BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Monday, 05 June, 2006, 18:35 GMT 23:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’فرسٹ اپریل پھول‘


تیرہ جون: ’فرسٹ اپریل پھول‘



’ویاگرا، میڈ کاؤ ڈیزیز اور ٹیررسٹ‘ میں نے ٹی وی کھولا تو خبروں کی اہم سرخیاں یہی الفاظ تھے۔

’دی ٹیررسٹ‘۔ زندگي میں سب سے پہلی بار میں نے یہ لفظ ایچ، ٹی لئمبرک کی کتاب پر دیکھا جو انہوں نے سندھ میں برطانوی حکومت کیخلاف حُر بغاوت پر لکھی تھی۔ (ویسے امریکی ناول نگار جان اپڈائیک کے نئی ناول کا نام بھی ’ٹیررسٹ‘ ہے جو تا حال مجھے پڑھنے کا موقعہ نہیں ملا۔)

ایچ، ٹی لئمبرک انیس سو پینتیس میں سندھ میں حروں کیخلاف لگنے والے مارشل لاء کے ایڈمنسٹریٹر تھے۔ لئمبرک کو حر ’لمبر ایک‘ کہتے تھے کیونکہ وہ حروں پر زیادتیوں میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔ تمام حر آبادیوں کے گرد باڑھیں ڈال کر انہیں اوپن جیلوں میں قید کیا گیا۔ ایک حر قیدی سائیں رکھیو بہن کے ’بیانات‘ اور ’یادداشت‘ پر مبنی لیمبرک کی ’ٹیررسٹ‘ کو بہت سے حر اور پڑھنے والے صرف ’انگریز کی آنکھ‘ سے لکھی ہوئی کتاب کہتے ہیں۔

اب ان حر کیمپوں میں قید تین بچوں کی یاداشتوں پر مبنی سندھی زبان میں کتاب ’جے گھاریاسیں بند میں‘ یا ’جو دن ہم نے قید میں کاٹے‘ کے عنوان سے منظر عام پر آئی ہے۔ کل کے ان تین حر قیدی بچوں میں ولی محمد نظامانی، گل محمد نظامانی اور میرے بزرگ دوست اللہ ورایو اداسی بھی شامل ہیں۔ گل محمد نظامانی اپنے اس قیدی بچپن کی یاد کچھ اسطرح رقم کرتے ہیں: ’اس کیمپ میں مرد، عورتوں اور بچوں سمیت ہزاروں انسان مر گئے۔ ہر روز تیس سے پینتیس تک لوگ مرتے تھے اور انہیں دفن کرنے والا بھی کوئی نہیں ہوتا تھا۔ بچاری ضعیف عورتیں اور بڈھے مرد قبریں کھودتے اور لاشیں دفن کرتے تھے۔ میت کو کیسا غسل، کاہے کا کفن یا کیسی شرعی رسم! ایسی عجیب بے بسی اور بیکسی کا دور تھا‘۔
اللہ ورایو بھی اپنی یاد کو یوں قلمبند کرتے ہیں: ’دور سے چور نظروں سے سکول میں ماسٹر کی مار کھاتے بچوں کو دیکھتا تھا اور خوف کے مارے جھونپڑی میں آکر چھپتا تھا۔ ایک ا دن دیکھی مار کا خوف برداشت کرتے ہوئے چپکے سے سکول میں جا بیٹھا۔ ٹوٹی ہوئی تختی پر پہلے ’الف‘ ظاہر ہوا اور پھر بندی خانے کی ’بے‘ (ب) بھی لکھی ہوئی ملی اور اسی طرح سزا کے سارے حروف یاد رہ گئے‘۔

یہ قیدی حر ان کیمپوں سے یکم اپریل انیس سو ترپن کو آزاد ہوئے اور ایسی آزادی کو اللہ ورایو اداسی ’اپریل پھول‘ یا ’فول‘ کا نام دیتے ہیں۔


آپ کی چٹھی:

محمد یوسف، دبئی
حسن بھائی اس دفعہ تو آپ نے بلکل الٹا لکھا ہے۔ مجھے آپ کے اس بلاگ کی بلکل سمجھ نہیں آئی کہ آپ کہنا کیا چاہ رہے ہیں۔ اگر آپ سندھیوں کی ہمدردی حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ٹھیک ہے ورنہ بلاگ کا عنوان دیکھ کر تو کچھ اور ہی سمجھ آتا ہے۔ چلیں کچھ لوگوں کی معلومات میں اضافہ ہوا اور اپریل فول کے معنی بھی تھوڑے بدلے۔


پانچ جون: ’فٹبال اور اہلِ نشاط والیاں‘



میرے ایک افریقی دوست ہیں جو تین دن سے ایک طرح سے مایوں میں جاکر بیٹھے ہیں کمرہ بند کرکے ٹی وی کے سامنے۔ ٹی وی بھی آجکل لوگوں نے اتنے بڑے بڑے رکھے ہوئے ہیں جو میں نے صرف نیویارک کے ٹائم اسکوائر پر دیکھے ہیں۔ میرے اقریقی دوست اس لیے ’مایوں‘ میں جاکر بیٹھے ہیں کہ جرمنی میں فٹبال کا ورلڈ کپ شروع ہو رہا ہے۔ اس افریقی دوست کے فٹبال سے اس عشق پر مجھے کراچی کے لیاری والے یاد آرہے ہیں۔

