BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Sunday, 30 May, 2004, 10:09 GMT 15:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ای۔ سروے: دہشتگردی بڑا مسئلہ نہیں، ماحول اہم
سروے
اقوام متحدہ کے ہزاریہ ترقیاتی اہداف کے متعلق بی بی سی کے حالیہ آن لائن سروے کے مطابق لوگ دہشت گردی کے مقابلے میں ماحول کے بارے میں زیادہ فکر مند ہیں۔ سروے میں حصہ لینے والے لوگوں میں سے چوبیس فیصد ماحول کے بارے میں فکر مند تھے جبکہ تیرہ فیصد نے دہشتگردی کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا۔

اس سروے کے مطابق لوگوں کا سب سے بڑا مسئلہ روزی ہے۔ تیس فیصد شرکاء نے پیسے کو اپنا سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا۔ اکتیس ہزار سے زیادہ لوگوں نے اس سروے میں حصہ لیا جو بی بی سی اردو آن لائن، بی بی سی عربی، بی بی سی فارسی، بی بی سی ہسپانوی، بی بی سی روسی اور بی بی سی انگریزی ویب سائٹ پر کرایا گیا۔

مردوں اور عورتوں کے رویے میں فرق

سروے کا تجزیہ کرنے والے ادارے فریڈرک پولز کے کیتھ فریڈرک کے مطابق سروے سے یہ بات سامنے آئی کہ مردوں اور عورتوں کی ترجیحات میں فرق پایا جاتا ہے۔ مرد پیسے کے بارے میں زیادہ فکرمند ہیں لیکن خواتین کے نزدیک ماحول زیادہ اہم مسئلہ ہے۔

کیتھ کا کہنا ہے کہ سروے کے اعدادو شمار کے مطابق سروے کے کل شرکاء میں سے اڑسٹھ فیصد مرد تھے، چودہ فیصد خواتین تھیں اور اٹھارہ فیصد نے سروے میں حصہ نہیں لیا۔

اسی طرح سروے میں حصہ لینے والے تیس فیصد افراد کی نظر میں غربت عالمی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

غربت
غربت کے بارے میں خدشات عام ہیں

غربت کے بارے میں سب سے زیادہ خدشات کا اظہار لاطینی امریکہ اور افریقہ سے تعلق رکھنے والے بی بی سی کے قارئین نے کیا گیا جہاں یہ تعداد بالترتیب چالیسں اور انتالیس فیصد تھی۔

غربت مشرق وسطی کے سوا دنیا کے سارے خطوں میں عالمی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قراد دی گئی۔ مشرق وسطی میں جنگ کو زیادہ بڑا خطرہ قرار دیا گیا۔

عالمی طور پر جنگ، جہالت اور ماحول کے بارے میں خدشات بالترتیب دوسرے، تیسرے اور چوتھے نمبر پر رہے۔ سروے کے مطابق دہشت گردی کو پانچواں بڑا مسئلہ قرار دیا گیا۔

حکومتوں کی ’پہلی قومی ترجیح‘ کی فہرست میں ’ماحول‘ پانچویں نمبر پر رہا ۔ انتیس فیصد نے تعلیم کو پہلی ترجیح قرار دیا جبکہ اس فہرست میں دوسرے، تیسرے اور چوتھے نمبر پر جرم، روزگار اور شہری حقوق رہے۔ مجموعی طور پر تیرہ فیصد افراد نے ماحول کو پہلی ترجیح قرار دیا۔

بی بی سی کے قارئین پرامید

سروے کی شرکاء میں سے دو تہائی سے زیادہ اکثریت کا خیال یہ تھا کہ وہ اپنی ذاتی حیثیت میں دنیا کے حالات میں بہتری لا سکتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ تھی کہ سروے کے یورپی شرکاء میں سے انسٹھ فیصد کا یہ خیال تھا کہ وہ کوئی مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں۔ یہ تعداد لاطینی امریکہ کے مقابلے میں چوبیس فیصد کم تھی۔

سروے
لاطینی امریکہ کے لوگ ذاتی حیثیت میں مثبت کردار ادا کرنے کے بارے میں پرامید ہیں

سروے کے شرکاء میں سے نصف کا خیال یہ تھا ان کا معیار زندگی سن دو ہزار پندرہ تک بہتر ہو جائےگا۔ دو ہزار پندرہ اقوام متحدہ کے انسداد غربت اور دنیا کے غریب ترین لوگوں کا معیار زندگی بلند کرنے کے بارے میں ہزاریہ ترقیاتی اہداف کی تکمیل کا سال ہے۔

تیس فیصد شرکاء کا خیال تھا کہ ان کا معیار زندگی مزید خراب ہوگا جبکہ بیس فیصد شرکاء کے مطابق غریبوں کی حالتِ زار میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔

کیتھ فریڈرک کے مطابق لاطینی امریکہ کے سوا تمام براعظموں میں سروے کے نصف سے زیادہ شرکاء نے معیار زندگی کے بہتر ہونے کے بارے میں پرامیدی کا اظہار کیا۔ لاطینی امریکہ میں یہ تعداد سینتالیس فیصد رہی۔

کیتھ کا کہنا تھا: ’مستقبل کے بارے میں مرد اور نوجوان زیادہ پرامید ہیں اور شاید یہ عامل سروے کے مجموعی نتائج پر بھی اثر انداز ہوا۔‘

کیتھ نے مزید کہا: ’سروے کے نتائج کے مطابق چالیس فیصد شرکاء نے مستقبل میں نقل مکانی کے ارادے کا اظہار کیا۔ اس حیران کن نتیجے کی وجہ شاید یہ تھی کہ سروے کے شرکاء کی اکثریت نوجوانوں یعنی چونتیس سال سے کم عمر کے افراد پر مشتمل تھی۔‘

کیتھ کے مطابق عمر رسیدہ شرکاء نقل مکانی میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتے۔

کیتھ کا کہنا تھا: ’سروے میں امریکہ سے ایک چوتھائی افراد نے کسی دوسرے ملک میں جا کر بسنے کی خواہش کا اظہا ر کیا جبکہ لاطینی افریقہ اور مشرق وسطیٰ سے تقریباً نصف شرکاء نے اسی خواہش کا اظہار کیا۔‘

سروے کے شرکاء میں نصف سے زیادہ چونتیس سال سے کم عمر کے تھے اور شاید یہی وجہ ہے کہ سروے کے نتائج سے ایک نوجوان اور مردانہ آبادی کی تصویر سامنے آتی ہے جو عام طور پر کسی بھی رائے شماری میں نظر نہیں آتی۔

مسٹر کیتھ نے اس سلسلے میں ٹیلی فون پولنگ کی مثال دی جس میں شرکاء کی زیادہ تر تعداد نسبتاً زیادہ عمر کی خواتین پر مشتمل ہوتی ہے کیونکہ اعداد و شمار کے مطابق ایسی خواتین دن کے وقت گھر میں موجود ہوتی ہیں۔

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
MORE FROM YOUR VOICE
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد