 |  کریک ڈاؤن میں ملک بھر سے ایک سو سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ |
پاکستان میں حکام نے کالعدم مذہبی تنظیموں کے خلاف کریک ڈاؤن میں ملک بھر سے دو سو سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا ہے اور کئی جریدوں کے دفاتر سیل کر دیے گئے ہیں جن کے بارے میں حکام کا کہنا ہے کہ وہ مذہبی منافرت پھیلا رہے تھے۔ یہ کارروائی صدر جنرل پرویز مشرف کے اس حکم کے بعد کی گئی ہے جس میں انہوں نے کالعدم تنظیموں کے خلاف ملک گیر مہم چلانے کا حکم دیا تھا۔ ابھی تک حکام اس بات کی تردید کر رہے ہیں کہ ان گرفتاریوں کا تعلق کسی طور بھی لندن بم دھماکوں کی تفتیش سے ہے، مگر وہ یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ یہ کارروائی لندن بم دھماکوں کے تناظر میں ہو رہی ہے۔ ماضی میں بھی ملک میں ایسے کئی کریک ڈاؤن کئے گئے ہیں جو وقتی طور پر تو موثر ثابت ہوتے ہیں مگر کچھ عرصے بعد کالعدم تنظیمیں نئے ناموں سے دوبارہ سرگرم ہو جاتی ہیں۔ آپ کیا سوچتے ہیں ان گرفتاریوں کا کیا مقصد ہے اور ان سے مذہبی شدت پسندی پر کیا اثر پڑے گا؟ کیا آپ کی نظر میں یہ کارروائی مثبت ثابت ہوگی؟ ایک طرف مرکزی حکومت کالعدم مذہبی تنظیموں کے خلاف کریک ڈاؤن کر رہی اور دوسری طرف صوبہ سرحد میں حسبہ بل منظور کی جا چکی ہے۔ آپ کو کیا لگتا ہے کیا صوبائی اور مرکزی حکومتیں اس سلسلے میں دو متضاد راستوں پر رواں ہیں؟ اگر آپ اپنا پیغام موبائل فون سے ایس ایم ایس کے ذریعے بھیجنا چاہتے ہیں تو ہمارا نمبر ہے: 00447786202200 اب یہ فورم بند ہوچکا ہے۔ قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔
نامعلوم: ان گرفتاریوں کا مقصد ملک میں اور دہشت گرد بنانا ہے۔ جرنیل صاحب انگریز آقاؤں کو خوش کرنے کے بجائے صرف ان مدرسوں کے خلاف کارروائی کریں جو ایسی تربیت دیتے ہیں اور ایک دو گنڈے انڈوں کی وجہ سے سب کو قصورا نہیں ٹھہرایا جائے۔ چاند بٹ، جرمنی: پاکستان میں ہر دوسرا آدمی اسلحہ سے لیس ہے۔ کوئی پوچھتا ہی نہیں۔ جرمنی میں کسی سے چاقو نکل آئے تو پولیس الٹا لٹکا دیتی ہے۔۔۔۔ گل حسن، لاہور: جب بھی کہیں دھماکے ہوتے تب ہی کیوں حکومت گرفتاریاں یا مذہبی جماعتیں یاد آتی ہیں؟ مشرف صاحب مہربانی فرماکر امریکہ کو خوش کرنے کا یہ سلسلہ بند کردیں۔ عبدالرعوف دیتھو، کینیڈا: کچھ ہو نہ ہو لیکن مشرف کی اللہ نے سنی ہے، اب اس کی جاب اور پکی ہوگئی ہے۔ اگر امریکہ، یوکے میں یہ ٹیرورِسٹ اٹیک نہ ہوتی تو مشرف کیا ہوتا، اس کی حیثیت کیا ہوتی؟ امتیاز عالم، مسقط: مشرف صاحب بالکل صحیح کررہے ہیں! ورنہ ہمارا حشر بھی افغانستان جیسا ہوگا۔ تکلم بیگ، ٹورانٹو: سی ٹی وی نیوز پر پاکستان میں حکومت کے خلاف مظاہروں کی کوریج میں ایک مولوی صاحب مجمع کو تلوار سے کنٹرول کررہے تھے۔ میری سمجھ میں نہیں آیا کہ یہ تلوار انہوں نے نکالنے کی کیوں تکلیف اٹھائی تھی؟ آصفہ سلیم رانا، فیصل آباد: جب تک مسلمان اپنے آپ کو اسلام کے اصولوں کے نیچے نہیں لیں گے دنیا میں ایسے ہی ذلیل و خوار ہوں گے کیوں کہ یہ خدا کا وعدہ ہے جو کبھی جھٹلایا نہیں جاسکتا۔ محمد جاوید، شارجہ: اگر مذہبی جماعتوں میں حقیقتا کوئی دہشت گرد ہے اور گورنمنٹ اس کو پکڑنا چاہتی ہے تو اس میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ مگر اس بات کا کون فیصلہ کرے گا کہ جن کی گرفتاری ہورہی ہے وہ دہشت گردی ہیں۔ جہاں تک لندن بم بلاسٹ کا تعلق ہے تو ان کو سوچنا چاہئے کہ سات جولائی کے بعد اکیس جولائی کو بھی چار بم بلاسٹ کرنے کی ٹرائی کی گئی، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنہوں نے چار بم پہلے بلاسٹ کیے تھے وہ لوگ زندہ ہیں اور وہی دوبارہ بلاسٹ کی ٹرائی کررہے ہیں۔۔۔۔ جمعہ خان، راولپنڈی: کل میسا میں بھی ایک دھماکہ ہوا، اس کی تربیت منافرت کے ذمہ دار یہ تنظیمیں ہوں گی۔۔۔۔ (واضح نہیں) جاوید اقبال، سعودی عرب: میں جنرل مشرف کے فیصلے کی حمایت کرتا ہوں جو انہوں نے مذہبی جماعتوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے لئے کیا ہے۔ یہ فیصلہ کافی دیر سے کیا گیا ہے لیکن اس پر پوری طاقت سے عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ نامعلوم: حکومت میں وہی لوگ ہیں جنہوں نے برطانوی حکمرانوں کی اس وقت مدد کی جب انڈیا میں برطانوی حکومت کے خلاف لوگ آزادی کی جنگ لڑرہے تھے۔ پاکستانی حکومت کے بیشتر وزراء ملک کے غدار ہیں۔۔۔۔ حمزہ علی، کراچی، پاکستان یہ گرفتاریاں صرف اس لیے کی جا رہی ہیں تاکہ لندن بم دھماکوں کے بعد کے دباؤ کو کم کیا جا سکے۔ لشکر طیبہ، جیش محمد اور حزب المجاہدین اور کئی ایسی جماعتیں ہیں جو کالعدم قرار دی گئی ہیں مگر اس کے باؤجود ان کے لیڈر اور کارکن دیگر ناموں سے کھلے عام کام کر رہے ہیں جس کی بنیاد پر ان پر پابندی لگائی تھی۔ میرے خیال سے ریاست اب بھی ان کے ذریعے کوئی کام لینا چاہتی ہے جس کی وجہ سے ان کے خلاف ایکشن نہیں لیا جاتا۔ عمران خان، کراچی، پاکستان انگریزی میں ایک مشہور کہاوت ہے’نپ ایول ان دی بڈ‘ یعنی برائی کا خاتمہ ابتدا میں ہی کر دیا جانا چاہیئے۔ مگر پاکستانی حکومت نے انتہا پسند مذہبی تنظیموں کے حوالے سے ایسا نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ اب ان تنظیموں اور ان کی کارروائیوں کو روکنا نا ممکن بن گیا ہے کیونکہ انہوں نے پاکستانی معاشرے میں اپنی جڑیں مضبوط کر دی ہیں۔ یہ تنظیمیں بہت آسانی سے کچھ وقت کے لیے غائب ہو کر ایک بار پھر نمودار ہو سکتی ہیں۔۔۔ ساجد سید، کراچی، پاکستان مشرف صاحب پبلک کو مہنگائی اور بدحالی کا طحفہ تو دے چکے ہیں، اب اپنے ہی ملک کے لوگوں کو دہشت گرد بنا رہے ہیں۔ آج میں موبائل فون پر اگر کالٹے روڈ پر بات کرنا چاہوں تو فون آنے کے باؤجود میں رسیو نہیں کرتا کہ کوئی مجھ سے فون چھین نے لے۔ اگر کوئی انکار کرتا ہے تو اسے گولی مار دی جاتی ہے۔ ہمارے گھروں میں ڈاکو جب چاہیں گھس جاتے ہیں، کوئی پوچھنے والا نہیں۔ مشرف صاحب ان باتوں پر توجہ نہیں دے رہے ہیں۔ ان کو فکر ہے تو یہ کہ کہیں بش اور ٹونی ناراض نہ ہو جائیں۔ علی کاضمی، کینیڈا شیطان بدل کر بھیس نیا امریکہ بن کر آیا ہے پہنی ہے قبا آمادی کی نام انسان دوست بتایا ہے!! وسیم بیگ، کراچی، پاکستان یہ سب کرنا پڑتا ہے کیونکہ بعض دفعہ مجبوری ہوتی ہے۔ مگر یہ کچھ دن بعد نارمل ہو جائے گا۔ اس میں پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ آپریشن کرنے والے بھی پاکستانی ہیں اور آپریشن کا شکار بھی پاکستانی۔ حسن عسکری، پاکستان مشرف صاحب آپ کے اپنے ملک میں تو ہر ماہ باقاعدگی سے پچاس پچاس بندے مساجد اور امام بارگاہوں میں مر جاتے ہیں۔ اس پر آپ شیخ رشید سے جھوٹ موٹھ کے بیان دلوا دیتے ہیں کہ حکومت سختی سے جواب دیگی، لیکن سختی صرف اس وقت حرکت میں آتی ہے جب کوئی بڑی بیرونی طاقت آپ کے کان پکڑ کر مروڑتی ہے۔ مستنصر ندیم، راولپنڈی، پاکستان علماء کے قاتلوں کے خلاف تو کریک ڈاؤن کبھی نہیں ہوا۔ صرف ان کے خلاف ہی کریک ڈاؤن ہوتا ہے۔ یہ سب کر کے اپنے آپ کو مجرم ہی ثابت کیا جا سکتا ہے۔ حکمرانوں کو اپنے مسلمان ہونے پر بھی شاید شرمندگی ہوتی ہے؟ سید مجتبی قادری، لندن، برطانیہ آہ! کاش ہماری حکومت ایسا ہی ایکشن ان چوروں، لٹیروں اور قاتلوں کے خلاف بھی لیتے تو ان کو بھی ایسے ہی گرفتار کرتی تو شاید عام آدمی اپنے آپ کو محفوظ محسوس کرتا اور جس پھرتی سے ہماری پولیس ابھی کام کر رہی ہے اگر وہ اسی پھرتی سے چوروں اور ڈاکؤں کو پکڑنے کے لیے کام کرے تو ہر طرف امن اور سکون ہو جائے۔ محمد، برطانیہ یہ بہت ہی حیرت انگیز بات ہے کہ پولیس تفتیش سے پہلے ہی لوگ نتائج کا فیصلہ کر بیٹھے ہیں۔ جہاں تک مشرف کا سوال ہے تو ان کی کوشش یہی ہے کہ وہ دنیا کی میڈیا پر چھائے رہیں۔ لیکن ان کی یہ خواہش آگے چل کر پاکستان کے لیے نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔ وہ حالات کا فائدہ اٹھا کر ان لوگوں کو گرفتار کروا رہے ہیں جو ان کی مخالفت کرتے ہیں۔ محمد منیم، لاہور، پاکستان یہ پاکستان اور مسلمانوں پر حملے کی شروعات ہے۔ اکرم اللہ خان، برکت پور، انڈیا ان لوگوں کو سزا ملنی ہی چاہیئے۔ اسلام بے گناہوں کا قتل عام نہیں سکھاتا۔ اسلام امن اور محبت کا مذہب ہے۔ صیف خان، اسلام آباد، پاکستان صدر مشرف وہ کر رہے ہیں جو اب سے بہت پہلے ہو جانا چاہیئے تھا۔ ملک سے مذہبی شدت پسندی کو ختم کرنا مشکل تو ہے مگر ہمیں کوششیں جاری رکھنی ہوں گی۔ میں صدر کے اس قدم کی حمایت کرتا ہوں۔ واجد حسین، پشاور، پاکستان جیسے اگر آپ ایک سپرنگ کو نیچے دھکیلیں تو وہ اچھل کر واپس اوپر آ جاتی ہے، ویسے ہی مسلمان اس اقدام سے جاگ جائیں گے۔ مشرف، بش اور بلیئر اسلام کے خلاف ہیں اور یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ اس دنیا سے اسلام کو کوئی نہیں متا سکتا۔ امتیاز، سعودی عرب جو کچھ بھی ہو رہا ہے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ہو رہا ہے۔ مشرف بش اور بلئیر کو خوش کرنے کے لیے یہ سب کچھ کر رہے ہیں، لیکن اس سے پورے ملک میں آگ لگ جائے گی۔ احمد فیض بلوچ امریکہ اور برطانیہ کسی دوسرے کو کچھ بھی کہنے کے قابل نہیں ہیں۔ ان دونوں ممالک نے دنیا بھر میں ہزاروں بے گناہوں کا خون بہایا ہے۔ ذولفقار زیدی، آسٹریلیا جنرل مشرف کے پاس در اصل کوئی خاص منصوبہ نہیں ہے۔ انہیں نہیں پتہ کہ کیا کرنا چاہیئے اور کیا نہیں۔ وہ امریکہ کو خوش کرنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں لیکن امریکہ ہمارے ساتھ اچھا سلوک نہیں کر رہا، جیسے کہ ان کے ایک اخبار میں شائع ہونے والے کارٹون سے واضح ہو گیا ہے۔ رحمت خان، چترال، پاکستان اب دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف لڑنے کا وقت آ گیا ہے ورنہ انسان کا وجود حطرے میں پڑ جائے گا۔ ہم مشرف کو کوششوں کی داد دیتے ہیں۔ عثمان، پاکستان یہ صرف امریکی احکام ہیں۔ حکومت ہمیشہ امریکہ کو خوش کرنے کی کوشش کرتی رہتی ہے۔ لیکن وہ حقیقت کو نہیں چھپا سکتے۔ جب تک مسلمانوں کے خلاف دہشت گردی ختم نہیں ہو جاتی، تب تک اس سب کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ طارق لودھی، دبئی مشرف صاحب اسلام کے خلاف نہیں بلکہ ملاؤں کے خلاف ہیں اور اس میں ہم ان کے ساتھ ہیں۔ اللہ صدر کو لمبی زندگی دے۔ ایچ خان، ملتان، پاکستان اگر مشرف الٹا بھی ناچیں تب بھی امریکہ پاکستان کو روشن خیالی کی سرٹیفیکیٹ نہیں دے گا۔ سو یہ کریک ڈاؤن بے معنی ہے۔ پرویز بلوچ، بحرین اپنے بچے جب دوسروں کے آنگن میں شرارت کرتیں تو ان کو تھوڑا بہت ڈاٹنا چاہیئے مگر اتنا بھی نہیں کہ اپنے آنگن کا ماحول خراب ہو۔ ان کو سمجھائیں کہ دوسروں کے آنگن میں شرارت کرنا بہت بری بات ہے۔ مدثر عباس زیدی میرے خیال میں تو یہ بہت ضروری ہے اور آج سے بہت پہلے کیا جانا چاہیئے تھا۔ میری آج تک کسی ایسے شخص سے ملاقات نہیں ہوئی ہے جس نے مدرسے میں پڑھ کر کوئی اچھا کام کیا ہو۔ مگر میرے خیال میں اس کا بہتر طریقہ قانون سازی کے ذریعے ہے نہ کہ دو روزہ کریک ڈاؤن۔ اس سے بھی ضروری یہ ہے کہ ان تمام افراد کے ہتھیار ضبط کر لیے جائیں۔ اگر ایسا نہیں ہوا تو اس سارے آپریشن کا کوئی حاص اثر نہیں پڑے گا۔ گل بہار خان، کابل، افغانستان میرا خیال ہے کہ ان کے خلاف کریک ڈاؤن صحیح ہے کیونکہ یہ چند مٹھی بھر لوگ سارے مسلمانوں کا خصوصاً پاکستان کا امیج خراب کر رہے ہیں۔ میں لندن کی بات چھوڑ کر افغانستان کی بات کرتا ہوں۔ اس مجبور اور بے بس وطن کو یہ لوگ کیوں نہیں چھوڑتے؟ اگر اسلام کی بات ہے کہ یہ لوگ کہتے ہیں یہاں انگریز آئے ہیں تو جناب پاکستان میں جتنے انگریز ہیں وہ افغانستان میں نہیں۔ تو کیوں یہ لوگ سب سے پہلے اپنے ملک سے شروعات نہیں کرتے؟ اصل میں دہشت گرد آئی ایس آئی کے پیدا کردہ ہیں اور وہ ان کی پشت پناہی کرتے ہیں۔ ہم تو خوش ہیں کہ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے، ایٹم بم کا مالک ہے۔ اس کا نقصان تمام مسلمانوں کا نقصان ہوگا۔ حیدر حسین، کراچی، پاکستان کاش امریکہ ہمارے یہاں ہونے والی موبائل چوریوں، ڈکیتیوں اور پولیس کی زیادتیوں کے بارے میں بھی حکومت کو احکامات جاری کر دیں۔ ورنہ یہ کام حکومت خود تو کبھی شروع نہیں کرے گی۔ صیف خان، راولپنڈی، پاکستان ان گرفتاریوں سے دہشت گردی میں اضافہ ہو گا اور معتدل مزاج مسلمانوں کے دلوں میں بھی غصہ بھر جائے گا۔ نوشین سید، اسلام آباد، پاکستان ان گرفتاریوں کا مقصد امریکہ، برطانیہ اور بھارت کو خوش کرنا ہے۔ لیکن یہ موجودہ حکومت کی بھول ہے۔ اس عمل سے عوام میں حکومت اور مغرب کے خلاف نفرت میں مزید اضافہ ہوگا۔ عبدلاللہ، ابو ظہبی سب کچھ لٹا کے ہوش میں آئے تو کیا ہوا؟ جو کبھی نہ ہو سکا، اب کیسے ہو جائے گا؟ اور اگر ہو گیا تو پہلے کا کیا؟ مطلب یہ ہے کہ جب تک باہر سے ڈنڈا دکھائی نہیں دے گا، ہم نہیں سدھریں گے۔ نغمانہ نیازی، اسلام آباد، پاکستان مجھے تو لندن بم دھماکوں میں بش، بلیئر کی سازش لگتی ہے۔ اسی آڑ میں پاکستانی مدرسوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس اقدام سے حکومت پاکستان اپنی مشکلات میں خود اضافہ کر رہی ہے اور ملک کو خانہ جنگی کی دعوت دے رہی ہے۔ |