گزشتہ اتواراپنے آبائی قصبے جانے کا اتفاق ہوا تو برساتی نالے کے اُس پُل پر سے بھی گُزرا جو ہمارے سکول کو جانے کا شارٹ کٹ ہوا کرتا تھا۔ پُل پر سفید رنگ کے چوکٹھے میں تازہ سیاہ پینٹ سے اب بھی یہ عبارت درج ہے: ’’اس پُل کی تصویر لینا منع ہے‘‘ سکول کے دنوں میں استاد نے ہمیں بتایا تھا کہ یہ نوٹس دفاعی مقاصد سے لگایا گیا ہے کیونکہ اگر پل کی تصویر دشمن کے ہاتھ لگ جائے تو اسے حملے کی منصوبہ بندی میں سہولت ہو جاتی ہے۔ پیر کے دن واپس لاہور پہنچ کر میں نے اپنے کمپیوٹر پہ گوگل ارتھ کی سائیٹ کھولی۔ زمین کا گولا سکرین پر نمودار ہوا۔ میں نے پاکستان کا لفظ ٹائپ کیا۔ سکرین پر زمین گھوم گئی – ایشیا والا حصّہ سامنے آگیا اور بتدریج ساری سکرین پاکستان کے فضائی منظر سے بھر گئی۔ اب میں ماؤس کے ذریعے لاہور کے نواحی علاقوں پر پرواز کرنے لگا اور آہستہ آہستہ اپنے آبائی قصبے تک جا پہنچا۔ بے اختیار دل چاہا کہ غوطہ لگا کر اپنے پرانے سکول کی عمارت کے 100 فٹ اوپر معلّق ہو جاؤں اور اُن سب راستوں کی، گھر بیٹھے سیر کرلوں جہاں برسوں ہمارے قدم دھول اُڑاتے رہے تھے۔ جدید تکنیک کے مہیّا کردہ اس نایاب موقعے سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے یہ بھی دِل چاہا کہ اُڑتا ہوا اُس نالے کے پُل پہ پہنچ جاؤں جِس پر تصویر کھینچنے کی ممانعت درج ہے۔ تھوڑی سی کوشش کے بعد میں اُس علاقے کے بہت قریب پہنچ گیا اور مجھے سکول کے ارد گرد کی سڑکیں، نہریں اور نالے صاف دکھائی دینے لگے۔ تب مجھے خیال آیا کہ ظاہر ہے یہ سب مناظر ’’دشمن‘‘ کو بھی نظر آرہے ہوں گے، تو پھر برساتی نالے کے پُل پر آج بھی یہ عبارت کیوں درج ہے کہ اس پُل کی تصویر لینا منع ہے۔ دیکھا جائے تو سبھی شعبوں میں زندگی بہت آگے نکل چُکی ہے۔ سیاست اور بین الاقوامی تعلقات میں ساری کہانی کہاں سے کہاں پہنچ چکی ہے۔۔۔ لیکن افسر شاہی کی کرسیوں پر براجمان کچھ لوگ آج بھی 1940 والے احکامات صادر کر رہے ہیں اور اُن کے کارندے کالے پینٹ کی بالٹیاں اور برش لیکر نالوں کے پُلوں پر لکھتے پھر رہے ہیں کہ تصویر لینا منع ہے۔ شاید ان سب لوگوں کا روزگار ایسے ہی کاموں سے وابستہ ہے۔
آسیہ ناز، ٹورنٹو: ننھے ننھے دماغ، اعلیٰ اعلیٰ عہدے، ساری زندگی سوراخ والی بالٹی میں پانی جمع کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔امجد تنولی، اسلام آباد یہ بالکل سچ ہے۔ اب ہم گوگل ایرتھ پر تقریباً تمام دنیا کو دیکھ سکتےہیں۔ میں نے بھی اسلام آباد کی کئی سڑکوں کی سیر اسی طرح کی ہے۔ شاید واقعی اب حساس تنصیبات کا دفاع زیادہ مشکل ہو گیا ہے مگر اچھی بات یہ ہے کہ اب ہم گھر بیٹھے اہم مقامات کی سیر کر سکتے ہیں۔ سعید خان، امریکہ میرے پیارے عارف وقار۔ آپ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ یہ سب کچھ پاکستان میں شروع سے ہو رہا ہے۔ یہ فوجی حکمرانوں کا ملک ہے جہاں ہر بات خفیہ، ہر چیز راز ہے۔ مشرقی پاکستان سے لے کر کرگل تک جو کچھ ہوا سب راز ہے۔ پانچ سال پہلے میں اپنے ایک امریکی دوست کے ہمراہ شمالی علاقہ جات جانا چاہتا تھا۔ یہ جان کر حیرانی ہوئی کہ ’سکیورٹی‘ مقاصد کے لیے شمالی علاقہ جات کا کوئی نقشہ موجود ہی نہیں۔ میرے امریکی دوست نے یہ سن کر ہنستے ہوا کہا کہ اب تو دنیا میں کسی بھی جگہ کے تفصیلی میپ انٹرنیٹ پر مل جاتے ہیں۔۔۔