لیاری وہ جگہ ہے جہاں لوگ یا تو بھٹوؤں (بھٹوز) کی موت پر روئے تھے یا پھر برازیل کے فٹبال کے ورلڈ کپ ہارنے پر۔ میرے خیال میں لیاری کیا اس فٹبال جیسی دنیا میں بہت سارے لوگ فٹبال کے فین ہیں۔ امریکی بھی جو اسے ’ساکر‘ کہتے ہیں۔ لیاری والوں کے سروں کی خیر ہو کہ اب تو الطاف حسین بھی لیاری کے عشق میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ ’جنرل ضیاءالحق! سیاست سے فٹبال مت کھیلو‘، بھٹو نے کہا تھا۔ وہ لیاری والوں کی دلوں میں گول کر گیا۔

کوئی عجب نہیں کہ اس بار ورلڈ کپ میں کھیلا جانے والا فٹبال سیالکوٹ کا ہی بنا ہوا ہو لیکن ورلڈ کپ کا اصل میلہ اور ملاکھڑا تو میرے بین الاقوامی شہروں میں سے پہلے معشوق شہر برلن میں ہے۔ کل کے ’ٹورانٹو اسٹار‘ میں پڑھ رہا تھا کہ لاکھوں ورلڈ کپ کے شائقین کی تماش بینی کیلیے ’جرمن سیکس انڈسٹری‘ (کیونکہ جرمنی میں گذشتہ چار سال سے سیکس بیچنا لیگل ہے) کی کوئی لاکھوں اہل نشاط والیاں (سیکس ورکرز) برلن پہنچ رہی ہیں اور بڑی بڑی سیکس ٹریڈ کمپنیوں نے تو طرح طرح کی پبلسٹی کر رکھی ہے۔ ایک کلب نے بہت بڑے ہورڈنگ پر ایک اہل نشاط والی (جرمنی میں اہل نشاط والے بھی بہت ہیں) کی کھلی ٹانگوں پر تمام ملکوں کے جھنڈوں کی تصاویر آویزاں کی ہیں سوائے دو ملکوں کے جھنڈوں کے، جن پر دھمکیاں ملنے کے بعد کلب والوں نے کالے رنگ کی پینٹ کرالی ہیں کیونکہ انہیں بم حملوں کی دھمکیاں ملی تھیں۔ یہ جھنڈے تھے سعودی عرب اور ایران کے۔

کیونکہ اس سے لحم الحلال کی شوقین قوموں کےجذبات کو ٹھیس پہنچتی تھی۔

اخبار میں لکھا تھا کہ بہت سے کمپنیوں نے اپنے بین الاقوامی مہمانوں کیلیے مترجم بھی ہائر کر رکھے ہیں لیکن ایک اہل نشاط والی کا کہنا تھا ’میں تو اپنے گاہگوں سے ہاتھوں اور ٹانگوں کی زبان بولوں گی کیونکہ یہی عالمگیر زبان ہے‘۔


آپ کا ردًِعمل:

ثناء خان، کراچی
فٹبال آجکل سب کا ’ کریز‘ بنا ہوا ہے۔ اس سے اگر کسی کو چاہے سیکس ورکرز کو فائدہ پہنچتا ہے تو اس میں کوئی برائی نہیں۔

محمد ابیر خان، چترال
حسن صاحب، لگتا ہے کہ آپ بھی شاید صرف ہاتھوں اور لاتوں کی زبان جانتے ہیں۔ آپ اس دور کے سلمان رشدی ہیں۔

دانیال علوی، لاہور
مجھے یہ سمجھ نہیں آرہی کہ یہ شخص کہنا کیا چاہتا ہے۔ کیا یہ بتانا چاہتا ہے کہ (1) فٹبال ورلڈ کپ شروع ہوگیا ہے۔ (2) لیاری کے لوگوں کو فٹبال سے محبت ہے۔ (3) یا پھر یہ کہ برلن میں سیکس انڈسٹری ہے۔ اور اس نے مسلمانوں پر بھی طنز کیا ہے۔ یہ سب کیا ہے؟

شفیق، مانچسٹر
ان کو اپنا نام بدل کر بش یا ایڈوانی رکھنا چاہئے۔ اس کی باتوں سے ان کا نام تو حسن نہیں لگتا۔ ویسے ہی اسلام کو بدنام کرنے کے لیے ان جیسے لوگوں نے اسلامی نام رکھ لیا ہے۔

ایس احمد، لندن
ایک مولوی صاحب پوچھ رہے ہیں کہ کیا حلال اہل نشاط بھی دستیاب ہیں۔

ڈاکٹرمراد بلوچ، پاکستان
ہم کیا رائے دیں گے پاکستان میں آزادی اظہار کا نام نہیں ہے۔ بات ہے جرمن فٹبال
کی تو میرے بھائی یہاں بھی سب کچھ ہوتا ہے۔

