۔ خدا کے واستے اور اس کے بندوں کے واستے، اس ملک میں بسنے والے بھوکوں اور غریبوں کے واستے اخراجات میں کمی کریں۔

ندیم خان، سعوی عرب
آپ جیسی سوچ اگر سب کی ہو تو یہ دنیا ہی بدل جائے۔ اللہ ہمیں حضرت محمد کی سنت کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ یہ وقت تو ویسے بھی گزر جائے گا۔ اگر سنت طریقے کے مطابق گزار دیں تو آخرت میں اس کا فائدہ ملے گا۔

مدن لعل، کراچی
کوئی شک نہیں آپ بالکل صحیح ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے ہم صرف شادی پر خرچ کرنے کے لیے ہی کماتے ہیں۔ تعلیم اور صحت سے زیادہ شادیوں پر خرچ کرتے ہیں۔ یہ سب کچھ صرف ایک دوسرے کو اِمپریسں کرنے کے لیے ہے۔

اصلاح مقصود، کراچی
اپنی شادی پر زیادہ خرچہ کرنے پر جب میں نے خاندان کے کسی بڑے کے آگے احتجاج کیا تو مجھے کہا گیا کہ ’بیٹا کرنا پڑتا ہے‘۔ میں نے پوچھا کس کے لیے؟ جواب ملا ’لوگوں کے لیے‘۔

سمیع اللہ، دبئی
یہ اعمال ہمارے دہرے معیار کو ظاہر کرتے ہیں۔ ہم باتیں تو بڑی بڑی اور عقل اور دانش سے بھری ہوئی کرتے ہیں اور جب عمل کا وقت آتا ہے تو اپنے لیے سو وضاحتیں نکال لیتے ہیں۔ ہم مڈل کلاس لوگ شادی کے موقع پر خرچ کرنے کے لیے ایک فکرہ جو بہت عام استعمال کرتے ہیں کہ ’شادی کون سا روز روز ہوتی ہے‘ اور خرچہ کرتے جاتے ہیں۔ باقی عمر اس خرچے کو کوستے ہوئے گزر جاتی ہے۔

ساجد مجید، لاہور
سچ پوچھیں تو شادی پر خرچہ صرف لڑکی والوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ لڑکوں کا بھی مسئلہ ہے۔ میرے ساتھ میرے بہت سارے دوست اس وجہ سے شادی میں دیر کیے جا رہے ہیں تاکہ شادی کے لیے کچھ پیسے جوڑ لیں۔ اللہ ہمیں فرض کو فرض سمجھنے کی توفیق دے، دکھاوا نہیں۔

خالد مقبول، جرمنی
ہم جنوبی ایشائی قومیں مردہ ہیں۔ یہ مسئلہ ہمارے کئی اندھیرے پہلوؤں میں سے ایک ہے۔ ہمیں سیاست اور معاشرتی نظام میں فرینچ انقلاب چاہیے۔

امجد بخاری، دبئی
آپ نے بہت اچھے موضوع پر لکھا ہے۔ درحقیقت یہ ہماری قوم کا المیہ ہے۔ ہم فضول خرچیوں میں کروڑوں لٹا دیتے ہیں۔ ان ہی پیسوں سے نہ جانے کتنی غریب لڑکیوں کی شادی ہوسکتی تھی۔ چلو دکھاوے کے لیے ہی کر دو لیکن کچھ کرو تو۔

ذیشان طفیل، گجرانوالہ
یہ ناانصافی ہے۔

رحمت اللہ، جلال آباد
آپ نے اپنے بلاگ میں بہت اہم مسئلہ اٹھایا ہے۔ بدقسمتی سے معاشرے میں نام کمانے کے لیے پیسہ خرچ کرنے کی طرف رجحان بڑھ رہا ہے۔ اگر کوئی بہت مشکل میں ہو تو یہ لوگ اسے ایک روپیہ نہیں دیتے لیکن شادی پر بلاضرورت خرچ کرتے ہیں۔

عامر تاج، ابوظہبی
محترمہ، اگر ہم لوگوں میں عقل ہوتی تو ہم اب تک کہاں سے کہاں پہنچ چکے ہوتے۔ یہ سب اب ہماری زندگی کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔ اس سے پیچھا چھڑانا اب اتنا آسان نہیں۔

فیصل مصطفٰی، ابٹ آباد
میں آپ کو اپنی مثال دیتا ہوں۔ میرا نکاح بڑی سادگی سے ہوا تھا لیکن شادی کے لیے شادی ہال میں جانا پڑا کیوں کہ سب لوگوں کو بلانا ہوتا ہے ورنہ وہ ناراض ہوجاتے ہیں۔ یہ ہم سب کی مجبوری ہے ورنہ کسی کو اپنا حلال پیسہ ضائع کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔

ناظم، دبئی
اس میں بہت حد تک میڈیا بھی قصوروار ہے۔ شادی کو بہت بڑھا چڑھا کر دیکھایا جاتا ہے اور ہماری مڈل کلاس اس سے متاثر ہو کر یہ سب کرتی ہے یا پھر ایک دوسرے کو دیکھ کر۔ اپر کلاس کی تو آپ بات ہی رہنے دیں ان کا بس چلے تو۔۔۔۔

سجاد علی، دبئی
ہمارے ہاں شادی ایک ’سوشل دنگل‘ بن گیا ہے۔ شاید شعور سوگئے ہیں۔


پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
شیما کا نیا بلاگجل کی رانی
مچھلی، جھگڑے اورگجرے پر شیما کا بلاگ
ضیاء بلاگکیا فرق ہے؟
حیدرآباد، آندھرا پردیش سے ضیا کا نیا بلاگ
عارف شمیماگر ’گولی‘ نہ ہوتا
عارف شمیم کے خواب کیسے تہس نہس ہوئے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد