’فرسٹ اپریل پھول‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’ویاگرا، میڈ کاؤ ڈیزیز اور ٹیررسٹ‘ میں نے ٹی وی کھولا تو خبروں کی اہم سرخیاں یہی الفاظ تھے۔ ’دی ٹیررسٹ‘۔ زندگي میں سب سے پہلی بار میں نے یہ لفظ ایچ، ٹی لئمبرک کی کتاب پر دیکھا جو انہوں نے سندھ میں برطانوی حکومت کیخلاف حُر بغاوت پر لکھی تھی۔ (ویسے امریکی ناول نگار جان اپڈائیک کے نئی ناول کا نام بھی ’ٹیررسٹ‘ ہے جو تا حال مجھے پڑھنے کا موقعہ نہیں ملا۔) ایچ، ٹی لئمبرک انیس سو پینتیس میں سندھ میں حروں کیخلاف لگنے والے مارشل لاء کے ایڈمنسٹریٹر تھے۔ لئمبرک کو حر ’لمبر ایک‘ کہتے تھے کیونکہ وہ حروں پر زیادتیوں میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔ تمام حر آبادیوں کے گرد باڑھیں ڈال کر انہیں اوپن جیلوں میں قید کیا گیا۔ ایک حر قیدی سائیں رکھیو بہن کے ’بیانات‘ اور ’یادداشت‘ پر مبنی لیمبرک کی ’ٹیررسٹ‘ کو بہت سے حر اور پڑھنے والے صرف ’انگریز کی آنکھ‘ سے لکھی ہوئی کتاب کہتے ہیں۔ اب ان حر کیمپوں میں قید تین بچوں کی یاداشتوں پر مبنی سندھی زبان میں کتاب ’جے گھاریاسیں بند میں‘ یا ’جو دن ہم نے قید میں کاٹے‘ کے عنوان سے منظر عام پر آئی ہے۔ کل کے ان تین حر قیدی بچوں میں ولی محمد نظامانی، گل محمد نظامانی اور میرے بزرگ دوست اللہ ورایو اداسی بھی شامل ہیں۔ گل محمد نظامانی اپنے اس قیدی بچپن کی یاد کچھ اسطرح رقم کرتے ہیں: ’اس کیمپ میں مرد، عورتوں اور بچوں سمیت ہزاروں انسان مر گئے۔ ہر روز تیس سے پینتیس تک لوگ مرتے تھے اور انہیں دفن کرنے والا بھی کوئی نہیں ہوتا تھا۔ بچاری ضعیف عورتیں اور بڈھے مرد قبریں کھودتے اور لاشیں دفن کرتے تھے۔ میت کو کیسا غسل، کاہے کا کفن یا کیسی شرعی رسم! ایسی عجیب بے بسی اور بیکسی کا دور تھا‘۔ یہ قیدی حر ان کیمپوں سے یکم اپریل انیس سو ترپن کو آزاد ہوئے اور ایسی آزادی کو اللہ ورایو اداسی ’اپریل پھول‘ یا ’فول‘ کا نام دیتے ہیں۔
محمد یوسف، دبئی حسن بھائی اس دفعہ تو آپ نے بلکل الٹا لکھا ہے۔ مجھے آپ کے اس بلاگ کی بلکل سمجھ نہیں آئی کہ آپ کہنا کیا چاہ رہے ہیں۔ اگر آپ سندھیوں کی ہمدردی حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ٹھیک ہے ورنہ بلاگ کا عنوان دیکھ کر تو کچھ اور ہی سمجھ آتا ہے۔ چلیں کچھ لوگوں کی معلومات میں اضافہ ہوا اور اپریل فول کے معنی بھی تھوڑے بدلے۔
میرے ایک افریقی دوست ہیں جو تین دن سے ایک طرح سے مایوں میں جاکر بیٹھے ہیں کمرہ بند کرکے ٹی وی کے سامنے۔ ٹی وی بھی آجکل لوگوں نے اتنے بڑے بڑے رکھے ہوئے ہیں جو میں نے صرف نیویارک کے ٹائم اسکوائر پر دیکھے ہیں۔ میرے اقریقی دوست اس لیے ’مایوں‘ میں جاکر بیٹھے ہیں کہ جرمنی میں فٹبال کا ورلڈ کپ شروع ہو رہا ہے۔ اس افریقی دوست کے فٹبال سے اس عشق پر مجھے کراچی کے لیاری والے یاد آرہے ہیں۔ لیاری وہ جگہ ہے جہاں لوگ یا تو بھٹوؤں (بھٹوز) کی موت پر روئے تھے یا پھر برازیل کے فٹبال کے ورلڈ کپ ہارنے پر۔ میرے خیال میں لیاری کیا اس فٹبال جیسی دنیا میں بہت سارے لوگ فٹبال کے فین ہیں۔ امریکی بھی جو اسے ’ساکر‘ کہتے ہیں۔ لیاری والوں کے سروں کی خیر ہو کہ اب تو الطاف حسین بھی لیاری کے عشق میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ ’جنرل ضیاءالحق! سیاست سے فٹبال مت کھیلو‘، بھٹو نے کہا تھا۔ وہ لیاری والوں کی دلوں میں گول کر گیا۔ کوئی عجب نہیں کہ اس بار ورلڈ کپ میں کھیلا جانے والا فٹبال سیالکوٹ کا ہی بنا ہوا ہو لیکن ورلڈ کپ کا اصل میلہ اور ملاکھڑا تو میرے بین الاقوامی شہروں میں سے پہلے معشوق شہر برلن میں ہے۔ کل کے ’ٹورانٹو اسٹار‘ میں پڑھ رہا تھا کہ لاکھوں ورلڈ کپ کے شائقین کی تماش بینی کیلیے ’جرمن سیکس انڈسٹری‘ (کیونکہ جرمنی میں گذشتہ چار سال سے سیکس بیچنا لیگل ہے) کی کوئی لاکھوں اہل نشاط والیاں (سیکس ورکرز) برلن پہنچ رہی ہیں اور بڑی بڑی سیکس ٹریڈ کمپنیوں نے تو طرح طرح کی پبلسٹی کر رکھی ہے۔ ایک کلب نے بہت بڑے ہورڈنگ پر ایک اہل نشاط والی (جرمنی میں اہل نشاط والے بھی بہت ہیں) کی کھلی ٹانگوں پر تمام ملکوں کے جھنڈوں کی تصاویر آویزاں کی ہیں سوائے دو ملکوں کے جھنڈوں کے، جن پر دھمکیاں ملنے کے بعد کلب والوں نے کالے رنگ کی پینٹ کرالی ہیں کیونکہ انہیں بم حملوں کی دھمکیاں ملی تھیں۔ یہ جھنڈے تھے سعودی عرب اور ایران کے۔ کیونکہ اس سے لحم الحلال کی شوقین قوموں کےجذبات کو ٹھیس پہنچتی تھی۔ اخبار میں لکھا تھا کہ بہت سے کمپنیوں نے اپنے بین الاقوامی مہمانوں کیلیے مترجم بھی ہائر کر رکھے ہیں لیکن ایک اہل نشاط والی کا کہنا تھا ’میں تو اپنے گاہگوں سے ہاتھوں اور ٹانگوں کی زبان بولوں گی کیونکہ یہی عالمگیر زبان ہے‘۔
ثناء خان، کراچی فٹبال آجکل سب کا ’ کریز‘ بنا ہوا ہے۔ اس سے اگر کسی کو چاہے سیکس ورکرز کو فائدہ پہنچتا ہے تو اس میں کوئی برائی نہیں۔ محمد ابیر خان، چترال دانیال علوی، لاہور شفیق، مانچسٹر ایس احمد، لندن ڈاکٹرمراد بلوچ، پاکستان ساجد شاہ، سٹاک پورٹ آصف، چمن شوکت اعوان، لاہور ندیم خان، سعودی عرب نامعلوم سجاد، برطانیہ علیم اختر، گجرات رضا رحمان، گجرانوالہ سلمان الرشید، کینیڈا عامر بشیر، اوکاڑہ محمد یوسف اقبال، دبئی شہزاد، ملیشیا جاوید اقبال ملک، چکوال |
اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||