ساجد شاہ، سٹاک پورٹ
تمہارا شہر کون سا ہے، لیاری یا برلن؟

آصف، چمن
پتا نہیں کیوں ایڈیٹر صاحب مجھے اوائیڈ کرتے ہیں ورنہ میں آپ کی ان الفاظ میں تعریف کرتا کہ آپ رات کو خواب میں بھی مجھے دیکھتے۔

شوکت اعوان، لاہور
میرے خیال میں ہر ملک کو اپنے جھنڈے کا خیال رکھنا چاہئے کیوں کے یہ عزت کے قابل ہوتا ہے اور جو اس کی قدر نہ کرے اس کی اپنی مرضی۔

ندیم خان، سعودی عرب
سلام۔ مجھے ایک بات سمجھ نہیں آتی کہ بی بی سی والے جہاں پر اسلام کی مخالفت ہوتی ہے اسے بڑھا چڑھا کر کیوں پیش کرتے ہیں؟ میں نے یہ چیز اکثر کالموں اور بلاگز میں دیکھی ہے۔

نامعلوم
ویسے آپ کی آواز اچھی ہے لیکن ایک بات کا خیال رکھیں کہ جن ممالک کا ذکر آپ نے کیا ہے ان دونوں کے فلیگز میں کلمہ اور اللہ کا نام لکھا ہے۔۔۔تو ذرہ سا خیال ہونا چاہیے لکھتے وقت۔۔۔

سجاد، برطانیہ
ایک تو مجتبی صاحب مغرب سے بڑے متاثر ہیں اور حدف مسلمان یا مسلمان ملک کے خلاف جملہ ضرور پھینکیں گے۔ آج انہوں نے کہا لحم الحلال کی شوقین قومیں۔ اب ان سے اتنا پوچھا جائے کہ اگر مذہب کی تھوڑی بہت واقفیت ہے لحم الحلال مسلمان کا شوق ہو یا نہ ہو، پر ہر صورت میں وہ حلال لحم ہی کھائے گا کیونکہ یہ خدا کا حکم ہے اور جہاں خدا کا حکم آتا ہے وہاں شوق نہیں دیکھا جاتا۔ پھینکیں گے۔۔۔

علیم اختر، گجرات
یار تم لوگوں کو کچھ اور نہیں سوجھتا؟ آخر کیوں اسلام کے اتنے خلاف ہو؟ تمہارے انداز گفتگو سے ہی مسلم دشمنی ٹپکتی ہے، تقریباً ہر کالم میں۔ اپنا نام بدل کر دیو داس رکھ لو۔ بہت سوٹ کرے گا۔

رضا رحمان، گجرانوالہ
جب حیا ختم ہو جائے تو جو مرضی کرتے رہو۔ بےشرمی کی کوئی حد نہیں ہوتی۔۔۔

سلمان الرشید، کینیڈا
آپ کے بلاگ پڑھ کر آپ کی مذہب سے دوری کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ آپ کو کوئی ڈھنگ کی بات لکھنا نہیں آتی۔

عامر بشیر، اوکاڑہ
حسن مجتبی صاحب اپنے آپ کو نہ جانے کیوں منٹو سمجھتے ہیں۔ ان سے کہیے کہ اب بس کریں۔ جو ان کی منزل تھی وہ انہیں مل گئی ہے۔

محمد یوسف اقبال، دبئی
یار حسن! کیوں نوجوانوں کے جذبات بڑٌکاتے ہو؟ اب آپ کیا چاہتے ہیں کہ ہم بھی جرمنی جا کر فٹ بال دیکھیں؟ ویسے بھی آپ کی باتوں سے ہم نے جرمنی کی کچھ سیر تو کر ہی لی ہے۔۔۔

شہزاد، ملیشیا
حسن صاحب صورت سے تو آپ مچوئیر لگتے ہیں، لیکن یہ کالم۔۔۔کچھ تو اپنی عمر کا خیال کریں۔۔۔

جاوید اقبال ملک، چکوال
حسن صاحب، بھائی برا نہ مانیں آپ لوگوں پر مغربی تہذیبوں میں رہتے ہوئے ان کا شدید اثر ہو چکا ہے اور آپ نے خود کو اسی ماحول میں ڈھال لیا ہے اور آپ لکھتے بھی وہی کچھ ہیں۔ یار کچھ تو خیال کیا کریں۔ آخر آپ ایک امت کی ترجمانی کر رہے ہو۔ کیا آپ مسلمان نہیں ہیں؟


پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
کھائیں تو کھائیں کہاںکھائیں توکھائیں کہاں
تھوڑے جھوٹ کے ساتھ عارف شمیم کا سارا سچ
میلاد کی تقریباتمیلاد کی تقریبات
’کیا یہ محرم کی تقریبات کا مقابلہ ہے؟‘
اسد علیاگلےدن بہت مزہ آیا
وہ میرا خواب سن کر خوش ہوئی: اسد علی
نیا بلاگ شیما کاگٹار اور ڈکار
نیا بلاگ شیما کمال کا
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد