سروے: آپ کے توقعات و خدشات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حالیہ دنوں میں آپ نے بی بی سی اردو ڈاٹ کم کر سن دوہزار پندرہ تک دنیا کو درپیش مسائل سے متعلق اقوام متحدہ کے ترقیاتی اہداف کے بارے میں ہمارے سروے میں حصہ لیا تھا۔ آپ نے اس سروے میں اپنی امیدوں اور توقعات کا بھی اظہار کیا تھا جو نیچے درج ہیں۔
محمد اسحٰق, پاکستان جنگ کی وجہ سے دنیا میں ناہموار فضا بن رہی ہے، دہشت گرد پیدا ہورہے ہیں اور مختلف قسم کے خطرات بھی، جن کا کسی بھی ملک کی معاشی ترقی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہمیں ہمیشہ مثبت رہنے کی ضرورت ہے، اور قانون اور انسانوں کی عزت کرنے کی ضرورت بھی۔ ہمیں ایک سچے شخص کی حیثیت سے زندگی گزارنا چاہئے۔ ایک مسلم اور پاکستانی ہونے کے ناطے میں اپنے ملک، قوم اور اسلام کو بچانا چاہتا ہوں۔ میں اپنی زندگی اور اپنے قوم کے لئے اہم کردار ادا کروں گا۔ تمام ترقی یافتہ ممالک پاکستان پر نظر رکھے ہوئے ہیں، لیکن انہیں کوئی کامیابی نہیں ملے گی۔ ہم تمام خطرات کا سامنا کرنے میں کامیاب رہیں گے۔ ایم عمر, کراچی، پاکستان میں سن دوہزار پندرہ تک اپنے مذہب اور ملک کے لئے کچھ کرنے کا عزم رکھتا ہوں۔ اور کوشش کروں گا کہ اللہ مجھے اسلامی جہاد کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور مجھے اپنے ارادوں میں ثابت قدم رکھے۔ ایم فیصل عمر, خوشاب، پاکستان میں چاہتا ہوں کہ کمپیوٹر ٹیکنالوجی میں اہم کردار ادا کروں تاکہ نئی نسل کو نئی ٹیکنالوجی دے سکوں۔ فرزان رضا, کراچی میرے خیال میں سب سے اہم مسئلہ ہے طاقت حاصل کرنے کا۔ مجھے امید ہے کہ سبھی لوگ اس بات کا اعتراف کرینگے کہ اللہ ہی سب سے بڑی طاقت ہے۔ اس لئے ہمیں اللہ کے آخری پیغمبر کی پیروی کرنے کی ضرورت ہے۔ احسن قریشی, کراچی میرا ارادہ ہے کہ میں مزید تعلیم حاصل کروں اور شعبۂ تعلیم سے وابستہ ہوجاؤں۔ احمد , امریکہ اگر عالمی طاقتیں انصاف سے کام لیں تو سن دوہزار پندرہ تک دنیا سے دہشت گردی اور غربت کا بڑی حد تک خاتمہ ہوسکتا ہے۔ یہ انصاف ہر سطح پر کرنا ہوگا، مثلا معاشرتی، مذہبی اور سیاسی۔ مسلم ممالک کو اپنے اندر شدید تر تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ انتہا پسندی سے چھٹکارا، صحت عامہ، عام تعلیم، اچھا عدالتی نظام، وغیرہ ان چند اہم عوامل میں سے ہیں جن کی اشد ضرورت ہے۔ ساجد اقبال میئو, کینیڈا کوشش یہ ہوگی کہ ہم سب ملکر انسانیت کی بہتری کے لئے کام کریں، بغیر کسی رنگ، نسل یا مذہبی منافرت کے۔ کیونکہ ہم سب کو اس حصار سے نکلنا ہوگا کہ وہ مسلم ہے، یہ یہودی ہے، وہ ہندو ہے، یہ عیسائی ہے، وغیر وغیرہ۔ سب کو ایک ہی خدا نے پیدا کیا ہے، سب کو ایک جیسا بنایا ہے۔ تو کیوں نہ ہم مل جل کر اس دنیا کو یہیں جنت بنائیں، جس جنت کو پانے کے لئے ہم ساری عمر لگادیتے ہیں۔ افضل, پاکستان پاکستان کی ہر حکومت بے روزگار لوگوں کو نوکری دینے میں ناکام رہی ہے۔ عبدالقیوم, فیصل آباد روحانی انقلاب کی وجہ سے دنیا دو ہزار پندرہ تک کافی ترقی حاصل کرے گی۔ امتیاز احمد, پنجاب، پاکستان جب تک فرقہ واریت، انتہاپسندی، سرداری نظام، ڈاکے، پولیس کا نظام، تعلیم کا نظام، وغیرہ درست نہیں کیا جاتا، باقی تمام کام رکے رہیں گے۔ محمد ماجد افضل, کراچی میں پاکستان سے باہر یورپ میں اچھی زندگی گزارنا چاہتا ہوں۔ ریحان اختر, دوبئی ایک صاف ستھرا ماحول، بے خوف زندگی، تعلیم اور تربیت کی فراوانی، انسانی کی چھوٹی سی چاہت جو آسانی سے پوری ہوسکے، روٹی، کپڑا اور مکان۔ خرم عباس شاہ, سرگودھا، پاکستان میری خواہش ہے کہ پاکستان پوری دنیا میں سب سے زیادہ عزت دار ملک ہو۔ اور ساتھ تمام مذاہب اور ملکوں کے درمیان رواداری کی ضرورت ہے۔ انسانیت میں رواداری ہو اور انسانوں میں تعصب پرستی نہ ہو۔ انسانوں کا اخلاق بہتر ہو جیسا کہ اسلام نے مجھے پڑھایا ہے۔ ناصر طفیل, منڈی بہاؤالدین، پاکستان میں چاہتا ہوں کہ میرا ملک دنیا میں امن کا علمبردار ہو، جو کہ ہماری بڑی کامیابی ہوگی۔ ساتھ دنیا سے ایڈز اور سارس جیسی بیماریوں کا خاتمہ کرنے کی ضرورت بھی ہے۔ اس سب کے ساتھ ہی ہم دنیا کا طاقتور ملک بن سکتے ہیں۔ عارف زمان, پاکستان میں ایک ایسی دنیا چاہتا ہوں جہاں امن ہو، دہشت گردی نہ ہو، بےروزگاری نہ ہو۔ احمد عمیر, کراچی سن دو ہزار پندرہ تک دنیا میں تبدیلی ہوگی، یہ تبدیلی ملکوں کی سرحدوں میں ہوگی۔ مجھے نہیں لگتا کہ پاکستان وجود میں رہے گا، سوائے انڈیا کا حصہ ہونے کے۔ دنیا میں مسلمانوں کی معاشی ترقی ہوگی اور امریکہ معاشی طور پر تباہ ہوجائےگا۔ کاشف مشتاق, تنوسہ شریف اصل میں بات یہ ہے کہ دنیا میں اب وسائل کی کمی ہورہی ہے۔ بچی کچی کسر امریکہ کی جنگوں نے پوری کردی ہے۔ میرے خیال میں دوہزار پندرہ تک مسلم دنیا میں اور بھی ابتری آئے گی۔ اگر مسلمان آج بھی اپنے مسائل کا استعمال کریں تو ان کے حالات ٹھیک ہوسکتے ہیں۔ گل احمد جوکھیو, بینگ کاک، تھائی لینڈ مجھے یقین ہے کہ سن دوہزار پندرہ تک اپنی زندگی میں استحکام پیدا کرسکوں گا۔ پاکستان کے صوبۂ سندھ میں واقع اپنے گاؤں میں تعلیم کے فروغ کے لئے میں کام کروں گا۔ سمن محمود, امریکہ ہم اپنے بچوں کی تعلیم اور تربیت پر توجہ دینا چاہیں گے۔ کیونکہ ایک بھی بچے کی صحیح تعلیم و تربیت ہمارے ملک کی ترقی پر بہت اثر انداز ہوتی ہے۔ اور ہم ہمیشہ اپنے پیارے وطن پاکستان کی ترقی کو اولین ترجیح دینا پسند کرینگے۔ اللہ ہم سب کو اس بات کی توفیق دے۔ کامران, پاکستان مجھے نہیں معلوم کہ دوہزار پندرہ میں کیا ہوگا۔ لیکن جو بھی اللہ پاکستان کو اسی طرح قائم رکھے۔ عامر سجاد گیلانی, رحیم یار خان، پاکستان زندگی بہتر ہوگی۔ نوکریاں کم ہونگی۔ میرے بچوں کو محنت کرنی ہوگی۔ شاید مذہبی انتہا پسندی بڑھ جائے۔ اگر مساوات اور رواداری کو ملحوظ نہ رکھا گیا تو پھر ۔۔۔۔ محمد عاطف فرید, ٹورانٹو اللہ دنیا میں امن قائم کرے۔ صلاح الدین, کویت مجھے امید ہے کہ میں اپنی امیدوں پر قائم رہ سکوں۔ رحیم, نیوجرسی، امریکہ میں چاہتا ہوں کہ لوگ امن کے ساتھ رہیں اور دوسروں کا لحاظ رکھیں۔ مجھے امید ہے کہ پیسے کے لئے دوڑ میں کمی آئے گی اور انسانوں کی اہمیت ان کے کردار پر منحصر ہوگی۔ اسد میاں, کینیڈا میں دنیا میں تعلیم کے فروغ کے لئے کام کروں گا کیونکہ تعلیم ہی انسانیت کی بقا کا راستہ ہے۔ سید انتظار علی, دوبئی دوہزار پندرہ میں دنیا پوری طرح کمپیوٹر پر منحصر ہوگی۔ صلاح الدین لنگا, جرمنی میں اس دنیا کے بہترین ملک جرمنی میں رہتا ہوں۔ میرے پاس زندگی کی ہر سہولت ہے، صرف اگر جنگ لگ گئی یا دہشت گرد حملہ ہوا تو پھر خدا حافظ ہے ورنہ دو ہزار پندرہ تک یہیں رہونگا۔۔۔۔ نذیر, پاکستان مجھے لگتا ہے کہ جب تک پاکستان اور اسرائیل اس دنیا میں وجود میں ہیں امن قائم نہیں ہوگا۔ عمر, برطانیہ میں ایک ایسے ملک میں رہنا چاہوں گا جہاں برطانیہ کی نسبت زیادہ استحکام ہو۔ اپنی زندگی پر زیادہ کنٹرول چاہوں گا۔ اور میرے لئے سب سے اہم یہ بات ہے کہ میرا ملک پاکستان زیادہ ترقی حاصل کرے۔ اور میں اپنے ملک واپس جانا چاہوں گا۔ عبدالرزاق راجا, متحدہ عرب امارات میں اس دنیا میں امن اور پیار چاہتا ہوں۔ ہم سب انسان ایک ہی ماں اور باپ سے پیدا ہوئے ہیں۔ میں چاہوں گا کہ امن پسند ممالک وہی نہیں کرینگے جو انہوں نے افغانستان اور عراق میں کیا ہے۔ صلاح الدین نظامانی, ٹانڈو سومرو، پاکستان تعلیم، تعلیم اور تعلیم شاہد اقبال راجپوت, نواب شاہ، پاکستان علم نجوم کی روشنی میں مجھے سن دوہزار پندرہ تک دنیا میں بہتری آنے کی امید ہے۔ بدر منیر, جارجیا، امریکہ دوسرے مذاہب، کلچر اور زبانوں کی عزت کرنا ضروری ہے۔ پانی پانی ہوتا ہے چاہے وہ اکوا ہو یا میا۔ اسی طرح خدا ایک ہی ہے چاہے اسے آپ اللہ کہیں، گاڈ کہیں، رب یا بھگوان کہیں۔ احمد, اسپین میرے خیال میں دنیا تباہی کے گڈھے کی طرف جارہی ہے۔ اور دنیا اسی وقت ٹھیک ہوسکتی ہے جب امام مہدی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام تشریف لائیں گے۔ قیامت آنیوالی ہے۔ سجاد احمد ساغر, لیاقت پور، پاکستان غربت کی وجہ سے میں اپنا ملک چھوڑ کر واپس جانا چاہتا ہوں۔ اور صرف تعلیم کا فروغ ہی ترقی کا راستہ ہے۔ انڈیا اور پاکستان مرد اور خواتین کے درمیان تعلیم کے فرق کو پورا کریں۔ سید علی حسن, سیالکوٹ، پاکستان ہم دنیا کو دو ہزار پانچ کے بعد ایک پرامن اور انصاف مہیا کرنے والی دنیا کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب معاشی برابری یقینی بنائی جائے گی۔ تمام دہشت گردی اس معاشی ناہمواری اور ناانصافی سے پیدا ہورہی ہے جس کا آغاز مغربی دنیا نے کیا تھا۔ فواد چوہدری, آٹووا، کینیڈا مجھے نہیں معلوم کہ میں دو ہزار پندرہ تک زندہ بھی رہوں گا یا نہیں۔ لیکن اگر میں رہا تو مجھے لگتا ہے کہ دنیا اس سے کہیں بہتر ہوگی جیسی آج ہے۔ میرا یقین ہے کہ ہر نیا دن اور امیدیں لا رہا ہے۔ فرحان اکبر, کراچی، پاکستان میں دنیا کے تمام بڑی طاقتوں کے رہنماؤں سے کہہنا چاہتا ہوں کہ جس طرح کا سلوک ہم اپنی اس دنیا کے ساتھ کر رہے ہیں، اللہ خیر ہی کرے اس کا نتیجہ وہ سب نسلیں بھگتیں گی جنہوں نے کبھی سوچا بھی نہ ہوگا کہ ہم ان کی امانت کے ساتھ کتنی خیانت کرچکے ہیں۔ دنیا سب کی ہے، چلے جانے والوں کی، آنے والوں کی اور جو موجد ہیں ان کی، ان سب کا زمین پر پورا پورا حق ہے۔ ہمیں اسے بہتر بنانا ہوگا۔ عبدالعلیم, لاہور، پاکستان ہمارے ہمسائے انڈیا کو اپنا رویہ بہتر بنانا چاہئے۔ مخدوم , آک لینڈ، نیوزی لینڈ میں لوگوں کے لئے زیادہ تعلیم چاہتاہوں اور حکومتِ پاکستان کی طرف سے بے رزگاروں کے لئے سوشل سیکیورٹی چاہتا ہوں۔ بےروزگاروں اور غریبوں کے لئے صحت کی سہولت بھی مہیا کی جانی چاہئے اور حقیقی جمہوریت کا قیام ہونا چاہئے جہاں ڈکٹیٹروں کی کوئی جگہ نہ ہو۔ شاہد, مالاگا، سپین دولت کی مساوی تقسیم اگر ترقی یافتہ دنیا واقعی دنیا میں امن چاہتی ہے۔ غریب ممالک سے نکلنے والے پیسے کا رخ بدلنے کی ضرورت ہے۔ بشیر ہمدانی, پاکستان میں پاکستانی ہوں اور سمجھتا ہوں کہ اس دنیا میں ہمیں مل جل کر رہنا چاہے اور ہر شخص اور اس کے خاندان کو تعلیم کا حق حاصل ہونا چاہئے۔ کبیر احمد, بلجیئم میں ایک کشمیری ہوں مگر بلجیئم میں رہتا ہوں۔ میں نے جو جوابات دیئے ہیں وہ کشمیر کو مدِّنظر رکھتے ہوئے دیئے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ دو ہزار پندرہ میں ہم کشمیری بھی دنیا کی ترقی یافتہ اقوام میں شامل ہوچکے ہوں گے۔ اور دنیا سے دہشت گردی کا خاتمہ ہوچکا ہوگا۔ تسکین فاطمہ, چین میرے اور ہر فرد کے لئے بہتر مستقبل، تمام انسانیت کے لئے ایک پرامن دنیا، ملکوں اور سرحدوں کی تقسیم سے بالا تر دنیا جہاں عالمی قدرتی ذخایر تک سب کی پہنچ ہو۔ عمران ایوب, پشاور، پاکستان مجھے امید ہے کہ امریکہ تباہ ہوچکا ہوگا۔ جاوید, شکاگو یہ دنیا بہتر جگہ ہوگی اگر امریکی اور برطانوی ہمارے ملکوں پر حملے کرنا اور دھمکانا بند کردیں ورنہ ان کے غلط فیصلوں کی وجہ سے غریب لوگ مصیبتوں میں گھرے رہیں گے جیسے کہ آج کل عراق میں۔ آصف طاہر, فیصل آباد، پاکستان مجھے امید ہے کہ دوہزار پانچ تک دنیا ایک بہتر اور پرامن جگہ بن جائے گی اور میری پڑھائی ختم ہوچکی ہوگی۔ نوید مصطفیٰ جمنی, کراچی، پاکستان میں کوئی ایسا خاص کام کرنا چاہتا ہوں جس سے دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کر سکوں۔ سید شاداب, کینیڈا سب سے بڑا خطرہ ماحولیات کو ہوگا اور تعلیم کی کمی اس میں انتہائی اہم کردار ادا کرے گی۔ اور دوسرا بڑا مسئلہ غربت ہے۔ ایسے حالات میں کوئی کم ہی توقعات وابستہ کر سکتا ہے۔ شہریار منیب, جرمنی جنگ نہ ہو۔ عامی انور, طائف، سعودی عرب اگر بڑی طاقتوں نے اپنی یہ پالیسی جاری رکھی کہ دنیا میں لوگوں کو انصاف نہ ملے اور قانون کی حکمرانی نہ ہونے پائے اور وہ غیر منصفانہ قوتوں کی حمایت کرتی رہیں تو اس سے دہشت گردی اور انسان کے لئے مصیبتیں بڑھ جائیں گی۔ محمد سہیل, بدایوں، انڈیا میری دعا ہے کہ میری زندگی بہتر ہوگی اور انسان اپنی پہچان دوبارہ انسان کے طور پر بنائے گا نہ کہ دہشت گرد کے طور پر۔ ناصر, پاکستان میں چاہتا ہوں کہ دو ہزار پندرہ میں یہ دنیا موجود ہو اور اس کا وہ حال نہ ہوجائے جو آج مریخ کا ہے۔ محمودالحسن, راوالپنڈی، پاکستان اگر زندگی رہی تو اسلام کو پھلتا پھولتا دیکھیں گے، دنیا کے ہر خطے میں اسلام غالب آئے گا اور کفر مٹے گا۔ کے ایم نواز, ٹوکیو، جاپان اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا کہ کیا ہوگا لیکن ہمیں اپنی کوشش کرنی چاہئے خاص طور پر مسکرنے میں کنجوسی نہیں کرنی چاہئے۔ سید عمران طاہر واسطی, میاں چنوں، پاکستان دو ہزار پندرہ وسائل کے افراط اور مسائل کی کمی کا سال ہوگا۔ تمام اقوام کو مسائل اور وسائل مل بانٹنا ہوں گے۔ خطرناک بیماریوں پر قابو پالیا جائے گا۔ خاص طور پر غربت اور دہشت گردی پر کافی حد تک قابو پا لیا جائے گا۔ انسان بلا تمیزِ نسل ومذہب آپس میں قربت محسوس کریں گے، یہی ارتقاء کا سنہری دور ہوگا۔ دنیا عالمی قوانین کے تحت زندہ رہنے کے اصول سیکھے گی۔ اولادِ آدم بالآخر تقسیم کے گرداب سے باہر نکل آئے گی اور انشاءاللہ دنیا امن کا گہوارہ ہوگی۔ سید مبشر حسین, ٹورنٹو، کینیڈا امید رکھتا ہوں کہ انشاءاللہ دو ہزار پندرہ میں میری تمام خواہشیں پوری ہوں گی۔ الماس زہرا, بورے والا، پاکستان میں ایک مقامی کالج میں لیکچرار ہوں اور ہمیشہ اپنے فرائض کی انجام دہی کی پوری کوشش کرتاہوں۔ میں صرف اپنے شاگردوں کو پڑھاتا ہی نہیں ہوں بلکہ انہیں زندگی کے چیلنجز کے لئے تیار کرنے کی کوشش بھی کرتا ہوں۔ مجھے لگتا ہے کہ میرے پاس انہیں آگہی فراہم کرنے کا موقعہ ہے مگر میرے ملک مسائل سے گھرا ہے اور میں کوشش کر رہا ہوں کہ وہ انہیں حل کر سکیں۔ خالد محمود ایڈووکیٹ, بہاولپور، پاکستان مجھے امید ہے کہ دو ہزار پندرہ تک میں ایک اچھا وکیل بن جاؤں گا لیکن میں اپنے ملک کے بارے میں فکر مند ہوں۔ ہم ابھی تک ایک فوجی حکومت کے زیرِ تسلط ہیں۔ مجھے امید ہے کہ دو ہزار پندرہ تک جمہوریت آجائے گی اور میں وکیل کے طور پر اس کے لئے جدوجہد کروں گا۔ مجتبیٰ, کینیڈا مجھے تیسری دنیا کے ممالک میں تباہ ہوتے ماحول کی بہت فکر ہے خاص طور پر زرعی شعبے میں بدلتا ہوا نظام اور جینیاتی طور پر پیدا کی گئی غذا ایک دن غذائی عدم تحفظ کا سبب بنے گی۔ صباحت, کراچی، پاکستان آڑو، ترقی اور خوشی زرباز خٹک, نوشہرہ، پاکستان میں دو ہزار پندرہ سے پہلے امریکہ کو تباہ ہوتا دیکھنا چاہتا ہوں۔ عباس علی خان ہمیہ, ہنزہ، پاکستان "دو ہزار پندرہ تک میں چاہوں گا کہ تعلیم مکمل ہونے کے بعد مجھے اچھا سا روزگار مل جائے۔ میں اپنے گاؤں سے ملک تک خدمت کروں۔ میں گاؤں میں ایک کمیونٹی سکول قائم کروں گا جہاں غریب لڑکیوں اور لڑکوں کو تعلیم مل سکے۔ چونکہ محولیات کے تباہ ہونے کا خطرہ سب سے زیادہ ہے اس لئے اس سکول میں ماحولیات کی تعلیم خاص طور پر دوں گا جہاں عورتوں اور مردوں کو برابر تعلیم دی جائے گی اور ہر بچے کو ایک ذمہ دار شہری بنانے کی کوشش کروں گا۔ میں یہ کام گاؤں سے شروع کرکے، ضلعت صوبے اور ملکی سطح تک لے جاؤں گا۔ شیر یار خان, سنگا پور آج کل وقت تیزی سے گزر رہا ہے اور حکام کو لوگوں کی حالت بہتر بنانے کے لئے تیزی سے قدم اٹھانا ہوگا۔ اب تک لوگوں کی بہتری کے لئے اٹھائے گئے تمام اقدامات اور پالیسیوں کا نتیجہ غربت، بے روزگاری، بیماریوں، عدم تحفظ اور معاشی بحران کی صورت میں نکلا ہے۔ نذیر, پاکستان مجھے لگتا ہے کہ ہمارے ملکوں کی حکومتیں خاص طور پر مسلمان ممالک اور پاکستان، اپنے لوگوں کا معیارِ زندگی بلند نہیں کرنا چاہتیں۔ علی, کوئٹہ، پاکستان ابھی میں چون سال کا ہوں اور مجھے امید بہت کم ہے کہ میں دو ہزار پندرہ تک زندہ رہ سکوں کیوں کہ ہمارے شہر اور ملک کے حالات خراب ہو رہے ہیں اور ہم شیعہ کمیونٹی کے لوگ یہاں محفوظ نہیں ہیں اور دہشت گردوں سے خطرہ ہے کہ وہ ہمیں جینے نہیں دیں گے۔ نسیم, پاکستان جیو اور جینے دو محمد شبیر, پاکستان دو ہزار پندرہ تک کچھ بھی نہیں ہوگا۔ وہی لوگ ترقی کریں گے جو پہلے سے ترقی یافتہ ہیں۔ اقوامِ متحدہ کو ضرورت اس بات پر دھیان دینے کی ہے کہ غربت کو ختم کیا جائے اور تمام ملک اس کے لئے کوشش کریں۔ نیاز کشمیری, متحدہ عرب امارات مجھے امید ہے کہ دو ہزار پندرہ میں میرا وطن کشمیر آزاد اور خود مختار ہو جائے گا۔ اگر ایسا نہ ہوا تو یہاں امن قائم نہ ہوسکے گا۔ اور اس کی وجہ سے اس سارے علاقے میں غربت، دہشت گردی، اور ناانصافی کا دور دورہ ہوگا اور انسانی زندگی بڑے خطرات میں گھر جائے گی۔ غلام حیدر بٹ, لاہور، پاکستان میں دنیا میں امن چاہتا ہوں۔ میں جنوب ایشیاء میں استحکام چاہتا ہوں۔ میں مستحکم ممالک کی طرف سے انصاف چاہتا ہوں اور یہ کہ وہ غریب ممالک کی مدد کریں۔ نواز سومرو, کوئٹہ، پاکستان ہمیں تو اسی طرح رہنا ہے۔ ہاں، اگر موقعہ ملے تو شاید دنیا کو بہتر بنا سکیں۔ میرے خیال میں تو ساری دنیا کو ایک ہو جانا چاہئے۔ صابر مائکل, کراچی، پاکستان مجھے امید ہے کہ دو ہزار پندرہ تک دنیا زیادہ پر امن اور تعلیم یافتہ ہوگی۔ میری توقع ہے کہ ہر فرد کے انسانی حقوق اور ان کا احترام بڑھ جائے گا۔ میں شہریوں کے اور خاص کر اقلیتوں کے حقوق کے لئے ایک غیر سرکاری تنظیم بناؤں گا۔ آصف ججہ, ٹورنٹو، کینیڈا لوگ ماحولیا کے مسائل حل کریں گے اور ایک دوسرے کو بہتر طور پر سنجھنے کی کوشش کریں گے۔ مجھے امید ہے کہ پاکستان اور انڈیا آپس میں نہیں لڑیں گے۔ عمر ملک, ٹوکیو، جاپان ماحول کی آلودگی کے لئے سب سے پہلے ترقی یافتہ ممالک کو کوشش کرنی چاہئے کیونکہ وہی اس کا سبب ہیں۔ محمد اشفاق خان, کبیر والہ، پاکستان میرے خیال میں تو کوئی تبدیلی نہیں آئے گی کیونکہ ہماری حکومتیں امریکہ کے بغیر کچھ نہیں کر سکتیں۔ اگر امریکہ تباہ ہوگیا تو شاید ہماری زندگیوں میں کوئی تبدیلی آجائے۔ زینب آصف, راوالپنڈی، پاکستان ہر شخص کو اپنی زندگی خود مختاری سے گزارنے کا حق ہے اور وہ اپنے ماحول کو بدلنے میں کردار ادا کر سکتا ہے۔ دوہزار پانچ میں تباہی بڑھ جائے گی اور ہر شخص دولت کے پیچھے بھاگے گا۔ زاہد نواز, ٹورنٹو، کینیڈا امید ہے کہ دوہزار پندرہ اب سے بہتر ہوگا اگرچہ پھر بھی مجھے کچھ مسائل کی فکر ہے جیسے کہ انسانی حقوق کی پامالی، دولت کی غیر منصفانہ تقسیم، بڑھتا ہوا جعلی پنا، قدرتی آفات اور پانی کی کمی۔ محمد انور, سوات، پاکستان اگر امریکہ دوسرے ممالک کے معاملات میں مداخلت بند کردے تو یہ دنیا زیادہ رہنے کے قابل اور پرامن جگہ بن سکتی ہے۔ اور اقوامِ متحدہ کو امریکہ کی جنگی کاروائیاں ضرور روکنی چاہئیں۔ رفعت تاجک, پشاور، پاکستان میں اپنی توانائیاں مثبت طور پر دوسرے لوگوں کی بہتری کے لیِ استعمال کرنا چاہتا ہوں۔ دنیا آج مسائل میں گھری ہے اور انسانوں کا ایک جنگل بن چکی ہے جہاں انسان جانوروں سے بدتر ہوگئے ہیں۔ میں خوش قسمت ہے کہ میرے پاس تعلیم ، صحت اور مواقع ہیںۓ ہمیں یہاں ایک دوسرے کے لئے جینا چاہئے۔ کوثر علی شاہ, عمان میں ایک پاکستانی ہوں اور یہی سوچتا ہوں کہ اگر مجھے آج واپس جانا پڑ گیا تو میں وہاں جاکر کیا کروں گا۔ کیا میں اپنے بچوں کو پاکستان میں وہ سب کچھ دے سکوں گا جو یہاں میسر ہے۔ پاکستان میں تو ہماری حکومت آج تک معیارِ تعلیم ہی بلند نہیں کر سکی اور دوسرا مسئلہ رؤز گار کا ہے۔ ملک احتشام حمید, جہلم، پاکستان میرے خیال میں دنیا ایک بار پھر خوش حالی کی طرف جائے گی اور ہم سب کو مل کر بہت کچھ کرنا ہوگا۔ تعلیم ایک اہم مسئلہ ہے کہ اسی سے دہشت گردی، بے روزگاری اور ایسے ہی دوسرے مسائل سے چھٹکارا ممکن ہے۔ کاشف اسلام, لاہور، پاکستان آنے والے دنوں میں سب سے بڑا مسئلہ بے روزگاری ہوگا۔ جو جرائم کی اصل وجہ ہے۔ روزگار ہوگا تو کسی کے پاس جرم کرنے کی فرصت نہیں ہوگی اور یہی ہمارا مسئلہ ہے۔ ایم وقار, نیو یارک تعلیم قوموں کتی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے اور تیسری دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے۔ پھر کئی جگہ ڈکٹیٹر شپ ہے جس کی امریکہ اور مغرب حمایت کرتا ہے۔ ہمیں یقیناً بنان ہوگا کہ تیسری دنیا میں لوگ تعلیم یافتہ ہوں اور بدعنوان حکومتیں نہ ہوں۔ حافظ راحت علی, فیصل آباد، پاکستان میں پاکستان کو ایک مصبوط ملک دیکھنا چاہتا ہوں جہاں بے روز گاری نہ ہو۔ محمد عامر خان, کراچی، پاکستان اس وقت دنیا کا سب سے بڑا مسیلہ دہشت گردی ہے جس سے امریکہ جیسی طاقت بھی محفوظ نہیں۔ اس کے اباب کے بارے میں جانا چاہئے۔ تعلیم کی کمی سے بھی بہت مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ دو ہزار پندرہ میں مسلم امہ کو جہاد کی رٹ چھوڑ کر تعلیم پر توجہ دینا چاہئے اور امریکہ کو بھی دہشت کے خلاف جنگ کا نعرہ چھوڑ کر سب کے لئے تعلیم کا نعرہ بلند کرنا چاہئے۔ شا ہنواز, پاکستان میں ایک ایسی دنیا چاہتا ہوں جس سے محبت کی جا سکے۔ محمد اشفاق،, لاہور، پاکستان دنیا سے ٹینشن کا ختمہ اور سب کے لئے انصاف ہادی, کویٹھ، پاکستان کوئٹہ میں دو مارچ کو جو دہشت گردی ہوئی میں خود اس کا شکار ہوا اور میرے قبیلے کے تینتالیں لوگ شہید ہوئے۔ میری نظر میں دو ہزار پندرہ تک دنیا سے دہشت گردی کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ جنید اے خان, شکاگو، امریکہ میرے خیال میں دو ہزار پندرہ تک یہ اہداف حاصل کرنا ممکن نہیں لیکن میں پر امید ہوں کہ یہ اہداف کبھی نہ کبھی حاصل ہو ہی جائیں گے کیونکہ اپنے آغاز سے انسان آگے ہی بڑھا ہے۔ ڈاکٹر محمد ابوذر شیرانی, ملتان، پاکستان دو ہزار پندرہ تک دنیا سے جنگ اور غربت کا ختمہ ہوجانا چاہئے اور تعلیم سب کو میسر ہونی چاہئے۔ پھر ہمیں ہر باء سے لڑنے کے لئے تیار ہونا چاہئے۔ حسنین حیدر, فیصل آباد، پاکستان جنگ نہیں صرف امن محمد جعفر رضا, قطر پیسہ اور روزگار ایک دوسرے سے جری ہوئی ہیں اور مرکزی صرورت ہیں۔ جب روزگار ہوگا تو تعلیم اور صحت بھی ہوگی۔ جنگ غیر ضروری ہے۔ محمد علی, نیو جرسی، امریکہ میں اس دنیا کا ایک پر امن جگہ دیکھنا چاہتا ہوں جہاں سب خوش حال ہوں۔ عبدالملک, رحیم یار خان، پاکستان اسلام امن کا مذہب ہے۔ دنیا کو اسلام کو ایک جدید مذہب کے طور پر قبول کرنا چاہئے اور جو لوگ اس کے اصولوں کے مطابق زندگی گزارنا چاہتے ہیں انہیں اس کی آزادی حاصل ہونی چاہئے۔ عمر دراز, پاکستان امن، انصاف، بہتر معاشی حلات جو انصاف کے ذریعے ممکن ہیں، تعلیم اوت صحت۔ کریم پناہ, پاکستان میں قوموں اور لوگوں کے درمیان امن اور ہم آہنگی چاتا ہوں جو تبھی ممکن ہے اگر لوگ ایک دوسرے کو جانیں اور بجائے خود ساختہ کہانیوں اور جھوٹی تشریحات کے ایک دوسرے کی اصل حقیقت سمجھیں ۔ نعمان احمد, راوالپنڈی، پاکستان مجھے اپنی حکومت سے کچھ زیادہ امیدیں نہیں ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ پی ایچ ڈی کروں اور امن اور انسانی حقوق کے لئے کام کروں۔ شاہ نواز خان, اسلام اباد، پاکستان ایک مہذب، ترقی یافتہ، تعلیم یافتہ معاشرہ لیاقت, میانوالی، پاکستان اپنے ملک میں تعلیم دیکھنا چاہتا ہوں وسیم شہزاد, لاہور، پاکستان میں سی ایس پی افسر بن کر پولیس میں جانا چاہتا ہوں۔ میرا مشن جرائم کی شرح کم کرنا ہے۔ زبیر احمد, کوریا مجھے لگتا ہے کہ اسلام تمام مفکروں کو انٹلکچوئلز کی توجہ حاصل کر سکے گا۔ مستقبل قریب ہو سکتا ہے مسلمانوں کے لئے اچھا نہ ہو لیکن اگلے دس سال اسلام کے دنیا پر حکمرانی کے لیے انتہائی موزوں ہیں۔ اور یہی انسانیت کی آخری منزل ہے۔ امر, جاپان امریکہ کو مسلمانوں کے خلاف دہشت گردی بند کرنا ہوگی اور یہ پالسیاں دنیا کے امن کے لئے خطرہ ہیں۔ شعیب عارف, کراچی، پاکستان 1)تعلیم 2) آبادی کی روک تھام، 3) صحت 4) پناہ فیصل زبیر الثاقب, کراچی، پاکستان اگر ہماری حکومت کے حالات ایسے ہی رہے تو میرے خیال میں ہم پاکستانیوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ عامر کھتری, کراچی، پاکستان حکومت کو ہر ممکن کوشش کرنی چاہئے کہ مہنگائی کم ہو کیونکہ مہنگائی بڑھ رہی ہے اور لوگوں کے پاس اتنے وسائل موجود نہیں ہیں کہ وہ گزارا کر سکیں۔ ان حالات میں جرائم بڑھیں گے۔ فیصل تقی, کراچی، پاکستان انشاء اللہ دو ہزار پندرہ میں میں ایک کنسلٹنٹ فزیشن ہوں گا، شادی شدہ ہوں گا، میرے تین چار بچے ہوں گے، حج کرچکا ہوں گا اور ایک خیراتی ادارہ یا ہسپتال قائم کروں گا اور ایک مسلمان کے طور پر اپنے رائض ایمانداری سے سر انجام دوں گا۔ ندیم فاروقی, کراچی، پاکستان ہمیں ہمیشہ بہتری کی امید کرنی چاہئے۔ امبرین بنگش, ٹورنٹو، کینیڈا آج کل کی بین الاقوامی صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے اس میں بہتری کی کوئی امید نظر نہیں آتی۔ یا تو یہ ایسے ہی رہے گی یا اس سے بھی خراب ہوگی۔ بہتری اسی صورت میں ممکن ہے اگر اقوام متحدہ کو خودمختار کر دیا جائے۔ اس وقت اس پر بڑی طاقتوں کا غلبہ ہے۔ مسلم مالک میں اس وقت جو تباہیاں آرہی ہیں وہ اسلام سے دوری کا نتیجہ ہے ہمیں ایمان پر مستحکم رہنا اور آنے والی نسلوں کو اس کی طرف راغب کرنا چاہئے۔ پھر قائد اعظم کے قول اتحاد، تنظیم اور یقینِ محکم پر چل کر ہم ایک عظیم مملکت بن سکتے ہیں۔ انوارالحق, اسلام اباد، پاکستان سب کے لئے تعلیم کی برابر سہولت، سب کے لئے روزگار، سب کے لئے مساوی حقوق اور انصاف۔ ہر فرد اور حکومت کو اس کے لئے کام کرنا چاہئے- صالح محمد, راوالپنڈی اگر بڑے ملکوں نے اپنا رویہ بدلا تو مجھے یقین ہے کہ دو ہزار پندرہ میں دنیا بہتر جگہ ہوگی۔ محمد ظہیر, کشمیر، پاکستان دنیا بھر کے لوگوں کی ترقی ہونی چاہئے۔ ملکوں کے درمیان توازن ہونا چاہئے۔ ابھی تو ایسا لگتا ہے کہ پوری دنیا ایک ہی ملک کے اشاروں پر ناچ رہی ہے۔ خانم سومرو, کراچی، پاکستان ہم ایک ایسے ملک کے شہری ہیں جہاں دوہزار پندرہ تو دور کی بات ہے دو ہزار چھ کی کچھ خبر نہیں۔ اور جنہیں اپنے حالات کی خبر نہ ہو وہ لوگ کیا امیدیں کریں گے۔ بحرحال امید تو یہ ہے کہ ہمارے ملک سے غربت اور بے روزگاری کم ہوگی، تعلیم کا معیار بلند ہوگا۔ اور پینے کو صاف پانی میسر ہوگا۔ خالد محمود، لاہور |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||