 |  قائد اعظم مسلم لیگ کے سیکریٹری جنرل اور سابق وزیر اطلاعات مشاہد حسین آپ کے سوالات کے جواب دیں گے۔ |
لندن کے بم حملے ہوں یا پھر شرم الشیخ کے، یا اجودھیا کے متنازعہ مقام پر شدت پسندوں کی کارروائی، غلط یا صحیح گھوم پھر کر پاکستان کا نام آ ہی جاتا ہے۔ لندن کے حملوں میں ملوث کم سےکم دو بمبار پاکستان گئے تھے، اس بات کی تو تصدیق ہو چکی ہے۔ پاکستانی حکومت کا دعوی ہے کہ اس نے شدت پسندوں کے خلاف جم کر کارروائی کی ہے اور القاعدہ کے کئی بڑے رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا ہے، لیکن بیرون ملک عام تاثر یہ ہے کہ پاکستانی معاشرہ شدت پسندی کی نرسری بن گیا ہے۔ صدر مشرف کہتے ہیں کہ پاکستان میں القاعدہ کی طاقت ختم کر دی گئی ہے۔ کیا آپ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں؟ اگر نہیں، تو آپ کے خیال میں کیا اقدامات کئے جانے چاہیں؟ اور بنیادی بات یہ کہ پاکستان کا نام ہی کیوں آتا ہے دہشت گردی اور شدت پسندی کے ضمن میں؟ کیا حکومت کی پالیسیاں غلط ہیں، یا پاکستان کو بلی کا بکرا بنایا جا رہا ہے؟ اگر اس بارے میں آپ کے ذہن میں کوئی سوال ہے، تو ہم سے رابطہ کیجئے۔ آپ کے سوالوں کا جواب دینے کے لئے ہم نے اتوار اکتیس جولائی کو اپنے خصوصی پروگرام ٹاکنگ پوائنٹ میں قائد اعظم مسلم لیگ کے سیکریٹری جنرل اور سابق وزیر اطلاعات مشاہد حسین کو دعوت دی ہے۔ آپ ای میل کے ذریعے ہم سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ اپنا نام، ٹیلی فون نمبر اور سوال ضرور لکھئے گا، ہم خود آپ سے رابطہ کر یں گے۔ |