جو بورڈ آپ نے اپنے گاؤں میں دیکھا وہ پاکستان میں بہت عام ہے۔۔۔ سلیم، ٹورانٹو ان افسروں کو کمپیوٹر استعمال کرنا بھی نہیں آتا ہوگا۔ ایک اور بات، کتنی عجیب بات ہے کہ ایک عام شہری اپنے گھر میں بیٹھے دنیا کے کسی بھی علاقے کی تصویر یا معلومات دیکھ سکتا ہے، لیکن امریکہ اتنا بڑا ملک ہوتے ہوئے بھی کچھ لوگوں اور ہتھیاروں کو نہیں ڈھونڈ پاتا؟ منصور خان بہت اچھے۔ میں ابھی تک منتظر ہوں کہ آپ میں سے کوئی گوگل پر موجود ویڈیو ’لوز چینج‘ کے بارے میں لکھے۔ سب بلاگرز اس بارے میں خاموش کیوں ہیں۔ آصف محمود میاں، لاہور آپ نے بالکل ٹھیک اندازہ لگایا ہے۔ یہاں تو معلومات اور تعلیم پر بھی کالا برش ہی پھرتا رہا ہے اور پتا نہیں کب تک پھرتا رہے گا۔ شاید اللہ نے ہمارے مقدر پر بھی کالا برش پھیرنے کا فیصلہ کر دیا ہے۔ عدنان محمد، لندن صحیح لکھا ہے جناب آپ نے۔ دنیا بہت آگے نکل چکی ہے اور ہم لوگ ابھی بھاشا ڈیم اور کالا باغ ڈیم پر ہی لڑائی کر رہے ہیں۔ حارث بلوچ، کراچی سر آپ تو صرف لکھ رہے ہیں۔ ایک بار میں اپنے نیٹ کیفے میں بیٹھ کر گوگل ارتھ دیکھ رہا تھا تو پاکستان ائیر فورس کے ایک سپیشل برانچ کے آفیسر نے دیکھ لیا اور مجھے خبردار کیا کہ اگر پھر تم کراچی دیکھتے ہوئے پکڑے گئے تو سیدھا تم پر ملک دشمن کا شک ہوگا۔ وہ حیران ہوا کہ نیٹ پر ایسا بھی ہو سکتا ہے اور وہ آج ہی جا کر اپنے آفیسر کو یہ سب بتائے گا۔ علی کامران خان، لاہور ٹیکنالوجی میں بہت ترقی ہوئی ہے اور ہم گوگل گرتھ کے ذریعے کہیں بھی پہنچ سکتے ہیں۔لیکن جیسا کہ عارف وقار نے کہا کہ انہوں نے گوگل ارتھ پر اپنے گاؤں کو دیکھا، مجھے یقین ہے کہ گوگل ارتھ پر لاہور بھی صاف نظر نہیں آتا تو انہوں نے انہوں نے لاہور کا چھوٹا سا گاؤں کیسے دیکھ لیا۔ ہمیں تھوڑا سا پریکٹیکل ہونا چاہیئے۔ جہانگیر بنگش ہاں! کتنا عجیب ہے نا کہ ہم اب سیٹیلائٹ کے ذریعے دنیا کے کسی بھی حصے کی تصویر لے سکتے ہیں۔ جب میں اپنے گاؤں سے راولپنڈی آتا ہو تو راستے میں ایک جگہ آتی ہے ’خشحال گر‘ ۔ وہاں بھی ایسا یہی لکھا ہے کہ تصویر مت لیں۔ یہ جگہیں اب محفوظ نہیں ہیں۔ عامر قریشی، کینیڈا گوگل ارتھ پر ہم کہوٹہ اٹامک پلانٹ پر ایسے سیر کرتے ہیں جیسے عقب آسمان پر۔ قادر قریشی، کینیڈا میں تو گوگل ارتھ کے ذریعے کراچی کی ایک ایک گلی گھوما۔ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ کراچی میں درخت نہ ہونے کے برابر ہیں۔ جاوید اقبال ملک، چکوال انٹرنیٹ کے ذریعے معلومات تو لی جا سکتی ہیں مگر جنگ تو نہیں لڑی جا سکتی۔ وہ صرف معلومات کا ذریعہ ہے۔ جب کسی دشمن نے پاک سرذمین کی طرف میلی آنکھ سے دیکھا تو اس کی آنکھیں نکال دیں گے۔ اور یہ بھی یاد رہے کہ پاکستان قائم رہنے کے لئے بنا ہے اور انشااللہ قائم رہے گا۔آپ کے استاد نے آپ کو صحیح مشورہ دیا تھا مگر آپ نے گلوبل ولیج کا فائدہ اٹھا لیا ہے۔ملکی سلامتی کے لئے احتیاط لازمی ہے۔ عبدالعلیم، جاپان آپ نے تو گاؤں کے پُل کی بات کی ہے، گوگل ارتھ سے تو ہر حساس علاقے کو دیکھا جا سکتا ہے۔ رہی بات روزگار کی، تو ہم یہاں سے افغانستان، پارٹس کے کنٹینر بھیجتے ہیں۔ سنا ہے کہ وہاں کنٹینر سے انجن اور بھاری پارٹس اتارنے کے لئے بھی فورک لفٹر استعمال کرنے نہیں دیتے اور ہر چیز انسانی ہاتھوں ہی سے اتاری جاتی ہے۔ وجہ یہ کہ اس کے استعمال سے بے روز گاری بڑھے گی۔ |